نائب صدر جمہوریہ ہند کا سکریٹریٹ
جاٹ آفیسرز سوشل فورم(جے اوایس ایف)، جے پور میں نائب صدرجمہوریہ کی تقریر کا ایک حصہ (اقتباسات)
Posted On:
11 FEB 2024 10:15PM by PIB Delhi
سب کو نمسکار،
یہ تنظیم میں آپ کو بتا سکتا ہوں کہ دیہی منظر نامے میں بڑی تبدیلی کے عمل کا محور اور اعصابی مرکز ہے۔ اس میں شامل ہر فرد تبدیلی کا محرک ہے اور تبدیلی لا سکتا ہے۔کسی بھی پوزیشن میں ہوں، اگرہم اپنے ضمیر کے ساتھ کام کریں گے ،ذاتی اور جانبدارانہ مفاد سے اوپر اٹھ کر کام کریں گے ، ملک اورمعاشرے کو پیش نظر رکھیں گے تو میں آپ کو بتا سکتا ہوں کہ ہم اپنی مادر وطن کی خدمت انجام دیں گے۔
میری خوشی کا اوقت کوئی ٹھکانہ نہیں رہا جب مجھے پتہ لگا کہ چودھری چرن سنگھ جی کو اورڈاکٹر ایم ایس سوامی ناتھن کو بھارت رتن دیا جارہا ہے۔ جناب چرن سنگھ نے دیانتداری، بے داغ ریکارڈ اور بے مثال ایمانداری کا نمونہ پیش کیا ہے ۔ دور اندیشانہ فکر کے ساتھ غریبوں اور کسانوں کی مکمل حمایت کی اور اخلاقی اور بنیادی اقدار پر کبھی سمجھوتہ نہیں کیا۔
میں نے راجیہ سبھا میں کہا کہ 1977 میں جب وہ ہنومان گڑھ اور سری گنگا نگر آئے تو میں ان سے ملنے گیا تھا، مجھے سیاست میں کوئی دلچسپی نہیں تھی لیکن انہیں دیکھ کر مجھے ایک عجیب سا احساس ہوا، وہ ایک صاف گو مقرر تھے اور ہر دور میں انہوں نے اپنے انمٹ نقوش چھوڑے ہیں۔ 60 کی دہائی میں ملک میں ایک بڑی سیاسی تبدیلی آئی، چرن سنگھ اس تبدیلی کے مرکز میں تھے اور اس کے بعد جب 70 کی دہائی میں تبدیلی آئی تواس میں بھی وہ یہی حیثیت رکھتے تھے ۔ اگر وہ سمجھوتہ کر لیتے تو وزیر اعظم کے عہدے پر مزید مدت تک رہ سکتے تھے لیکن انہوں نے ایسا نہیں کیا۔
ہمیں اس بڑے انقلاب میں حصہ لینا چاہیے جسے چوتھا صنعتی انقلاب کہا جا سکتا ہے۔ ہمیں شرکت کرنی چاہیے۔ جیسا کہ بیوروکریٹس نے میرے سامنے پیش کی ہیں، آپ معاشرے میں شخصیت ہیں۔ آپ کی ایک الگ حیثیت ہے۔ آپ رول ماڈل ہیں۔ آپ نے اپنی صلاحیت کو چمکا کر یہ مقام حاصل کیا ہے۔
یہ اخلاقیات، معقولیت کا یہ گہرا احساس، اخلاقیات ہمارے ڈی این اے میں ہے۔ تاریخ کا جائزہ لیں، شراکت کا جائزہ لیں اور آپ دیکھیں گے کہ جب قوم پرستی کی بات آتی ہے تو ہم صف اول میں ہوتے ہیں۔ ہم ایمانداری اور اخلاقیات کے لئے غیر متزلزل عزم رکھتے ہیں۔ یہ ہمارے خون میں شامل ہے۔ ہماری ذمہ داری یہ ہے کہ ہمیں ایک معاشرے پر یقین رکھنا چاہیے اور ہمیں سب کے ساتھ تعاون پر مبنی موقف رکھنا چاہیے۔ کچھ چیزیں سامنے آتی ہیں اوروہ تکلیف دیتی ہیں، ہمیں انہیں بھول جانا چاہیے۔ اس سے کسی کو فائدہ نہیں ہوتا۔ کس نے کیا کہا؟ تم نے یہ کیوں کہا؟ تم نے یہ کیسے کہا؟ آئیے تلخ اور اذیت ناک یادوں کا بوجھ اتار پھینکیں۔ آئیے آگے بڑھیں۔
ہمیں کچھ پہل قدمی کی ضرورت ہے۔ ہمارے یہاں ٹیلنٹ کی کوئی کمی نہیں ہے، یہ ٹیلنٹ ملک اور دنیا میں چھایا ہوا ہے۔ وہ جہاں بھی ہے، پوزیٹیوٹی کے ساتھ کنٹری بیوٹ کر رہی ہے۔ ہمارے پاس تعلیم میں گراں مایہ صلاحیت ہے، ہمارے پاس سائنس میں گراں مایہ صلاحیت ہے، ہمارے پاس ٹیکنالوجی میں گراں مایہ صلاحیت ہے۔
ہندوستان میں ایسی تبدیلی آرہی ہے جیسی پہلے کبھی نہیں آئی تھی۔اس تبدیلی میں اس بڑے ہون میں مرکزی قیادت کا وژن ہے، ریاستی قیادت کا وژن ہے، صوبے کا وژن ہے، ہر فرد کا حصہ ہے۔ یہ کسان کا ہے، مزدور کا ہے، غریب کا ہے اور یہی وجہ ہے کہ آج ہندوستان بہت بلندیوں پر پہنچ رہا ہے۔
کاشتکار برادری کے لوگوں کو زرعی پیداوار کی مارکیٹنگ میں کیوں مشغول نہیں ہونا چاہئے؟ جو ان کے گھر میں بہت بڑا روزگار تھا. ہمیں زرعی پیداوار میں ویلیو ایڈیشن کی عادت ڈالنے کی ضرورت ہے۔ ہمارا یہاں دودھ تھا، ہم پنیر نہیں بناتے ہیں، آئسکریم نہیں بناتے اور لوگ بناتے ہیں۔ ہمارا یہاں سرسوں تھا، ہم تیل نہیں بنا رہے ہیں، ہمارے یہاں گیہوں اور چاول تھا، ہم اس کی قدر میں اضافہ نہیں کرتے ہیں ۔ جبکہ ہم دوسروں سے زیادہ صلاحیتوں سے آراستہ ہیں۔
میں آپ سب کو مختصراً جس چیز کی طرف اشارہ کر رہا ہوں وہ یہ ہے کہ ہمیں عام روش سے ہٹ کر سوچنا چاہیے۔ ہمیں اپنے نوجوانوں کو واقعی بڑے کارناموں سے متعلق سوچنے کی شروعات کرنی چاہیے۔ وہ ایک چھوٹے سے گروہ میں نہ ہوں جہاں یہ سوچتے ہیں کہ میں تیاری کرتا رہوں گا، تیاری کرتا رہوں گا کنپٹیشن کی ،اور نہیں ہوا تو اداس ہوجاؤں گا۔اوربھی بہت سےراستے ہیں ۔
جب میں گوورنر بنا اور 30 جولائی 2019 کو میں نے حلف لیا تو میرے ذہن میں دو باتیں تھیں۔ ایک کہ میری جو آمدنی تھی،اس کا ایک حصہ مجھے تنخواہ کے روپ میں مل رہا تھا، جوبہت چھوٹا حصہ تھا۔تو میرے ذہن میں یہ بات آئی کہ اسے قبول کریں یا نہ کریں ؟ میں نے اسے قبول کیا اس لئے کہ میرے سامنے آپ لوگ تھے۔ آپ لوگ تنخواہ پر ملک کی خدمت کر رہے ہیں۔ میں نے بہت سے پروبیشنرز سے خطاب کیا ہے- آئی اے ایس، آئی پی ایس، سنٹرل سروسز، وہ جو نیم فوجی دستوں اور دفاع میں آئے ہیں، میں ان میں سے ہر ایک سے کہتا ہوں کہ اگر پرائیویٹ نظام میں جائیں گے آپ کو کئی گنا تنخوا ملے گی، لیکن آپ اپنی مادر وطن کی اس طرح خدمت نہیں کر پائیں گے، جس طرح سے آپ یہاں دیانتداری اور عزم کے ساتھ جذبے اور مشن کے ساتھ کرتے ہیں۔ یہ نتیجہ کس طرح آئے گا ؟ کسی بھی جمہوری طرز حکومت کے اندر مالی فائدے اس بات کا تعین نہیں کرسکتے کہ میں اتنا پیسہ کما رہا ہوں جس کے بعد اپنے آپ کو کامیاب قرار دے سکوں۔ کامیابی کا اندازہ جسمانی فوائد سے نہیں لگایا جا سکتا۔ کامیابی کا اندازہ سیاسی طاقت کے لحاظ سے نہیں لگایا جا سکتا کہ میں حکمران جماعت میں ہوں یا اپوزیشن میں، کامیابی کا اندازہ اس لحاظ سے لگانا پڑتا ہے کہ کیا میں نے عوام کی زندگی بدل دی ہے؟ کیا میں نے ان کی حوصلہ افزائی کی ہے؟ کیا میں نے ان کی ہمت افزائی کی ہے؟
دنیا میں رونما ہونے والی بڑی تبدیلی کا حصہ بنیں اور ہندوستان اس تبدیلی کی قیادت کر رہا ہے۔ ہماری کمیونٹی کو دوسروں کے ساتھ دوستی پیدا کرنے میں پیش قدمی کرنی چاہیے۔ ہمیں ایک ہی پلیٹ فارم پر آنا چاہیے… مقصد بھارت کی خدمت کرنا ہے تاکہ وہ اپنی شان کو دوبارہ حاصل کر سکے۔
چودھری چرن سنگھ جی کو بھارت رتن دیا جانا، ایک بار پھر ہمارے لئے دیوالی سے کم جشن کی بات نہیں ہے ۔یہ اس ملک کے قابل فخر لمحات میں سے ایک ہے۔ یہ ہم سب کے لیے خوشی اور مسرت کی بات ہے. اورمیں آپ لوگوں سے درخواست کروں گاکہ آپ چرن سنگھ جی کے فلسفہ کے موضوع پر مباحثے اور مذاکرات منعقد کرائیں۔اس بارے میں مجھ سے بہت سے لوگوں نے کہا ہے ۔اورمیں اس وقت حیران رہ گیا جب راجیہ سبھا میں ایک رکن نے کہاکہ ایک غیر ملکی شخص نے چرن سنگھ جی کے بارے میں کہا کہ - وہ ذہین نہیں ہیں بلکہ وہ انتہائی ذہین ہیں۔
************
ش ح۔س ب۔ف ر
(U: 4830)
(Release ID: 2005183)
Visitor Counter : 76