الیکٹرانکس اور اطلاعات تکنالوجی کی وزارت

وزیر راجیو چندر شیکھر نے بدھ کو برطانیہ میں ’اے آئی سیفٹی سمٹ  2023‘ کے پہلے مکمل اجلاس سے خطاب کیا


وزیر موصوف نے کہا کہ ٹیکنالوجی کےمستقبل پر صرف ایک یا دو ممالک کا  اجارہ نہیں  ہونا چاہیے بلکہ  اس میں قوموں کے اتحاد حصہ  ہو: راجیو چندر شیکھر

’’ہم نے سیکھا ہے کہ جدت طرازی کو ضابطے سے آگے بڑھنے کی اجازت دے کر، ہم اپنے لیے عناد اور غلط معلومات کا دروازہ کھولتے ہیں‘‘: وزیر مملکت راجیو چندر شیکھر

’’ہم چاہتے ہیں کہ مصنوعی ذہانت اور ٹیکنالوجی اچھائی، حفاظت اور اعتماد کی نمائندگی کریں‘‘: راجیو چندر شیکھر

راجیو چندر شیکھر نے کہا کہ مصنوعی ذہانت کا استعمال ہمارے تمام شہریوں کی ترقی اور خوشحالی کے لیے صرف بھلائی کے لیے کیا جانا چاہیے

Posted On: 01 NOV 2023 6:55PM by PIB Delhi

برطانیہ  کے بکنگھم شائر کے بلیچلے پارک میں ’’اے آئی سیفٹی سمٹ 2023‘‘ کے پہلے دن ہنرمدنی کی ترقی، صنعت اور الیکٹرانکس اور اطلاعاتی ٹکنالوجی کے مرکزی وزیر مملکت برائے جناب راجیو چندر شیکھر نے افتتاحی مکمل اجلاس سے خطاب کیا۔ انھوں نے مصنوعی ذہانت پر بھارت کے نقطہ نظر پر زور دیا اور حفاظت ، اعتماد اور احتساب پر مضبوط توجہ کے ساتھ مصنوعی ذہانت کے لیے ہمارے ملک کے عزم پر زور دیا۔

’’ہمیں یقین ہے کہ اس طرح کے بین الاقوامی تعاون انتہائی اہم ہیں، کیونکہ ہم ایک ایسے دور میں ٹیکنالوجی کے مستقبل کی تشکیل میں آگے بڑھ رہے ہیں جہاں یہ بنی نوع انسان کے لیے کچھ دلچسپ مواقع پیش کر رہا ہے۔ ہمارے وزیر اعظم جناب نریندر مودی کئی سالوں سے اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ ٹکنالوجی کا مستقبل، چاہے اس میں جدت طرازی، شراکت داری، یا تمام انسانیت کے فائدے کے لیے ٹکنالوجی اور جدت طرازی کو ریگولیٹ کرنے کے لیے ادارہ جاتی فریم ورک شامل ہو، صرف ایک یا دو ممالک کے بجائے قوموں کے اتحاد کے ذریعہ چلایا جانا چاہیے۔ ان کا ماننا ہے کہ ادارہ جاتی فریم ورک کو اسٹریٹجک وضاحت کے ساتھ کم واقعاتی اور زیادہ پائیدار ہونا چاہیے۔‘‘

جناب راجیو چندر شیکھر نے اپنے بین الاقوامی ہم منصبوں کو آگاہ کیا کہ بھارت نے وزیر اعظم مودی کی قیادت میں ٹکنالوجی کو مؤثر طریقے سے اپنایا ہے ، جس سے ملک کو ایک پھلتی پھولتی ڈیجیٹل معیشت میں آگے بڑھایا گیا ہے ، اس کے شہریوں کی زندگیوں کو تبدیل کیا گیا ہے۔ انھوں نے اس بات پر زور دیا کہ اس تبدیلی نے زبردست مواقع پیدا کیے ہیں اور مصنوعی ذہانت کے ذریعے ایسا کرتے رہیں گے۔

انھوں نے کہا کہ مصنوعی ذہانت، جیسا کہ ہم اسے دیکھتے ہیں، بھارت کی پہلے سے ہی تیز رفتار اور پھیلتی ہوئی ڈیجیٹل معیشت، ترقی اور حکمرانی کی ایک متحرک معاون ہے۔ مصنوعی ذہانت ہمارے لیے بڑے مواقع کی نمائندگی کرتی ہے ، اور ہمارے ذہن اس بات پر واضح ہیں کہ مصنوعی ذہانت یا کسی بھی ابھرتی ہوئی ٹکنالوجی سے وابستہ کسی بھی ممکنہ منفی پہلو کو کم کرنے کے لیے کیا کرنے کی ضرورت ہے۔ ہم مصنوعی ذہانت کو کھلے پن، حفاظت، اعتماد اور احتساب کے نقطہ نظر سے دیکھتے ہیں۔ ایک حکومت کی حیثیت سے، ہم نے سیکھا ہے کہ جدت طرازی کو ضابطے سے آگے بڑھنے کی اجازت دے کر، ہم آج انٹرنیٹ پر سوشل میڈیا کے ذریعہ پیش کردہ نفرت و عناد اور غلط معلومات کے دروازے کھولتے ہیں۔ یہ واضح ہے کہ یہ وہ راستہ نہیں ہے جسے ہمیں آنے والے سالوں کے لیے مصنوعی ذہانت کے لحاظ سے چارٹ کرنا چاہیے۔ وزیر موصوف نے مزید کہا کہ تمام ممالک میں ہمارے تمام شہریوں کی ترقی اور خوشحالی کے لیے مصنوعی ذہانت کا استعمال صرف بھلائی کے لیے کیا جانا چاہیے ۔

’’اے آئی سیفٹی سمٹ 2023‘‘ میں دنیا بھر سے نمائندوں کو جمع کیا گیا ہے، جن میں حکومتیں، معروف اے آئی کارپوریشنز، سول سوسائٹی تنظیمیں اور تحقیقی ماہرین شامل ہیں۔ اس کے مقاصد مصنوعی ذہانت سے وابستہ خطرات پر غور و خوض کرنا، خاص طور پر اس کی ترقی کے جدید ترین دور میں اور عالمی سطح پر مربوط کوششوں کے ذریعے ان کے خاتمے کے لیے حکمت عملی تلاش کرنا ہے۔

اس دو روزہ سربراہی اجلاس میں برطانیہ، امریکہ، آسٹریلیا، کینیڈا، فرانس، جرمنی، انڈونیشیا، آئرلینڈ، اٹلی، کینیا، سعودی عرب، نیدرلینڈز، جنوبی کوریا سمیت مختلف ممالک کے وزراء اور نمائندے شریک ہوئے ہیں۔

***

(ش ح – ع ا – ع ر)

U. No. 573



(Release ID: 1973933) Visitor Counter : 66


Read this release in: English , Hindi