وزارتِ تعلیم

وزیر اعظم نے‘وکست بھارت @2047: وائس آف یوتھ کا آغاز کیا


’’یہ ہندوستان کی تاریخ کا وہ دور ہے جب ملک ایک زبردست ترقی کی طرف گامزن ہے‘‘

’’ہندوستان کے لیے یہی وقت ہے، صحیح وقت (یہی سمے ہے، صحیح سمے ہے)‘‘

’’نظریہ اسی طرح ‘آئی’ سے شروع ہوتا ہے جس طرح ‘‘ہندوستان’’ بھی ‘آئی’ سے شروع ہوتا ہے، ترقی کی کوششیں خود بہ خود شروع ہوتی ہیں‘‘

’’نوجوانوں کی طاقت تبدیلی کی ایجنٹ بھی ہے اور تبدیلی کا فائدہ اٹھانے والی بھی‘‘

Posted On: 11 DEC 2023 5:30PM by PIB Delhi

وزیر اعظم جناب نریندر مودی نے آج ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعے ‘وکست بھارت @2047: وائس آف یوتھ’ کا آغاز کیا۔ پروگرام کے دوران، جناب وزیر اعظم مودی نے اس پہل کے آغاز کے موقع پر ملک بھر کے راج بھونوں میں منعقدہ ورکشاپس میں یونیورسٹیوں کے وائس چانسلرز، اداروں کے سربراہان اور فیکلٹی کے ارکان سےخطاب کیا۔

وزیر اعظم نے اپنے خطاب کا آغاز وکست بھارت کی ترقی کے لیے آج کےورکشاپ منعقد کرنے کے لیے تمام گورنروں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کیا اور کہا کہ آج اس  عزم  کے حوالے سے ایک خاص موقع ہے۔ انہوں نے ان تمام فریقوں کو یکجا کرنے میں ان کے تعاون کی تعریف کی جو وکست بھارت 2047 کے مقصد کو پورا کرنے میں قوم کے نوجوانوں کی رہنمائی کی ذمہ داری اٹھاتے ہیں۔ ملک اپنے لوگوں کی ترقی سے ہی آگے بڑھتا ہے۔ موجودہ دور میں شخصیت کی نشوونما کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے وزیر اعظم نے وائس آف یوتھ ورکشاپ کی کامیابی کے لیے اپنی خواہشات کا اظہار کیا۔

وزیراعظم نے کہا کہ کسی بھی قوم کی زندگی میں تاریخ ایک ایسا دور فراہم کرتی ہے  جس میں  وہ قوم اپنی ترقی کے سفر میں نمایاں پیش رفت کر سکتی ہو۔ ہندوستان کے لئے،یہ‘ امرت کال کا دور ہے’جو جاری ہےاور ‘‘یہ ہندوستان کی تاریخ کا وہ دور ہے جب  ہندوستان ایک زبردست ترقی کی طرف گامزن ہے۔’’ انہوں نے بہت سے قریبی ممالک کی مثالیں دیں جنہوں نے ایک مقررہ مدت میں بڑے پیمانے پر  ترقی کی اور ترقی یافتہ ممالک میں تبدیل ہو گئے۔‘‘ہندوستان کے لیے، یہ وقت ہے، صحیح وقت (یہی سمے ہے، صحیح سمے ہے)’’، انہوں نے کہا کہ اس امرت کال کے ہر لمحے کو استعمال کیا جانا چاہیے۔

وزیر اعظم نے آزادی کی شاندار جدوجہد کو ایک تحریک کے وسیلے کے طور پر دوہرایا۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت کے دوران ستیہ گرہ، انقلابی راستہ، عدم تعاون، سودیشی اور سماجی اور تعلیمی اصلاحات جیسی ہر کوشش آزادی کے حصول کے لیے وقف تھی۔ اس دور میں کاشی، لکھنؤ، وشوا بھارتی، گجرات ودیا پیٹھ، ناگپور یونیورسٹی، انامالائی، آندھرا اور کیرالہ یونیورسٹی جیسی یونیورسٹیوں نے قوم کے شعور کو مضبوط کیا۔ قوم کی آزادی کے لیے سرشار نوجوانوں کی ایک پوری نسل وجود میں آئی جس کی ہر کوشش آزادی کے مقصد کی سمت میں تھی۔‘‘ آج ہر ادارے اور ہر فرد کو اس عزم کے ساتھ آگے بڑھنا چاہیے کہ ہر کوشش اور عمل وکست  بھارت کے لیے ہوگا۔ آپ کے اہداف کا مقصد، آپ کے عزائم صرف ایک ہونےچاہئیں ۔ترقی یافتہ ہندوستان’’۔ وزیر اعظم نے اس بات پر زور دیا کہ اساتذہ اور یونیورسٹیاں تیز رفتاری سے ہندوستان کو ایک ترقی یافتہ ملک بنانے کے طریقے تلاش کرنے کے بارے میں غور و فکر کریں اور ایک ترقی یافتہ ملک بننے کی طرف بہتری کے لیے مخصوص شعبوں کی بھی نشاندہی کریں۔

وزیر اعظم مودی نے ہر یونیورسٹی کے طلباء اور نوجوانوں کی توانائی کو ‘وکست بھارت’ کے مشترکہ مقصد کو حاصل کرنے کے لیے استعمال کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ خیالات کے تنوع کاذکر کرتے ہوئے ، وزیر اعظم نے ترقی یافتہ ہندوستان کی تعمیر کے لیے تمام دھاروں کو جوڑنے پر زور دیا۔ جناب مودی نے ہر ایک پر زور دیا کہ وہ اپنی حدوں سے آگے بڑھ کر Viksit Bharat@2047 کے وژن میں اپنا تعاون دیں۔ انہوں نے ملک کے ہر کالج اور یونیورسٹی میں خصوصی مہم چلانے کا مشورہ دیا تاکہ زیادہ سے زیادہ نوجوانوں کو اس مہم سے جوڑا جا سکے۔ وزیر اعظم نے وکست بھارت سے متعلق آئیڈیاز پورٹل کے آغاز کا ذکر کیا اور بتایا کہ 5 مختلف موضوعات پر تجاویز دی جا سکتی ہیں۔‘‘بہترین 10 تجاویز کے لیے انعام کا بھی اہتمام کیا گیا ہے۔ آپ MyGov پر اپنی تجاویز بھی دے سکتے ہیں’’، انہوں نے مزید کہا، ‘‘آئیڈیا ایک ‘آئی’ سے شروع ہوتا ہے جس طرح ہندوستان ایک‘ آئی ’ سے شروع ہوتا ہے’’، وزیر اعظم نے اظہارخیال کرتے ہوئے کہا کہ ترقی کا خیال خود کے ‘ آئی’ سے شروع ہوسکتا ہے۔

تجاویز طلب کرنے کے عمل کی وضاحت کرتے ہوئے، وزیر اعظم نے ایک امرت نسل تیار کرنے کی ضرورت پر زور دیا جو قومی مفاد کوسب سے اوپر رکھتی ہو۔ انہوں نے تعلیم اور ہنر  کے میدانوں کو عبور کرتے ہوئے  آگے بڑھنے کی ضرورت پر زور دیا اور شہریوں میں قومی مفاد اور شہری احساس  پیدا کرنے کے لیے ہمہ وقت تیار رہنے پر زور دیا۔ وزیراعظم نے کہا کہ جب شہری کسی بھی کردار میں اپنا فرض ادا کرنا شروع کر دیتے ہیں تو ملک آگے بڑھتا ہے۔ انہوں نے پانی کے تحفظ، بجلی کی بچت، کھیتی باڑی میں کم کیمیکل استعمال کرنے اور پبلک ٹرانسپورٹ کے ذریعے قدرتی وسائل کے تحفظ کی مثالیں  پیش کیں ۔ انہوں نے ماہرین تعلیم سے کہا کہ وہ سووچھتا ابھیان کو نئی توانائی دینے، طرز زندگی کے مسائل سے نمٹنے اور نوجوانوں کے ذریعے موبائل فون سے آگے کی دنیا کی تلاش کے طریقے تجویز کریں۔ انہوں نے طلباء کے لیے رول ماڈل بننے کو کہا۔ انہوں نے کہا کہ سماجی سوچ حکمرانی  میں بھی جھلکتی ہے اور اس موقع پر اجتماع  میں شامل افراد  سے کہا کہ ڈگری یافتہ طلباء کے پاس کم از کم ایک پیشہ ورانہ مہارت  بھی ہونی چاہیے۔ انہوں نے مزید کہا،‘‘ان موضوعات سے متعلق صلاحیتوں کو اجاگر کرنے کے لیے ایک جامع عمل کو آگے بڑھانے کی غرض سے  ہر ادارے، ہرجگہ پر اور ہرریاستی  سطح پراسے آگے لے جانا چاہیےاور اس سلسلے میں ہرممکن اقدامات کرنے چاہییں۔’’

‘‘وکست بھارت’’کوآگے بڑھانے  کی مدت کو ایک امتحان سے تشبیہ دیتے ہوئے وزیر اعظم نے طلباء کے اعتماد، تیاری اور لگن کے ساتھ ساتھ مقصد کو پورا کرنے کے لیے مطلوبہ نظم و ضبط کو برقرار رکھنے میں خاندانوں کے تعاون کا ذکر کیا۔ انہوں نے وضاحت کی کہ ملک کے شہری ہونے کے ناطے ہمارے لیے بھی امتحان کی تاریخ کا اعلان کر دیا گیا ہے۔ وزیراعظم نے زور دے کر کہا کہ ‘‘ہمارے سامنے امرت کال کے 25 سال ہیں۔ ہمیں وکست بھارت کے مقصد کے لیے 24 گھنٹے کام کرنا ہوگا۔ یہ وہ ماحول ہے جہاں  ہمیں ایک کنبہ میں تبدیل ہوجانا  ہے’’ ۔

اس بات کا ذکر کرتے ہوئے کہ ملک کی تیزی سے بڑھتی ہوئی آبادی نوجوانوں کو بااختیار بناتی ہے، جناب مودی نے بتایا کہ آنے والے 25-30  برسوں  میں کام کرنے کی عمروالی آبادی کے لحاظ سے ہندوستان سرفہرست ہونے والا ہے اور دنیا اسے تسلیم کرتی ہے۔ وزیراعظم  مودی نے کہا کہ، ‘‘نوجوانوں کی طاقت تبدیلی کی ایجنٹ بھی ہے اور تبدیلی کا فائدہ اٹھانے والی بھی ہے’’۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ آنے والے 25 سال آج کے کالجوں اور یونیورسٹیوں میں نوجوانوں کے کیریئر کے لیے فیصلہ کن ہونے والے ہیں۔اس بات کا ذکر کرتے ہوئے کہ نوجوان ہی مستقبل میں نئے خاندان اور ایک نیا سماج بنانے جا رہے ہیں۔ وزیر اعظم نے کہا کہ انہیں یہ فیصلہ کرنے کا حق ہے کہ ترقی یافتہ ہندوستان کیسا ہونا چاہیے۔ وزیر اعظم نے مزید کہا کہ اس جذبے کے ساتھ حکومت ملک کے ہر نوجوان کو ترقی یافتہ ہندوستان کے ایکشن پلان سے جوڑنا چاہتی ہے۔ وزیر اعظم نے ملک کے نوجوانوں کی آواز کو ترقی یافتہ ہندوستان کی تعمیر کے لیے پالیسی حکمت عملی میں ڈھالنے پر زور دیا اور ایسے تعلیمی اداروں کے کردار کو اجاگر کیا جو نوجوانوں سے زیادہ سے زیادہ رابطہ برقرار رکھتے ہیں۔

خطاب کے اختتام پر وزیراعظم نے اس بات پر زور دیا کہ ترقی کاخاکہ حکومت اکیلے نہیں بلکہ قوم طے کرے گی۔ ‘‘ اس میں ملک کے ہر شہری کی  طرف سے  تعاون کے ساتھ ساتھ فعال شرکت ہوگی’’، جناب مودی نے اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ‘‘ سب سے اہم عزائم اور اداروں کو بھی سب کے پریاس کے منتر سے پورا کیا جا سکتا ہے’’۔ انہوں نے کورونا وبا،سب کا پریاس کی طاقت کو اجاگرکرتے ہوئے ووکل فور لوکل  کے دوران سووچھ بھارت ابھیان، ڈیجیٹل انڈیا مہم، لچک کی مثالیں پیش  کیں۔ وزیر اعظم نے کہا کہ ‘‘وکست بھارت کو صرف سب کا پریاس کے ذریعے تعمیر کیا جانا ہے۔ جناب مودی نے اس موقع پر موجود مفکرین اور اسکالرس سے بڑی توقعات کا اعادہ کیا کیونکہ وہی ملک کی ترقی کے وژن کو تشکیل دیتے ہیں اور نوجوانوں کی طاقت کو آگے بڑھاتے ہیں۔وزیراعظم نے اپنی بات کااختتام کرتے ہوئے بتایا کہ‘‘یہ ملک کا مستقبل لکھنے کی ایک عظیم مہم ہے’’، اور  شرکاء پر  زور دیا کہ وہ وکست بھارت کی شان کو مزید بڑھانے کے لیے اپنی تجاویز  پیش کریں۔

مرکزی وزیر برائے تعلیم اور ہنرمندی کی ترقی اور انٹرپرینیورشپ، جناب دھرمیندر پردھان نے اس دن کو وکست بھارت کے اہداف کو حاصل کرنے کے لیے متاثر کن کارروائی کے لیے  اہم ترین  دن قرار دیا۔ انہوں نے وزیر اعظم جناب نریندر مودی کا شکریہ ادا کیا کہ انہوں نے  اس پہل ‘‘وِکِسِٹ بھارت @2047: نوجوانوں کی آواز’’  کا آغاز کیا۔ انہوں نے وزیراعظم کے الفاظ دوہراتے ہوئے  زور دے کر کہا کہ ترقی کا روڈ میپ حکومت نہیں بلکہ ملک طے کرے گا۔

جناب پردھان نے یہ بھی کہا کہ یہ پہل امرت کال ومرش کو جن-آندولن میں تبدیل کرنے جا رہی ہے اور یووا شکتی اور تعلیمی برادری کو مسلسل رہنمائی فراہم کرنے اور اُنہیں  2047 تک ترقی یافتہ ہندوستان کے عظیم تصور کے ساتھ مربوط کرنے کے لیے وزیر اعظم کا شکریہ ادا کیا۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ آج پروگرام کے آغاز سے ایک نیا نقطہ نظر اور سمت ملی ہے۔ انہوں نے اس بات پر روشنی ڈالی کہ یونیورسٹیاں، کالج اور تعلیمی ادارے اس اقدام کو نئی رفتار دیں گے۔ انہوں نے کہا کہ سب کا پریاس کے منتر سے رہنمائی حاصل کرتے ہوئے ایک ایسا ماحول بنایا جانا چاہیے جو امرت پیڑھی اور شہریوں کو ترقی یافتہ ہندوستان کے ہدف کی تکمیل کی طرف ترغیب دے۔

پس منظر

ملک کے قومی منصوبوں، ترجیحات اور اہداف کی تشکیل میں ملک کے نوجوانوں کو فعال طور پر شامل کرنے کے وزیر اعظم کے وژن کے مطابق، Viksit Bharat @2047 کے وژن میں آئیڈیاز دینے کے لیے 'وکست بھارت @2047: وائس آف یوتھ ' اقدام ملک کے نوجوانوں کو ایک پلیٹ فارم فراہم کرے گا۔ ورکشاپس نوجوانوں کو Viksit Bharat @2047 کے لیے اپنے خیالات اور تجاویز کے اشتراک کرنے کے لیے مشغول کرنے کے عمل کو شروع کرنے کی جانب ایک اہم قدم ہوں گی۔

‘وکست بھارت @2047’آزادی کے 100 ویں سال، 2047 تک ہندوستان کو ایک ترقی یافتہ ملک بنانے کا وژن ہے۔ یہ وژن ترقی کے مختلف پہلوؤں پر مشتمل ہے، جس میں اقتصادی ترقی، سماجی ترقی، ماحولیاتی پائیداری، اور اچھی حکمرانی بھی شامل ہے۔

Image

Image

Image

*************

ش ح ۔ س ب۔ رض

U. No.2230



(Release ID: 1985321) Visitor Counter : 427


Read this release in: English , Hindi , Manipuri