امور صارفین، خوراک اور عوامی تقسیم کی وزارت

غیر معیاری اشیاء کے خلاف مرکز کی مداخلت کے سبب کھلونوں کی درآمدات میں 67 فیصد تک  کی کمی واقع ہوئی ہے

Posted On: 23 MAR 2023 6:02PM by PIB Delhi

حکومت نے غیر معیاری اور غیر محفوظ کھلونوں کی درآمد کو روکنے اور گھریلو کھلونوں کی صنعت کو فروغ دینے کے لیے سرگرم اقدامات کیے ہیں۔ کھلونوں کے لیے کوالٹی کنٹرول آرڈر 25 فروری 2020 کو جاری کیا گیا تھا، جس کے ذریعے کھلونوں کو بیورو آف انڈین اسٹینڈرڈز (بی آئی ایس) سے یکم جنوری 2021 سے لازمی سرٹیفیکیشن کے تحت لایا گیا ہے۔ حکم  کے مطابق، مارکیٹ میں دستیاب ہر کھلونے کو متعلقہ بھارتی معیارات یعنی انڈین اسٹینڈرڈ کے تقاضوں کے مطابق ہونا چاہیے اور بی آئی ایس (کنفارمیٹی اسیسمنٹ) ریگولیشنز، 2018 کی اسکیم-I کے مطابق بی آئی ایس کے لائسنس کے تحت معیاری نشان کا حامل ہونا چاہیے۔ مینوفیکچررز کے ساتھ ساتھ غیر ملکی مینوفیکچررز جو اپنے کھلونے بھارت برآمد کرنے کے خواہشمند ہیں، کھلونوں کے لیے کیو سی او کے نفاذ کے بعد، بی آئی ایس کے ذریعے تلاشی اور ضبط کئےجانے  کی کارروائی کی گئی اور  16 مارچ 2023 تک ملک بھر میں بڑے ہوائی اڈوں، بندرگاہوں اور شاپنگ مالز سمیت 41,106 مقدار کی تعداد میں اشیا  ضبط کی گئی۔

اب تک،بی آئی ایس نے گھریلو کھلونا مینوفیکچرنگ اکائیوں کو 1,114 لائسنس اور غیر ملکی کھلونا مینوفیکچرنگ یونٹس کو 35 لائسنس  جاری کئے ہیں۔ مصنوعات کے لیے بی آئی ایس سرٹیفیکیشن کی منظوری ایک جاری عمل ہے اور بی آئی ایس کی طرف سے مقررہ وقت کے اندر مناسب طریقہ کار پر عمل کرنے کے بعد لائسنس دیا جا رہا ہے۔

حکومت کی جانب سے  مختلف اقدامات کے نتیجے میں، ہندوستانی بازار میں کھلونوں کی درآمد کے حجم میں مسلسل کمی کا رجحان دیکھنے میں آرہا ہے۔ بھارت کو کھلونوں کی درآمد (ایچ ایس این کوڈ 9503, 9504, 9505)جو 2014-15 میں 332.55 ملین امریکی  ڈالر تھی، 2021-22 میں کم ہو کر 109.72 ملین امریکی ڈالر  ہو گئی ہے، جس میں  تقریباً 67فیصد کی کمی واقع ہوئی ہے۔

کھلونوں کے لیے کوالٹی کنٹرول آرڈر جاری کرنے کے علاوہ حکومت کی طرف سے کھلونوں کی درآمد کو کم کرنے کے لیے درج ذیل اقدامات کیے گئے ہیں:-

ہندوستانی اقدار، ثقافت اور تاریخ پر مبنی کھلونوں کی ڈیزائننگ کو فروغ دینے کے لیے حکومت نے کھلونوں کے لیے ایک جامع قومی عملی منصوبہ تشکیل دیا ہے۔جس میں  سیکھنے کے وسائل کے طور پر کھلونوں کا استعمال؛ کھلونوں کی ڈیزائننگ اور مینوفیکچرنگ کے لیے ہیکاتھون اور عظیم چیلنجز کا انعقاد؛ کھلونوں کے معیار کی نگرانی، غیر معیاری اور غیر محفوظ کھلونوں کی درآمد پر پابندی؛ دیسی کھلونا کلسٹرز کو فروغ دینا؛ مقامی مینوفیکچرنگ کو فروغ دینا اور کھلونوں کے مینوفیکچررز کو میڈ ان انڈیا کھلونوں کو فروغ دینے کی ترغیب دیناشامل ہے۔

ڈائریکٹوریٹ جنرل آف فارن ٹریڈ(ڈی جی ایف ٹی) نے نوٹیفکیشن نمبر 33/2015-2020، مورخہ 2 دسمبر 2019 کے ذریعے ہر درآمدی کھیپ کے نمونوں کی جانچ کو لازمی قرار دیا ہے اور جب تک کوالٹی ٹیسٹنگ یعنی معیار سے متعلق جانچ   میں کامیابی نہ حاصل  ہو، فروخت کی اجازت نہیں ہے۔ ناکامی کی صورت میں، کھیپ کو  یا تو واپس بھیج دیا جاتا ہے یا درآمد کنندہ کی قیمت انہیں ٹھکانے لگا دیا جاتا ہے۔

کھلونوں (ایچ ایس کوڈ-9503) پر بنیادی کسٹم ڈیوٹی (بی سی ڈی) فروری 2023 میں 20فیصد سے بڑھا کر 70فیصد کر دی گئی۔

کھلونوں پر کیو سی او میں 11 دسمبر 2020 کو ترمیم کی گئی تھی تاکہ ڈیولپمنٹ کمشنر، وزارت ٹیکسٹائل کے ساتھ رجسٹرڈ دستکاروں کی طرف سے تیار کردہ اور فروخت کیے جانے والے سامان اور مصنوعات کے رجسٹرڈ مالک اور مجاز صارفین کے ذریعے پیٹنٹ، ڈیزائن اور ٹریڈ مارکس ،جغرافیائی اشارے کے طور پر رجسٹرڈ پروڈکٹ کے کنٹرولر جنرل کے دفتر سے مستثنیٰ ہو سکے۔

بی آئی ایس  کی طرف سے 17 دسمبر 2020کو خصوصی دفعات کو نوٹیفائی کیا گیا تاکہ کھلونے تیار کرنے والے مائیکرو سکیل یونٹس کو ایک سال تک ٹیسٹنگ کی سہولت کے بغیر اور اندرون ملک ٹیسٹنگ کی سہولت قائم کیے بغیر لائسنس فراہم کیا جا سکے۔

 

ش ح۔ ش م - ج

Uno-3243



(Release ID: 1910284) Visitor Counter : 108


Read this release in: English