ماحولیات، جنگلات اور موسمیاتی تبدیلی کی وزارت

خالص صفر اخراج کا ہدف

Posted On: 03 AUG 2023 5:04PM by PIB Delhi

ہندوستان ایک ابھرتی ہوئی معیشت ہے، جہاں اپنی ترقی اور غربت کے خاتمے کے اہداف کے تعاقب میں، کم بنیاد کے باوجود، گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں اضافہ ہونا طے ہے۔ واضح رہے کہ 1850 سے 2019 تک ہندوستان کا تاریخی مجموعی اخراج صنعتی دور سے پہلے کی دنیا کے مجموعی کاربن ڈائی آکسائیڈ کے اخراج کے 4 فیصد سے بھی کم ہے، حالانکہ یہ ایسا ملک ہےجہاں  دنیا کی 17 فیصد آبادی رہتی ہے۔ لہذا، گلوبل وارمنگ کے لیے ہندوستان کی ذمہ داری اب تک بہت کم رہی ہے اور آج بھی اس کا سالانہ فی کس اخراج عالمی اوسط کا صرف ایک تہائی ہے۔

بھارت، نومبر 2021 میں اقوام متحدہ کے فریم ورک کنونشن آن کلائمیٹ چینج(سی او پی26) کے 26ویں اجلاس میں، 2070 تک خالص صفر اخراج حاصل کرنے کے اپنے ہدف کا اعلان کیا۔ پیرس معاہدے کے آرٹیکل 4 کے پیرا 19 کے اعتراف میں، بھارت کی طویل -مدت کم کاربن ترقیاتی حکمت عملی، اقوام متحدہ کے فریم ورک کنونشن آن کلائمیٹ چینج میں جمع کرائی گئی ہے، اور یہ 2070 تک خالص صفر اخراج تک پہنچنے کے ہدف کی توثیق کرتی ہے۔ ہندوستان کی طویل مدتی کم کاربن ترقیاتی حکمت عملی مساوات اورموسمیاتی انصاف   اور  مشترکہ لیکن مختلف ذمہ داریوں اور متعلقہ صلاحیتوں کے اصولوں پر مبنی ہےَ۔

ہندوستان کی طویل مدتی کم کاربن ترقی کی حکمت عملی کم کاربن کی ترقی کے راستوں میں سات اہم تبدیلیوں پر منحصر ہے۔ ان میں یہ  شامل ہیں(1) ترقی کے ساتھ ہم آہنگ بجلی کے نظام کی کم کاربن ترقی،(2) ایک مربوط، موثر اور جامع نقل و حمل کا نظام تیار کرنا، (3) شہری ڈیزائن میں موافقت کو فروغ دینا، عمارتوں میں توانائی اور مواد کی کارکردگی، اور پائیدار شہری کاری،(4) معیشت کی سطح پر ترقی کو  اخراج اور ایک مؤثر اختراعی کم اخراج والے جدید صنعتی نظام کی ترقی سے جداکرنے کو فروغ دینا،(5) کاربن ڈائی آکسائیڈ کے خاتمے اور متعلقہ انجینئرنگ حل کی ترقی، (6) سماجی و اقتصادی اور ماحولیاتی تحفظات کے مطابق جنگلات اور پودوں کے احاطہ کو بڑھانا اور(7) کم کاربن کی ترقی کی اقتصادی اور مالیاتی ضروریات۔ان میں سے ہر ایک ٹرانزیشن کے حوالے سے، ہندوستان کی کم کاربن ڈیولپمنٹ اسٹریٹجی دستاویز نے اہم بین الاقوامی اور قومی سیاق و سباق کو ، موجودہ پالیسیوں اور پروگراموں کو پہلے سے لاگو کرنے کے ساتھ ساتھ ہر ایک منتقلی، ممکنہ فوائد اور چیلنجوں کے کلیدی عناصر کو واضح کیا ہے۔

ایسے کئی اشاریے ہیں جو موسمیاتی تبدیلی کے چیلنج سے نمٹنے کے لیے ممالک کو ان کی کارکردگی پر درجہ بندی کرتے ہیں۔ تاہم، طریقہ کار، تصوراتی فریم ورک کے ساتھ ساتھ ہندوستان اور دنیا دونوں کے لیے ان اشاریہ جات کے نتائج کے حوالے سے بہت سے اختلافات اور عدم اتفاق ہیں۔

حکومت نے ملک میں تیزی سے بڑھتے ہوئے ماحولیاتی مسائل سے نمٹنے کے لیے متعدد اقدامات کیے ہیں۔ کچھ قابل ذکر اقدامات ذیل میں درج ہیں:

 

  • ماحولیات، جنگلات اور موسمیاتی تبدیلی کی وزارت(ایم او ای ایف اینڈ سی سی) نے جنوری، 2019 میں قومی صاف ہوا پروگرام (این سی اے پی) شروع کیا ہے جس کا مقصد 24 ریاستوں /مرکز کے زیرانتظام علاقوں میں 131 شہروں (غیر حاصل شدہ شہر اور ملین پلس شہروں) میں  متعلقہ فریقوں کو مصروف کرکے ہوا کے معیار کو بہتر بنانا ہے۔  اس پروگرام میں26-2025 تک  40فیصد تک کمی یا قومی محیطی ہوا کے کوالٹی کے معیارات برائے ذرات کے مادے 10 (پی ایم 10) کے ارتکاز کو حاصل کرنے کا تصور کیا گیا ہے۔18-2017 کے حوالے سے 95 شہروں نے مالی سال22-2021 میں پی ایم کے ارتکاز میں بہتری دکھائی اور 20 شہر مالی سال22-2021 میں نیشنل ایمبیئنٹ ایئر کوالٹی اسٹینڈرز (این اے اے کیو ایس) کے اندر ہیں۔ ہوا کے معیار کی نگرانی کے لیے، اب تک 1,366 مانیٹرنگ اسٹیشن (389 شہروں، 28 ریاستوں اور 7 مرکز کے زیر انتظام علاقوں  میں 910 دستی اسٹیشن اور 227 شہروں، 27 ریاستوں اور 4 مرکز کے زیرانتظام علاقوں  میں 456 سی اے اے کیو ایم ایس) نصب کیے گئے ہیں۔
  • این سی اے پی کے نفاذ کی نگرانی کے لیے پی آر اے این اے ایک پورٹل شروع کیا گیا ہے۔ سوچھ وایو سرویکشن (ایس وی ایس 2022) کے تحت ،  جو کہ این سی اے پی شہروں کی خود تشخیصی رپورٹ کا جائزہ ہے، سرفہرست 9 بہترین کارکردگی والے شہروں کو نوازا گیا ہے۔
  • این سی آر اور ملحقہ علاقے میں ہوا کے معیار کے انتظام کے کمیشن (سی اے کیو ایم) نے این سی آر میں فضائی آلودگی کو روکنے کے لیے ایک پالیسی این سی آر کے لیے صنعتی اور دیگر ایپلی کیشنز کے لیے منظور شدہ ایندھن کی معیاری فہرست سمیت ایک پالیسی وضع کی ہے۔
  • دہلی میں پی ایم 2.5 اور پی ایم 10 کی سطح 2016 سے تقریباً 30 فیصد کم ہوئی ہے جبکہ اسی مدت کے دوران صاف ہوا کے دنوں کی تعداد میں تقریباً 50 فیصد اضافہ ہوا ہے۔
  • ملک نے یکم اپریل 2020 سے ایندھن اور گاڑیوں کے لیےبی ایس -4 سے بی ایس -5 کے معیارتک چھلانگ لگا ئی ہے۔
  • سستی نقل و حمل کی طرف پائیدار متبادل (ایس اے ٹی اے ٹی) کو کمپریسڈ بائیو گیس (سی بی جی) نے پروڈکشن پلانٹ قائم کرنے اور آٹوموٹیو فیول میں استعمال کے لیےسی بی جی کو مارکیٹ میں دستیاب کرانے کے لیے ایک پہل شروع کی ہے۔
  • نئے اور موجودہ پیٹرول پمپس میں ویپر ریکوری سسٹم (وی آر ایس) ملین سے زیادہ شہروں میں100 کے ایل فی ماہ سے زیادہ پٹرول فروخت کرنے والے اور 1 لاکھ سے 10 لاکھ کے درمیان آبادی والے شہروں میں300 کے ایل فی ماہ فروخت کرنے والے پمپوں کی تنصیب۔ ہندوستان میں (ہائبرڈ اور) الیکٹرک گاڑیوں کو تیز تر اپنانے اور تیار کرنے کے تحت ای گاڑیوں پر سبسڈی۔
  • دریاؤں کے تحفظ کے لیے، جل شکتی کی وزارت گنگا طاس اور مرکزی طور پر دریاؤں کے لیے نمامی گنگا کی مرکزی سیکٹر اسکیم اور دیگر دریاؤں کے لیے نیشنل ریور کنزرویشن پلان(این آر سی  پی) کی اسپانسر شدہ اسکیم کے ذریعے ملک میں ندیوں کے شناخت شدہ حصوں میں آلودگی کو کم کرنے کے لیے مالی اور تکنیکی مدد فراہم کرکے ریاستوں/مرکز کے زیر انتظام علاقوں کی کوششوں کو پورا کرتی ہے۔
  • بھارت نے رامسر کنونشن کے فریم ورک کے اندر بین الاقوامی اہمیت کی آبی زمینوں کی فہرست (جسے رامسر سائٹس بھی کہا جاتا ہے) میں دس ویٹ لینڈز کا اضافہ کیا، جس سے بھارت میں رامسر سائٹس کی کل تعداد ناقابل یقین حد تک 75 ہو گئی، جو اگست 2022 تک ایشیا میں سب سے زیادہ ہے۔
  • حکومت نے سنگل یوز پلاسٹک کے خاتمے کے لیے ایک واضح قدم اٹھایا ہے۔ یکم جولائی 2022 سے شناخت شدہ سنگل یوز پلاسٹک آئٹمز پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔
  • ہندوستان کا صحرائی اور زمینی انحطاط اٹلس، جو اسپیس ایپلی کیشن سینٹر (ایس اے سی) انڈین اسپیس ریسرچ آرگنائزیشن، احمد آباد کے ذریعہ شائع کیا گیا ہے، ہندوستان میں زمین کے انحطاط اور صحرائی ہونے کی حد بتاتا ہے اور بتاتا ہے کہ ملک میں زمینی انحطاط اور صحرائی ہونے کا تخمین ہ19-2018  میں 97.84 ملین ہیکٹرس لگایا گیا ۔ یہ انحطاط شدہ زمین کا ریاستی رقبہ فراہم کرتا ہے جو اہم ڈیٹا اور تکنیکی معلومات فراہم کرکے زمین کی بحالی کے مقصد سے اسکیموں کی منصوبہ بندی اور نفاذ میں مددگار ہے۔
  • وزارت نے سرکلر اکانومی کا کام شروع کر دیا ہے۔ کچرے کی مختلف اقسام کے لیے سرکلر اکانومی (سی ای) کے ایکشن پلان کی ترقی کے لیے تشکیل دی گئی 11 کمیٹیوں نے کچرے کی 10 کیٹیگریز کے لیے سی ای ایکشن پلان کو حتمی شکل دے دی ہے۔ ای پی آر قوانین کو 4 قسموں کے فضلے کے لیے مشتہر کیا گیا ہےالف) پلاسٹک کا فضلہ،ب)ویسٹ ٹائر، ج) بیٹریاں، اور ای ویسٹ۔

قومی جنگلات کی پالیسی (این ایف پی)، 1988 کے مطابق جس میں قومی ہدف کا تصور کیا گیا ہے کہ کم از کم ایک تہائی رقبہ جنگلات کے تحت یا درختوں کے احاطے کے تحت اور ملک کے چھوٹی پہاڑی اوربڑی پہاڑی والے علاقوں میں اس احاطے کے تحت دو تہائی کارقبہ ہو، ماحولیات، جنگلات اور موسمیاتی تبدیلی کی وزارت (ایم او ای ایف سی سی) اور دیگر وزارتوں کی طرف سے نافذ شجرکاری سے متعلق مختلف اسکیموں کا مقصد درخت لگانے کو فروغ دینا ہے۔ ایم او ای ایف سی سی مرکزی اسپانسر شدہ اسکیموں جیسے نیشنل مشن فار گرین انڈیا (جی آئی ایم) ، نگر ون یوجنا، کمپنسیٹری جنگل بانی فنڈ انتظام اور پلاننگ اتھارٹی (سی اے ایم پی اے وغیرہ) کے تحت  مختلف شجرکاری/درخت لگانے کی سرگرمیوں کو انجام دینے کے لیے ریاستوں/مرکز کے زیر انتظام علاقوں کی حمایت کرتا ہے۔ ریاست/ مرکز کے زیر انتظام علاقے ریاست/ مرکز کے زیر انتظام منصوبے، ‘منریگا’ وغیرہ کے تحت درخت لگانے کی سرگرمیوں کو فروغ دینے والی مختلف اسکیمیں بھی نافذ کرتے ہیں۔

مزید برآں ہندوستان میں جنگلات سے باہر اشجار (ٹی او ایف آئی) پروگرام کو ایم او ای ایف سی سی، حکومت ہند اور امریکی ایجنسی برائے بین الاقوامی ترقی(یو ایس اے آئی ڈی) نے سات ریاستوں بشمول آندھرا پردیش، آسام، ہریانہ، اڈیشہ، راجستھان، تامل ناڈو، اور اتر پردیش  میں نافذ کرنے کے لیے پانچ سال کی مدت کے لیے 25 ملین ڈالرکے اخراجات کے ساتھ شروع کیا ہے۔  اس پروگرام کا مقصد ماحولیاتی نظام کی خدمات کی بہتر فراہمی کے لیے جنگلات (ٹی او ایف) سے باہر درخت لگانے کو وسعت دینا ہے، خاص طور پر کاربن کی ضبطی، اور دیہی آبادی کے لیے جامع معاش اور معاشی مواقع میں اضافہ کرنا ہے۔

یہ معلومات ماحولیات، جنگلات اور موسمیاتی تبدیلی کے مرکزی وزیر مملکت جناب اشونی کمار چوبے نے آج راجیہ سبھا میں ایک تحریری جواب میں دیں۔

********

 

ش ح۔   ا ک۔ ج ا

U. No.964



(Release ID: 1976697) Visitor Counter : 141


Read this release in: English