نائب صدر جمہوریہ ہند کا سکریٹریٹ
azadi ka amrit mahotsav

مساوی رسائی اور انصاف،  صحت کی دیکھ بھال کا  اصل معیار  ہونا چاہیے،نہ کہ مالیاتی فوائد: نائب صدرجمہوریہ


تعلیم اور صحت کو تجارتی طور پر نہیں چلایا جا سکتا :نائب صدرجمہوریہ

کسی بھی پیشے میں اخلاقی کمزوری تکلیف دہ ہوتی ہے لیکن طبی پیشے میں اخلاقی کمزوری ناقابل قبول ہے-  نائب صدر جمہوریہ

نائب صدرجمہوریہ نے بڑے ہسپتالوں میں بعض قابل اعتراض طریقوں میں اصلاحات کا مطالبہ کیا

ویکست بھارت  2047 کے لیے فٹ انڈیا ایک شرط ہے:نائب صدرجمہوریہ

 نائب صدرجمہوریہ  نےایسوسی ایشن آف فزیشنز آف انڈیا کی 79ویں سالانہ کانفرنس سے خطاب کیا

प्रविष्टि तिथि: 22 FEB 2024 9:29PM by PIB Delhi

نائب صدر، جناب جگدیپ دھنکھر نے آج تعلیم اور صحت کی دیکھ بھال کے کمرشلائزیشن(تجارتی کاری)  پر اپنی ناپسندیدگی کا اظہار کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ یکساں رسائی اور انصاف پسندی، نہ کہ مالیاتی فوائد، صحت کی دیکھ بھال کے لیے ضروری ہیں۔ ہندوستان کی 5000 سال کی تہذیبی اخلاقیات کا ذکر کرتے ہوئے، انہوں نے کہا کہ صحت اور تعلیم کو ہمیشہ معاشرے کی خدمات کے طور پر سمجھا جاتا ہے، سماج کو واپس دینا، اس سے کمانا نہیں۔ انہوں نے مزید کہا۔‘‘ اب یہ دونوں شعبے صنعتیں بن رہے ہیں۔ میں پرزور مشورہ دیتا ہوں کہ ہم اپنی پرانی اقدار پر واپس آجائیں جو ہماری قوم اور انسانیت کے لیے بہت اچھا کام کرے گی’’

آج نئی دہلی میں بھارت منڈپم میں ایسوسی ایشن آف فزیشنز آف انڈیا (ایپی کان- 2024 ) کی 79ویں سالانہ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے، جناب نائب صدرجمہوریہ نے  اظہار رائے  کیا کہ کوئی بھی پیشہ طبی پیشے کی طرح بلند اور عظمت والا نہیں ہے، اور انہوں نے اخلاقی معیارات کے اعلیٰ ترین درجے پر زور دیا، جو  وکالت کےپیشے کے بعد بلندترین ہے۔انہوں نے زور دے کر کہا ‘‘کسی بھی پیشے میں اخلاقی کمزوری تکلیف دہ ہے لیکن طبی پیشے میں اخلاقی کمزوری کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا۔’’

جناب  دھنکھر نے مزید کہا کہ ہمیں ہسپتالوں میں 5 ستارہ سہولیات کی ضرورت  صرف ایک پرکشش چیز کے طور پر نہیں ہے،  ہمیں واقعی ‘‘5 ستارہ خدمات’’ کی ضرورت ہے۔ سپر اسپیشلٹی اسپتالوں میں رائج کچھ قابل اعتراض طریقوں کا حوالہ دیتے ہوئے، جناب صدرجمہوریہ نے امید ظاہر کی کہ ایپی کان-24  ان طریقوں پر بحث کرے گا اور ایسی اصلاحات لائے گا جس سے مریضوں اور قوم کو بہت مدد ملے گی۔

اس خیال کااظہار کرتے ہوئے کہ اچھی صحت کا مطلب صرف بیماری سے پاک ہونا یا ہر ایک کے علاج کی سہولیات کا دستیاب  ہونا نہیں ہے، نائب صدرجمہوریہ  نے اس بات پر زور دیا کہ احتیاطی اور حفاظتی طریقہ کار ہماری پہلی پسند ہونا چاہیے اور اس پر توجہ دینے پر زور دیا۔

اس بات کا ذکر کرتے ہوئے کہ ہم ایک ترقی یافتہ بھارت @2047 کے لیے میراتھن مارچ پر ہیں، جناب دھنکھر نے اس بات پر زور دیا کہ یہ تب ہی ممکن ہو گا جب ہمارے پاس ایک فٹ انڈیا ہوگا اور فٹ انڈیا ہمارے طبی پیشہ وروں کے تعاون پر منحصر ہے۔

ہندوستان کو طبی فضیلت کا مرکز اور طبی سیاحت کے تیزی سے بڑھتے ہوئے مرکز کے طور پر بیان کرتے ہوئے، نائب صدرجمہوریہ نے مختلف ممالک سے آنے والے مریضوں کے علاج معالجے کے دوران پیشہ ورانہ مہارت اور اخلاقی طریقوں کی اعلیٰ ترین ڈگری کو یقینی بنانے پر زور دیا کیونکہ اس سے ہمیں نرم سفارت کاری(ثقافتی وسائل کے استعمال)  کا بھی بڑا فائدہ ملتا ہے۔

نائب صدر کی تقریر کا مکمل متن درج ذیل ہے-

‘‘ایک طبیب ہمیشہ ایک اثاثہ ہوتا ہے، ہمیں ڈاکٹروں کو زیادہ سننا چاہیے۔ مخصوص حالات والے  دور میں ایک معالج اور بھی اہم ہوتا ہے۔ وہ ایک عام مشیر کی طرح ہے۔ ہمارے درمیان دو چیزیں مشترک ہیں - میرا مطلب ہے ڈاکٹر اور وکیل۔ آپ سفید لباس پہنتے ہیں اور ہم سیاہ لباس پہنتے ہیں۔ آپ کے لباس پر کوئی بھی داغ فوراً ظاہر ہو جائے گا، ہم سیاہ رنگ کا فائدہ اٹھاتے ہوئے محفوظ ہیں لیکن ایک اور عام خصوصیت جہاں ہم ایک ہی پلیٹ فارم پر ہیں وہ  یہ ہے کہ آپ کی کتابیں بہت بھاری ہیں اور ہماری بھی۔

 کل انسانی آبادی کے چھٹے  حصہ پر مشتمل، بھارت کی طبی برادری تک پہنچنے کے اس موقع کے لیے شکر گزار ہوں۔ مریضوں کے لیے ڈاکٹر  کا مقام اللہ کے  بعد ہے۔ ہم سب نے محسوس کیا ہے کہ 23000 معالجین جو آپ کے ممبر ہیں پوری قوم کے صحت کے شعبے پر مثبت اثر ڈالنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

ایسوسی ایشن آف فزیشنز آف انڈیا،  ایپی کان کی 79ویں سالانہ کانفرنس کے موقع پر میں اپنے خیالات اور خدشات کا اظہار کرنے کا موقع حاصل کرنا چاہوں گا۔

میں شروع میں کووڈ کے خطرے کا مقابلہ کرنے اور اس پر قابو پانے میں آپ کے مثالی کردار کے لیے شکریہ کے گہرے احساس کا اظہار کرتا ہوں۔ آپ ہمیشہ انسانیت کی خدمت میں لگے رہتے ہیں۔

ریاست مغربی بنگال کے گورنر کی حیثیت سے، مجھے انسانیت کی فلاح و بہبود کے لیے آپ کی لگن، خلوص اور مکمل وابستگی اور آپ کے پیشے کو قابل فخر بنانے کا پہلا تجربہ ہوا۔

میں  بلا خوف تردید  یہ کہنے کی جسارت کرتا ہوں کہ دنیا کے کونے کونے میں اور زندگی کے ہر شعبے میں کوئی بھی پیشہ اتنا قابل احترام نہیں ہے جتنا کا طبی پیشہ۔ آپ دوسروں کی زندگیاں بچانے کے لیے کووڈ  کے دوران اپنی جانیں خطرے میں ڈالتے ہیں۔ کتنے دوسرے پیشے انسانی رویے میں ایسی شاندار کامیابی کا دعویٰ کر سکتے ہیں۔ میں ڈاکٹروں، پیرا میڈیکل اسٹاف، نرسوں اور کمپاؤنڈرز کو سلام پیش کرتا ہوں۔

ہماری بڑی آبادی 1.3 بلین اور اس سے زیادہ کے پیش نظر ہمیں کووڈ کا سب سے مشکل چیلنج درپیش تھا۔ دنیا نے سوچا  تھاکہ ہندوستان  کی حالت  اس وباکی بنا پر  دوسرے ملکوں کے مقابلے میں زیادہ ہی خراب ہوجائے گی ۔ آپ کے تعاون، بصیرت کی قیادت، ہماری اختراع سے نہ صرف ہم نے اس پر قابو پالیا ہم نے کووڈ میتری کے ذریعے دوسرے سو سے زیادہ ممالک کی مدد کی۔

دوستو! جب کہ کوئی پیشہ آپ کے پیشے  کی طرح بلند نہیں۔ یہ پیشہ اخلاقی معیارات کے اعلیٰ ترین فرمان کا مطالبہ کرتا ہے، جو اب تک سب سے زیادہ ہے۔ وکلاء کے پیشے کے بعد دوسرے نمبر پرآپ کا پیشہ مریضوں کی رازداری کا ذخیرہ ہے۔ ایک مریض جو قریبی اور عزیزوں کو کچھ بھی ظاہر نہیں کرے گا بلا جھجک آپ کے سامنے اپنی رازداری  کے خلاف ورزی  کرے گا۔ دونوں اعتبار سے ، آپ اعلیٰ ترین انسانی معیارات تک پہنچنے کے لیے بہت زیادہ پابند ہیں۔

کسی بھی پیشے میں اخلاقی کمزوری تکلیف دہ ہوتی ہے لیکن طبی پیشے میں اخلاقی کمزوری ناقابل قبول ہے۔ میں آپ سب کی تعریف کرتا ہوں کہ ہمارے ڈاکٹروں، ہماری نرسوں اور کمپاؤنڈرز نے عالمی افق پر بھی اعلیٰ اخلاقی معیارات کا مظاہرہ کیا ہے۔ اگر کچھ غلطیاں ہیں تو میں اسے آپ کے سوچے سمجھے عمل پر چھوڑتا ہوں اور آپ کو مثالی نتائج کے ساتھ ان کا دورہ کرنا چاہیے کیونکہ جب ڈاکٹروں، نرسوں اور کمپاؤنڈرز کی اکثریت اخلاقی معیار کے اعلیٰ ترین درجے کو حاصل کئے ہوئے ہیں ، تو ہم اس پیشے کے منصفانہ نام کو اس چھوٹے سے طبقے کے ہاتھوں داغدار ہونے کی اجازت نہیں دے سکتےجو اس پیشے کو تجارت میں تبدیل کردینا چاہتے ہیں۔

ہم امرت کال میں ہیں، ہم  ویکست بھارت 2047 تک اپنے میراتھن مارچ پر ہیں۔  ہم  اپنی آزادی سویں سالگرہ 2047کو اس نظر سے دیکھتے ہیں  کہ اس وقت ہمارا ملک  دنیا کا ترقی یافتہ ملک  اور دنیا کا رہنما ہوگا۔ یہ تب ہی ممکن ہوگا جب ہمارے پاس فٹ انڈیا ہوگا اور فٹ انڈیا آپ کے تعاون پر منحصر ہے۔ قوم تب فٹ ہوگی جب آپ ہمیں فٹ بنانے میں 24x7مصروف رہیں گے۔

یہ آپ کی لگن اور فدا کاری سے  تحریر ہونا چاہئے۔ یہ صلاحیت آپ کے پاس ہے۔

ملک کی معاشی ترقی میں بڑا کردار ادا کرنا ہے کیونکہ بیمار دماغ، بیمار جسم ہنر، عزم، سمت، لگن کے باوجود کارکردگی نہیں دکھا سکتا۔

آپ وہ ہیں جو مختلف وجوہات سے قوم کی دیکھ بھال کر سکتے ہیں۔ آج، ہندوستان طبی مہارت  اور طبی سیاحت کے تیزی سے ترقی کرتے ہوئے  مرکز کے طور پر فخر سے کھڑا ہے، جودنیا کے ہر کونے سے جدید علاج اور ہمدردانہ دیکھ بھال کی تلاش میں رہنے والےمریضوں کو راغب کرتا ہے۔

میں جانتا ہوں، میرے اپنے والد کو 80 کی دہائی کے آخر میں بائی پاس سرجری کے لیے برطانیہ جانا پڑا تھا۔وقت ہمارے پاس اس ملک میں صرف انجیوگرام تھا اور وہ بھی بہت کم جگہوں پر۔ جو لوگ کل تک معیشت کے معاملوں میں  ہمیں رائے دیا کرتے تھے آج وہ ہم سے رائے مانگتے ہیں۔اور ہم جواب دیتے ہیں، ان ملکوں کے لوگ آج یہاں آتے ہیں۔

جب میں آپ کا نام اے پی آئی دیکھتا ہوں تو مجھے فوراً یو پی آئی  یاد آجاتا ہے۔ یہ  ایک ہندوستانی پروڈکٹ ہے  جس کو سنگاپور سمیت 7 ممالک پہلے ہی اپنا رہے ہیں اور اس کا لین دین عالمی  کاروبار   کے 46فیصد سے زیادہ ہے۔

اس پس منظر میں یہ بات انتہائی اہمیت کی حامل ہے کہ ہمارے ہسپتال عام آدمی کے لیے قابل رسائی ہیں۔اور یہ کہ طبی علاج اخلاقی تحفظات کو اپنے مرکز میں رکھتا ہے۔

میں اس کی وضاحت نہیں کروں گا، ہمیں ہسپتالوں میں فائیو اسٹار سہولیات کی ضرورت ہے۔ ہسپتال کشش کا ذریعہ نہیں بن سکتے کیونکہ وہ فائیو اسٹار سہولیات فراہم کرتے ہیں۔ ہمیں فائیو سٹار سروسز کی ضرورت ہے۔ ہمیں ان میں کلچر سمیٹنا ہوگا۔

کچھ طور طریقے ہیں جو اس سطح پر بھی ہم شیئر کرنے سے قاصر ہیں۔ مجھے یقین ہے کہ آپ ذہن سازی کے سیشن کریں گے، ان طریقوں پر بحث کریں گے، اسے دیواروں پر تحریر کریں گے، اس کے بارے میں آواز اٹھائیں گے، ایسی اصلاحات لائیں گے جس سے مریض اور قوم کو بہت مدد ملے گی۔

مساوی رسائی اور انصاف پسندی، نہ کہ مالیاتی فوائد، صحت کی دیکھ بھال کی  کسوٹی ہونا چاہیے۔ تعلیمی صحت تجارتی کیسے ہو سکتی ہے؟

ہم ایک ایسے معاشرے میں رہتے ہیں جس کی تہذیبی گہرائی پانچ ہزار سال پر محیط ہے۔ صحت اور تعلیم کو ہمیشہ معاشرے کی خدمت کے طور پر لیا گیا،  ہمیں معاشرے کا قرض ادا کرنا ہے ،اس سے کمانا نہیں۔ اب یہ دونوں شعبے انڈسٹری بن چکے ہیں۔ میں پرزور مشورہ دیتا ہوں کہ ہم پرانی تہذیب میں واپس آجائیں کہ ہم قوم اور انسانیت کے لیے بہت کچھ کرتے ہیں۔

حقیقی ترقی کی پیمائش ذاتی حاصلات کے لحاظ سے نہیں کی جاتی ہے۔ حقیقی ترقی کو لوگوں کے مرکزی موقف کے لحاظ سے ناپا جانا چاہیے۔

ہم کس حد تک اس پوزیشن میں ہیں کہ اس شخص کو جو آخری قطار میں ہے اس میں امید  پیدا کر سکیں کہ میں بھارت میں رہتا ہوں، مجھے بہترین علاج مل سکتا ہے اور یہ سستا ہے۔

سروس ڈیلیوری(خدمات بہم رسانی )  میں فائیو اسٹار کلچر نمایاں طور پر جھلکتا ہے۔ یہ ناقابل گفت و شنید ہے۔

‘‘حقیقی ترقی لوگوں پر مرکوز ہے۔ میڈیکل سائنس میں کتنی ہی ترقی کیوں نہ ہو، آخری میل پر آخری فرد تک رسائی یقینی بنائی جانی چاہیے’’- وزیراعظم

اس صورتحال میں، آیوشمان بھارت امید کی کرن کے طور پر کھڑا ہے، جو ایک نئے دور کا آغاز کر رہا ہے جہاں معیاری صحت کی دیکھ بھال ہر ہندوستانی کے لیے ایک مراعات  نہیں بلکہ ایک بنیادی حق ہے۔

آیوشمان بھارت کے دیگر فوائد بھی ہیں- اس کے نتیجے میں طبی انفراسٹرکچر میں اضافہ ہوا ہے۔ ٹائر-2، ٹائر-3 شہروں، پیرامیڈیکل سروسز، نرسنگ کالجوں اور تشخیصی مراکز میں بھی مزید اسپتال۔ یہ ترقی آیوشمان بھارت کی وجہ سے ہوئی ہے۔

ان لوگوں کے لیے امید کی ایک نئی کرن جو یہ سوچتے تھے کہ اگر ہم کسی بیماری میں مبتلا ہو گئے تو ہماری پوری معیشت تباہ ہو جائے گی۔ ہم اندھیرے میں ہوں گے، وہ اب توجہ کامرکز اور روشنی میں ہیں۔

یہ ممکنہ طور پر دنیا کی واحد ہیلتھ انشورنس اسکیم ہے جو پہلے سے موجود بیماریوں کے لیے بھی انشورنس کور حاصل کرنے کا آپشن پیش کرتی ہے۔

میں سمجھدار مجمع سے مخاطب  ہوں، ایک ایسا  مجمع   جو عالمی منظر نامے کو جانتا ہے۔ میں حاضرین کے سامنے ہوں جو جانتےہے کہ ترقی یافتہ دنیا میں صحت کے شعبے کی کیا حالت ہے۔ آپ کو نوٹ کرکے خوشی ہوگی، اور آپ مجھ سے زیادہ جانتے ہیں۔ ہم ان سے بہت آگے ہیں۔

جب ہم قوم  کے نام  ان کے خطابات کو دیکھتے ہیں، ہم پریشان ہوتے ہیں کہ وہ کہاں ہیں۔ ہم مسلسل عروج پر ہیں اور ہمارا عروج نہ رکنے والا ہے اور ہمارا عروج جاری رہے گا۔

مثبت حکمرانی اور موثر پالیسیاں جن کا مقصد تمام سطحوں پر ،بنیادی، ثانوی اور سہ سطحی،صحت کے بنیادی ڈھانچے کو مضبوط کرنا ہے-  دستیابی  اور رسائی کو یقینی بنانے کے لیے۔

ملک کے کسی بھی حصے میں چلے جائیں، یہاں تک کہ کسی گاؤں میں بھی، نظام ڈرامائی طور پر تبدیل ہوچکا ہے اور انقلاب آیا ہے۔ ایسی سہولیات دستیاب ہیں جن کا ہم نے کبھی تصور بھی نہیں کیا تھا۔

 سال 1989 میں میں پارلیمنٹ کے لیے منتخب ہوا، مجھے مرکزی وزیر بننے کی سعادت نصیب ہوئی۔ جس کا میں اس وقت خواب دیکھنے کی ہمت نہیں کر سکتا تھا، میں اس کی تمنا نہیں کر سکتا تھا لیکن طبی پیشے کی شراکت، دور اندیش قیادت کی بدولت ہم یہ دعویٰ کرنے کی پوزیشن میں ہیں کہ ہم دنیا کے بہترین ہونے کی پوزیشن  میں آ رہے ہیں۔

ذرا تصور کریں کہ اگر میں آپ کو اعدادوشمار پر لے جاؤں، تو  آپ دیکھیں گے  کہ ہم نے ایک پر خطرخطہ میں کیا سفر کیا ہے۔

ایک دہائی کے اندر، ایم بی بی ایس کی نشستوں میں 79 فیصد اضافہ، پی جی کی نشستوں میں 93 فیصد اضافہ اور 23 منظور شدہ ایمس، ایک دہائی پہلے کے 7 کے مقابلے میں اور اس نے ہمارے صحت کے منظم منظرنامے کو مضبوط اور  مستحکم  کیا ہے۔

میں نے پہلے اشارہ کیا تھا، وہ دن گئے جب پہلا آپشن مریض کو بیرون ملک لے جانے کا تھا اگر آپ جان بچانے کے لیے ایسا کرنے کی استطاعت رکھتے تھے۔ اب وہ منظرنامہ نہیں رہا۔ اب ملک کی ہر ریاست سپر اسپیشلٹی اسپتال پر فخر کر سکتی ہے۔اُس وقت یہ مشکل  ہی نہیں تھا بلکہ عملی طور پر ناممکن بھی تھا، اب ہم اس کا بھرپور فائدہ اٹھا رہے ہیں۔

میں ایک اور پہلو کی طرف آؤں گا کیونکہ عالمی سطح پر مریضوں کی ایک اور قسم ہے۔ وہ دیکھتے ہیں کہ آپ اپنی طبی تعلیم میں کتنے مضبوط ہیں، آپ اپنی طبی مہارت کے ساتھ کتنے مضبوط ہیں؟ آپ کی سہولیات کتنی مضبوط ہیں، آپ کے سپر اسپیشلٹی ہسپتالوں کی سطح نام  کے علاوہ  کیا ہے۔

سپر اسپیشلٹی سہولیات کا ظہور جو دنیا میں بہترین ہیں۔ ہم یہ تمام پریمیم پلاٹینم خدمات مغربی دنیا  میں آنے والے اخراجات  کے معمولی حصے کے عوض  پیش کرتے ہیں ۔ ہماری دیکھ بھال میں ایک انسانی لمس ہے، ظاہر ہے کہ ہم ان لوگوں کو جو ملک سے باہر ہیں صحت کی خدمات فراہم کرنے کے لیے توجہ کا مرکز ہیں۔

یہ مجھے ایک اور باہمی مسئلہ کی طرف لاتا ہے۔ میڈیکل ٹورازم ایک چیمپئن سیکٹر ہے، میں کہوں گا کہ یہ طلوع آفتاب کا شعبہ ہے، جہاں کے ساتھ ہر سال بیرون ملک سے ہندوستان آنے والے مریض2 ملین سے زیادہ  ہوتے ہیں ،جن سے سالانہ 4 بلین ڈالر کی آمدنی ہوتی ہے۔

سالانہ فاریکس ہر سال لیکن یہ داستان کا  ایک پہلو ہے۔ ہماری صلاحیت بہت زیادہ ہے اور ہم  بہت زیادہ ترقی کرسکتے ہیں ۔

میری آپ سے بھی اپیل ہے کہ اعلیٰ درجے کی پیشہ ورانہ مہارت اور اخلاقی طرز عمل کو یقینی بنائیں کیونکہ آپ مختلف ممالک سے آنے والے مریضوں کے ساتھ کس طرح پیش آتے ہیں اس سے بیرون ملک ہماری  قومی امیج پر اثر پڑے گا۔ اس سے ہمیں ثقافتی وسائل پرمبنی سفارت کاری کا فائدہ بھی حاصل رہے گا۔

طبی برادری نہ صرف ہماری معاشی بہبود اور عروج کے لیے بڑے پیمانے پر تعاون کر رہی ہے۔ یہ ہمیں سفارتی تعلقات میں بھی برتری  دے رہا ہے۔

دوستو! ہماری اچھی صحت کا وژن بیماری سے پاک ہونا ہے۔ ہماری اچھی صحت کا وژن یہ نہیں ہے کہ ہم  ہر ایک کو سہولیات دستیاب کراسکیں ،بلکہ ہمارا وژن یہ ہے کہ ہمیں بیماریوں پر قابو پانا اور ان کا مقابلہ کرنا چاہیے۔ احتیاطی اور حفاظتی  طریقہ کار ہماری پہلی پسند ہونا چاہیے۔ ہمیں اس پر توجہ دینی چاہیے۔

اس طرح ہمارے سماجی بنیادی ڈھانچے کی بڑے پیمانے پر ترقی صحت کے موضوع کو صرف ایک وزارت تک محدود کرنے کے بجائے پورے حکومتی نقطہ نظر کو آگے بڑھاتے ہوئے صحت مند ہندوستان کے حصول کا ایک اہم عنصر ہے۔

ملک میں سوچ کا عمل الگ تھلگ نہیں بلکہ جامع ہے۔ موجودہ قیادت کی سوچ ہماری آبادی، ہمارے ڈیموگرافک(آبادیاتی تنوع سے متعلق) عنصر اور ہمارے ڈیموگرافک ڈیویڈنڈ(آبادیاتی تنوع کا منافع) کے مطابق ہے جو بنیادی طور پر نوجوانوں پر مشتمل ہے۔

ہندوستان میں احتیاطی اور افزائشی علاج و معالجہ کی  ایک عظیم روایت ہے۔جس میں ہندوستانی مشقیں جیسے یوگا اور مراقبہ، جو اب  عالمی تحریکوں کی شکل اختیار کرچکے ہیں۔

ہمارے وزیر اعظم کا شکریہ، انہوں نے  یوگا کو اقوام متحدہ میں  متعارف کرایا ۔ انہوں نے اقوام متحدہ کے پلیٹ فارم سے اقوام عالم سے اپیل کی۔ سب سے کم وقت میں، سب سے زیادہ ممالک اکٹھے ہوئے اور اب ہمارے پاس بین الاقوامی یوگا دن ہے۔ یہ ایک بڑی تبدیلی ہے جو بھارت  کے ذریعہ لائی  گئی  ہے۔

حکومت کی جانب سے طبی سیاحت کو فروغ دینے کے لیے مختلف شعبوں میں اقدامات کیے گئے ہیں۔ ایسا ہی ایک نیا ویزا زمرہ بنانا ہے۔ طبی برادری کے لیے اس موقع پر اٹھنا انتہائی سہولت بخش لیکن ایک چیلنج رہا ہے اور آپ کے پاس غیر ملکی شہریوں کے علاج کے اس چیلنج کو بہترین طبی امداد دے کر اسے ایک موقع میں تبدیل کرنے کی ممکنہ صلاحیت اور اہلیت ہے۔

یہ نیا اقدام ہندوستان میں طبی سیاحت کو فروغ دینے میں مدد کرے گا، اورہندوستانی روایتی ادویات کو ایک عالمی رجحان بنانے کی اپنی کوششوں کو تقویت دے گا۔

ہر قسم کی دوائیوں کے درمیان زیادہ  تال میل  اور ہم آہنگی ہونی چاہیے۔ جب ہمارے پاس پہلی بار آیوش کی وزارت آئی تھی،اس کے بعد سے ہمارے ملک میں زبردست ترقی ہوئی ہے۔

کووڈ  کے دور میں، ہماری روایتی دوائیں انتہائی کارآمد تھیں۔ ہمارے آباؤ اجداد سے ہمیں وراثت میں ملنے والے علاج  معالجےانتہائی مؤثر تھے۔ مجھے یقین ہے کہ آپ اس سمت میں  مل کر کام کریں گے۔

طبی برادری کی طرف سے بیماریوں کی روک تھام میں مصروف ہو کر انسانیت کی ایک بڑی خدمت کی جا سکتی ہے۔ طرز زندگی کی بنیاد پر ہونے والی  بیماریوں کے بڑھتے ہوئے معاملات میں، بہترین زمرہ جو لوگوں کو مشورہ دے سکتا ہے وہ ڈاکٹر ہیں۔

آئیے ہم اپنے صحت کی دیکھ بھال کے ماحولیاتی نظام کی بنیادی شخصیات، ۔ وہ خدمت کے جذبے سے سرشار معالجین اور صحت کی دیکھ بھال کرنے والے پیشہ ور افراد جو مریضوں کی دیکھ بھال کے اگلے خطوط پر انتھک خدمت کرتے ہیں،کو فراموش نہ کریں ۔

سب خوش رہیں، سب بیماری سے محفوظ رہیں ۔

شکریہ جئے ہند!‘‘

*********

ش ح۔س ب ۔ رض

U:7994

 


(रिलीज़ आईडी: 2030191) आगंतुक पटल : 169
इस विज्ञप्ति को इन भाषाओं में पढ़ें: English , हिन्दी