صدر جمہوریہ کا سکریٹریٹ
صدر جمہوریہ ہند نے، اڑیسہ کی عدالت عالیہ کی 75ویں سال کی تقریبات کے اختتامی اجلاس میں شرکت کی
قانونی پیشہ ور افراد کو فوری ٹرائل اور فوری انصاف کے لیے کام کرنا چاہیے: صدر مرمو
प्रविष्टि तिथि:
26 JUL 2023 2:22PM by PIB Delhi
صدر جمہوریہ ہند محترمہ دروپدی مرمو نے آج (26 جولائی 2023) کو کٹک میں اڑیسہ ہائی کورٹ کی 75 ویں سالگرہ کی تقریبات کے اختتامی اجلاس سے خطاب کیا۔
صدر جمہوریہ ہند نے اپنے خطاب کا آغاز کارگل جنگ میں اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرنے والے بہادر سپاہیوں کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ اوڈیشہ کے بہت سے فوجی ان لوگوں میں شامل ہیں، جنہوں نے مادر ہند کی خدمت میں اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔ میجر پدمپانی آچاریہ کو ان کی حصہ داری کے لیے مہا ویر چکر سے نوازا گیا۔ انہوں نے کہا کہ ان فوجیوں کی بہادری ہمارے شہریوں کے لیے ہمیشہ مشعل راہ رہے گی۔
اڑیسہ ہائی کورٹ کی 75 ویں سال کی تقریبات کے بارے میں بات کرتے ہوئے صدر جمہوریہ ہند نے کہا کہ اڑیسہ کی ہائی کورٹ نے اپنے 75 سال کے شاندار سفر میں کئی اعلیٰ معیارات قائم کیے ہیں۔ اس ہائی کورٹ کے نامور ججوں میں بابو جگناتھ داس، رنگناتھ مشرا، رادھا چرن پٹنائک، دیبا پریہ موہاپاترا، گوپال بلو پٹنائک، ارجیت پاسائت، اننگا کمار پٹنائک اور دیپک مشرا جیسے ججوں کی ایک لمبی فہرست شامل ہے، جو سپریم کورٹ کے جج بنے اور ان میں سے کچھ نے ہندوستان کے چیف جسٹس کے طور پر بھی خدمات انجام دیں۔ انہوں نے کہا کہ اس عدالت کی ساکھ کے پیچھے اس ہائی کورٹ کے ماضی اور حال کے چیف جسٹسز، ججز، ایڈووکیٹ اور عملہ کا تعاون، وفاداری، کام کے تئیں لگن اور بہت زیادہ علم ہے۔
صدر جمہوریہ ہند نے کہا کہ جو ادارہ وقت کی تبدیلی کے ساتھ نہیں بدلتا ، وہ پیچھے رہ جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اڑیسہ کی ہائی کورٹ نے انصاف کی فراہمی کے نظام میں تکنیکی ترقی کو شامل کرنے کی کوشش کی ہے۔ انہوں نے کئی جدید، اختراعی اور ٹیکنالوجی پر مبنی تبدیلیوں کے ذریعے انصاف کی فراہمی کے نظام کو ہموار اور تیز کرنے کے لیے ہائی کورٹ آف اڑیسہ کی تعریف کی۔
صدر جمہوریہ ہند نے کہا کہ ہندوستان میں قانونی پیشے نے شہریوں کا اعتماد اور احترام حاصل کیا ہے۔ یہ دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کے اہم ستونوں میں سے ایک کے طور پر مضبوط ہے۔ انہوں نے قانونی ماہرین سے اپیل کی کہ وہ جلد از جلد ٹرائل اور فوری انصاف کے لیے کام کریں۔ انہوں نے کہا کہ یہ ان بے گناہوں کو رہا کر سکتا ہے، جو معمولی الزامات میں جیل میں بند ہیں۔
صدر جمہوریہ ہند نے کہا کہ ایسے واقعات موجود ہیں کہ لوگوں کو ان جرائم کی سزا سے زیادہ مدت تک قید میں رکھا گیا ہے، جن میں وہ ملزم تھے۔ جس کی وجہ سے بے گناہ لوگ اپنی زندگی کے اہم دور سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں۔ دوسری طرف، متاثرین بھی مجرموں کو قانونی نتائج کا سامنا نہ کرنے کی امید کھو دیتے ہیں۔ اس طرح کی تاخیر ایک بڑی تشویش ہے۔ انہوں نے اڑیسہ کے ہائی کورٹ سے وابستہ تمام لوگوں سے اپیل کی کہ وہ انصاف کی جلد فراہمی کے لیے کام کریں اور پورے ملک کے لیے ایک مثال قائم کریں۔
صدر جمہوریہ ہند نے کہا کہ ہمارے آئین سازوں نے معاشرے کے سماجی اور معاشی طور پر پسماندہ طبقات کو انصاف کی فراہمی کو ترجیح دی ہے۔ معاشرے کے محروم طبقات کے لوگوں کے پاس نہ تو زیادہ علم ہے اور نہ ہی انصاف تک رسائی کے لیے وسائل ہیں۔ اس لیے یہ ہمارے سامنے ایک سوال ہے کہ ’’انہیں انصاف کیسے ملے گا؟‘‘ اس سوال پر گہرے غور و خوض کی ضرورت ہے۔
صدر جمہوریہ ہند نے کہا کہ قدرتی آفات انسانیت کے لیے ایک چیلنج ہیں۔ فطرت سے ہم آہنگی وقت کی اہم ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ منتظمہ اور مقننہ کے ساتھ ساتھ عدلیہ کو بھی ماحولیات اور جنگلی حیات کے تحفظ کو اولین ترجیح دینی چاہیے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(ش ح- ا ک- ق ر)
U-7538
(रिलीज़ आईडी: 1942783)
आगंतुक पटल : 162