سٹرک ٹرانسپورٹ اور شاہراہوں کی وزارت
پارلیمنٹ میں سوال: - مختلف ٹول پلازوں کی جانب سے اضافی ٹول چارجز کی وصولی
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
18 DEC 2024 2:01PM by PIB Delhi
تعمیر کی تاخیر کی مدت کے دوران جمع کی گئی زائد صارف فیس کے بارے میں سی اے جی کے ذریعہ نوٹ کیے گئے معاملات کی تفصیلات ضمیمہ میں ہیں۔
نیشنل ہائی ویز اتھارٹی آف انڈیا (این ایچ اے آئی) کے ذریعہ قائم کردہ ہیلپ لائن نمبر 1033 کی باقاعدگی سے نگرانی کی جاتی ہے۔ اسے نیشنل ہائی وے فیس پلازوں سے متعلق مختلف مسائل اور شکایات کو دور کرنے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے، جن میں یوزر فیس کی وصولی، فاس ٹیگ آپریشنز اور ہنگامی خدمات سے متعلق خدشات شامل ہیں۔ ہیلپ لائن 24/7 کام کرتی ہے اور شکایات اور سوالات کے فوری جوابات کو یقینی بنانے کے لیے اس پر نظر رکھی جاتی ہے۔
فیس پلازوں پر زائد وصولی کو روکنے اور ٹول آپریشنز میں شفافیت کو یقینی بنانے جیسے کہ فاس ٹیگ کا نفاذ، ریٹ ڈسپلے بورڈز، باقاعدہ آڈٹ اور معائنہ وغیرہ کے لیے متعدد اقدامات نافذ کیے جا رہے ہیں۔
ضمیمہ
مختلف ٹول پلازوں سے وصول کئے گئے اضافی ٹول چارجز کے حوالے سے جناب کیسری دیو سنگھ جھالا کی جانب سے آج راجیہ سبھا میں پوچھے گئے غیر ستارہ والے سوال نمبر 2652 کے حصہ (اے) سے (بی) کے جواب میں حوالہ دیا گیا ضمیمہ۔
سی اے جی کی جانب سے جن کیسز میں تعمیرات کے دیر سے مکمل ہونے کی وجہ سے اضافی یوزر فیس وصول کی گئی، ان کی تفصیلات درج ذیل ہیں:
- تمل ناڈو میں قومی شاہراہ ۔ 32 کے تمبارم – تندیونم سیکشن میں ونڈلور سے گڈووانچیری تک۔
‘‘تھیمٹک آڈٹ’’ (ٹی اے) کے دوران 21-2020 میں جنوبی بھارت کے این ایچ اے آئی ٹول آپریشنز پر، ڈائریکٹر جنرل آف کمرشل آڈٹ، چنئی نے یہ مشاہدہ کیا کہ تمل ناڈو میں قومی شاہراہ ۔ 32 کے تمبارم – تندیونم سیکشن میں ونڈلور سے گڈووانچیری تک8 لین کی تعمیر کے دوران، قومی شاہراہ فیس (نرخوں کا تعین اور وصولی) ضوابط 2008 کے ذیلی قاعدہ 9 کے تحت 75فیصد فیس میں کمی کا اطلاق نہیں کیا گیا۔ اس کے نتیجے میں اگست 2018 سے مارچ 2021 تک 6.54 کروڑ روپے اضافی وصول کیے گئے۔
تاہم، یہ رقم ہندوستان کے یکجا فنڈ (سی ایف آئی ) میں جمع کر دی گئی ہے۔ بعد میں اپریل 2021 سے 75فی صد فیس میں کمی کر دی گئی، اور 1 اپریل 2023 کو 8 لین کی تکمیل کے بعد 100فیصد فیس بحال کر دی گئی (سوائے 500 میٹر کے لیے، جس پر 1 اپریل 2024 سے 100فیصد فیس بحال ہے)۔ اس بات کی تصدیق کی گئی ہے کہ اضافی رقم سی ایف آئی میں جمع کی گئی ہے اور کنسیشنیر کے پاس نہیں گئی۔
- ریاست کرناٹک میں قومی شاہراہ این ایچ-4 کےچتردرگا سے داون گیرے سیکشن تک
سی اے جی نے ریاست کرناٹک کے ہیببالو اور چلاجیری فیس پلازوں پر تعمیرات میں تاخیر کی وجہ سے اضافی یوزر فیس وصولی پر تشویش ظاہر کی تھی۔ تاہم، واضح کیا گیا ہے کہ یوزر فیس میں کمی کی تاخیر معمولی تھی، کیونکہ چلاگیری اور ہیببالو پر 6 لین کے پروجیکٹس کے لیے فیس کی شرح 26 جنوری 2018 سے 75فیصد کر دی گئی تھی۔ یہ کمی چتردرگا سے داون گیرے پروجیکٹ کی مقرر شدہ تاریخ (اے ڈی) 27 دسمبر 2017 اور داونگری سے ہیوری پروجیکٹ کی اے ڈی 24 جنوری 2018 کے مطابق کی گئی تھی، جیسا کہ قومی شاہراہ فیس کے ضوابط 2008 میں بتایا گیا ہے۔
اگرچہ فیس کی شرح میں کمی کی گئی تھی، تاہم فیس وصولی طے شدہ تکمیل کی تاریخ کے بعد بھی جاری رہی کیونکہ کووڈ-19 وبا مرض کی وجہ سے وقت کی توسیع (ای او ٹی) دی گئی۔ چتردرگا سے داونگری پروجیکٹ کے لیے ای او ٹی 24 جون 2020 سے 23 جون 2021 تک تھی، اور داونگری سے ہیوری پروجیکٹ کے لیے یہ مدت 24 جولائی 2020 سے 28 مئی 2021 تک تھی۔ اس وجہ سے، طے شدہ تکمیل کی مدت مؤثر طور پر ای او ٹی کی تاریخ تک بڑھا دی گئی تھی، جس کا مطلب ہے کہ اس مدت میں اضافی فیس وصولی نہیں کی گئی۔
چلاگیری اور ہیببالو پروجیکٹس میں تاخیر ایسے عوامل کی وجہ سے ہوئی جو کنسیشنیر اور این ایچ اے آئی دونوں کے قابو سے باہر تھے، خاص طور پر کووڈ-19 وبا کے اثرات کی وجہ سے۔ یہ پروجیکٹس منظور شدہ وقت کی توسیع (ای او ٹی ) شیڈیولز کے مطابق مکمل کیے گئے تھے، اور فیس کی وصولی سے حاصل شدہ رقم یکجا فنڈ آف انڈیا (سی ایف آئی) میں جمع کر دی گئی، جس سے مالی ضوابط کی پابندی کو یقینی بنایا گیا۔
سڑک نقل و حمل اور شاہراہوں کے مرکزی وزیر جناب نتن گڈکری نے آج راجیہ سبھا میں ایک تحریری جواب میں یہ جانکاری دی۔
******
ش ح ۔ ع ح۔ ا ک م
U:4218
(ریلیز آئی ڈی: 2085645)
وزیٹر کاؤنٹر : 74