وزارت ماہی پروری، مویشی پروری و ڈیری
قومی سطح کے نگراں ادارے-این ایل ایمس، زمینی سطح پر محکمہ کی آنکھیں اور کان کی حیثیت رکھتے ہیں تاکہ ہمارے ہدف بند استفادہ کنندگان تک ہمارےپروگراموں کے فوائد کی بہم رسانی ، جو ہمارے لئےاعلی ترحیح ہوتی ہے ، کو یقینی بنایا جاسکے اوراس معاملے میں ان کا کردار نہایت اہمیت کاحامل ہوتا ہے: محترمہ الکا اپادھیائے
اس ورکشاپ کا مقصدایم ایل ایمس کوڈی اے ایس ڈی کے پروگراموں اور ان کے مقاصد کی جامع تفہیم سے آراستہ کرنا ہے
प्रविष्टि तिथि:
26 JUL 2024 6:38PM by PIB Delhi
مویشی پروری اوردود اور دودھ سے بنی مصنوعات کے محکمہ(ڈی اے ایچ ڈی) کے تحت مویشی پروری سے متعلق شماریات ڈویژن نے آج وگیان بھون، نئی دہلی میں کلیدی محکمہ جاتی پروگراموں کی آزادانہ نگرانی کی اثرانگیزی کو بااختیار بنانے کے مقصد سے نئے شامل کئے گئےقومی سطح کے نگرانوں(این ایل ایمس) کے لیے ایک اورینٹیشن ورکشاپ کا انعقاد کیا۔ اس ورکشاپ کا مقصدایم ایل ایمس کوڈی اے ایس ڈی کے پروگراموں اور ان کے مقاصد کی جامع تفہیم سے آراستہ کرنا ہے، تاکہ وہ شفافیت، جوابدہی اور موثر نفاذ کو یقینی بنانے میں اہم کردار ادا کر سکیں۔
مویشی پروری اور دودھ اور دودھ سے بنی مصنوعات کے محکمہ کی سکریٹری محترمہ الکا اپادھیائے نے ورکشاپ کا افتتاح کیا،اور مویشی پروری سے متعلق کسانوں کو بااختیار بنانے کے حکومت کے وژن کو حاصل کرنے میں آزاد نگرانی کی اہمیت پر زور دیا۔ محترمہ الکا اپادھیائے نے کہا‘‘قومی سطح کے نگراں ادارے-این ایل ایمس، زمینی سطح پر محکمہ کی آنکھیں اور کان کی حیثیت رکھتے ہیں تاکہ ہمارے ہدف بند استفادہ کنندگان تک ہمارےپروگراموں کے فوائد کی بہم رسانی ، جو ہمارے لئےاعلی ترحیح ہوتی ہے ، کو یقینی بنایا جاسکے اوراس معاملے میں ان کا کردار نہایت اہمیت کاحامل ہوتا ہے۔’’ ڈی اے ایچ ڈی کی ایڈیشنل سکریٹری محترمہ ورشا جوشی، ڈی اے ایچ ڈی کے جوائنٹ سکریٹری ڈاکٹر او پی چودھری، ڈی اے ایچ ڈی کی جوائنٹ سکریٹری محترمہ سریتا چوہان اور ڈی اے ایچ ڈی کےمشیر (شماریات) جناب جگت ہزاریکا نے اس ورکشاپ کا مشاہدہ کیا۔
مویشی پروری اور دودھ اور دودھ سے بنی مصنوعات کےمحکمہ کے پاس نگرانی اور تشخیص کا ایک مضبوط فریم ورک موجود ہے، جس میں باقاعدہ پیش رفت کی رپورٹیں، انتظامی معلومات کا ایک مخصوص نظام، اور وقتاً فوقتاً جائزہ میٹنگیں شا مل ہوتی ہیں۔ ان جامع کوششوں کے باوجود، آزادانہ، زمینی سطح پر نگرانی کی مستقل ضرورت ابھری ہے۔ سبھی ریاستوں میں یکساں نفاذ کو یقینی بنانے اور عمل آوری کرنے والی ایجنسیوں کو بروقت تکنیکی مدد فراہم کرنے جیسے چیلنجوں کے لیے مزیدنقطہ نظر کی ضرورت پیدا ہوئی ہے۔ ان خامیوں کااعتراف کرتے ہوئے، محکمہ نے ایک غیر جانبدار/شفاف اور معروضی نگرانی کا نظام متعارف کرانے کے مقصد سے قومی سطح پرنگرانی اسکیم شروع کی جو ریاستی سطح پر پروگرام کی کارکردگی کا براہ راست اور باقاعدہ جائزہ پیش کرے گی۔
ورکشاپ میں چار اہم پروگراموں، راشٹریہ گوکل مشن، نیشنل لائیواسٹاک مشن، لائیواسٹاک ہیلتھ اینڈ ڈیزیز کنٹرول پروگرام اور نیشنل پروگرام برائے ڈیری ڈیولپمنٹ پر تفصیلی پریزنٹیشنز کا احاطہ کیا گیا۔ محکمہ کے سرکردہ عہدیداروں نے پروگراموں کے اہداف، نفاذاور عمل درآمدسے متعلق حکمت عملیوں اور چیلنجوں کے بارے میں گہرائی سے بصیرت فراہم کی۔
محترمہ ورشا جوشی نے راشٹریہ گوکل مشن اور ڈیری ڈیولپمنٹ کے قومی پروگرام کا ایک جامع جائزہ پیش کیا۔ ان کی اس پریزنٹیشن نے ان مشنوں کے کارروائی جاتی پہلوؤں، انتظامی ڈھانچے، اور تکنیکی ترقی پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے ان کلیدی شعبوں کی بھی نشاندہی کی جن کے لئے قومی سطح کے نگراں اداروں کے فیلڈ دوروں کے دوران قریبی نگرانی کی ضرورت ہوتی ہے۔
ڈاکٹر او پی چودھری نے نیشنل لائیو سٹاک مشن یعنی مویشیوں سے متعلق قومی مشن پیش کرتے ہوئے اس کے وسیع دائرہ کار کے خاکے کو اجاگرکیا ، جس میں اب کاروباری نیز صنعت کاری ترقی، تحقیق اور اختراع، لائیو اسٹاک انشورنس یعنی مویشیوں کا بیمہ اور مویشی پروری سے متعلق بنیادی ڈھانچے کا ترقیاتی فنڈ (اے ایچ آئی ڈی ایف) شامل ہیں۔ ڈاکٹر سوجیت دتہ اور ڈاکٹر لیپی سیریوال نے مشن کے کام کاج کے بارے میں اضافی بصیرت پیش کی۔
محترمہ سریتا چوہان نے لائیواسٹاک ہیلتھ اینڈ ڈیزیز کنٹرول پروگرام یعنی مویشیوں کی صحت اور ان کی بیماریوں کی روک تھام سے متعلق پروگرام (ایل ایچ اینڈ ڈی سی پی) پیش کیا، جس میں نیشنل اینیمل ڈیزیز کنٹرول پروگرام یعنی مویشیوں کی بیماریو ں کی روک تھام سے متعلق پروگرام (این اے ڈی سی پی)، موبائل ویٹرنری یونٹس یعنی پالتو جانوروں اورمویشیوں کی بیماریوں کےعلاج معالجے سے متعلق چلتے پھرتے یونٹ (ایم وی یوز) اور ریاستوں/مرکز کے زیر انتظام علاقوں کو جانوروں کی بیماریوں کے کنٹرول کے لیے مدد(اے ایس سی اے ڈی) جیسی کلیدی پہل قدمیوں پر توجہ مرکوز کی گئی تھی۔ ان کی پریزنٹیشن میں ان پروگراموں کے انتظامی فریم ورک اورکارروائی جاتی میکانزم کا تفصیل سے ذکر کیا گیا۔
این آئی سی کے ڈپٹی ڈائریکٹر جنرل جناب پرشانت متل نے قومی سطح کے نگرا ں اداروں کے لیے این آئی سی کی طرف سے تیار کی جا رہی ایپلیکیشن کا براہ راست پریزنٹیشن دیا۔ اس ایپلیکیشن کا مقصدزمینی سطح کی معلومات کو براہ راست موبائل ایپلیکیشن میں حاصل کرنا ہے، رپورٹنگ کے لیے لگنے والے وقت کو کم کرنا اور عمل کی کارکردگی کو بہتر بنانا ہے۔
این ایل ایم اسکیم کے تحت، ریٹائرڈ فوجیوں کے ایک ممتاز گروپ پر مشتمل مانیٹرس، ان پروگراموں کی پیشرفت کا جائزہ لینے ، خامیوں اور رکاوٹوں کی نشاندہی کرنے اور بہتری کی تجویز دینے میں اہم کردار ادا کریں گے۔ ان کے تاثرات محکمہ کے پروگرام کی ترسیل کو بڑھانے اور اس بات کو یقینی بنانے میں مددگار ثابت ہوں گے کہ عوامی فنڈز کا بہترین استعمال کیسے کیا جائے۔
مویشی پروری اور ڈیری یعنی دودھ اور دودھ سے بنی مصنوعات کامحکمہ شفاف اور جوابدہ طریقہ کار کے ذریعے مویشیوں کے شعبے کی ترقی کو فروغ دینے کے لیے پرعزم ہے۔ یہ کامیاب تعارفی ورکشاپ ان اہداف کو حاصل کرنے کی طرف ایک اہم قدم کی نشاندہی کرتی ہے، جن میں این ایل ایم پہل قدمی، ڈی اے ایچ ڈی کے پروگراموں کی غیرجانبدارانہ نگرانی میں ایک اہم کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہے۔
اس ورکشاپ کا اختتام ڈی اے یچ ڈی کی مویشی پروری سے متعلق شماریات ڈویژن کے ڈائریکٹر جناب وی پی سنگھ کے اظہارتشکر کے ساتھ ہوا۔ انہوں نے تمام معززشخصیات اورمتعلقہ فریقوں کااس ورکشاپ میں شرکت کے لئے شکریہ ادا کیا ۔
******
ش ح۔ ع م ۔ ف ر
U:8895
(रिलीज़ आईडी: 2038273)
आगंतुक पटल : 78