نائب صدر جمہوریہ ہند کا سکریٹریٹ
azadi ka amrit mahotsav

ریشی کیش کےآل انڈیا انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز ، میں نائب صدر جمہوریہ کے خطاب کا اصل متن

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 01 SEP 2024 3:48PM by PIB Delhi

معزز فیکلٹی ممبران ، ملازمین ، افسران اور ڈاکٹر ز ،

میں زندگی میں پہلی بار مکمل طور پر تھکا ہوامحسوس کررہا ہوں۔ مجھے یہاں آنے کے لئے بہت ہمت جٹانی  پڑی ، لیکن میں آپ کے سامنے موجود ہوئے بغیر دیوتاؤں کی اس سرزمین سے نہیں جاسکتا تھا۔

9 اگست ، 2024 کو جو بھی ہوا وہ کوئی عام واقعہ نہیں تھا اور نہ ہی یہ کوئی معمولی جرم نہیں  تھا۔ در حقیقت یہ بربریت  تھی ، جس نے پوری انسانیت کو شرمندہ کیا اور اس واقعے کی متاثرہ اس طبقے کی تھی جو ہمیشہ زندگی کو بچانے کے لئے وقف رہتے ہیں۔ مغربی بنگال کے گورنر کے عہدے پر رہتے ہوئے مجھے صحت کے کارکنوں ، ڈاکٹروں ، نرسوں اور کمپاؤنڈروں سے اظہار تشکر کرنے کا موقع ملا۔ وہ اپنے گھر والوں اور خود کو بھاری خطرہ مول لینے کے باوجود دوسروں کی جان بچانے کے لئے آگے رہتے ہیں۔

مجھے ابھی تک کوئی ڈاکٹر نہیں ملا ہے جو کسی مشکل میں پھنسے کسی شخص کے ساتھ علاج کرنے سے پہلے یا طبی مشکلات کو دور کرنے سے پہلے دو بار سوچتا ہے ، پھر چاہے وہ بس میں ہو ، ٹرین میں ، ہوائی جہاز میں ، سڑک ، سڑک لیکن کہیں بھی ہو۔ وہ 24 گھنٹوں تک نفسیاتی اور جذباتی طور پر ڈیوٹی پر رہتا ہے ، ذرا تصور کریں کہ 9 اگست کو کیا ہوا ، ہمارا دل زخمی ہے ، ہمارا ضمیر رو رہا ہے اور ہماری روح احتساب کا مطالبہ کررہی ہے۔

یہ موثر اور پیشہ ور افراد کی ایک قسم ہے جو جس ہدف تک پہنچنا چاہتے ہیں اسے حاصل کرنے میں نہ جانے کتنے برسوں تک لگے رہتے ہیں۔ ان کے پاس پرسکون ،آسان زندگی گزارنے کا متبادل ہوتا ہے۔  لیکن اس کے باوجود وہ انسانیت کی خدمت کا انتخاب کرتے ہیں۔ یہ واقعہ 9 اگست 1942 کے اس واقعے سے کم نہیں ہے۔ یہ واضح کال تھی کہ جنہوں نے ہمیں غلام بنا کررکھا  وہ  ہمیں چھوڑ دیں ، ہندوستان چھوڑ دیں۔ اس  دن کو کسی اچھے واقعے کے لحاظ سے کبھی یاد نہیں کیا جائے گا۔ ہمیں ان مجرموں کو روکنا ہوگا جنہوں نے یہ وحشیانہ واقعات انجام دیے۔ جو انسانیت کی شکل میں  شیطان بن رہے ہیں اور اس ملک کی پوری تہذیب کو شرمندہ کر رہے ہیں۔

اس طرح کے غمگین ماحول میں ، جو قومی سانحہ سے کم نہیں ہے ، میں آپ کے سامنے موجود ہوں اور حقیقت میں  آئینی حیثیت رکھتے ہوئے ، مجھے اپنی جوابدہی طے کرنی ہے۔ مجھے نائب صدر اور راجیہ سبھا کے چیئرمین کی حیثیت سے اپنے عہدے کی اہمیت ثابت کرنا  ہے۔  جب میں کیمپس آیا اور گرین روم میں تھا تو میرے سامنے ایک مسودہ بل متعارف کرایا گیا۔ ویسے یہ کام ممبران پارلیمنٹ کا ہونا چاہئے۔ یہ ذمہ داری مقننہ کی ہونی چاہئے ، لیکن ریزیڈنٹ ڈاکٹروں کی ایسوسی ایشن نے مجبوری اور مشکل میں ہمیں امید کی کرن ظاہر کرنے کے لئے یہ اقدام اٹھایا ہے۔ راستہ بہت مشکل ہے۔ سفر بہت لمبا ہے ، لیکن ہمیں تاریک سرنگ کے آخر میں روشنی تلاش کرنا ہوگی۔

ملک کی صدرجمہوریہ  ، جو خود ایک قبائلی خاتون ہیں ، انہوں نے بھی جدوجہد کیا ہے اور اب خود ان کو یہ کہنا پڑا ہے کہ‘بس بہت ہوچکا ہے ، اب اور نہیں ، بالکل نہیں’ ۔ آئیے اسے اب ملکر کہیں بس بہت ہوگیا۔

ریزیڈنٹ ڈاکٹروں کی ایسوسی ایشن کو اس اس پہل  کے لئے ، مبارکباد پیش کرتا ہوں۔ میں آپ کا شکر گزار ہوں کہ آپ نے وہ کام کیا جو کسی اور کا ہونا چاہئے تھا لیکن آپ کے پاس کوئی متبادل نہیں تھا۔ میں نے اسے دیکھا ہے۔ آپ نے جو بھی کہا ہے ، یہ دیوار پر لکھے ہوئے الفاظ کی طرح ہے ، اس پر بحث نہیں کی جاسکتی ہے ، یہ واحد راستہ باقی ہے۔

ملک میں صحت کے کارکنان جذباتی طور پر خدمت کرنے والی واحد برادری ہے۔ میں نے ایسا کہا ہے۔ اگر گھر میں بیٹی کی شادی ہے اور پڑوسی پریشانی میں ہے ، تو وہ پھیروں سے اٹھ جاتے ہیں۔ یہ آپ کی شناخت ہے اور معاشرے میں کوئی بھی ناراض نہیں ہوتاہے۔ پنڈت جی بھی اپنی بات الگ رکھ دیتے ہیں۔ ایسی صورتحال میں ، ایسی بہت ساری مثالیں ہیں۔

ذمہ دارافراد ہمیشہ خطرے میں رہتے ہیں ، ڈاکٹروں کے لئے خطرہ پہلے بھی کئی بار رہا ہے۔ میں نے اس خطرے کو سمجھا کیونکہ ڈاکٹر صرف ایک حد میں مدد کرسکتا ہے ، ایک ڈاکٹر اپنے آپ کو خدا نہیں بنا سکتا ، لیکن وہ خدا کے بعد دوسری جگہ پر آتا ہے ، لہذا جب کسی  شخص کی بے قابو ، جذباتی وجوہات کی وجہ سے موت ہوجاتی ہے ، تو ڈاکٹروں کے ساتھ ایسا سلوک نہیں کیا جاتا ہے جس کے وہ مستحق ہیں۔ جس طرح کے انتظامات مغربی بنگال کے اندر اور باہر نصف درجن مواقع پر کیے گئے ہیں ، میں نے اس طرح کے نظام کا مطالبہ کیا تھا۔ ڈاکٹروں ، نرسوں ، کمپاؤنڈروں اور صحت کے جنگجوؤں کی حفاظت کو یقینی ہونا چاہئے ، لیکن آپ یہاں کی صورتحال کو دیکھیں ، یہاں یہ تشدد سے مشروط ہے۔

بہرحال ، اس سرزمین پر آخر کہاں صحت ملازمین کے ساتھ تشدد کرنے کی نوبت ہی آتی ہے اور ہاں ڈاکٹر صاحب اپنے عہد پر غور کریں۔ آپ نے اس عہد پر عمل کیا ہے،آپ اسے کبھی نہیں بھولیں گے اور آپ اپنے فرائض سے کبھی نہیں منہ موڑیں گے۔ حقیقت میں آپ کےفرائض بھگوان کرشن کے ذریعے ارجن کو دیے گئے پروچن سے متاثر ہے ، کسی بھی چیز ، کسی رشتے، کسی بھی دیگر چیز کو نہ دیکھو، دوست وغیرہ تو ہونگے ہی، آپ کے معاملے میں ، فرائض ہوں گے ، کنبے کی ذمہ داری ہوگی اور عہد ہوں گے ، اس فرائض کی ذمہ داری کی ادائیگی کریں۔

اس تناظر میں ، یہاں پر یہ انکشاف ہوا ہے کہ 9 اگست2024 کو  انسانیت کی خدمت میں اپنے فرائض کی تکمیل کے لیے عہدبستگی ایک نوجوان خاتون ڈاکٹر کی جان اس کے اپنے اسپتال میں ڈیوٹی کے دوران بے دردی اور المناک طریقے سے لی گئی ، یہاں اس صورتحال کی سنگینی کو ظاہر کرنا ہے جس کا ہم سامنا کررہے ہیں۔ جب انسانیت شرمسار ہوئی ہے تو کچھ آوازیں اٹھتی ہیں اور ایسی آوازیں جو تشویش کا باعث بنتی ہیں وہ صرف ہمارے درد  میں اضافہ کرتی ہیں۔ وہ ہمارے زخمی ضمیر پر نمک چھڑکتی ہے اور وہ کیا کہتی ہیں ؟ یہ ایک علامتی خرابی ہے جو اکثر ہونے والے حادثے ہیں لیکن جب یہ  آواز کسی رکن پارلیمنٹ یا سینئر وکیل کی طرف سے آتی ہے تو عیب انتہائی سنگین سطح کا ہوتا ہے۔ اس طرح کے شیطانی خیالات کے لیے کوئی عذر نہیں ہوسکتا۔

میں ایسے گمراہ لوگوں سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ اپنے جذبات پر نظرثانی کریں اور عوامی طور پر معافی مانگیں۔ یہ سیاسی چشمے سے دیکھنے کا موقع نہیں ہے۔ یہ سیاسی پرزم خطرناک ہے، یہ آپ کے اعتراض کو ختم کردیتا ہے ، اس کے لیے اپنے اندر تلاش کی ضرورت ہوتی ہے۔

تصور کیجیے کہ اگر وہ کسی کی بیٹی ہوتی ، ہماری بیٹی تو کیا ہم اسے نسل درنسل بھول پاتے؟ 2012 میں ہمارے یہاں نربھیا سانحہ جیسا دردناک واقعہ پیش آیا، جس نے پورے ملک کو ہلا کر رکھ دیا، قوانین میں تبدیلی کی گئی ۔ یہ ا س سے بھی کہیں زیادہ ہے، یہ ایسا وقت ہے جب پوری دنیا ہماری طرف دیکھ رہی ہے، ہم دنیا کی قیادت کرنے والے ملک ہیں، ہم نے دنیا کے سامنے فخر کے ساتھ یہ خیالات پیش کیے ہیں کہ ‘‘ایک زمین، ایک کنبہ، ایک مستقبل’’۔ واسودھیو کٹمبکم اور ہمارے کٹمبھ کی بیٹی کو نہ دن دیکھا نہ رات دیکھی بلکہ عوام کی خدمت کرنے میں اس کے ساتھ عصمت دری ، قتل جیسی خوفناک ، عمل انجام دیا گیا جو ناقابل تصور ہے۔ پوری ڈاکٹر برادری ، پورے نرسنگ اسٹاف ، تمام صحت اہلکار  تشویش میں ہیں ، پریشانی میں ہیں، دکھی ہیں۔ والدین سوچیں گے بیٹی کو ڈاکٹر بنائیں یا نہ بنائیں، جب یہ خیال ذہن میں آتا ہے تو دل پریشان ہوجاتا ہے۔

میں نے خود کہا ہے کہ معزز صدر جمہوریہ کی طرف سے کی گئی اپیل پورے ملک میں ایک تحریک بنناچاہئے، سخت سزا ہی واحد راستہ ہے۔ انسانیت کے سب سے بڑے مجرموں کو پکڑنا اور انہیں انصاف کے کٹگھڑے میں لانا ہی ایک واحد حل ہے۔ اس کے ساتھ یہ ہمیں انقلابی محفوظ ، منظم نظام لانا ہوگا تاکہ مستقبل میں انسانیت کی خدمت کرنے والے اس شعبے کو کسی بھی طرح کا خطرہ نہ ہو۔ ہمیں ہر کسی کی حفاظت کرنی ہے، کسی بھی شخص کی زندگی کے کسی بھی شعبے میں اس توہین کا سامنا نہیں کرناچاہیے۔ ہماری تہذیب اور جمہوری اقدار ہماری خواتین اور بچیوں کے تئیں ہمارا احترام ہونا چاہیے۔ لیکن ہمیں سبھی کے لیے حفاظت کو یقینی بنانا ہوگا  ۔ یہ بہت ہی مخصوص برادری ہے ۔ ایک ایسا کنبہ جو آپ کی زندگی بچاتا ہے، اور آپ اس زندگی کو اس سے محروم کرتے ہیں، اس کے تمام وقار کو اس طرح ختم کردیتے ہیں جس کا تصور انتہائی وحشیانہ عفریت بھی نہیں کرسکتا ۔ جس نے بھی یہ کیا ہے اسے سزادی جائے گی، لیکن سماج کو بھی جوابدہ ٹھہرایا جانا چاہیے۔ سماج اپنی ذمہ داریوں سے بچ نہیں سکتا۔

کچھ غیرسرکاری تنظیم  جو ہر چھوٹے بڑے واقعے پر سڑک پر اترتے ہیں، خاموش ہیں، ہمیں ان سے سوال کرنا چاہیے۔ ان کی خاموشی 9اگست 2024 کو اس گھناؤنے جرم کے قصورواروں سے بھی زیادہ خراب ہے۔ جو لوگ سیاست کرنا چاہتے ہیں، ایک دوسرے کو خط لکھتے رہتے ہیں، وہ اپنے ضمیر کی آواز نہیں سن رہے ہیں۔

معاشرے کو کام کرنے کے لیے فٹ ہونا  پڑتا ہے۔ ایک شخص باصلاحیت ، پر عزم اور ہنرمند ہوسکتا ہے۔ اگر وہ فٹ نہیں ہے تو وہ کسی کی مدد نہیں کرسکتا، مدد کسی اور سے ہی ملنی چاہیے، آپ ایک ایسی برادری ہیں جو ہمیں فٹ رکھتے ہیں، آپ ایسے طبقے سے ہیں جو فطرت کے لحا ظ سے خود کو دوسروں کے لیے قربان کرتے ہیں۔ میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ چیزیں تبدیل ہوں گی ، یہ صرف ریزیڈنٹ ڈاکٹر ایسوسی ایشن کا کام نہیں ہے یہ اسکرپٹیڈ نہیں ہے، انہوں نے اپنے جذبے کو اجاگر کیا ہے۔

تشویش کو آگے بڑھایا جانا چاہئے اور مجھے کوئی شک نہیں ہے کہ ایسا ہوگا۔ یہ ایک دوسرے کے ساتھ مقابلہ کرنے کا موقع نہیں ہے اور یہ اس کی شہرت حاصل کرنے یا سیاسی فوائد حاصل کرنے کا موقع نہیں ہے ، یہ غیر جانبدار ہے۔ اس کے لئے دو طرفہ  مربوط کوششوں کی ضرورت ہے۔ جمہوریت میں ، تمام متعلقہ شراکت داروں کو ایک پلیٹ فارم پر اکٹھے ہونے کی ضرورت ہے ، ہر طرف مذمت ہورہی ہے۔ آپ کو اس کا حل تلاش کرنا ہوگا۔ آپ کو روشنی دکھانی ہوگی ، ہمیں زمین پر نتائج دیکھنے ہوں گے۔ ماحولیاتی نظام اتنا متحرک ہونا چاہئے کہ انسانیت کی خدمت میں اس زمرے کے لوگوں میں عدم تحفظ کا جذبہ غائب ہوجائے۔ ایسا ہوگا ، اگر ہندوستان کے صدر جمہوریہ نے تشویش کا اظہار کیا ہے تو ، آپ اسے مجھ سے لے سکتے ہیں۔

جو لوگ حکومت میں بیٹھے ہیں وہ اس سے واقف ہیں ، لیکن میں اسے حکومت یا سیاسی جماعتوں کا معاملہ نہیں بنانا چاہتا ہوں۔ میں چاہتا ہوں کہ یہ معاشرے کا معاملہ بن جائے ، یہ ہمارے وجود کے لئے چیلنج ہے۔ اس نے ہمارے وجود کی بنیاد کو ہلا کر رکھ دیا ہے ، اس نے ہندوستان کی شناخت پر سوال اٹھایا ہے ، جس کے لئے وہ ہزاروں سالوں سے کھڑا ہے۔

میں آپ کی توجہ اپنے مذہبی کتابوں میں کہی گئی چیزوں کی طرف مبذول کرانا چاہتا ہوں‘‘पुनर्वित्तं पुनर्मित्रं पुनर्भार्या पुनर्मही | एतत्सर्वं पुनर्लभ्यं शरीरं पुनः पुनः ||یہ کیا کہتا ہے ہم اپنی کھوئی ہوئی دولت واپس لاسکتے ہیں‘پُنروت’ ہم کھوئے ہوئے دوست واپس پاسکتے ہیں ‘پُنرمتر’ ہمیں نئی بیوی بھی مل سکتی ہے ‘پُنربھاریہ’ ہماری کھوئی ہوئی زمین واپس مل سکتی ہے ‘پنرمہی’ لیکن ہمیں اپنی جسم واپس نہیں ملتی ہے۔

اس دیکھیے جس بچی نے اس جسم کو بچانے کی کوشش کی تھی ، اس جسم کو ہم نے تار تار کردیا۔ کتنی ستم ظریفی ہے کہ ہماری سنسکرت میں کہا گیا ہے کہ کچھ بھی کردو ، لیکن اس جسم کو بچاؤ ۔ آپ لوگ اس شکر گزار کام میں مصروف عمل ہیں اور ایسا کرنے والوں کے ساتھ ایسا ہو ، الفاظ نہیں ہے کہ کیا ہوں۔

میں یہاں کسی دوسرے دن صحت کے شعبے کے بارے میں بات کرنے کیے لیے آؤں گا ، یہ میرا پسندیدہ موضوع ہے۔ ‘‘پہلا سکھ نیروگی کایا’’آپ  ہمارے ویدوں، اتھروید کے سرپرست ہیں، صحت سے متعلق بہت کچھ کہا گیا ہے۔ آج کے دن میرے آنے کا ایک مقصد تھا اور میں یہاں ایک بات زور دیکر کہنا چاہتا ہوں کہ ایمس رشی کیش  اتنی تیزی سے ترقی کررہا ہے میں اس پر کچھ نہیں بول پارہا ہوں۔ ایسی ترقی کی ہے کہ ایمس میں ایک نیا نام روشن ہورہاہے۔ اور یہ آپ سب لوگوں کے تعاون کی وجہ سے ہورہا ہے، آج میں اپنے آپ کو آپ کے دکھ میں اپنی شراکت داری ظاہر کرنے کےلیے آیا ہوں ۔ میرا دل نہیں مانا ،مجھے لگ رہا ہے کہ کیا میں آپ کے سامنے آرام سےکھڑا رہ سکتا ہوں۔ سماج آج آپ کی عدالت میں ہے اور سماج کو  آپ کی عدالت میں آپ کے سوالات کے جوابات دینے ہوں گے۔ آئین نے مجھے ایک پوزیشن دی ہے کہ اس میں مجھے کچھ قربانیاں پیش کرنے کے قابل ہو جاؤں گا۔ میں کچھ وقت کے بعد آؤں گا ، جب صورتحال اچھی ہو جائے گی ، ماحول ٹھیک ہوجائے گا ، اور نظام ان پلیس ہوگا۔جو آپ نے لکھا ہے متعلقہ فریقین اسے نوٹ کریں اور ضروری کارروائی کریں۔

آپ کا بہت بہت شکریہ۔ نمسکار!

 

*******

ش ح۔ ع ح۔ع ن

 (U: 10422)


(ریلیز آئی ڈی: 2050791) وزیٹر کاؤنٹر : 70
یہ ریلیز پڑھیں: Manipuri , English , हिन्दी