سماجی انصاف اور تفویض اختیارات کی وزارت
دیگر پسماندہ طبقے كے ریزرویشن میں ترمیم
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
13 DEC 2023 5:26PM by PIB Delhi
معزز سپریم کورٹ نے اندرا ساہنی کیس ڈبلیو پی)سی) نمبر 930 بہ سال 1990میں 16 نومبر 1992 کو سنائے گئے اپنے فیصلے میں طے کیا ہے کہ آئین کے آرٹیکل 15(4) اور 16(4) کے تحت ریزرویشن 50 فی صد سے زیادہ نہیں ہونا چاہیے۔ ان آرٹیکلز کے تحت درج فہرست ذات و قبائل اور دیگر پسماندہ طبقے کو دیا جانے والا کل ریزرویشن 50 فی صد سے زیادہ نہیں ہے۔ آئین میں 103 ویں ترمیمی ایکٹ مجریہ 2019 کے ذریعے حكومت نے آرٹیکل 15(6) اور 16(6) کے تحت اقتصادی طور پر کمزور طبقوں (ای ڈبلیو ایس) کو ریزرویشن فراہم کیا ہے۔ اس طرح ای ڈبلیو ایس کو دیئے جانے والے 10فی صد ریزرویشن سے آرٹیکل 15(4) اور 16(4) کے تحت عطا كردہ ریزرویشن پر 50 فیصد مقررہ حد کی خلاف ورزی نہیں ہوتی۔
یہ اطلاع سماجی انصاف اور تفویض اختیارات کی وزیر مملکت محترمہ پرتیما بھومک نے آج راجیہ سبھا میں ایک سوال کے تحریری جواب میں دی۔
***
ش ح۔ ع س۔ ک ا
U NO 2333
(ریلیز آئی ڈی: 1986018)
وزیٹر کاؤنٹر : 144