جل شکتی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

’’دیہی پائپ لائن پانی کی فراہمی اسکیموں کے آپریشن اور رکھ رکھاؤ کے لیے پالیسی فریم ورک‘‘ پر دو روزہ قومی مشاورتی ورکشاپ آج اختتام پذیر


دیہی آبی اسکیموں کے مؤثر آپریشن اور دیکھ ریکھ کے لیے پالیسی فریم ورک پر مبنی قومی ورکشاپ کے دوسرے دن کا مرکز: ٹیکنالوجی، شفافیت، اور ڈیٹا پر مبنی حکمرانی

مصنوعی ذہانت، جغرافیائی معلوماتی نظام ، خلائی ٹیکنالوجی اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کو دیہی آبی خدمات کی پائیدار فراہمی کے محرکات کے طور پر پیش کیا گیا

جل جیون مشن نے دیہی علاقوں میں پانی کی پائیداری کے لیے ٹیکنالوجی پر مبنی مستقبل کی سمت نقش راہ متعین کیا

Posted On: 11 JUL 2025 7:14PM by PIB Delhi

وزارت جل شکتی کےاہتمام سے’’دیہی پائپڈ واٹر سپلائی اسکیموں کے آپریشن اینڈ مینٹیننس(او اینڈ ایم) کے لیے پالیسی فریم ورک‘‘کے عنوان سے متعلقہ فریقین کی دو روزہ مشاورتی ورکشاپ آج اختتام پذیر ہوئی۔

پہلے دن کی مفصل گفتگو کا محور ادارہ جاتی فریم ورک، مالیات، اور کمیونٹی کی شمولیت رہا، جب کہ دوسرے دن توجہ کا مرکز ٹیکنالوجی رہی، جسے مؤثر، جوابدہ، اور مستقبل سے ہم آہنگ او اینڈ ایم نظاموں کا ایک کلیدی ذریعہ قرار دیا گیا۔

اس ورکشاپ میں ڈی ڈی ڈبلیو ایس کے سینئر افسران، جن میں سیکریٹری جناب  اشوک کے کے مینا، ایڈیشنل سیکریٹری و مشن ڈائریکٹر جناب  کمل کشور سوان شامل تھے، نیز ریاستی سطح کے ایڈیشنل چیف سیکریٹریز، پرنسپل سیکریٹریز، پی ایچ ای ڈی کے انجینئرز، جل جیون مشن (جے جے ایم) کے مشن ڈائریکٹرز، ضلع مجسٹریٹس/کلکٹرز، سی ای او-ضلع پریشد، اور ڈبلیو اے ایس ایچ شعبے کے شراکت داروں نے شرکت کی۔ ان تمام شرکاء کی بھرپور شمولیت حکومت کے غیرمرکزی اور ڈیٹا پر مبنی واٹر گورننس کے عزم کی مظہر رہی۔

سیکریٹری ڈی ڈی ڈبلیو ایس جناب  اشوک کے کے مینا نے دن کی شروعات کرتے ہوئے دیہی اور دور دراز علاقوں میں درپیش چیلنجز سے نمٹنے کے لیے ڈیجیٹل ٹولز کے استعمال کی اہمیت پر زور دیا۔ اُنہوں نے کہا کہ موبائل فونز شاید وہ بہترین آئی او ٹی سینسرز ہیں جو پہلے ہی انسانوں کے ہاتھوں میں موجود ہیں۔ اس لیے ضروری ہے کہ صارفین اور سروس فراہم کنندگان دونوں سے روزانہ کی بنیاد پر ڈیٹا حاصل کیا جائے۔

انہوں نے جے اے ایم ٹرینیٹی، پی ایم گتی شکتی، میری پنچایت ایپ، اور جل جیون مشن ڈیش بورڈ کا حوالہ دیتے ہوئے ڈیٹا پر مبنی حکمرانی کے بڑھتے ہوئے رجحان کو اجاگر کیا اور ریاستوں/یونین ٹیریٹریز کی ڈیجیٹل واٹر ایکو سسٹم میں کی گئی اختراعات کی ستائش کی۔

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/image001NNRD.jpg

جناب  ویپل اُجوال، ڈائریکٹر – وزارت پنچایتی راج کی ایک پریزنٹیشن نے دیہی ترقی میں رویّے اور طرزِ عمل میں ہم آہنگی کی اہمیت کو اجاگر کیا۔ انہوں نے ایم اے پی  ماڈل (یعنی  محرک،صلاحیت،  تحریک)  کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ بنیادی سطح پر طرزِ عمل میں تبدیلی لانے کے لیے یہ ماڈل کس قدر مؤثر ہے۔اس موقع پر اس بات کو ایک بار پھر دوہرایا گیا کہ پنچایتیں ہی پائیدار اور جوابدہ خدمات کی فراہمی کا اصل محور ہیں۔

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/image002DG74.jpg

دِن بھر کے دوران شرکاء نے مختلف موضوعات پر مبنی سیشنز میں شرکت کی، جن میں ڈیجیٹل اختراعات اور ادارہ جاتی حکمت عملیوں کا وسیع دائرہ کار شامل تھا۔

پہلے سیشن بعنوان ’’ڈیٹا اسٹریمز سے فیصلوں کے انجن تک‘‘ میں اس بات کا مظاہرہ کیا گیا کہ کس طرح بروقت نگرانی ، ٹیکنالوجی پر مبنی ڈیسیژن سپورٹ سسٹم (ڈی ایس ایس) ، مصنوعی ذہانت (اے آئی) پر مبنی پیشگی مرمت کے نظام، آئی او ٹی سینسرز، اور ایس سی اے ڈی اے جیسے جدید ٹولز دیہی آبی نظام کی حکمرانی کو بہتر بنا رہے ہیں۔ ان کے ذریعے خرابیوں کی پیشگی نشاندہی، نقائص کی فوری نشاندہی ، پانی کی منصفانہ تقسیم، اور پمپنگ سسٹمز میں توانائی کے مؤثر استعمال کو یقینی بنایا جا رہا ہے۔مباحثے میں اس بات پر زور دیا گیا کہ ٹیکنالوجی محض ایک سہولت نہیں بلکہ او اینڈ ایم کی حکمرانی کی بنیاد ہے۔ بھارت میں تیار کی گئی کم لاگت انجینئرنگ اختراعات اور ایپ پر مبنی ڈیش بورڈز کو ان کی کم خرچ، مؤثر، اور دیہی علاقوں میں قابلِ توسیع نوعیت کی وجہ سے خاص طور پر سراہا گیا۔

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/image003ZZIS.jpg

اگلا موضوعاتی پرزنٹیشن ’ڈیٹا پر مبنی دیہی آبی حکمرانی کے لیے جی آئی ایس اور خلائی ٹیکنالوجی سے استفادہ‘ کے عنوان سے تھا۔ مدھیہ پردیش (پی ایچ ای ڈی)، بی آئی ایس اے جی-این، این آر ایس سی–اسرو، اور اے آئی آئی ایل ایس جی کی ٹیموں نے جی آئی ایس، سیٹلائٹ امیجری، اور مصنوعی ذہانت پر مبنی جدید ٹولز کے نمایاں استعمالات پیش کیے۔ مدھیہ پردیش نے بروقت نگرانی کے لیے اپنے مربوط ’جل ریکھا‘ پلیٹ فارم کا مظاہرہ کیا، جبکہ بی آئی ایس اے جی-این نے اثاثوں کے نقشہ سازی اور خلا کے تجزیے کے لیے ’پی ایم گتی شکتی‘ فریم ورک کو اجاگر کیا۔ این آر ایس سی–اسرو نے زیر زمین کے پائیدار استعمال کے حوالے سے اپنی اختراعات پیش کیں، اور اے آئی آئی ایل ایس جی نے دیہی آبی خدمات میں پیشگی دیکھ بھال اور شہری شمولیت کے لیے جی آئی ایس پر مبنی حل پیش کیے۔

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/image004135C.jpg

تیسرے سیشن کا موضوع تھاماخذ کا تحفظ ۔ اس کا مقصد پانی کے ذرائع کی پائیداری کے ذریعے طویل مدتی فعالیت کو یقینی بنانا تھا۔ اس مقصد کے لیے ریاستی سطح سے لے کر گاؤں کی سطح تک ایک کثیر سطحی ادارہ جاتی ماڈل کی تجویز دی گئی، تاکہ مربوط آبی وسائل کے انتظام اور کمیونٹی پر مبنی حکمرانی کو مؤثر طریقے سے نافذ کیا جا سکے۔

ایسی ریاستیں جیسے کہ تریپورہ، زیر زمین پانی کے ذخائر کی بحالی پر توجہ دیتی ہیں، جس میں سی جی ڈبلیو بی سے منظور شدہ کھدائی اور انجیکشن کنویں، کیچ دی رین  مہم کے تحت بارش کے پانی کو محفوظ کرنا، اور مختلف ایجنسیوں کے درمیان اشتراک سے پانی کی بحالی کے ڈھانچوں کی تعمیر شامل ہے۔

اتراکھنڈ کی ایس اے آر آر اے پہل چشموں کی سائنسی و کمیونٹی پر مبنی منصوبہ بندی کے ذریعے بحالی کو ہدف بناتی ہے، جو جل سنرکشن ابھیان 2024 کے تحت انجام دی جا رہی ہے۔

قومی سطح پر،این ڈبلیو آئی سی (نیشنل واٹر انفارمیٹکس سینٹر) پانی سے متعلق ڈیٹا کی ایف اے آئی آر شیئرنگ کو فروغ دیتا ہے، جبکہ سی جی ڈبلیو بی ماخذ کی پائیداری کے لیے انوینٹریز اور ڈی پی آرز (تفصیلی پروجیکٹ رپورٹس) کی تیاری میں مدد فراہم کرتا ہے۔

غیر سرکاری تنظیمیں جیسے کہ آغا خان فاؤنڈیشن، جَل جیون مشن کے تحت سی ایس آر پر مبنی کمیونٹی شراکت اور استعداد کار میں اضافے کے ذریعے ان کوششوں کو مزید مضبوط بناتی ہیں۔

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/image0053J1Z.jpg

آخری سیشن کا موضوع تھاریاستوں/مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں آئی ٹی ایپلیکیشنز کی ترقی۔ اس میں بھارت کی مختلف ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں ڈیجیٹل ایپلیکیشنز کے بڑھتے ہوئے نظام کو اجاگر کیا گیا۔ جیوٹیگنگ، ڈیجیٹل بلنگ سسٹمز، شکایات کے ازالے کے پلیٹ فارمز، اور پانی کے معیار کے ڈیش بورڈز جیسے اقدامات کے ذریعے کئی ریاستوں نے نمایاں پیش رفت دکھائی ہے۔

کلیدی نکات درج ذیل ہیں:

  • 79 فیصد ریاستوں/مرکز کے زیر انتظام علاقوں نے ڈیجیٹل بل کی ادائیگی کی سہولت فراہم کی ہے۔
  • 46 فیصد میں نئے پانی کے کنکشن کی آن لائن ٹریکنگ دستیاب ہے۔
  • 57 فیصد ریاستیں ڈیجیٹل صارف ڈیٹابیس رکھتی ہیں۔
  • صرف 14 فیصد  کے پاس واٹر کوالٹی مینجمنٹ سسٹمز ہیں جوڈبلیو کیو ایم آئی ایس (واٹر کوالٹی مینجمنٹ انفارمیشن سسٹم) سے مربوط ہیں — جو کہ ترقی کے ایک اہم شعبے کی نشاندہی کرتا ہے۔

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/image006WZ3K.jpg

ہر سیشن کے بعد سوال و جواب کے ادوار منعقد کیے گئے، جنہوں نے باہمی سیکھنے، فیلڈ سطح کے تجربات کے تبادلے، اور مقامی سیاق و سباق پر مبنی مباحثوں کے لیے ایک مؤثر پلیٹ فارم فراہم کیا۔ مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے ماہرین نے پائلٹ پروگرامز پیش کیے اور ڈیجیٹل و مقامی مداخلتوں کے کامیاب تجربات شیئر کیے جو پانی کی حکمرانی کو مؤثر بنانے میں مددگار ثابت ہوئے۔

مجموعی پیغام بالکل واضح تھا: ٹیکنالوجی اب محض ایک آپشن نہیں بلکہ جل جیون مشن کے اگلے مرحلے کے لیے ایک لازمی ضرورت ہے۔

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/image007OWI9.jpg

اپنے اختتامی کلمات میں جناب  کمل کشور سون، ایڈیشنل سیکریٹری و مشن ڈائریکٹر ڈی ڈی ڈبلیو ایس نے تمام شرکاء کو ان کی بھرپور شرکت اور بصیرت افروز تجاویز پر مبارکباد دی۔ انہوں نے ورکشاپ کی اجتماعی روح کو سراہا اور اعتماد ظاہر کیا کہ ان دو دنوں کی گفتگو، سیکھنے کے مواقع اور پیش کی گئی جدید اختراعات، دیہی پانی کی اسکیموں کے آپریشن و مینٹیننس کے لیے ایک مضبوط اور مستقبل سے ہم آہنگ فریم ورک کی بنیاد بنیں گی۔

ورکشاپ کا اختتام ایک اجتماعی عزم کے اظہار کے ساتھ ہوا — کہ دیہی پانی کی فراہمی کے نظام کی بنیاد شفافیت، جوابدہی، اور بروقت نگرانی پر رکھی جائے۔

جیسے جیسے جل جیون مشن اپنے اگلے مرحلے میں داخل ہو رہا ہے، یہ بات صاف ظاہر ہے کہ پالیسی، عوام، اور ٹیکنالوجی کا ہم آہنگ امتزاج ہی اس بات کو یقینی بنائے گا کہ ہر نل سے ہر دن صاف پانی پہنچے۔

******

ش ح۔ ش ا ر۔ ول

Uno- 2684


(Release ID: 2144137) Visitor Counter : 2
Read this release in: Hindi , English