ماحولیات، جنگلات اور موسمیاتی تبدیلی کی وزارت
جنگلات اور ان کے حیاتیاتی تنوع کا تحفظ
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
21 DEC 2023 4:45PM by PIB Delhi
قومی جنگلات کی پالیسی، 1988 اس بات پر زور دیتی ہے کہ جنگلوں کے اندر اور اس کے آس پاس رہنے والے قبائلیوں اور دیگر غریب لوگوں کی زندگی جنگلات کے گرد گھومتی ہے اور انہیں حاصل حقوق اور رعایتوں کا مکمل تحفظ کیا جانا چاہیے۔ قبائلی عوام اور جنگلات کے درمیان علامتی تعلق کے حوالے سے، پالیسی قبائلی برادریوں کو جنگلات کے تحفظ، بحالی اور ترقی کے ساتھ ساتھ جنگل میں اور اس کے آس پاس رہنے والے لوگوں کو فائدہ مند روزگار فراہم کرنے پر بھی توجہ مرکوز کرتی ہے۔
جوائنٹ فارسٹ منجمنٹ کمیٹیاں(جے ایف ایم سیز) اور ولیج ایکو ڈیولپمنٹ کمیٹیاں (ای ڈی سیز) قائم کی گئی ہیں، شراکتی طریقوں کے ذریعے، گاؤں کی سطح پر جنگلات کے تحفظ،حفاظت اور جنگلات کے انتظام میں، جس میں جنگلات پر منحصر کمیونٹیز کی روزی روٹی کو بڑھانابھی شا مل ہے، مقامی برادریوں کو شامل کیا گیا ہے۔
درج فہرست قبائل اور دیگر روایتی جنگلات کے باشندوں (جنگل کے حقوق کی پہچان) کا ایکٹ، 2006 (ایف آر اے، 2006) جنگل میں رہائش پذیر قبائلی برادریوں اور جنگل کے دیگر روایتی باشندوں کے جنگلاتی وسائل کے حقوق کو تسلیم کرتا ہے، جن پر یہ کمیونٹیز مختلف اقسام کے ضروریات، بشمول معاش، رہائش اور دیگر سماجی ثقافتی ضروریات،انحصار کرتی تھیں۔ ایکٹ میں خود کاشت اور رہائش کے حقوق، کمیونٹی کے حقوق کے ساتھ ساتھ روایتی مروجہ حقوق کی پہچان اور پائیدار استعمال کے لیے کسی بھی کمیونٹی، جنگلاتی وسائل کی حفاظت، دوبارہ تخلیق یا تحفظ یا انتظام کرنے کا حق شامل ہے۔
یہ معلومات ماحولیات، جنگلات اور موسمیاتی تبدیلی کے مرکزی وزیر مملکت جناب اشونی کمار چوبے نے راجیہ سبھا میں ایک تحریری جواب میں دی۔
*****
ش ح۔س ب ۔ف ر
(U: 2822)
(ریلیز آئی ڈی: 1989324)
وزیٹر کاؤنٹر : 186