شہری ہوابازی کی وزارت

علاقائی کنیکٹیویٹی اسکیم – اڑان (آر سی ایس – اڑان) اسکیم کے تحت 519 ہوائی راستوں کو مصروف عمل بنایا گیا جن میں 53 سیاحت اور 48 ہیلی کاپٹر راستے بھی شامل ہیں


اڑان کی پروازوں سے 133.86 لاکھ سے زیادہ مسافر مستفید ہوئے اڑان اسکیم کے تحت اب تک 2.56 لاکھ پروازیں چلائی جا چکی ہیں اڑان نیز اسٹارٹ اپس کے تحت 13 ایئر لائنز نے پرواز شروع کردی ہے

Posted On: 08 FEB 2024 5:09PM by PIB Delhi

شہری ہوا بازی کی وزارت میں وزیر مملکت ریٹائرڈ جنرل ڈاکٹر وی کے سنگھ نے آج لوک سبھا میں ایک سوال کے تحریری جواب میں بتایا کہ شہری ہوابازی کی وزارت نے 21اکتوبر 2016 کو  علاقائی کنیکٹیویٹی اسکیم –اڑان (آر سی ایس – اڑان) یعنی اُڑے دیش کا اہم ناگرک شروع کی ہے تاکہ ملک میں خدمات سے محروم اور کم خدمات والے ہوائی اڈوں سے علاقائی ہوائی کنیکٹیویٹی میں اضافہ کیا جاسکے اور عوام کے لیے ہوائی سفر کو سستا بنایا جاسکے۔ اڑان ایک مارکٹ پر مبنی اسکیم ہے ۔مخصوص راستوں کی مانگ کے اپنے جائزے کی بنیاد پر دلچسپی رکھنے والی ایئرلائنس نے اڑان کے تحت بولی کے وقت میں اپنی تجاویز پیش کی تھی۔

خدمات سے محروم اور کم خدمات والے ہوائی اڈوں سے پروازیں آپریٹ کرنے کے لیے ایئرلائنس کو راغب کرنے کے خیال سے وائبلٹی گیپ فنڈنگ کی شکل میں تعاون فراہم کیا گیا ہے اور ایئرپورٹ آپریٹرس، مرکزی حکومت اور ریاستی سرکاروں کی طرف سے دیگر رعایتیں بھی حسب ذیل ہیں:

ایئرپورٹ آپریٹرس:

  1. ہوائی اڈے کے آپریٹرس آر سی ایس فلائٹس پر لینڈنگ اور پارکنگ چارجز نہ لگائیں۔
  2. اے اے آئی ، آر سی ایس پروازوں پر کوئی ٹرمینل نیویگیشن لینڈنگ چارجز (ٹی این ایل سی) نہیں لگائیں۔
  3.  روٹ نیویگیشن اینڈ فیسیلی ٹیشن چارجز (آر این ایف سی)اے اے آئی کی طرف سے آر سی ایس پروازوں  پر معمول کی  42.50فیصد کی رعایتی بنیاد پر لگائے جائیں گے۔
  4.  منتخب ایئر لائن آپریٹرز (ایس اے او) کو تمام ہوائی اڈوں پر اسکیم کے تحت آپریشنز کے لیے سیلف گراؤنڈ ہینڈلنگ کی اجازت دی گئی ہے۔

مرکزی حکومت:

  1. اس اسکیم کے نوٹیفکیشن کی تاریخ سے تین سال کی ابتدائی مدت کے لیے آر سی ایس  ہوائی اڈوں سے ایس اے کیو کے ذریعے خریدے گئے ایوی ایشن ٹربائن فیول (اے ٹی ایف) پر 2فیصد کی شرح سے ایکسائز ڈیوٹی لگائی جائے گی۔
  2. ایس اے کیوز کو گھریلو اور بین الاقوامی دونوں ایئر لائنز کے ساتھ کوڈ شیئرنگ کے انتظامات میں داخل ہونے کی آزادی ہوگی۔

ریاستی حکومتیں:

  1. 10 سال کی مدت کے لیے ریاستوں کے اندر واقع آر سی ایس ہوائی اڈوں پر اے ٹی ایف پرویٹ کو 1فیصد یا اس سے کم کیا جائے۔
  2.  کم از کم اراضی، اگر ضروری ہو، مفت فراہم کریں اور آر سی ایس ہوائی اڈوں کی ترقی کے لیے بوجھ سے آزاد ہوں اور ضرورت کے مطابق کثیر ماڈل انٹرلینڈ کنیکٹیویٹی فراہم کی جائے۔
  3. آر سی ایس ہوائی اڈوں پر مفت سیکورٹی اور فائر خدمات فراہم کی جائے۔
  4. آر سی ایس ہوائی اڈوں پر کافی حد تک رعایتی نرخوں پر بجلی، پانی اور دیگر افادیت کی خدمات فراہم  کی جائیں  یا فراہم کرنے کا سبب بنیں۔
  5. شمال مشرقی ریاستوں کے علاوہ ریاستوں کے لیے 20فیصد اور شمال مشرقی ریاستوں کے لیے 10 فیصد طے شدہ وی جی ایف کا مخصوص حصہ فراہم کیا جائے۔

اڑان  مانگ پر مبنی ایک اسکیم ہے جہاں ایئرلائن آپریٹرس کو ایک مخصوص راستے پر پرواز کے امکانات کااندازہ لگایا ہے اور وقتاً فوقتاً اسکیم کے تحت بولیاں داخل کی ہیں۔ ایک ہوائی اڈے کو ، جسے اڑان کے راستوں میں شامل کیا گیا ہے اور اڑان آپریشن کے شروع ہونے کے لیے  اپ گریشن / ترقی درکار ہے، خدمات سے محروم اور کم خدمات والے ہوائی اڈوں کی اسکیم کے احیاء کے تحت فروغ دیا گیا ہے۔ بولیوں کے پانچ راؤنڈ کی بنیاد  پرملک کے مختلف خطوں میں  2 آبی ایئرڈرومس اور 9 ہیلی پیڈ سمیت 76 ہوائی اڈوں کو ترقی دی گئی ہے اور آر سی ایس پروازو ں کے ذریعے مصروف عمل بنایا گیا ہے۔ آر سی ایس اسکیم خطے  کے لیے علاقائی کنیکٹیویٹی فنڈ مختص کرنے کو بھی لازمی قرار دیتی ہے جس سے ملک کے مختلف حصوں میں متوازن ترقی/علاقائی رابطے کو فروغ ملتا ہے۔

آر سی ایس اڑان اسکیم کے شروع ہونے کے بعد سے 519 ہوائی راستو ں کو مصروف عمل بنایا گیا ہے۔ ان راستوں میں 53 سیاحتی راستے اور 48 ہیلی کاپٹر راستے شامل ہیں جو ملک کے پہاڑی علاقوں کو جوڑ رہے ہیں۔

اڑان پروازوں سے 133.46 لاکھ سے زیادہ مسافروں کو فائدہ ہوا ہے۔ اب تک اڑان اسکیم کے تحت 2.56 لاکھ پروازیں آپریٹ کی گئی ہیں۔

اڑان اسکیم نے ملک میں مختلف طرز کے طیاروں کی خریداری میں حوصلہ افزائی کی ہے ۔ فی الحال اڑان پرواز کے لیے 3 سیٹر ٹیکنیمڈ 9 سیٹر سیسنا 208بی، 19 سیٹر آؤٹر، 50 سیٹر ایمبریسر145،  42/72/78 سیٹر اے ٹی آر اور کیو-400 کے ساتھ ساتھ 189 سیٹر ایئربس 320/321 اور بی 737 جیسے بڑے طیارے  چلائے جارہے ہیں۔

اسٹارٹ اپس سمیت اڑان کے تحت 13 ایئر لائنس پروازیں شروع کی گئی ہیں ، اڑان اسکیم ایئرٹیکسی ، انڈیا ون ، اسٹار ایئر، فلائی بگ اور فلائی 91 جیسی نئی ایئرلائنس کے لیے پالنا ثابت ہوئی ہیں۔

اڑان  کئی ہوائی اڈوں کے لیے ہوائی رابطے اور علاقائی ترقی کو متحرک کر کے بساط بدلنے والا بن گیا ہے۔

-----------------------

ش ح۔ح ا۔ ع ن

U NO: 4714



(Release ID: 2004322) Visitor Counter : 43


Read this release in: English