وزارت خزانہ

ڈی ایف ایس سکریٹری نے 12 تنظیموں کے فریقوں کے ساتھ مالیاتی خدمات کے شعبے میں سائبر سیکورٹی اور آن لائن مالیاتی دھوکہ دہی کے بارے میں فالو اپ میٹنگ کی صدارت کی


ٹیلی مواصلات کے محکمہ نے  مالی دھوکہ دہی سے منسلک تقریباً 1.4 لاکھ موبائل ہینڈ سیٹس کو  بلاک کیا

پرتی بمب پورٹل کے ذریعے اپریل 2023 سے اب تک 500 سے زیادہ افراد گرفتار اور تقریباً 3.08 لاکھ سم، 50 ہزار آئی ایم ای آئی بلاک کئے گئے

بینک اور مالیاتی ادارے  تجارتی؍ تشہیری سرگرمیوں کے لئے باقاعدہ 10 ہندسوں کے نمبرکا استعمال  رفتہ رفتہ بند کر دیں گے اور‘ 140XXX’ جیسی مخصوص نمبر سیریز کا استعمال کیاجائےگا

Posted On: 09 FEB 2024 8:19PM by PIB Delhi

مالیاتی خدمات کے محکمے (ڈی ایف ایس) کے سکریٹری ڈاکٹر وویک جوشی نے مالیاتی خدمات کے شعبے میں سائبر سیکورٹی سے متعلق 28 نومبر 2023 کو ہوئی  پچھلی میٹنگ میں ہوئی بات چیت میں  شامل رہے موضوعات پر بعد میں اٹھائے گئے اقدامات کی جانکاری حاصل کرنے کے لئے آج نئی دہلی میں  ہوئی ایک میٹنگ کی صدارت کی۔ اس موقع پر حال ہی میں آن لائن مالی دھوکہ دہی کے واقعات پر بھی تبادلہ خیال کیاگیا۔

8e67d83b-51ca-4874-bf97-40bffb87f1bf.jpeg

میٹنگ میں محکمہ مالیاتی خدمات (ڈی ایف ایس)، محکمہ اقتصادی امور (ڈی ای اے)، محکمہ محصولات (ڈی او آر)، وزارت داخلہ (ایم ایچ اے)، الیکٹرانکس اور انفارمیشن ٹیکنالوجی (ایم ای آئی ٹی وائی)، محکمہ ٹیلی کام(ڈی او ٹی)، ریزرو بینک آف انڈیا (آر بی آئی)، ٹیلی کام ریگولیٹری اتھارٹی آف انڈیا (ٹی آر اےآئی)، یونیک آئیڈینٹی فکیشن اتھارٹی آف انڈیا  (یو آئی ڈی اے آئی)، انڈین سائبر کرائم کوآرڈینیشن سینٹر (آئی4سی)، نیشنل پیمنٹ کارپوریشن آف انڈیا (این پی سی آئی)، پنجاب نیشنل بینک (پی این بی) اور اسٹیٹ بینک آف انڈیا(ایس بی آئی) کے سینئر افسران نے بھی شرکت کی۔

اس میٹنگ میں گزشتہ اجلاس میں بحث کے دوران سامنے آنے والے ایکشن پوائنٹس کا جائزہ لیا گیا اور مالیاتی خدمات کے شعبے میں سائبر ، ڈیجیٹل ادائیگیوں میں دھوکہ دہی کے بڑھتے ہوئے رجحان سے   پیدا ہونے والے چیلنجوں سے نمٹنے  میں  بینکوں اور دیگر مالیاتی اداروں کی تیاریوں اور اس سلسلے میں سبھی متعلقہ فریقوں کی تیاریوں   کا جائزہ لیا گیا۔

غوروخوض  کے دوران مندرجہ ذیل باتیں نوٹ کی گئیں۔

1.محکمہ ٹیلی کام (ڈی او ٹی) نے فرضی؍جعلی دستاویزات پر لیے گئے موبائل کنکشنز کا پتہ لگانے کے لیے اے آئی ؍ ایم ال پر مبنی انجن استر (اے ایس ٹی آر) تیار کیا ہے۔ تقریباً 1.40 لاکھ موبائل ہینڈ سیٹس یا تو کٹے ہوئے  موبائل کنکشن سے جڑے یا سائبر جرائم ؍مالی دھوکہ دہی میں غلط استعمال کرتے ہوئے پائے گئے، انہیں بلاک کر دیا گیا ہے۔

2.ڈی او ٹی نے بلک ایس ایم ایس بھیجنے والے 35 لاکھ پرنسپل اداروں کا تجزیہ کیا۔ ان میں سے 19,776 اہم اداروں کو جو نقصان دہ ایس ایم ایس بھیجنے میں ملوث تھے بلیک لسٹ اور 30,700 ایس ایم ایس ہیڈرز اور 1,95,766 ایس ایم ایس ٹیمپلیٹس کو منقطع کر دیا گیا ہے۔

پرتی بیمب پورٹل، جس پر ریئل ٹائم کی بنیاد پر مشتبہ دھوکے باز کے سم اور آئی ایم ای آئی کا پتہ لگایا جاتا ہے،  نے قانون نافذ کرنے والے اداروں کو مشتبہ افراد کی شناخت اور ان کا پتہ لگانے کے لیے اس کا استعمال کرنے کے قابل بنایا ہے۔ اپریل 2023 سے اب تک، تقریباً 3.08 لاکھ سمز بلاک، تقریباً 50 ہزار آئی ایم ای آئی بلاک، اور 592 جعلی لنکس؍ اے پی کے اور 2،194 یو آر ایل بلاک کیے گئے، 500 سے زیادہ گرفتاریاں کی جا چکی ہیں۔

جن امور پر تبادلہ خیال کیا گیا ان میں سے شامل ہیں:

  • اے پی آئی انٹیگریشن کے ذریعے سٹیزن فنانشل سائبر فراڈ رپورٹنگ اینڈ مینجمنٹ سسٹم (سی ایف سی ایف آر ایم ایس) پلیٹ فارم پر بینکوں؍ مالیاتی اداروں کو جوڑنا۔
  • نیشنل سائبر کرائم رپورٹنگ پورٹل (این سی آر پی) کے ساتھ سی ایف سی ایف آر ایم ایس پلیٹ فارم کا انضمام،  جس کا مقصد پلیٹ فارم کو مرکزی بنانا ہے،  جو پولیس، بینکوں اور مالیاتی اداروں کے درمیان موؤر تعاون کے  قابل بنائے گا، جس سے ریئل ٹائم میں نگرانی اور دھوکہ دہی کی سرگرمیوں کی روک تھام کی جا سکے گی۔
  • بینکوں اور مالیاتی اداروں کو ٹرائی کے ذریعے مقررہ  تجارتی؍ تشہیری سرگرمیوں کے لئے باقاعدہ 10 ہندسوں کے نمبر کے استعمال   کو مرحلہ وار طریقے سےبند کرنے اور‘ 140XXX’ جیسی مخصوص نمبر سیریز کا استعمال کرنے کی ضرورت ہے۔
  • شکایات کے فوری ازالے کے لیے وسائل کی چوبیس گھنٹے دستیابی کو یقینی بنانے سے دھوکہ دہی کے مقابلے میں پکڑے جانے کے تناسب میں بہتری آئے گی۔
  • دھوکہ دہی والے کھاتوں سے متاثرہ کو رقوم کی واپسی کے لیے ایکشن پلان ایس او پی تیار کرنا۔
  • بینکوں اور مالیاتی اداروں سے مطالبہ کیا جاتا ہے کہ وہ ڈیجیٹل ادائیگیوں کی حفاظت پر علاقائی زبانوں میں اضافی کسٹمر بیداری اور حساسیت کے پروگرام منعقد کریں۔
  • قانون نافذ کرنے والی ایجنسیوں (ایل ای اے ) کے ذریعے تجزیہ میں آسانی کے لیے معیاری شکل میں بینکوں؍مالیاتی اداروں کے ذریعے معلومات کا اشتراک۔

***

ش ح۔  ف ا ۔ ک ا



(Release ID: 2006515) Visitor Counter : 48


Read this release in: English , Hindi