بجلی کی وزارت
بجلی کے پروجیکٹوں سے کاربن اخراج کو کم کرنے کے لئے کئے گئے اقدامات
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
06 DEC 2023 4:07PM by PIB Delhi
بجلی اور نئی اور قابل تجدید توانائی کے مرکزی وزیر نے بجلی کے منصوبوں سے کاربن کے اخراج کو کم کرنے کے لیے بجلی کی وزارت کے ذریعہ کئے گئے اقدامات کے بارے میں بتایا:
- بجلی کی وزارت ایک مارکیٹ پر مبنی طریقہ کار کو نافذ کر رہی ہے، جس کا نام ‘کارکردگی، حصول اور تجارت (پی اے ٹی) اسکیم ہے تاکہ تھرمل پاور اسٹیشنوں سمیت توانائی سے متعلق بڑی صنعتوں میں توانائی کی کارکردگی کو بڑھایا جا سکے جو سالانہ 30000 ٹن سے زیادہ تیل کے برابر توانائی استعمال کرتے ہیں۔ اس سکیم کے تحت، 226 تھرمل پاور اسٹیشنوں کا احاطہ کیا گیا ہے، جن کی صلاحیت تقریباً 197 گیگاواٹ ہے۔ یہ اسکیم تمام تھرمل پاور اسٹیشنوں کو تین سال کی مدت کے دوران اپنی خالص حرارت کی شرح کو کم کرنے کا پابند کرتی ہے، جس کے نتیجے میں کوئلے کی کھپت میں کمی آتی ہے اور اس کے نتیجے میں سی او 2 کے اخراج میں کمی واقع ہوتی ہے21-2020 تک، توانائی کے لحاظ سے بچت تقریباً 7.21 ملین ٹن تیل کے برابر ہے، جو کہ ان تھرمل پاور پلانٹس ( ٹی پی پیز) سے تقریباً 27.51 ملین ٹن سی او 2 کے اخراج میں کمی کے برابر ہے۔
- بہت سے ٹی پی پیز نے موثر ٹیکنالوجی کے استعمال کو اپنایا ہے، یعنی سب کریٹیکل سے سپر کریٹیکل تک اور اب کارکردگی کو بہتر بنانے کے لیے الٹرا سپر کریٹیکل ٹیکنالوجی کا استعمال کر رہے ہیں، اس طرح کوئلے کی کھپت اور اخراج میں کمی آئی ہے۔ 31 اکتوبر 2023 تک بالترتیب 63830 میگاواٹ (92 یونٹس) اور 2120 میگاواٹ (03 یونٹس) کے سپر کریٹیکل/ الٹرا سپر کریٹیکل یونٹس کی کل صلاحیت شروع ہو چکی ہے۔
- III. غیر فعال اور پرانے تھرمل پاور جنریشن یونٹس کے 99 یونٹس پر مشتمل تقریباً 8059.92 میگاواٹ کی صلاحیت، جنوری 2018 سے 15اکتوبر 2023 کے دوران پہلے ہی روک دی گئی ہے۔
- گھریلو کوئلے پر مبنی پاور پلانٹس میں، کو-فائرنگ کے ذریعے پاور جنریشن کے لیے، بائیو ماس یوٹیلائزیشن سے متعلق پالیسی 08اکتوبر 2021 کو ایگرو ریزیڈیو بیسڈ بائیو ماس کے استعمال کے لیے جاری کی گئی تھی ، جس میں تھرمل پاور پلانٹس کے لیے کوئلے کے ساتھ ساتھ بایوماس کے استعمال کو لازمی قرار دیا گیا ہے۔
- ملک میں 31کتوبر 2023 تک غیر روایتی ایندھن پر مبنی توانائی کے وسائل سے مجموعی طور پر، 186.46 گیگا واٹ صلاحیت کی تنصیب کی گئی ہے جس میں 178.98 گیگا واٹ قابل تجدید توانائی اور 7.48 گیگا واٹ نیوکلیائی پاور شامل ہے۔ یہ ہماری کل بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت کا تقریباً 43 فیصد ہے۔ 2030 تک، ہندوستان اپنی نصب شدہ بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت کا 50 فیصد غیر روایتی ذرائع سے حاصل کر لے گا۔
مورخہ 31اکتوبر 2023 (مالی سال24-2023 ) تک، مالی سال19-2018 سے گرڈ میں 25091.91 میگاواٹ کی قومی تھرمل صلاحیت شامل کی گئی ہے۔ تفصیلات حسب ذیل ہیں۔
|
|
مالی برس 2018 کے بعد سے شروع کئے گئے تھرمل پاور کے
|
|
شعبہ
|
ریاست
|
پروجیکٹ کانام
|
نافذ کرنے والی ایجنسی
|
ایندھن
|
یونٹ نمبر
|
صلاحیتی اضافہ (ایم ڈبلیو)
|
|
|
مالی سال 2018-19
|
|
1
|
مرکزی
|
آسام
|
بونگیا گاؤں ٹی پی
|
این ٹی پی سی
|
کوئلہ
|
یو-3
|
250
|
|
2
|
مرکزی
|
بہار
|
نبی نگر ٹی پی پی
|
این ٹی پی سی اور بی آر بی سی ایل
|
کوئلہ
|
یو-3
|
250
|
|
3
|
مرکزی
|
مدھیہ پردیش
|
گدر واڑہ ٹی پی
|
این ٹی پی سی
|
کوئلہ
|
یو-1
|
800
|
|
4
|
مرکزی
|
مہاراشٹر
|
سولا پور ایس ٹی پی پی
|
این ٹی پی سی
|
کوئلہ
|
یو-2
|
660
|
|
|
میزان مرکزی شعبہ
|
1960
|
|
5
|
ریاستی
|
مدھیہ پردیش
|
شری سنگھاجی ٹی پی پی اسٹیج - II
|
ایم پی پی جی سی ایل
|
کوئلہ
|
یو-3
|
660
|
|
6
|
ریاستی
|
مدھیہ پردیش
|
شری سنگھاجی ٹی پی پی اسٹیج - II
|
ایم پی پی جی سی ایل
|
کوئلہ
|
یو-4
|
660
|
|
7
|
ریاستی
|
تلنگانہ
|
کوتھا کودم ٹی پی ایس اسٹیج- VII
|
ٹی ایس جی ای این سی او
|
کوئلہ
|
یو-1
|
800
|
|
8
|
ریاستی
|
راجستھان
|
چھبرا ٹی پی پی ایکسٹشن
|
آر آر وی یو این ایل
|
کوئلہ
|
یو-6
|
660
|
|
9
|
ریاستی
|
آسام
|
لکوا رپلیسمنٹ پاور پروجیکٹ (7x9.965 MW)
|
اے پی جی سی ایل
|
کوئلہ
|
جی ٹی
|
69.76
|
|
|
میزان ریاستی شعبہ
|
2849.76
|
|
10
|
نجی
|
مدھیہ پردیش
|
مہان ٹی پی پی/ ایسار پاور ایم پی لمیٹڈ/ چائینیز
|
ایسار پاور ایم پی لمیٹڈ
|
کوئلہ
|
یو-2
|
600
|
|
11
|
نجی
|
چھتیس گڑش
|
اچپنڈا ٹی پی
|
آر کے ایم پاور
|
کوئلہ
|
یو-4
|
360
|
|
12
|
نجی
|
مغربی بنگال
|
دشیر گڑھ ٹی پی ایس
|
آئی پی سی ایل
|
کوئلہ
|
یو-1
|
12
|
|
|
میزان نجی شعبہ
|
972
|
|
|
میزان مالی سال 2018-19
|
5781.76
|
|
|
مالی سال2019-20
|
|
13
|
مرکزی
|
بہار
|
نبی نگر ایس ٹی پی پی
|
این پی جی سی ایل
|
کوئلہ
|
یو-1
|
660
|
|
14
|
مرکزی
|
مدھیہ پردیش
|
کھار گاؤں ایس ٹی پی پی اسٹیج- I
|
این ٹی پی سی
|
کوئلہ
|
یو-1
|
660
|
|
15
|
مرکزی
|
مدھیہ پردیش
|
کھار گاؤں ایس ٹی پی پی اسٹیج- I
|
این ٹی پی سی
|
کوئلہ
|
یو-2
|
660
|
|
16
|
مرکزی
|
اتر پردیش
|
ٹانڈا ٹی پی پی اسٹیج- II
|
این ٹی پی سی
|
کوئلہ
|
یو-5
|
660
|
|
17
|
مرکزی
|
اڈیشہ
|
دارا پلی ایس ٹی پی پی اسٹیج- I
|
این ٹی پی سی
|
کوئلہ
|
یو-1
|
800
|
|
18
|
مرکزی
|
تمل ناڈو
|
نے ویلی نیو ٹی پی پی
|
این ایل سی
|
لگنائٹ
|
یو-1
|
500
|
|
|
میزان مرکزی شعبہ
|
3940
|
|
19
|
ریاستی
|
گجرات
|
ونک بوری ٹی پی ایس ایسٹنشن
|
جی ایس ای سی ایل
|
کوئلہ
|
یو-8
|
800
|
|
20
|
ریاستی
|
اڈیشہ
|
آئی بی ویلی ٹی پی پی
|
او پی جی سی
|
کوئلہ
|
یو-3
|
660
|
|
21
|
ریاستی
|
اڈیشہ
|
آئی بی ویلی ٹی پی پی
|
او پی جی سی
|
کوئلہ
|
یو-4
|
660
|
|
22
|
ریاستی
|
راجستھان
|
سورت گڑھ ایس سی ٹی پی پی
|
آرآر وی یو این ایل
|
کوئلہ
|
یو-7
|
660
|
|
|
میزان ریاستی شعبہ
|
2780
|
|
23
|
نجی
|
مدھیہ پردیش
|
بی ایل اے پاور پرائیویٹ لمیٹڈ (نیواری) ٹی پی پی
|
بی ایل اے پاور پرائیویٹ لمیٹڈ
|
کوئلہ
|
یو-2
|
45
|
|
|
میزان نجی شعبہ
|
45
|
|
|
میزان مالی برس 2019-20
|
6765
|
|
|
مالی برس 2020-21
|
|
|
24
|
مرکزی
|
چھتیس گڑھ
|
لارا ایس ٹی پی پی
|
این ٹی پی سی
|
کوئلہ
|
یو-2
|
800
|
|
|
25
|
مرکزی
|
اتر پردیش
|
میجا ایس ٹی پی پی
|
جے وی آف این ٹی پی سی اور یو پی آر وی یو این ایل
|
کوئلہ
|
یو-2
|
660
|
|
|
26
|
مرکزی
|
تمل ناڈو
|
نے ویلی نیو ٹی پی پی
|
این ایل سی
|
لگنائٹ
|
یو-2
|
500
|
|
|
27
|
مرکزی
|
مدھیہ پردیش
|
گدر واڑا ایس ٹی پی پی
|
این ٹی پی سی
|
کوئلہ
|
یو-2
|
800
|
|
|
28
|
مرکزی
|
اتر پردیش
|
ٹانڈا اسٹیج-II
|
این ٹی پی سی
|
کوئلہ
|
یو-6
|
660
|
|
|
29
|
مرکزی
|
بہار
|
نبی نگر ایس ٹی پی پی
|
این پی جی سی ایل
|
کوئلہ
|
یو-2
|
660
|
|
|
|
میزان مرکزی شعبہ
|
4080
|
|
|
30
|
ریاستی
|
آسام
|
نمروپ سی سی جی ٹی- گیس
|
اے پی جی سی ایل
|
گیس
|
ایس ٹی
|
36.15
|
|
|
31
|
ریاستی
|
تلنگانہ
|
بھدرا دری ٹی پی پی
|
ٹی ایس جی ای این سی او
|
کوئلہ
|
یو-1
|
270
|
|
|
32
|
ریاستی
|
تلنگانہ
|
بھدرا دری ٹی پی پی
|
ٹی ایس جی ای این سی او
|
کوئلہ
|
یو-2
|
270
|
|
|
33
|
ریاستی
|
تلنگانہ
|
بھدرا دری ٹی پی پی
|
ٹی ایس جی ای این سی او
|
کوئلہ
|
یو-3
|
270
|
|
|
|
میزان ریاستی شعبہ
|
846.15
|
|
|
|
میزان مالی برس 2020-21
|
4926.15
|
|
|
|
مالی برس 2021-22
|
|
|
34
|
مرکزی
|
اڈیشہ
|
داری پلی ایس ٹی پی پی اسٹیج -1
|
این ٹی پی سی
|
کوئلہ
|
یو-2
|
800
|
|
|
35
|
مرکزی
|
بہار
|
براہ ایس ٹی پی پی اسٹیج -1
|
این ٹی پی سی
|
کوئلہ
|
یو-1
|
660
|
|
|
36
|
مرکزی
|
بہار
|
نبی نگر ٹی پی پی
|
بی آر بی سی ایل
|
کوئلہ
|
یو-4
|
250
|
|
|
37
|
مرکزی
|
بہار
|
نبی نگر ایس ٹی پی پی
|
این پی جی سی ایل
|
کوئلہ
|
یو-3
|
660
|
|
|
|
میزان مرکزی شعبہ
|
2370
|
|
|
38
|
ریاستی
|
راجستھان
|
سورت گڑھ ایس سی ٹی پی پی
|
آر آر وی یو این ایل
|
کوئلہ
|
یو-8
|
660
|
|
|
39
|
ریاستی
|
تلنگانہ
|
بھدرا دری ٹی ٹی پی
|
ٹی ایس جی ای این سی او
|
کوئلہ
|
یو-4
|
270
|
|
|
40
|
ریاستی
|
اترپردیش
|
ہردوگنج ایکسپن- II
|
یوپی آر وی یو این ایل
|
کوئلہ
|
یو-1
|
660
|
|
|
|
میزان ریاستی شعبہ
|
1590
|
|
|
41
|
نجی
|
تمل ناڈو
|
ٹیوٹی کورین ٹی پی پی، ایس ٹی- IV
|
اسی ای پی سی
|
کوئلہ
|
یو-1
|
525
|
|
|
|
میزان نجی شعبہ
|
525
|
|
|
|
میزان مالی برس 2021-22
|
4485
|
|
|
|
مالی برس 2022-23
|
|
|
42
|
مرکزی
|
جھارکھنڈ
|
شمالی کرنپورہ ایس ٹی پی پی
|
این ٹی پی سی
|
کوئلہ
|
یو-1
|
660
|
|
|
|
میزان مرکزی شعبہ
|
660
|
|
|
43
|
ریاستی
|
آندھرا پردیش
|
شری دامودرم سنجیوا ٹی پی پی ایس ٹی- II
|
اے پی پی ڈی سی ایل
|
کوئلہ
|
یو-1
|
800
|
|
|
|
میزان ریاستی شعبہ
|
800
|
|
|
|
میزان مالی سال 2022-23
|
1460
|
|
|
|
مالی سال 2023-24
|
|
|
44
|
مرکزی
|
بہار
|
برہ ایس ٹی پی پی، مرحلہ-1
|
این ٹی پی سی
|
کوئلہ
|
یو-2
|
660
|
|
|
45
|
مرکزی
|
تلنگانہ
|
تلنگانہ ایس ٹی ٹی پی اسٹیج-1
|
این ٹی پی سی
|
کوئلہ
|
یو-1
|
800
|
|
|
|
میزان مرکزی شعبہ
|
1460
|
|
|
46
|
نجی
|
اتراکھنڈ
|
کاشی پور سی سی پی پی ، مرحلہ- II
|
میسرز ایس ای پی ایل
|
آر- ایل این جی
|
موڈ-2
|
214
|
|
|
|
میزان نجی شعبہ
|
214
|
|
|
|
میزان مالی برس 24-2023 (31 اکتوبر 2023 تک)
|
1674
|
|
|
|
کل میزان 24-2018
|
25,091.91
|
|
| |
|
|
|
|
|
|
|
|
|
|
|
|
|
|
|
|
بجلی کے قانون 2003 کی دفعہ 7 کے مطابق، پیدا وار ایک غیر لائسنس یافتہ سرگرمی ہے اور یونٹس کے فیز آؤٹ/ریٹائرمنٹ کا فیصلہ یوٹیلٹیز/کمپنیوں کو ان کی اپنی تکنیکی، اقتصادی اور تجارتی بنیادوں پر بنا کر کیا جاتا ہے۔ 2018 سے ملک میں قابل تجدید توانائی کی پیداوار کو فروغ دینے کے لیے حکومت ہند نے درج ذیل اقدامات کیے ہیں:
- خودکار راستے کے تحت، 100 فیصد تک براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری (ایف ڈی آئی) کی اجازت۔
- شمسی، بادانی، سبز ہائیڈروجن/سبز امونیا، پمپڈ اسٹوریج پلانٹس اور توانائی کے ذخیرے کے ذرائع کی بین ریاستی فروخت کے لیے، بین ریاستی ترسیلی نظام (آئی ایس ٹی ایس) چارجز کی چھوٹ۔
- III. سال30-2029 تک قابل تجدید خریداری کی ذمہ داری (آر پی او) کے لیے ٹریکٹری کا نوٹیفکیشن۔
- الٹرا میگا رینیوایبل توانائی پارکس کا قیام،آر ای ڈویلپرز کو بڑے پیمانے پر آر ای پروجیکٹس کی تنصیب کے لیے ،زمین اور ترسیلی رابطہ فراہم کرنا۔
- اسکیمیں جیسے پردھان منتری کسان اورجا سرکشم ایوم اُٹھان مہاابھیان (پی ایم- کسم)، شمسی روف ٹاپ مرحلہ II، 12000 میگا واٹ (ایم ڈبلیو ) سرکاری شعبے کی مرکزی کمپنی (سی پی ایس یو) اسکیم مرحلہ II، وغیرہ۔
- نئی ترسیلی لائنیں بچھانا اور قابل تجدید بجلی کے اخراج کے لیے، سبزتوانائی کوریڈورا سکیم کے تحت، نئے سب اسٹیشن کی گنجائش پیدا کرنا۔
- گرڈ کنیکٹڈ سولر فوٹوولٹک (پی وی)، باد بانی اور شمسی ونڈ ہائبرڈ پروجیکٹس سے، بجلی کی خریداری کے لیے، شرح پر مبنی مسابقتی بولی کے عمل کے لیے معیاری بولی کے رہنما خطوط۔
- سبز توانائی اوپن ایکسس رولز 2022 کے ذریعے قابل تجدید توانائی کو فروغ دینے کا نوٹیفکیشن۔
- تبادلے کے ذریعے قابل تجدید توانائی کی بجلی کی فروخت میں سہولت فراہم کرنے کے لیے، گرین ٹرم اہیڈ مارکیٹ (جی ٹی اے ایم) کا آغاز۔
یہ معلومات بجلی اور نئی اور قابل تجدید توانائی کے مرکزی وزیر جناب آر کے سنگھ نے 5 دسمبر 2023 کو راجیہ سبھا میں ایک سوال کے تحریری جواب میں فراہم کیں ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۰۰۰۰۰۰۰۰
(ش ح-اع - ق ر)
(06-12-2023)
U-1880
(ریلیز آئی ڈی: 1983251)
وزیٹر کاؤنٹر : 116