نائب صدر جمہوریہ ہند کا سکریٹریٹ
گجرات یونیورسٹی کی تقسیم اسناد کی 72 ویں تقریب میں نائب صدر جمہوریہ کے خطاب کا متن
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
19 JAN 2024 3:55PM by PIB Delhi
ستمبر 2023 میں ہماری بڑی خوش قسمتی تھی،جب تین دہائیوں کی ناکام کوششوں کے بعد اس ملک کی آدھی آبادی کو کم از کم ایک تہائی کی حد تک لوک سبھا کا رکن ہونے کی آئینی پہچان دی گئی۔ میں گجرات آیا ہوں، گجرات لوک سبھا میں ایک تہائی ریزرویشن کا مستحق ہے، جو افقی اور عمودی ہے اور اس قانون میں کب تبدیلی کی گئی جب محترم صدر دروپدی مرمو جی نے دستک دی۔
جب میں اس احاطے میں داخل ہوا، تو مجھے ایک تحقیقی مرکز کا افتتاح کرنے کی سعادت نصیب ہوئی۔ ایک مرکز، جس کا نام بھارت کے دو شاندار بیٹوں جناب اٹل بہاری واجپائی اور سری اے پی جے عبدالکلام کے نام پر رکھا گیا ہے۔ اٹل کلام ریسرچ سنٹر، یہ وقت کی ضرورت ہے ،یہ بہت بروقت ہے۔ ڈاکٹر نیرجا اور اُن کی پوری ٹیم کو مبارکباد۔ یہ تحقیقی مرکز اعصاب سے مرتعلق مرکز ہوگا، اس تبدیلی کا مرکز، جس کا ہمیں سامنا کرنا ہے۔
آپ نے خلل ڈالنے والی ٹیکنالوجیز کے بارے میں تو سنا ہے، مصنوعی ذہانت، چیزوں کا انٹرنیٹ، مشین لرننگ اور جی 6 سبھی ہمارے پاس دستیاب ہیں ۔ ہمارے پاس ہندوستان میں کوانٹم کمپیوٹنگ مشن ہے، جو صرف چند ممالک کے پاس ہے۔ ہمارے پاس گرین ہائیڈروجن مشن ہے۔ یہی وقت ہے کہ آپ تحقیق میں مشغول ہوں، اور آپ اپنے مواقع سے فائدہ اٹھائیں۔
اس پلیٹ فارم سے میں اعلان کرتا ہوں۔ ہمارے کارپوریٹ، صنعت، کاروبار اور تجارت کے لیے یہی مناسب وقت ہے کہ وہ تحقیق اور ترقی کے اداروں کو تعاون فراہم کریں ۔ درد کے ساتھ میں آپ سب کو بتا رہا ہوں کہ 2009 میں حکومت ہند نے ایک غیر ملکی یونیورسٹی کو 5 ملین امریکی ڈالر کی رقم فراہم کی تھی۔ میں کرہ ارض پر کہیں بھی چندہ دینے کے خلاف نہیں ہوں، لیکن ہمارے ملک میں کیوں نہیں۔ صنعتکار کی جانب سے غیر ملکی یونیورسٹی کو 50 ملین ڈالرز فراہم کیے گئے میں اس کے خلاف نہیں ہوں، اب وقات آگیا ہے کہ کیوں نہ ہمارے ملک میں بھی ہماری صنعت تعلیمی اداروں کو تعاون فراہم کرے، تاکہ تحقیق اور ترقی کی مصروفیات کے ذریعے نوجوان لڑکے اور لڑکیاں خلل ڈالنےوالی ٹیکنالوجی کے مثبت پہلوؤں کو پوری طرح برائے کار لانے کی اپنی پوزیشن حاصل کر سکیں۔
ایک ڈیپ فیک ہماری ساکھ کو برباد کر سکتا ہے، ایک غلط بیانیہ ، غلط مفہوم کا سبب بن سکتا ہے۔ آپ کو اس کا مقابلہ کرنا ہوگا۔ آپ جیسے ذہین دماغ، سمجھدار ذہن کو ، اس کا جواب تلاش کرنا ہوگا۔ جب بات گرین ہائیڈروجن مشن کی ہو، تو گجرات قومی سطح پر نہیں بلکہ عالمی سطح پر اختراع کی سرزمین ہے۔ یہ مقام اعصاب سے متعلق مرکز ہونا چاہیے۔ گرین ہائیڈروجن میں تقریباً 6 لاکھ لوگوں کے لیے روزگار پیدا کرنے اور 800000 کروڑ سے زیادہ کی سرمایہ کاری لانے کی صلاحیت ہے، آپ کو اس پر توجہ دینی چاہیے اور مجھے یقین ہے کہ آپ ضرور اس پر توجہ دیں گے۔
میں آپ سبھی طلبا ءاور طالبات کو ایک واقعہ بتانا چاہتا ہوں۔ ڈاکٹر اے پی جے عبدالکلام اسرو کا حصہ تھے، اسرو کا ایک مشن تھا، ڈائریکٹر کہتے ہیں کہ یہ صحیح وقت نہیں ہے۔ جن عناصر کو یہ فیصلہ لینے کی ضرورت ہے کہ آیا اسے اتارنا چاہیے یا نہیں، ڈاکٹر عبدالکلام نے اصرار کیا کہ ہمیں آگے بڑھنا چاہیے، فیصلہ ان کی طرف سے کیا گیا۔ وہ نمبر ون شخص نہیں تھے، مشن ناکام ہو گیا۔ عام طور پر انچارج شخص میڈیا سے خطاب کرتا ہے۔ ڈائریکٹر میڈیا کے پاس گئے اور کہا کہ ہم اگلی بار کامیاب ہوں گے۔ اگلی بار ڈاکٹر عبدالکلام کامیاب ہوگئے، تو انہوں نے اصرار کیا کہ ڈائریکٹر میڈیا سے مخاطب ہوں ۔ ڈائریکٹر نے کہا میں نہیں، ڈاکٹر عبدالکلام، آپ میڈیا کے سامنے جائیں ۔ یہ جذبہ ہمارے وزیر اعظم جناب نریندر مودی جی ٹوکیو اولمپکس میں مؤثر طریقے سے ظاہر ہوتا ہے، جہاں ہماری ہاکی گرلز ٹیم نے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کیا، لیکن آخری چار میں جگہ نہ بنا سکی۔ عزت مآب وزیر اعظم ہر لڑکی سے بات کریں، جن لڑکیوں کی آنکھوں میں آنسو تھے وہ آنسو ہیرے کی طرح چمک رہے تھے۔ 1.4 بلین آبادی والے ملک کے وزیر اعظم، 5000 سال کی تہذیب والی 1/ 6 آبادی کا گھر، انہیں تعاون دے رہا ہے ۔ یہی وہ جذبہ ہے جسے آپ کو ہمیشہ یاد رکھنا چاہیے۔
میرے کہنے کا مطلب ہے کہ آپ کبھی گھبرائے نہیں کبھی ڈرے نہیں، کوشش اس لئے مت چھوڑیں کہ فیل ہو جائیں گے ۔ اپنی طاقت پر یقین رکھیں ،اگر آپ کامیاب نہیں ہوئے تو یہ ناکامی نہیں ہے ،ناکامی کے خوف کی گرفت یا قید میں نہ رہیں۔
گاندھی جی اور مودی جی جیسے لوگوں کی سرزمین پر آنا اعزاز کی بات ہے۔ یہاں آکر ایک سکون ملتا ہے۔ وزیراعظم نے ٹھان لیا ہے کہ آبادی کے ساتھ انصاف ہی نہیں ہوگا بلکہ پورا انصاف ہوگا اور انہوں نے کیا قدم اٹھائے 'بیٹی بچاو بیٹی پڑھاؤ' پھر انہوں نے کہا کہ سب سے بڑی دقت کوی ہوتی ہے ، بیت الخلاء کے لئے ہر گھر میں بیت الخلاء ہوگا ، لوگوں نے سوچا بھی نہیں تھا، تب 130 کروڑ کے ملک میں بیت الخلاء کے کیسے بنیں گے، آج یہ زمینی حقیقت ہے۔ انہوں نے ٹھان لی کہ کلو میٹر چل کر میں آج راجستھان سے آیا ہوں ، میرے سے زیادہ کون جانتا ہے، مائیں بہنیں پانی لاتی تھیں، اب گھر گھر نل اور نل میں پانی ، چولہے میں پھوکنی کر ہماری دادی، نانی ، بوا، بہن کھانا پکاتی تھیں، آنکھوں میں دھواں جاتا تھا، 10 کروڑ سے زیادہ گھروں کو مفت کنکشن دیا، زبردست تبدیلی آئی ہے۔
اس سے بھی بڑھ کر تبدیلی آئی بینک میں قدم رکھتے ہوئے زور آتا تھا، وکیل بنا تب 6 ہزار روپے ،میں اپنی لائبریری کے لئے چاہتا تھا۔ مجھے اب اس بینک کے مینجر کی بہت واضح مہربانی یاد ہے، جو اس میں سہولت فراہم کرسکتا تھا اور اب 50 کروڑ لوگوں کا بینک میں کھا تا ہونا، بینکنگ شامل ہونا اور اب سرکاری مدد بغیر بچولئے کے سو فیصد وہیں پہنچتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج ہندوستان دنیا کی پانچویں اقتصادی طاقت ہے۔ ہندوستان آج بڑی اقتصادی معیشتوں میں سب سے رفتار سے بڑھنے والی اقتصادی طاقت ہے۔ ہم نے کینڈا کو ، برطانیہ کو، فرانس کو پیچھے چھوڑ دیا ہے۔ ہم ان سے آگے نکل گئے ہیں اور آنے والے دو تین سالوں میں ہی ہمارا یہ سفر ترقی کا سفر اقتصادی ترقی کا سفر ہوگا۔ ہم جاپان اور جرمنی کی معیشتوں کو پیچھے چھوڑتے ہوئے دہائی کے آخر تک تیسری بڑی عالمی معیشت کا اعزاز حاصل کر لیں گے۔
امرت کال ہمارا کرتویہ کال ہے۔ امرت کال میں بھارت کے لئے بہت زیادہ مضبوط بنیاد رکھی جاچکی ہے۔ جب بھارت 2047 میں اپنی آزادی کی صدی تقریب منا رہا ہو گا ، تو ہندوستان کو اونچائی تک پہنچانے کا پورا بوجھ آپ کے کندھوں پر ہے۔ ہم سے کچھ نہیں رہیں گے، آپ ہی سپاہی ہیں، یہ آپ کے کندھوں پر ہوگا کہ بھارت آزادی کے 100 سال پورے کرے گا اور د نیا میں سب سے ترقی یافتہ ملک ہو گا اور اس کی حیثیت عالمی لیڈر کی ہوگی اور یہ ہم نے کرک کے دکھایا ہے۔
دنیا میں بھارت آج کسی کا محتاج نہیں ہے، ہماری خارجہ پالیسی کتنی کارگر ہے کہ ہندوستان کے وزیراعظم نے 5000 سال کی تہذیب کو پیش کرتے ہوئے دنیا کو جو پیغام دئے، یہ توسیع کا دور نہیں ہے، بھارت نے ایسا کبھی نہیں کیا، حملے جھیلے ہیں اور ہمارے مندر ٹوٹے ہیں، لیکن ہندوستان نے کبھی بھی ایسی کوئی حرکت نہیں کی ہے اور مذاکرات اور سفارت کاری کے ذریعہ ہم نے سبھی عالمی تنازعات اور امور کو حل کیا ہے۔
تبھی تو دیکھئے، جو کچھ ہندوستان میں ہو رہا ہے، 10 سال میں الگ چھوڑئے، آپ 6 مہینے کا دیکھئے، 6 مہینے میں جی – 20 دنیا کا سب سے بڑا اجلاس بھارت منڈپم میں ہوا، جو دنیا کے 10 بڑے کنونشن سینٹر میں سے ایک ہے۔ ہندوستان کے وزیراعظم نے دنیا کے لیڈروں کا جب استقبال کیا، بیک ڈروپ میں کیا تھا، سن ٹیمپل کنارک، دنیا کے لیڈر جب ہال میں پہنچے اور جار ہے تھے گیلری سے، ہماری 5000 سال کی تہذیب وہاں دکھائی دی۔
ہمارے آئین سازوں نے ہمیں آئی دیا۔ سوچ سمجھ کر دیا۔ آئین کے بنانے میں تقریبا دو سال تک ، دو سال 11 مہینے اور کچھ دن تک لگن کے ساتھ کام کیا۔ آئین کے اجلاس میں کبھی کوئی بات نہیں ہوئی، ان کے سامنے کچھ مشکلات تھیں۔
انہوں نے مکالمہ ،بحث مباحثہ کے ساتھ زیادہ تر متنازعہ مسائل کو حل کیا۔
خلل کبھی نہیں ہوا، خلل کبھی نہیں ہوا، جب خلل ، گڑبڑ ہوتی ہے ، میرے من میں بڑی تکلیف ہوتی ہے اور طلبا ءاور طالبات ، اس کا حل آپ کے پاس ہے۔
آپ کو ان لوگوں کا احتساب کرنا ہوگاٹ جو خلل پیدا کرتے ہیں ،خلل ڈالنے کو سیاسی ہتھیار کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔ یہ رکنا چاہئے، اسمبلی کے ارکان کی طرف سے کہا گیا ہے کہ ہمارے نمائندوں کو اقتدار کو بچانا ہے۔
انہوں نے جو ہمیں آئین دیا ہے اس آئین میں 22 تصویریں ہیں، 5000 سال کی ہماری تہذیب وراثت کی جھلک، سارنارتھ کا اشوک نشان ہے، گروکل کی پیر پاٹھی اس میں ہے اور جو سب سے اہم حصہ ہے اس کا، جس کو کہتے ہیں بنیادی حقوق ، جو جمہوری اقدار کا جوہر ہے۔ اس کے بغیر جمہوریت ادھوری ہے۔ اس اختیار کا، جو حصہ ہے اس کے اوپر جو تصویر ہے، وہ نشان رام ، سیتا اور لکشمن کی ہے۔ دیکھئے رام، سیتا اور لکشمن ہمارے آئین کا حصہ ہیں اور آج جو کتابیں شائع ہوتی ہیں، ان پر اس میں وہ تصویر کیوں نہیں ہے۔
ہمیں اس بات پر اصرار کرنا چاہیے کہ وہ 22 تصویریں چسپا کی جائیں ، ان تصویر کے اندر پارٹ 4 میں بھگوان شری کرشن ہیں، ارجن کو اپدیش دے رہے ہیں، میں نے جب رام چرت مانس دیا ہے، تو میں نے دل میں سوچا کہ گجرات میں ہر آدمی بہت سوچ سمجھ کر کام کرتا ہے اور موقع کی نزاکت کو بھی سمجھتا اور اسے دیکھتا ہے۔
ملک میں گجرات ہے اور دنیا میں ایک مرکز کے طور پر دیکھا جاتا ہے اور تبدیلی کے مرکز کے اعصابی مرکز کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔ کچھ لوگوں نے کہا کہ آپ نائب صدر اور آپ کو تھوڑا سیاست الگ رہنا ہے، یہ صحیح بات ہے۔
طلبا ءاور طالبات ،میں سیاست میں شراکت دار نہیں ہوں، لیکن میں حکمرانی میں قومیت میں شراکت دار ہوں۔ میں اس بات سے پیچھے کیسے ہٹ سکتا ہوں کہ ہندوستانیت میری پہچان ہے۔ اس غیر متوقع ناقابل تصور ترقی کو دیکھ کر میں خوش ہوں ۔
گجرات کی مٹی میں کچھ خاص بات ہے، کیونکہ ہر کال کھنڈ میں یہاں کے مہاپرشوں نے ہمیں راستہ دکھایا ہے، ملک کی تعمیر کی ہے، مہا تما گاندھی جی ، سردار پٹیل جی اور آج کے دور میں جناب نریندر مودی جی اور امت شاہ جی ، جو قانون کے طالب علم ہیں، ہر کسی کو عجیب لگتا تھا کہ دفعہ 370 کیا ہے، دفعہ 35 اے کیا ہے، آئین میں جس کو مستقل کہا گیا ہے ، وہ ناسور بن گیا ہے اور مستقل طور سے ہے۔ جو سوچا، جو کہا، وہ آج حقیقت ہے۔ دفعہ 370 آئین میں نہیں ہے، سردار پٹیل جی بھی وہ نہیں چاہتے تھے۔
آپ کو تاریخ میں تھوڑا روشنی ڈال کر بتاؤں گا کہ ہندوستان کے آئین میں اور ملک کے ایک بیان میں دو اہم باتیں ہیں۔ سردار پٹیل جموں و کشمیر کے علاوہ تمام ریاستوں کے انضمام میں شامل تھے۔ کوئی مسئلہ نہیں رہابس جموںکشمیر میں رہا ہے۔ لڑکے لڑکیوں مجھ پر بھروسہ کرو، اگر وہ جموں و کشمیر کے انضمام میں شامل ہوتے تو کوئی دقت بھی نہیں ہوتی اس میں بھی اور دوسرا ہمارے ہندوستانی آئین کے معمار ڈرافٹنگ کمیٹی کے چیئرمین ڈاکٹر بی آر امبیڈکر نے آرٹیکل 370 کے علاوہ آئین کے ہر آرٹیکل کا مسودہ تیار کیا۔ لہذا سردار پٹیل، ڈاکٹر امبیڈکر ان کو دو باتوں سے منسلک نہیں کیا، اس وقت کی قیادت نے اور نتیجہ ان کا حل اس کال کھنڈ میں نکلا۔ یہ دور ہندوستان کی ترقی کا ہے۔ یہ دور آج ہمارے اس عروج کا ہے، جہاں ہمارے ادارے نالندہ، تکشیلا تھی، ہماری تجارت دنیا کے ہر کونے میں تھی۔
آج کے دن ملک کی قیادت کہاں ہے راشٹر پتی بھون میں، جن جاتی کی خاتون آپ کے یہاں گورنر رہی ہیں اور آپ کو آج میں بتا تا ہوں، وزیراعظم نریندر مودی جی 2014 میں وزیر اعظم بنے، آپ کو حیرانی ہو گی ، میری پہلی ملاقات ان سے تب ہوئی، میری ان سے پہلی ملاقات مغربی بنگال کے گورنر کی حیثیت سے ہوئی۔
آپ سبھی کے لئے آسمان حد ہے۔ وہ دن گئے جب بغیر بدعنوانی کے ،بغیر سرپرستی کے ، بغیر سفارش کے کوئی کام نہیں ہوتا تھا۔ اقتدار کے کاریڈور
بدعنوان عناصر سے صاف ستھرا کر دیا گیا ہے وہ عناصر جو فیصلے کرنے میں قانونی طور پر اضافی فائدہ اٹھاتے تھے۔ ان کی چھٹی ہو گئی ہے، جب اتنا کچھ ہوتا ہے تو کچھ لوگوں کے دل میں گھبراہٹ پیدا ہوتی ہے۔ وہ دیکھتے ہیں کہ ہمارے تو اچھے دن چل رہے تھے، اب بے چینی کے دن آگئے ہیں۔ وہ یہ بات مان کر چلتے تھے کہ قانون ہم تک کیسے پہنچے گا، قانون تو ہماری مٹھی میں ہے۔ قانون ہماری کٹھ پتلی ہے۔ ان کی غلط فہمی دور ہو گئی ہے۔ قانون سے اوپر کوئی نہیں ہے۔ ملک میں قانون کا راج ہے، بغیر قانون کے راج کے عوام کا کوئی مطلب نہیں ہے اور قانون دستک وہاں دے رہا ہے، ان گھروں پر دے رہا ہے، جن کو امید نہیں تھی کہ قانون ہمارے یہاں کیسے آسکتا ہے۔
طلبا ءاور طالبات ، یہ آپ کے لیے ایک چیلنج ہوتا ہے، جب کوئی نظام کام کرتا ہے، جب بدعنوانوں کو شفاف طریقے سے پکڑا جاتا ہے، جب کسی قوم میں مضبوط عدالتی نظام ہوتا ہے، تو نوٹس ان لوگوں کو جاتا ہے، جو ہر چیز کو سڑکوں پر لے جاتے ہیں۔ سوچنے والا ذہن، خاص طور پر نوجوان ذہن اور آپ جیسے سمجھدار ذہن کو سوشل میڈیا پر ضرور ملنا چاہیے کہ اس کی اجازت کیسے دی جا سکتی ہے۔ آپ اس ملک کی ترقی میں سب سے بڑے شراکت دار ہیں آپ کی عمر اور تعلیم کی وجہ سے یہ ملک مجھ سے زیادہ آپ کا ہے اور آپ کو اس ملک کو بلندی پر لے جانا ہے۔ آپ قانون کے سامنے برابری چاہتے ہیں، آپ حکمرانی میں شفافیت اور جوابدہی چاہتے ہیں۔ قیادت اس کے لیے مر رہی ہے، آپ کو اس موقع پر اٹھنا چاہیے۔ ہمارا مشاہدہ اور خاموشی سب سے زیادہ نامناسب ہوگی یہ آنے والے سالوں تک آپ کے کانوں میں گونجتی رہے گی۔ تم سے جو ہو سکے کرو کیونکہ تمہارا عمل بہتر ہے تم ہی اس ملک کو منزل تک پہنچانے والے ہو۔
طلباء اور طالبات ، جب میں پوری دنیا کو دیکھتا ہوں، پہلے سوچتے ہیں کہ ہماری سڑکوں پر ہوگا، کیا انٹرنیٹ گاؤں تک پہنچیں گے اور آج کے دن کو کمزور بتاتے ہیں وہ ورلڈ بینک نے باضابطہ طور پر اشارہ دیا ہے کہ ہندوستان سب سے تیزی سے ترقی کرنے والی معیشت ہے۔ اور وہ بڑی معیشتوں میں دنیا کی ہر معیشت سے آگے ہے۔
ہمارے ڈیجیٹل لین دین، جو وزیر اعظم نریندر مودی کا خواب تھا، 2022 میں ایک زمینی حقیقت بن گیا ہے، طلباء اور طالبات، ہمارا لین دین امریکہ، برطانیہ، فرانس اور جرمنی کے کل لین دین سے چار گنا زیادہ ہو گیا ہے۔ ہم نے اس کے بارے میں کبھی نہیں سوچا۔ ہمارے گاؤں کے لوگوں نے باضابطہ تعلیم حاصل نہیں کی ہو گی لیکن وہ جانتے ہیں کہ اب اسمارٹ فون کا استعمال کیسے کیا جاتا ہے اور 2022 کے سرکاری اعداد و شمار کے مطابق بھارت میں انٹرنیٹ کے ڈیٹا کی کھپت امریکہ اور چین سے زیادہ تھی۔
میں آپ سب سے اپیل کرتا ہوں۔ کہ مواقع سے فائدہ اٹھائیں، مواقع بہت زیادہ ہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۰۰۰۰۰۰۰۰
(ش ح- ح ا - ق ر)
(19-01-2024)
U-3803
(ریلیز آئی ڈی: 1997873)
وزیٹر کاؤنٹر : 114