قانون اور انصاف کی وزارت
ڈیجیٹائز ڈ ریکارڈ آن لائن دستیابی کے لئے محکمہ انصاف کی طرف سے اقدامات
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
23 MAR 2023 4:25PM by PIB Delhi
قانون اور انصاف کے مرکزی وزیر جناب کرن رجیجو نے آج راجیہ سبھا میں ایک تحریری جواب میں بتایا کہ ڈیجیٹائزیشن ایک انتظامی معاملہ ہے اور متعلقہ ہائی کورٹس کے دائرہ کار میں آتا ہے۔ ای - کورٹس فیز – II کے دوران، عدالتی ریکارڈ کے ڈیجیٹائزیشن کے لیے الہ آباد ہائی کورٹ کو فنڈز جاری نہیں کیے گئے تھے ، کیونکہ ڈیجیٹائزیشن ای -کورٹس پروجیکٹ کے فیز-II کے تحت شامل کئے جانے کا اہل نہیں تھا۔ تاہم، ای- کمیٹی سپریم کورٹ آف انڈیا کی طرف سے ایک ذیلی کمیٹی تشکیل دی گئی تھی، جو اسکیننگ، اسٹوریج، بازیافت، عدالتی ریکارڈ کی ڈیجیٹائزیشن اور عدلیہ کے وراثتی ڈیٹا کے تحفظ کے لیے ڈیجیٹل پریزرویشن اسٹینڈرڈ آپریٹنگ پروسیجر (ایس او پی) کی تیاری کے لیے بنائی گئی تھی۔ ایس او پی کو چیف جسٹس آف انڈیا، ڈی وائی چندر چوڑ کی سربراہی میں 21 اکتوبر 2022 کو سپریم کورٹ آف انڈیا کی ای -کمیٹی نے اپنی مکمل باڈی میٹنگ میں منظور کیا تھا۔ ایس او پی میں دی گئی تفصیلات کے مطابق، الہ آباد ہائی کورٹ نے 19,68,00,000 صفحات کو ڈیجیٹائز کیا ہے۔
ڈیجیٹائزڈ ریکارڈز کی آن لائن دستیابی کے لیے، محکمہ انصاف نے ای- کورٹس پروجیکٹ فیز II کے حصے کے طور پر درج ذیل اقدامات کیے ہیں:
- ای کورٹس فیز II کے تحت اب تک 18735 ضلعی اور ماتحت عدالتوں کو کمپیوٹرائز کیا گیا ہے۔
- کیس انفارمیشن سافٹ ویئر (سی آئی ایس) جواین آئی سی کے ذریعے فری اینڈ اوپن سورس سافٹ ویئر (ایف او ایس ایس) پر تیار کردہ ای- کورٹس کی بنیاد بناتا ہے۔
- 7 پلیٹ فارمز کے ذریعے فراہم کردہ شہریوں پر مبنی خدمات ،ایس ایم ایس پش اینڈ پل، ای -میل، ای -کورٹس سروسز پورٹل، جوڈیشل سروس سینٹرز، انفو کیوسک، ای کورٹس موبائل ایپ (31 جنوری 2023 تک کل 1.64 کروڑ ڈاؤن لوڈ) اور ججز کے لیے جسٹ آئی ایس ایپ (31 دسمبر 2022 تک 18,407 ڈاؤن لوڈز) فراہم کی گئی ہیں۔
- ای- وکالت نامہ ، ای- دستخط ، حلف کی ویڈیو ریکارڈنگ وغیرہ جیسی جدید خصوصیات کے ساتھ ای- فائلنگ سسٹم ورژن 3.0 شروع کیا گیا ہے ، جو ای- ادائیگی ماڈیول کے ساتھ مربوط ہے۔
- فیصلوں کی کاپیاں مفت فراہم کرنے کے لیے ججمنٹ سرچ پورٹل شروع کیا گیا ہے۔
- 22.38 کروڑ مقدمات کی رسائی اور 20.83 کروڑ احکامات اور فیصلوں کی اجازت دے کر این جے ڈی جی لچکدار سرچ ٹیکنالوجی تیار کی گئی ہے۔
نیشنل جوڈیشل ڈیٹا گرڈ (این جے ڈی جی)، ملک کی ہائی کورٹس اور ضلعی اور ماتحت عدالتوں سے ڈیجیٹلائزڈ کیس کے ریکارڈ کے نتیجے میں کیس کے اعداد و شمار کا ایک آن لائن ذخیرہ ہے۔ یہ ملک کی کمپیوٹرائزڈ عدالتوں کی عدالتی کارروائیوں/ فیصلوں سے متعلق معلومات فراہم کرتا ہے۔ تقریباً 3000 کورٹ کمپلیکس فائلنگ، رجسٹریشن، جانچ ، اعتراضات، مقدمات کی صورت حال، کاز لسٹ، فیصلے اور احکامات کے لائیو ڈیٹا کو حقیقی وقت کی بنیاد پر نقل کرتے ہیں۔ کیس کا ڈیٹا این جے دی جی پر دیوانی اور فوجداری دونوں مقدمات کے لیے دستیاب ہے جس میں کیس کی عمر کے ساتھ ساتھ ریاست اور ضلع کی بنیاد پر ڈرل ڈاؤن تجزیہ کرنے کی صلاحیت ہے۔ سپریم کورٹ کی ویب سائٹ پر دستیاب معلومات کے مطابق، کیس نمبر، ڈائری نمبر، فیصلے کی تاریخ، جج کا نام، فریقین، قانون کے اعتبار سے ، کانسٹی ٹیوشن بینچ اور مفت متن فیصلے کے ریکارڈ کو مندرجہ ذیل پیرامیٹرز کے ساتھ آن لائن تلاش کیا جا سکتا ہے ۔
این جے ڈی جی ایک مانیٹرنگ ٹول کے طور پر کام کرتا ہے، تاکہ مقدمات کی نشاندہی، ان کا انتظام اور ان کے زیر التواء ہونے کو کم کیا جا سکے۔ اس سے معاملات کو نمٹانے میں تاخیر کو کم کرنے کے لیے پالیسی فیصلے کرنے کے لیے بروقت معلومات فراہم کرنے میں مدد ملتی ہے اور مقدمات کے التواء کو کم کرنے میں مدد ملتی ہے۔ زمینی تنازعات سے متعلق مقدمات کا پتہ لگانے کے لیے 26 ریاستوں کے لینڈ ریکارڈ ڈیٹا کو این جے ڈی جی کے ساتھ منسلک کیا گیا ہے۔ حکومت ہند کی جانب سے اعلان کردہ نیشنل ڈیٹا شیئرنگ اینڈ ایکسیبلٹی پالیسی (این ڈی ایس اے پی) کے مطابق، مرکزی اور ریاستی حکومت کو اوپن ایپلی کیشن پروگرامنگ انٹرفیس (اے پی آئی) فراہم کیا گیا ہے تاکہ محکمہ جاتی آئی ڈی اور رسائی کلید کا استعمال کرتے ہوئے این جے ڈی جی ڈیٹا تک آسان رسائی کی اجازت دی جا سکے۔ حال ہی میں، این جے ڈی جی میں تاخیر کی وجوہات کو شامل کیا گیا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(ش ح- ح ا - ق ر)
U-7200
(ریلیز آئی ڈی: 1940920)
وزیٹر کاؤنٹر : 99