جل شکتی وزارت

پی ایم کے ایس وائی کے تحت 2022-2016 کے درمیان  سنچائی کے  24.35 لاکھ   ہیکٹئر رقبے  کا اضافہ  کیا گیا

Posted On: 03 APR 2023 5:04PM by PIB Delhi

مرکزی اسکیم پردھان منتری کرشی  سنچائی یوجنا پی ایم کے ایس وائی  کے  ، 2016 میں آغاز کے بعد  7 مرحلو ں کے تحت جاری 99 سنچائی کے  بڑے  / اوسط  پروجیکٹوں  پر ، جزوی طورپر مالی امدا د کے لئے کام شروع کیا گیا۔ یہ کام پی ایم کے ایس وائی   کے ذریعہ  سنچائی کے تیزی سے فائدوں  کے پروگرام (اے آئی بی پی ) کے تحت  شروع کیا گیا ہے۔یہ پروگرام  کمان کے لئے علاقے کی ترقی اور  آبی بندوبست  (سی اے ڈی  اینڈ ڈبلیو ایم ) پر مساویانہ اقدام   کے مقصد سے شروع  کیا گیا ہے۔ ان  میں  سے  50 پروجیکٹ ابھی تک مکمل  کئے جاچکے ہیں۔ بقیہ 23پروجیکٹوں   کی  90 فیصد سے  زیادہ تکمیل ہوچکی ہے جبکہ  14 پروجیکٹوں  میں  80سے  90 فیصد کے  درمیان  پیش رفت کی جاچکی ہے۔2016سے  2022 کے درمیان ، 34.64 لاکھ  ہیکٹئر  اضافی رقبے کی سنچائی    کا نشانہ مقرر کیا گیا تھا جبکہ ان پروجیکٹوں  کے ذریعہ   24.35 لاکھ ہیکٹئر اضافی رقبے کی سنچائی  کی گئی ۔

مزید یہ کہ 99 ترجیحی پروجیکٹوں کے علاوہ   دیگر  پروجیکٹو ں  کی شمولیت کو 2021 سے 2026 تک  کی  مدت کے لئے  پی ایم کے ایس وائی – اے آئی بی پی   کے عمل درآمد کے لئے منظوری دی گئی ہے ۔اس کے پیش نظر  پی ایم کے ایس وائی –اے آئی بی پی کے تحت 6 اضافی پروجیکٹوں کو شامل کیا گیا ہے ،جن میں  22-2021 کے دوران سنچائی کے   0.12 لاکھ ہیکٹئر رقبہ   بڑھایا گیا ہے۔

مذکورہ بالا پروجیکٹوں کے پیش  نظر پی ایم کے ایس  وائی  - اے آئی بی پی   کی کارکردگی   مالی مجبوریوں کی وجہ سے  کافی حد تک  مکمل کئے گئے سنچائی پروجیکٹوں کی تکمیل  میں ریاستوں  کو مدد دینے میں   تسلی بخش  رہی ہے ،جس کا مقصد کسانوں کو  سنچائی  کے فائدے فراہم کرنا ہے۔

پی ایم کے ایس  وائی   کا آغاز  16-2015 میں اس مقصدسے  کیا گیا تھا کہ کھیتوں میں  پانی کی رسائی میں باقاعدہ اضافہ  کیا جائے اور یقینی سنچائی کے تحت  قابل کاشت رقبے میں  اضافہ کیا جائے ، کھیتوں میں  پانی  کےاستعمال میں مزیدکفایت  کی جائے اور آبی تحفظ کے پائیدار طورطریقے شروع کئے جائیں ۔

2016 میں  پی ایم کے ایس  وائی   کے تحت  اے آئی بی پی کی شمولیت کے ساتھ اس پروگرام  پر عمل درآمد  میں  یکسر تبدیلی لائی گئی ۔17-2016 کے دوران   ریاستوں کے ساتھ صلاح ومشورے میں  ، جاری  99 بڑے /اوسط سنچائی پروجیکٹوں  کو  ترجیح دی گئی اور انہیں   تیزی سے مکمل کرنے کے لئے  پی ایم کے ایس  وائی  - اے آئی بی پی  کے دائرہ کار میں لایا گیا ۔ان  پروجیکٹوں  کو   کمانڈ ایریا  ڈیولپمنٹ  اور آبی بندوبست (سی اے ڈی ڈبلیو ایم ) کے کاموں  کے ساتھ  اس دائرہ کار میں لایا گیا۔ نبارڈ  کے ذریعہ   رقوم  مہیا کرنے کے نظام کو مرکزی اور ریاستی  دونوں کے حصوں کے ساتھ  حکومت نے منظوری دی تھی لہٰذا  سنچائی کے نشانزد ترجیحی پروجیکٹوں کی تکمیل کے حکت عملی تیار  کی گئی  جنہوں  ریاستوں  نے تیز رفتاری سے تیار  کیا اور جس میں  نبارڈ نے   فنڈنگ کو یقینی بنایا ۔

مزید یہ کہ  2016 سے 2021 کے درمیان جو  تجربہ حاصل کیا گیا تھا اس کی بنیاد  پر 2021 سے  2026 کے درمیان  کی مدت  میں پی ایم کے ایس  وائی  - اے آئی بی پی   پر عمل درآمد کی حکمت عملی میں جزوی  طور پرترمیم کی گئی ۔اس حکمت عملی میں   نرم روی   پر مبنی  ایک طریق کار  اور بجٹ میں دی گئی رقوم کے ذریعہ دیگر پروجیکٹوں کو  بھی شامل کیا گیا۔

نیتی آیوگ کے تحت  پیش رفت پر نظر رکھنے والے اور تخمینہ لگانے والے دفتر (ڈی ایم ای او ) نے  2015 اور 2020 کی مدت کے لئے پی ایم کے ایس  وائی   کا جائزہ لیا ۔ اے آئی بی پی کو‘  تسلی بخش’  کادرجہ دیا گیا، جو افادیت  ،استعداد ،اثر اور  مساوات  جیسے  معیارات میں اعلیٰ ترین درجہ ہے۔ مزید یہ کہ  بااثر ہونے کا درجہ  ‘اوسط ’طے کیا گیا، جودوسرا بہترین درجہ ہے  جبکہ  پروگرام کی پائیداری  کو ‘‘ بہتری کی ضرورت ہے ’’ کا درجہ دیا گیا ہے۔

حکومت ہند  پی ایم کے ایس  وائی  - اے آئی بی پی  سمیت وقتاََ فوقتاََ اپنی اسکیموں کا جائزہ لیتی ہے اور عملدرآمدکو  مزید موثر بنانے کے لئے  درکار  تبدیلیاں کرتی ہے۔اس کے علاوہ  ریاستی سرکاروں کو  پی ایم کے ایس  وائی  - اے آئی بی پی   کے تحت  سنچائی  پروجیکٹوں  پر عمل درآمد پر  نظر رکھنا ہوتی ہے ،نیز ان کے مناسب  کام کاج اور دیکھ بھال  یقینی بنانا ہوتا ہے۔اس کے علاوہ اس طرح  کے پروجیکٹوں  پر مرکزی آبی کمیشن  لگاتار قریبی نظر رکھتا ہے اور  جل شکتی کی وزارت  کے تحت   پروجیکٹ کے بندوبست سے متعلق یونٹ  ( پی ایم یو ) بھی نظر رکھتا ہے۔ان پروجیکٹو  ں   کی  پیش رفت  پر ایک مخصوص ڈیش بورڈ  بھی ایک قریبی نظررکھتا ہے،جسے   بندوبست سے متعلق معلومات کے نظام سے  مدد حاصل ہوتی ہے،جس کی دیکھ  بھال یہ وزارت کرتی ہے۔

*************

ش ح۔اس۔ رم

U-3730



(Release ID: 1913805) Visitor Counter : 101


Read this release in: English