کارپوریٹ امور کی وزارتت

بھارت کے نا دہندگی اور دیوالیے پن سے متعلق بورڈ ( آئی بی بی آئی ) نے اپنا ساتواں سالانہ دن منایا


جسٹس جناب اشوک بھوشن  نے بروقت اعتراف اور معاملے کو نمٹانے کے عمل میں ٹیکنالوجی کے استعمال کی حمایت  کی

بہتر اور تیز نتائج حاصل کرنے کے لیے کارروائی میں اے آئی کا استعمال کریں: چیف جسٹس (ریٹائرڈ) جناب راملنگم سدھاکر

مالی سال 23-2022 ء میں آئی بی سی کے نفاذ کے بعد سے سب سے زیادہ معاملے نمٹائے گئے ، جن  میں 186 کارپوریٹ قرض دہندگان (سی ڈی) کے معاملے شامل ہیں: ایم سی اے سکریٹری

گزشتہ   سات  سال میں آئی بی سی  نے تین لاکھ کروڑ کی وصولی کی : آئی بی بی آئی چیئرپرسن

آئی بی بی آئی  نے  ، اس موقع پر دو اشاعتیں  ’’ آئی بی سی : ارتقاء ، آموزش اور اختراع ‘‘ نیز ’’ نو درِشٹی اور آئی بی سی کے بارے میں ابھرتے ہوئے خیالات ‘‘  بھی جاری کیں

Posted On: 01 OCT 2023 4:32PM by PIB Delhi

بھارت کے نا دہندگی اور دیوالیہ پن سے متعلق بورڈ ( آئی بی بی آئی )  نے آج اپنا ساتواں سالانہ دن منایا  ، جس میں نیشنل کمپنی لاء اپیل ٹرائبیونل  کے چیئرپرسن جسٹس جناب اشوک بھوشن نے بطور مہمان خصوصی اس  موقع پر تقریب کی صدارت کی۔

اپنے کلیدی خطاب میں، جسٹس جناب اشوک بھوشن نے نا دہندگی اور دیوالیہ پن کوڈ کے استعمال  اور اس کے دور رس اثرات مرتب ہونے کے بعد بھارت کے کارپوریٹ دیوالیہ پن  میں یکسر تبدیلی کے سفر کو  اجاگر کیا ۔ انہوں نے اس بات پر روشنی ڈالی کہ آئی بی سی  ایک یکسر تبدیلی لانے والا قانون ہے اور جس رفتار سے آئی بی بی آئی  نے پورا ماحولیاتی نظام  تیار کیا   ہے ، وہ حیران کن ہے۔ جسٹس بھوشن نے  آئی بی بی آئی  کو ایک فعال ضابطہ کار ہونے پر مبارکباد دی  ، جو  متعلقہ فریقین کے ساتھ بات چیت کے ذریعے مسلسل سیکھنے کے عمل میں ہے اور  آئی بی بی آئی  کو بہتر اور پالیسی فیصلے کرنے میں مدد کے لیے دیوالیہ پن کے قانون میں تحقیق کی حوصلہ افزائی کرنے کی کوششوں کی  ستائش کی ۔ جسٹس بھوشن نے پیچیدہ  ضابطہ کار نظام شروع کرنے کے لیے آئی بی بی آئی کی ستائش کی  ، جو ملک کے وسیع تر معاشی بیانیے کے ساتھ  بھر پور مطابقت رکھتی ہے اور  تمام  متعلقہ فریقوں کی جانب سے ماحولیاتی نظام میں مسلسل جدت طرازی اور فعال وکالت کے ذریعے  ، صلاحیت کی تعمیر کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے بروقت اعتراف اور  معاملا کو نمٹانے کے عمل میں ٹیکنالوجی کے استعمال  کو بھی  اجاگر کیا ۔

سالانہ دن پر لیکچر دیتے ہوئے، چیف جسٹس (ریٹائرڈ) جناب راملنگم سدھاکر نے 7 سال کے مختصر عرصے میں آئی بی سی  کی قابل ذکر کامیابیوں کے لیے  آئی بی بی آئی  کی  ستائش کی۔ انہوں نے نئی دلّی میں  19 اور  20 نومبر  ، 2022ء کو آئی بی سی ایکو سسٹم کے کام اور مضبوطی کے موضوع پر آئی بی سی کی دفعات کا جائزہ لینے کی مشق کے انعقاد میں حکومت اور آئی بی بی آئی کی کوششوں کی تعریف کی۔ چیف جسٹس (ریٹائرڈ) سدھاکر نے  ، خاص طور پر کہا کہ کالوکیم  کی طرف سے کی گئی سفارشات حکومت کے زیر غور ہیں۔ انہوں نے اپنے حالیہ ٹوکیو دورے  میں ، اپنی بات چیت پر بھی روشنی ڈالی، جس میں، آئی آئی ایم احمد آباد (آئی آئی ایم اے) کی رپورٹ جو  فرموں پر قرارداد کے عمل کی  نوعیت کو سمجھنے کے لیے ایک مطالعہ ہے  ، جس میں قرارداد کے عمل سے پہلے اور بعد میں فرموں کی کارکردگی کا تجزیہ کیا گیا ہے۔ یہ سمجھنے کے لیے کہ آیا  کمپنیاں مارکیٹ میں  قدم جمانے میں کامیاب رہی ہیں، پیشہ ور افراد نے اس پر تبادلہ ٔخیال کیا اور ان کی  ستائش کی۔ انہوں نے کارروائی میں   مصنوعی ذہانت ( اے آئی ) کے استعمال پر زور دیا تاکہ بہتر اور  جلد نتائج حاصل کیے جا سکیں۔

اس موقع پر اظہارِ خیال کرتے ہوئے، کارپوریٹ امور کی وزارت  ( ایم سی اے ) کے سکریٹری، ڈاکٹر منوج گوول نے  اعتراف کیا کہ آئی بی سی  کے نفاذ کے بعد سے  ، سب سے زیادہ قراردادیں سال 23-2022 ء  میں  پیش کی گئی ہیں ،  جن میں 186 کارپوریٹ قرض دہندگان  ( سی ڈیز ) کے معاملات کو   نمٹایا گیا۔ انہوں نے   کہا کہ  آئی بی بی آئی کے قیام سے دیوالیہ پن کی کارروائیوں میں مہارت  پیدا ہوئی ہے اور کارکردگی    میں بہتری آئی ہے۔ انہوں نے آئی بی بی آئی  کو دیوالیہ پن کی جگہ پر فعال اور متحرک  ضابطہ جاتی اقدامات کے ذریعے  ، چیلنجوں کا کامیابی سے مقابلہ کرنے کے لیے سات سال پورے ہونے  پر مبارکباد دی۔ انہوں نے  آئی بی بی آئی  کو ضابطہ جاتی تبدیلیوں پر  متعلقہ فریقین کے ساتھ مؤثر طریقے سے شامل ہونے اور فیصلہ سازی میں شفافیت برقرار رکھنے  نیز معلومات کی ترسیل کو یقینی بنانے کے لیے   سر فہرست رہنے پر سراہا ۔

آئی بی بی آئی کے چیئرپرسن جناب روی متل نے استقبالیہ خطبہ پیش کرتے ہوئے  ، آئی بی سی کے پچھلے سات سال کے سفر کے دوران حاصل کردہ کامیابیوں کا ذکر کیا۔ انہوں نے  ، خاص طور پر کہا کہ آئی بی سی نے تین لاکھ کروڑ  روپے کی وصولی   کی ہے  ، جو قرض دہندگان کو مارکیٹ میں کئی گنا زیادہ قرض  حاصل کرنے کے قابل بناتی ہے۔ انہوں نے آئی آئی ایم احمد آباد کی رپورٹ میں تجزیہ پر مزید روشنی ڈالی کہ آئی بی سی کے تحت نمٹائے گئے معاملات کے نتیجے میں کمپنیوں کی آئی بی سی مارکیٹ کیپٹلائزیشن دو لاکھ کروڑ سے بڑھ کر چھ لاکھ کروڑ ہوگئی ہے۔ انہوں نے آئی پیز کی حوصلہ افزائی کی کہ وہ کارپوریٹ قرض دہندگان کے لیے  داخل کی گئی درخواستوں کو فوری طور پر نمٹانے کے لیے  ،  اس سے متعلق اتھارٹی کو حکم جاری کرنے کے عمل میں  تیزی لائیں۔ انہوں نے تمام  متعلقہ فریقین کا گزشتہ سات سال میں  آئی بی سی  کے متاثر کن سفر میں تعاون کرنے پر شکریہ ادا کیا۔

سالانہ دن کی تقریبات کے ایک حصے کے طور پر، آئی بی بی آئی  نے سالانہ اشاعت ’’ آئی بی سی : ارتقاء ، آموزش اور اختراع ‘‘کا اجراء کیا  ۔  اس  اشاعت     میں آئی بی سی  کے مخزن پر ایک کثیر رخی منظر نامہ پیش کیا  گیا ہے ۔   آئی بی سی کے تحت  عدالتی تشریحات  ، عملی نفاذ،  ادارے ، تکنیکی بہتری، اصل  الفاظ کے  مطالعے سے سیکھنے اور اگلی نسل کی ممکنہ اصلاحات کے بارے میں ایک کثیر جہتی تناظر پیش  کیا گیا ہے۔ یہ 31 فکر انگیز مضامین کا مجموعہ ہے۔

ایک تحقیقی اشاعت،  ’’ نو درِشٹی : آئی بی سی ‘‘پر ابھرتے ہوئے  تازہ خیالات  بھی جاری کی گئی۔ یہ اشاعت نادہندگی اور دیوالیہ پن کے شعبے میں سرکردہ ماہرین تعلیم اور پریکٹیشنرز کے تحقیقی مقالوں کا ایک جامع مجموعہ ہے، جو 23 سے 25 فروری  ، 2023 ء تک  ، ان کے کیمپس میں  آئی آئی ایم بنگلور ( آئی آئی ایم بی ) کے اشتراک سے منعقدہ دوسری بین الاقوامی تحقیقی کانفرنس برائے  نا دہندگی اور دیوالیہ پن میں پیش کی گئی تھی۔

آئی بی بی آئی کا ساتواں سالانہ دن گزشتہ برسوں میں نا دہندگی اور دیوالیہ پن کے شعبے میں کی گئی کامیابیوں اور شراکت پر غور کرنے کا ایک موقع تھا۔ اس تقریب  میں بڑی تعداد میں معززین اور دیوالیہ نظام کے متعلقہ فریق اکٹھا ہوئے  ، جو حکومت اور ضابطہ کار اداروں کے افسران، دیوالیہ  پن سے متعلق پیشہ  ور  ایجنسیاں اور رجسٹرڈ  تخمینہ کار تنظیمیں، دیوالیے پن سے متعلق  پیشہ  ور افراد، رجسٹرڈ  تخمینہ کار ، دیگر پیشہ ور افراد، قرض  لینے  اور دینے والے  افراد ،  سرکردہ تاجر اور ماہرین  تعلیم  تھے ۔ تقریب کاآن لائن لائیو ٹیلی کاسٹ بھی  کیا گیا ۔

جناب سدھاکر شکلا، کل وقتی  رکن ، آئی بی بی آئی نے تقریب کے اختتام پر شکریہ کا اظہار کیا۔ اس موقع پر آئی بی بی آئی کے کل وقتی  رکن جناب جینتی پرساد بھی موجود تھے۔

*************

ش ح۔ا س ۔  ع ا

U. No. 10970



(Release ID: 1968858) Visitor Counter : 63


Read this release in: English , Hindi , Telugu