محنت اور روزگار کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

بھارت کی مہاجر افرادی قوت کو بااختیار بنانا


کلیدی اسکیمیں اور پیشرفت

Posted On: 16 DEC 2024 4:05PM by PIB Delhi

’’ ہم ان لاتعداد کارکنوں کے عزم اور محنت کو سلام کرتے ہیں  ، جو بھارت کی ترقی میں بڑا کردار ادا کرتے ہیں۔ شرمیو جیتے! ‘‘

 ~ وزیر اعظم جناب نریندر مودی

 

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/1CPTM.jpeg

بھارت کے مہاجر مزدور مختلف شعبوں کے لیے ضروری ہیں۔ بہتر مواقع کی تلاش میں، بہت سے لوگ اپنے گھر چھوڑ دیتے ہیں،  جنہیں اکثر   راستے میں چیلنجوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ حکومت ان  مزدوروں کو  ، ان کے حقوق کے تحفظ کو یقینی بنا کر اور ضروری مدد فراہم کرکے فعال طور پر کام کر رہی ہے۔ بھارت میں ہجرت ایک عام  مظہر ہے کیونکہ مزدور بہتر معاش اور مواقع کے لیے اکثر ریاستوں میں منتقل ہوتے ہیں۔

بھارت میں نقل مکانی ایک متحرک عمل ہے اور 2011 ء کی مردم شماری میں 41 ملین سے زیادہ بین ریاستی مہاجرین کی اطلاع دی گئی ہے۔ 21-2020 ء  کی مائیگریشن  ( ہجرت ) رپورٹ کے مطابق، نقل مکانی کی مجموعی شرح 28.9 فی صد  ہے، جس میں 26.5 فی صد  دیہی علاقوں سے  تعلق رکھتی ہے۔ تقریباً 10.8 فی صد  بنیادی طور پر روزگار کے لیے ہجرت کرتے ہیں۔ ان کی زندگیوں کو بہتر بنانے کے لیے حکومت مختلف اقدامات کے ذریعے  ، ان کے سفر کو ہموار بنانے کے لیے پرعزم ہے۔ ای شرم پورٹل ایسی ہی ایک پہل ہے  ، جس کا مقصد ان کے معیار زندگی کو بڑھانا ہے۔

 

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/297IN.jpeg

 

ای  شرم پورٹل   - وَن اسٹاپ حل

محنت اور روزگار کی وزارت نے 26 اگست  ، 2021 ء کو ای شرم پورٹل کا آغاز کیا تاکہ غیر منظم کارکنوں کا ایک قومی ڈاٹا بیس  ( این ڈی یو ڈبلیو )  بنایا جائے، جس کی تصدیق آدھار سے ہو۔ 21 اکتوبر  ، 2024 ء کو ، ای شرم  ’’ ون اسٹاپ  حل ‘‘  متعارف کرایا گیا، جس میں مختلف سماجی تحفظ اور فلاحی اسکیموں کو ایک ہی پورٹل میں ضم  کر دیا  گیا۔ یہ رجسٹرڈ  مزدوروں کو ای شرم کے ذریعے براہ راست متعدد اسکیموں سے فوائد تک رسائی اور ٹریک کرنے کے قابل بناتا ہے۔

مہاجر مزدوروں کے لیے فلاحی اسکیمیں

روزگار کی اسکیمیں ہنر کی ترقی، مالی امداد اور سماجی تحفظ کے مواقع تک رسائی فراہم کرکے کارکنوں کی زندگیوں کو بہتر بنانے کے لیے بنائی گئی ہیں۔ ان اقدامات کا مقصد  کارکنوں کو بااختیار بنانا  اور   مدد کی پیشکش  کرنا     ہے ، جس سے  ان کے ذریعہ معاش میں اضافہ ہوتا ہے اور  یہ ان کے مستقبل کے لیے زیادہ تحفظ کو  یقینی بناتا ہے۔ ایسی چند اسکیموں میں  مندرجہ ذیل شامل ہیں:

پی ایم اسٹریٹ وینڈر کی آتم  نربھر ندھی (پی ایم سوا ندھی)

یکم  جون  ، 2020 ء کو شروع کی گئی، اس اسکیم کا مقصد اسٹریٹ وینڈرز کو بغیر ضمانت کے ورکنگ کیپیٹل  قرض فراہم کرنا ہے۔ یہ اقدام دکانداروں کو اپنے کاروبار کو دوبارہ شروع کرنے میں مدد کرنے کے لیے متعارف کرایا گیا تھا،  جو کووڈ – 19   عالمی وباء  سے شدید متاثرہ  ہوئے تھے  اور   انہیں بحالی اور خود انحصاری کے لیے مالی مدد  پیش کی گئی تھی۔

 

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/3IWAU.jpeg

 

پردھان منتری شرم یوگی مان - دھن یوجنا ( پی ایم ایس وائی ایم )

محنت اور روزگار کی  وزارت کی جانب سے 15 فروری  ، 2019 ء کو شروع کی گئی اس اسکیم کا مقصد غیر منظم شعبے کے کارکنوں کو بشمول  مہاجر مزدوروں کو 60 سال کی عمر تک پہنچنے پر کم از کم یقینی پنشن فراہم کرنا ہے۔  اس اسکیم ، جس کا اعلان عارضی بجٹ میں کیاگیا تھا ، کا ہدف وہ کارکن  ، جو ماہانہ   15000  روپے سے کم کماتے ہیں ، انہیں 60 سال کی عمر تک پہنچنے کے بعد  3000 روپے کی ماہانہ پنشن  کی پیشکش کرنا ہے  اور ان کے مستقبل کے لیے مالی تحفظ کو یقینی بنانا ہے ۔

 

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/4C1XZ.jpeg

 

آیوشمان بھارت پردھان منتری  جَن آروگیہ

وزیر اعظم نریندر مودی کے ذریعہ 23 ستمبر  ، 2018 ء کو شروع کی گئی، آیوشمان بھارت پردھان منتری جن آروگیہ یوجنا  ( اے بی پی ایم – جے اے وائی )  کا مقصد بھارت کے سب سے زیادہ کمزور لوگوں کو صحت کی کوریج فراہم کرکے یونیورسل ہیلتھ کوریج (یو ایچ سی ) حاصل کرنا ہے۔ 12 کروڑ سے زیادہ خاندانوں (تقریباً 55 کروڑ افراد) کا احاطہ کرتے ہوئے، یہ ان  مہاجر مزدوروں کو ثانوی اور   معیاری صحت کے فوائد کے لیے 5 لاکھ روپے کا ہیلتھ کوریج فراہم کرتا ہے  ، جو محرومی اور پیشہ کے معیار کے مطابق اہل مستفید کے طور پر شامل ہیں۔ اسکیم کی پورٹیبلٹی کی خصوصیت استفادہ کنندگان کو  پورے بھارت میں فہرست میں درج  شدہ کسی اسپتال میں علاج حاصل کرنے کی اجازت  فراہم کرتی ہے، چاہے ان کی آبائی ریاست کوئی  بھی ہو۔ قابل ذکر بات یہ ہے کہ اس پورٹیبلٹی فیچر کے تحت    3100 کروڑ  روپے مالیت کے 11.9 لاکھ اسپتالوں میں داخلے کی اجازت دی گئی ہے، جس سے ملک بھر میں استفادہ کنندگان کے لیے  رسائی میں اضافہ ہوتا ہے ۔

 

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/5Y472.jpeg

 

پردھان منتری غریب کلیان یوجنا  ( پی ایم جی کے وائی )

 

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/6L5ZQ.jpeg

 

مزید براں، پردھان منتری غریب کلیان انّ یوجنا  ( پی ایم جی کے اے وائی )   سے خوراک کی سلامتی کے لیے حکومت کے عزم کو تقویت ملتی ہے، جس میں یکم جنوری  ، 2024 ء سے اگلے پانچ سالوں کے لیے توسیع کی گئی ہے۔  یہ اسکیم خط افلاس سے نیچے خاندانوں کو مفت اناج  اور براہ راست  نقدی کی منتقلی مہیا کرتی ہے ، جس میں مہاجر مزدور شامل ہیں ۔  اس کے علاوہ، ون نیشن ون راشن کارڈ (او این او آر سی ) اسکیم، جو 2018 ء میں شروع کی گئی تھی، پورے بھارت میں راشن کارڈ کی پورٹیبلٹی کے ذریعے  خوراک کی سلامتی کو یقینی بناتی ہے۔  یہ اقدامات  مہاجر مزدوروں کو ، خواہ وہ ملک میں کہیں بھی ہوں ،  خوراک کی سلامتی تک رسائی  کی ضمانت  فراہم کرتے  ہوئے ایک مضبوط حفاظتی نیٹ کی تشکیل کرتے ہیں  ۔ مہاجر مزدور ، ان آسان اقدامات پر عمل کرکے ون نیشن ون راشن کارڈ (او این او آر سی ) اسکیم کے فوائد تک آسانی سے رسائی حاصل کرسکتے ہیں:

  1. اپنا موجودہ راشن کارڈ استعمال کریں:  مہاجر مزدور  اپنے موجودہ راشن کارڈ کو  پورے بھارت میں کسی بھی فیئر پرائس شاپ (ایف پی ایس ) پر سبسڈی والی خوراک حاصل کرنے کے لیے استعمال کر سکتے ہیں، چاہے ان کا مقام کچھ بھی ہو۔
  2. ای پی او ایس ڈیوائسز پر تفصیلات چیک کریں: ایف پی ایس پر، راشن کارڈ کی تفصیلات اور استحقاق  ای پی او ایس  (الیکٹرانک پوائنٹ آف سیل سسٹم) ڈیوائسز کے ذریعے دستیاب ہیں، جو ایک ہموار اور شفاف عمل کو یقینی بناتے ہیں۔
  3. میرا راشن ایپ ڈاؤن لوڈ کریں:  مہاجر  مزدور اپنے راشن  کارڈ، قریبی ایف پی ایس مقامات اور  واجبات کے بارے میں حقیقی وقت میں اپ ڈیٹس حاصل کرنے کے لیے 13 زبانوں میں دستیاب ’میرا راشن‘ ایپ ڈاؤن لوڈ کر سکتے ہیں۔ اپنے راشن کارڈ کو میرا راشن ایپ سے جوڑ کر، مہاجر مزدور آسانی سے کسی بھی  ایف پی ایس  سے غذائی اجناس تک رسائی حاصل کر سکتے ہیں ، اس بات کو یقینی بناتے ہوئے کہ وہ جہاں بھی جائیں، فوڈ سکیورٹی کے فوائد حاصل کرتے رہیں۔

خوراک کے تحفظ تک مسلسل رسائی کو یقینی بنا کر، حکومت  پورے بھارت میں  مہاجر مزدوروں کے لیے زیادہ محفوظ اور معاون ماحول کی بنیاد رکھ رہی ہے۔

نتیجہ

مہاجر مزدوروں کو بااختیار بنانا صرف فوری ریلیف فراہم کرنا نہیں ہے بلکہ طویل مدتی تحفظ اور ترقی کے مواقع کو یقینی بنانا ہے۔ مختلف اسکیموں اور قانونی تحفظات کے ذریعے، حکومت  مہاجر مزدوروں کے لیے ایک محفوظ، زیادہ معاون ماحول  تشکیل کرنے کے لیے کام کر رہی ہے  اور انہیں ہنر کی تربیت، سماجی تحفظ اور منصفانہ اجرت تک رسائی میں مدد  کر رہی ہے ۔ ان کوششوں کا مقصد ، ان کے چیلنجوں سے نمٹنے اور اس بات کو یقینی بنانا ہے کہ چاہے وہ کہیں بھی جائیں، وہ اپنی اور اپنے خاندان کے لیے بہتر زندگی تعمیر کر سکیں ۔ حالانکہ ابھی بہت کچھ کرنا باقی ہے،   مہاجر مزدوروں کے لیے زیادہ محفوظ اور بااختیار مستقبل کی طرف سفر  بہتر طریقے سے جاری ہے۔

حوالہ  جات

Click here to download PDF

 

*****

) ش ح –      ا ک -  ع ا )

U.No. 4078


(Release ID: 2084919) Visitor Counter : 35


Read this release in: English , Hindi