وزارت دفاع

دفاعی  فائنانس اور  اقتصادیات پر تین روزہ بین الاقوامی کانفرنس نئی دہلی میں  اختتام پذیر

Posted On: 14 APR 2023 6:56PM by PIB Delhi

دفاعی فائنانس اور  اقتصادیات  پر تین روزہ  بین الاقوامی کانفرنس (انٹرنیشنل کانفرنس آن ڈیفنس فائنانس اینڈ اکنامکس – آئی سی ڈی ایف ای - 2023) کا آج 14  اپریل  2023  کو نئی دہلی میں  اختتام ہوا۔ فضائیہ کے سربراہ  ایئر چیف مارشل  وی آر چودھری  کانفرنس کی اختتامی تقریب میں مہمان خصوصی تھے۔ مالی مشیر  (دفاعی خدمات ) محترمہ رسیکا چوبے ،  ایڈیشنل سی جی ڈی اے  جناب  ایس جی  دستی دار  اور  سینئر  جوائنٹ  سی جی ڈی ایز  محترمہ  دیویکا رگھوونشی  اور  جناب اے این داس  بھی  موجود تھے۔

وزیر دفاع   جناب راج ناتھ سنگھ نے  12  اپریل  2023  کو  اس کانفرنس کا افتتاح کیا تھا۔ وزارت دفاع  (فائنانس)  کے ذریعہ  منعقد اس کانفرنس میں  ملک اور  بیرون ملک کے  350  سے زیادہ  معروف  پالیسی  سازوں ،  ماہرین تعلیم  اور  سرکاری  افسران  نے  شرکت کی۔ ریاستہائے  متحدہ امریکہ، برطانیہ ، جاپان  ، آسٹریلیا، سری لنکا، بنگلہ دیش اور کینیا  کے  مندوبین نے  8 کاروباری اجلاس میں  اس کانفرنس میں حصہ لیا۔

 دفاعی بجٹ  کے اسٹریٹجک ایلوکیشن، دفاع  میں  انسانی وسائل کے بندوبست کی اہمیت  اور ملک کے قومی سلامتی کے لئے  دفاعی اخراجات کی اہمیت پر  بین الاقوامی  تناظر پر  بات چیت  ہوئی۔ پینل کے  ارکان نے  دفاعی  فائنانس کے تناظر پر بھی  بات چیت کی، جس میں  دفاعی  خرید کی اہمیت  اور  وقت پر  ادائیگی سمیت  ایک  ایسا  فیس لیس  دل پروسیسنگ  اور ادائیگی  کا نظام شامل ہے، جسے  ڈیفنس اکاؤنٹ کا محکمہ اس وقت  نافذ کر رہا ہے۔

اہم مقررین  میں چیف  آف  ڈیفنس اسٹاف  جنرل انل  چوہان، بحریہ کے  سربراہ  ایڈمرل آر ہری کمار ، دفاعی سکریٹری جناب گری دھر ارمانے ، مالک سکریٹری  جناب ٹی وی سومناتھن ،  سکریٹری  (سابق فوجیوں کی بہبود) جناب وجے کمار سنگھ ، سکریٹری ، محکمہ دفاع  اور  دفاعی تحقیق و ترقی کی تنظیم (ڈی آر ڈی او)  کے چیئر مین  ڈاکٹر  سمیر وی کامت  اور  ہندوستان کے  کمپٹرولر اور  آڈیٹر جنرل  جناب گریش چندر مرمو شامل  تھے۔

‘دفاعی اسٹریٹجیز اور  اقتصادیات ’ اجلاس کے دوران  سی ڈی ایس میں  دفاعی  اخراجات  اور  اقتصادی  ترقی  میں مطابقت  پیدا کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے مسلح فورسز میں  سول ملیٹری انضمام اور  مالی ضابطے  کی  وکالت کرتے ہوئے  دفاعی بجٹ کے استعمال میں  مالی  سوجھ بوجھ کا استعمال کرنے کی درخواست کی۔

بحریہ کے سربراہ  نے  ‘دفاعی سفارت کاری ’ پر ایک اجلاس سے خطاب کیا۔  انہوں نے امرت کال کے دوران ، خاص طور سے  جی -20  کانفرنس  کی میزبانی کرنے والے   ہندوستان   اور ‘وسودھیو کٹم بکم’  کے  پیغام  کی  روشنی  میں اس کی اہمیت پر زور دیا۔ انہوں نے ہندوستان کے لئے دفاعی سفارت کاری  ( ڈیفنس ڈپلومیسی )  کی اہمیت پر زور دیا کیونکہ ملک  اب  بہت جلد  چوتھی سب سے بڑی  عالمی  معیشت  بننے کی راہ پر گامزن ہے۔

‘بین الاقوامی دفاعی حصولیابی کے امور’  سے متعلق اجلاس کے  دوران  دفاعی سکریٹری  نے اقتصادی ترقی اور  اسٹریٹجک خود مختاری  کو  فروغ دینے کے ساتھ ساتھ  ہندوستان کی نوجوان آبادی کے لئے روز گار کے مواقع پیدا کرنے میں  دفاعی شعبے  کے رول  پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے  دفاعی  حصول میں کچھ چیلنجوں پر بھی  بات کی اور  وزارت  اور  ڈیفنس اکاؤنٹ ڈپارٹمنٹ سے  زیادہ سے زیادہ  وسائل کے استعمال  کی سمت  کام کرنے  کی  درخواست کی۔ ڈی آر ڈی او  کے چیئر مین نے  پچھلے کچھ برسوں میں  دفاعی  پروڈکشن کے شعبے میں ہندوستان کی  بڑھتی ہوئی خود انحصاری پر زور دیا۔

‘‘تنخواہ  اور بھتے  اور  سابق فوجیوں کی بہبود’’  بزنس اجلاس میں  سکریٹری  ( سابق  فوجیوں کی بہبود) کے ذریعہ  کلیدی  خطبہ دیا گیا،  جنہوں نے  کیندریہ  سینک بورڈ  کے ذریعہ سابق فوجیوں کی بہبود کے لئے  ای سی ایچ ایس ،  پردھان منتری  اسکالر شپ اسکیم  ،مفلوج فوجیوں کی  باز آبادکاری کو، جنگی  یاد گار ہاسٹلز اور  دیگر  اہم  اسکیموں کی اہم خصوصیات کا ذکر کیا۔

 مالی سکریٹری نے  اپنے خطاب میں  دفاع میں  وسائل  کو زیادہ سے زیادہ  مختص کئے جانے پر  بات کی  اور اس کے  دو پہلوؤں پر زور دیا:  دفاع کے لئے  اتنا بجٹ مختص کیا جانا چاہئے  اور  مختلف  فوجوں کے  درمیان  وسائل کو  کس طرح سے تقسیم  کیا جائے  اس پر زور دیتے ہوئے  عملی بنیاد پر  غور وخوض  کر کے  فیصلہ کرنے کی ضرورت کو نمایاں  کیا ہے۔

ہندوستان کے  کمپٹرولر اینڈ آڈیٹر جنرل  نے  محدود  مالی وسائل کے ساتھ  ہندوستان کی ترقی سے متعلق  ضرورتوں کو پورا کرنے  کے چیلنجز  اور  اس کے مطابق  مختلف سرگرمیوں کو  ترجیح دینے کی ضرورت کے بارے میں بات کی۔ انہوں نے کہا کہ  آڈٹ دفاعی  بندوبست میں  جواب دہی  اور  شفافیت کو یقینی بنانے میں  اہم  رول ادا کرتا ہے اور ملک  کی سکیورٹی  کے مقاصد کو  حاصل کرنے کے لئے  درست فیصلہ کرنے میں مدد گار ہوتا ہے۔

بنگلہ دیش  کے  دفاعی فائنانس محکمے  میں  دفاعی خرید  کی  سینئر  فائنانس کنٹرولر محترمہ افروزہ  سلطانہ  صالح نے  برصغیر ہندوستان میں  محکموں  کی مشترکہ تاریخ ، دفاعی  آڈٹ  اور  فائنانس پر  بنگلہ دیش  کے  تناظر کو مشترک کیا۔ بنگلہ دیش  کے  بنگلہ دیش  انسٹی ٹیوٹ آف انٹرنیشنل اینڈ  اسٹریٹجک اسٹڈیز  (بی آئی آئی ایس ایس) کے  ڈائریکٹر جنرل  میجر جنرل  شیخ  پاشا  حبیب الدین نے  برسوں سے  مسلحہ فورسز  کے بدلتے ہوئے رول پر  تفصیل سے بات کی۔ان کے پریزنٹیشن  نے   خاص طور سے بنگلہ دیش  کے تناظر  میں  دفاعی  سفارت کاری  اور  دفاعی  سفارت کاری  اور مستقبل کے رجحانوں کے بارے میں مختلف بات چیت کا ذکر کیا۔

 ہڈسن انسٹی ٹیوٹ، ٹوکیو کے ڈاکٹر  ستورو ناگاؤ نے  دفاعی  بجٹ  کے اسٹریٹجک ایلوکیشن پر  بین الاقوامی  تناظر  میں اپنے  خیالات  کو مشترک کیا ۔ انہوں نے  دفاعی ترجیحات  کا جائزہ لینے کے لئے  تاریخ  سے سبق حاصل کرنے کی بات کی  اور زیادہ سے زیادہ وسائل  جمع کرنے  کا فیصلہ  کرنے  کی اہمیت  پر زور دیا۔

انٹرنیشنل انسٹی ٹیوٹ  فار  اسٹریٹجک اسٹڈیز  (آئی آئی  ایس ایس)، یو  کے ، کے جناب  کارل ڈیوی  کے ذریعہ ترجیحات  اور  اہداف  کی شناخت کر کے  دفاع میں  وسائل کو  مؤثر طریقے سے کیسے مختص کیا جائے،  کے موضوع پر  ایک بیرونی منظر نامہ پیش کیا گیا۔ انہوں نے ہندوستان کے دفاعی شعبے میں مختلف تبدیلیوں پر بھی بات کی اور ہندوستان کی  اسٹریٹجک اہمیت کے حامل مختلف پہلوؤں  کو نمایاں کیا۔ کارنیگی انڈیا کے  جناب سوئیش رائے نے  وسائل کی کمی  کے چیلنجز  اور وسائل کے معاملے میں  چین کے ساتھ  بڑھتے ہوئے فرق  پر  بات کی۔ انہوں نے دلیل  دی کہ ہندوستان کو  اپنی  دفاعی پالیسی  کے  رہنما اصول  کے طور پر  ‘کارگزاری کے ساتھ صلاحیت- ‘رکاوٹیں لیکن اہل ہونے’  پر عمل پیرا ہونا چاہئے۔

 کریکلم مرین گلاسگو، یو کے کے  جناب دھرو کمار  نے  ٹیکنالوجی کی منتقلی ، صنعتی  حلقوں  اور   وزارت دفاع  کی صلاحیتوں، سپلائر  کی  کارکردگی، ترغیب اور  ٹھیکے اور  پروگرام بند وبست  کے  نقطہ نظر سے متعلق  دفاعی  حصول کے عمل میں  چار  اہم چیلنجوں پر  اپنے  نظریئے کو مشترک کیا۔ دفاعی سکیورٹی  تعاون سے متعلق یونیورسٹی ،  یو ایس اے  کے  جناب  ایلن  میربام  نے  دنیا کے  سب سے قدیم  اور  سب سے بڑی جمہویت  کے طور پر  ہندوستان  اور  امریکہ  کے  درمیان  تعاون  کی اہمیت پر  روشنی ڈالی اور  امریکی  دفاعی شعبے  اور  اس کے  حصول کے عمل  پر کچھ  تفصیل مشترک کرنے کے ساتھ  ہندوستان کے لئے کچھ  ایسی  اعلیٰ روایات  کی تجویز  پیش کی، جنہیں وہ  اپناسکتا ہے۔

رینڈ (آر اے این  ڈی) انسٹی ٹیوٹ، آسٹریلیا کے جناب  اینڈیو ڈاؤس  نے  ریاستہائے متحدہ امریکہ کے  پلاننگ  ،پروگرامنگ، بجٹ اور  عمل درآمد کے نظام  کی  وضاحت کی اور  دفاعی  وسائل  کی منصوبہ بندی  کے لئے   آسٹریلیائی  نقطہ نظر کا بھی ذکر کیا۔

کینیا سے  برگیڈیئر جنرل  احمد محمد (ریٹائرڈ) نے  ایسی  تنخواہوں اور بھتوں  کی ضرورت کے بارے میں  سوال پوچھے جو کہ  برداشت کرنے کے لائق ،  انصاف پر مبنی  اور  باوقار  ہوں۔ انہوں نے  بتایا کہ ہر ملک کی  اپنی مخصوص فوجی تنخواہ اور  بھتہ ہوتا ہے ، اور یہ کہ  تنخواہ اور بھتے بنانے والے  عوامل ہر ملک کے مطابق  الگ الگ ہونے چاہئے۔  انہوں نے  کینیا ئی  تجربے  کو مشترک کیا  اور  ہندوستانی صورت حال  کے ساتھ  حقائق پر مبنی موازنہ کرتے ہوئے  پالیسی سازوں سے  فوجیوں اور شہریوں کی تنخواہ  کا موازنہ کرنے  کے لالچ  سے  گریز کرنے کی درخواست کی اور  اس بات پر زور دیا کہ  ان کی  الگ الگ مانگیں اور فرائض ہیں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ش ح۔ف ا۔ ق ر

(2023۔03۔21)

U-4184                          



(Release ID: 1917285) Visitor Counter : 99


Read this release in: English , Hindi