کامرس اور صنعت کی وزارتہ

بھارت کو مینوفیکچرنگ، ڈیزائن اورجدت طرازی  کا مرکز بنانے کے لیے میک ان انڈیا پہل


میک اِن انڈیا کی وجہ سے 2014-2022 کے درمیان مینوفیکچرنگ سیکٹر میں ایف ڈی آئی (غیرملکی براہ راست سرمایہ کاری) ایکویٹی کی آمد پچھلے 8 سالوں، 2006-2014 کے مقابلے میں 57 فیصد بڑھ گئی

Posted On: 09 AUG 2023 7:25PM by PIB Delhi

کامرس اور صنعت کے مرکزی وزیر مملکت جناب سوم پرکاش نے آج لوک سبھا میں ایک تحریری جواب میں بتایا کہ میک ان انڈیا پہل 25 ستمبر 2014 کو شروع کی گئی تھی، جس کا مقصد سرمایہ کاری میں سہولت فراہم کرنا، اختراع کو فروغ دینا، کلاس انفرااسٹرکچر میں بہترین تعمیر کرنا اور ہندوستان کو مینوفیکچرنگ، ڈیزائن اور اختراع اور جدت طرازی  کا مرکز بنانا ہے۔ ایک مضبوط مینوفیکچرنگ سیکٹر کی ترقی، ہندوستانی حکومت کی ایک اہم ترجیح ہے۔ اپنے آغاز کے بعد سے، میک ان انڈیا پہل نے اہم کامیابیاں حاصل کی ہیں اور فی الحال میک ان انڈیا 2.0 کے تحت 27 شعبوں پر توجہ مرکوز کی گئی ہے، جسے تمل ناڈو سمیت ، مرکزی حکومت اور ریاستی حکومتوں کی مختلف وزارتوں/محکموں میں نافذ کیا جاتا ہے۔

حکومت نے معاشی صورتحال کو بہتر بنانے اور کووڈ- 19 کی وجہ سے پیدا ہونے والی رخنہ اندازی اور روکاوٹ کو ترقی کے مواقع میں تبدیل کرنے کے لیے متعدد پالیسی اقدامات کیے ہیں۔ ان میں آتم نربھر بھارت پیکجز، چودہ (14) شعبوں میں  پیداوار سے منسلک ترغیبی  اسکیم (پی ایل آئی) اسکیم کاآغاز، نیشنل انفرااسٹرکچر پائپ لائن (این آئی پی) اور نیشنل منیٹائزیشن پائپ لائن (این پی ایم) کے تحت سرمایہ کاری کے مواقع، انڈیا انڈسٹریل لینڈ بینک (آئی آئی ایل بی)، صنعتی پارک کی درجہ بندی کا نظام (آئی پی آر ایس)، نیشنل سنگل ونڈو سسٹم (این ایس ڈبلیو ایس) کا سافٹ لانچ وغیرہ شامل ہیں۔  تمام متعلقہ وزارتوں/محکموں میں پروجیکٹ ڈیولپمنٹ سیلز (پی ڈی سیز) کی شکل میں سرمایہ کاری میں اضافہ کرنے کے لیے ایک ادارہ جاتی طریقہ کار وضع کیا گیا ہے۔ حکومت ہند کے مندرجہ بالا تمام اقدامات/ اسکیموں کو مختلف وزارتوں/ محکموں، مرکزی حکومت، ریاستی حکومتوں بشمول تمل ناڈو میں نافذ کیا جاتا ہے۔

مختلف محکموں اور وزارتوں کی جاری اسکیموں کے علاوہ، حکومت نے ہندوستان میں ملکی اور غیر ملکی سرمایہ کاری کو بڑھانے کے لیے مختلف اقدامات کیے ہیں۔ ان میں  اشیا اور خدمات ٹیکس (جی ایس ٹی) کا آغاز، کارپوریٹ ٹیکس میں کمی، کاروبار کرنے میں آسانی کو بہتر بنانا،  غیرملکی براہ راست سرمایہ کاری (ایف ڈی آئی )پالیسی میں اصلاحات اور عمل آوری کے بوجھ میں کمی کے اقدامات، سرکاری خرید کے آرڈرز کے ذریعے گھریلو مینوفیکچرنگ کو فروغ دینے کے اقدامات، مینوفیکچرنگ سے متعلق مرحلے وار  پروگرام (پی ایم پی) اور پی سی اوز (کوالٹی کنٹرول آرڈرز) شامل ہیں۔

ہندوستان کی مینوفیکچرنگ  کی صلاحیتوں اور برآمدات کو بڑھانے کے لیے 14 اہم شعبوں کے لیے پیداوار سے منسلک ترغیبی اسکیم (پی ایل آئی) اسکیمیں (1.97 لاکھ کروڑ روپے کے ترغیبی اخراجات کے ساتھ) نافذ العمل ہیں۔ پی ایل آئی اسکیموں کے اعلان کے ساتھ اگلے پانچ سالوں میں پیداوار، ہنرمندی، روزگار، اقتصادی ترقی اور برآمدات میں نمایاں بہتری متوقع ہے۔ تامل ناڈو سمیت 14 شعبوں میں اب تک ملک بھر میں 733 درخواستوں کو منظوری دی گئی ہے۔

ایک ضلع ایک مصنوعات (او ڈی او پی) ایک پہل قدمی ہے، جس کا مقصد ملک کے تمام اضلاع میں متوازن علاقائی ترقی کو فروغ دینا ہے۔ اس اقدام کا مقصد ملک کے ہر ضلع (ایک ضلع- ایک پروڈکٹ) سے کم از کم ایک پروڈکٹ کو فروغ دینا ہے، تاکہ تمام خطوں میں مجموعی سماجی و اقتصادی ترقی کو ممکن بنایا جا سکے۔ او ڈی او پی پہل نے ملک کے تمام 761 اضلاع سے ٹیکسٹائل، زراعت، خوراک کی ڈبہ بندی، دستکاری جیسے شعبوں سے 1000 سے زیادہ مصنوعات کی نشاندہی کی ہے۔ او ڈی او پی پہل کے تحت شناخت شدہ مصنوعات کی ریاست وار/ضلع وار فہرست، بشمول تمل ناڈو کے مختلف اضلاع کے پروڈکٹس درج ذیل لنک پر دستیاب ہیں: -

(https://static.investindia.gov.in/s3fs-public/2023-06/20230609_ODOP%20Product%20List.pdf)

میک ان انڈیا پہل قدمی کی وجہ سے، 2014-2022 کے درمیان مینوفیکچرنگ سیکٹر میں غیرملکی براہ راست سرمایہ کاری(ایف ڈی آئی) ایکویٹی کی آمد میں، پچھلے 8 سالوں یعنی 2006-2014 کے مقابلے میں، 57فیصد کا اضافہ ہوا ہے۔

میک ان انڈیا پہل کے تحت سرگرمیاں، مرکزی حکومت کی متعدد وزارتوں/محکموں اور مختلف ریاستی حکومتوں کے ذریعے بھی  انجام دی جا رہی ہیں۔ وزارتیں ان شعبوں  سے نمٹنے کی غرض سے عملی منصوبہ، پروگرام، اسکیمیں اور پالیسیاں وضع کرتی ہیں ، جب کہ ریاستوں کے پاس بھی سرمایہ کاری کو راغب کرنے کے لیے اپنی اسکیمیں ہیں۔

*************

ش ح ۔ ع م۔  ت ع

U. No.8180



(Release ID: 1947341) Visitor Counter : 101


Read this release in: English