زراعت اور کاشتکاروں کی فلاح و بہبود کی وزارت

موٹے اناج کے استعمال کو فروغ

Posted On: 14 MAR 2023 7:05PM by PIB Delhi

موٹے اناج کے بین الاقوامی  سال 2023  کے ساتھ ساتھ رواں سال کے دوران جی -20 کی میٹنگوں میں  موٹے اناج کے کھانوں ، موٹے اناج کے میلوں اور  موٹے اناج کے تحائف تقسیم کر کے  موٹے اناج کو بڑے پیمانے پر  فروغ دیا جا رہا ہے۔ اس کے علاوہ موٹے اناج کی فصلوں کے بارے میں آگاہی پیدا کرنے کی خاطر  جی-20  کی میٹنگوں کے موقع پر   موٹا اناج  اگانے والے کسانوں  کے ساتھ  بات چیت  کا بھی انعقاد کیا جا رہا ہے۔

حکومت ہند  موٹے اناج کے بین الاقوامی سال  (آئی وائی ایم)  - 2023  کو منانے کے لئے  کثیر فریقی  طریقہ کار کو اپنا رہی ہے۔ آئی وائی  ایم – 2023  کے ایکشن پلان میں  موٹے اناج کی پیدا وار  اور پیداواریت  ، استعمال، بر آمدات ، ویلیو چین کو مستحکم کرنا،  برانڈنگ ،  صحت کے فوائد  کے بارے میں بیداری پیدا کرنا  وغیرہ  پر زور دیا جا رہا ہے۔ اس کے علاوہ  مرکزی وزارتوں ، ریاستی حکومتوں  اور بھارتی سفارت خانوں کے ذریعہ  موٹے اناج کی پیدا وار  اور مانگ میں اضافہ کرنے کی خاطر  بیداری پیدا کرنے کے مقصد سے  ماہانہ  ایکشن پلان  تیار کئے گئے ہیں۔

ہریانہ  نے بھی  پورے سال  کے لئے  سرگرمیوں کے ساتھ ، جیسے  کسانوں کی تربیت ، کسانوں کے لئے بیداری کیمپ ،  گاؤں کی سطح پر کیمپ، باجرہ مہوتسو ،  اسکولی پروگرام ،  روڈ  شو،  اشتہار وغیرہ  کے ذریعہ  موٹے اناج کو فروغ دینے  کے لئے  ماہانہ منصوبہ  تیار کیا ہے۔

 اس کے علاوہ   اڈیشہ،  آسام،  چھتیس گڑھ، کرناٹک،  تمل ناڈو، آندھرا پردیش،  مدھیہ پردیش، مہاراشٹر  اور راجستھان  جیسی ریاستیں  بھی  موٹے اناج  کی پیدا وار  اور  استعمال  میں اضافہ کرنے کی خاطر  اسٹیٹ ملٹ مشن  نافذ کر رہی ہیں۔

 اس کے علاوہ  موٹے اناج کو فروغ دینے کے مقصد سے  زراعت اور کسانوں کی بہبود کا محکمہ سال 19-2018   سے  14  ریاستوں  کے 212  اضلاع میں  خوراک کے  قومی سکیورٹی  مشن  (این ایف ایس ایم)  کے تحت  مقوی  اناج  (موٹا اناج ) پر ایک ذیلی مشن بھی  نافذ کر رہا ہے۔  این ایف ایس ایم  -  نیوٹری  سیریلس کے تحت  کسانوں کو  ریاستوں  /  مرکز کے زیر انتظام علاقوں کے ذریعہ  فصل کی پیدا وار ، تحفظ کی ٹیکنالوجی، فصل  کے نظام ، پیدا واریت اور  نئی جاری کردہ  ورایٹی / ہائبرڈ   کے مصدقہ بیجوں  کی تقسیم  کے ذریعہ کسانوں کو   مراعات فراہم  کی جار ہی ہے۔  فصل بونے کے سیزن میں کسانوں کو تربیت دے کر مربوط  کھاد اور  کیڑوں سے متعلق تکنیک، کھیتی  کے لئے بہتر  آلات /  وسائل،  بہتر مشینری، پانی  کی بچت کرنے والے آلات  اور کسانوں میں صلاحیت سازی  وغیرہ  کے  سات ساتھ  کسانوں کو  بیجوں کی منی کٹس کی تقسیم  اور  تحریری اور الیکٹرانک میڈیا کے ذریعہ تشہیر کی جا رہی ہے۔ اس کے علاوہ  بہترین کارکردگی کے مراکز  (سی او ای) قائم کرنے  اور  مقوی  اناج  کے  لئے  بیجوں کے مراکز قائم کرنے جیسے اقدامات بھی این ایف ایس ایم  کے تحت کئے جار ہے ہیں۔

 خوراک کی ڈبہ بندی کی صنعت  کی وزارت  (ایم او  ایف پی آئی)  نے  23-2022  سے  27-2026  کے دوران  موٹے اناج  پر مبنی مصنوعات  کے لئے  خوراک کی ڈبہ بندی کی صنعت  کو  پیدا وار  سے  مربوط مراعات کی اسکیم  (پی ایل آئی  ایس ایم بی پی) کو نافذ کرنے کی خاطر 800  کروڑ روپے کے بجٹ  سے اسکیم کو منظوری دی ہے۔ آتم نر بھر بھارت  ابھیان  کے تحت  پردھان منتری  فورملائزیشن  آف مائکرو فوڈ پروسیسنگ انٹر پرائزز (پی ایم ایف ایم ای) اسکیم کو  سردست  35  ریاستوں  اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں نافذ کیا جا رہا ہے۔ حکومت  موٹے اناج میں خوراک کی ڈبہ بندی  کے یونٹوں  کے قیام کے لئے  دو کروڑ روپے تک کے  قرضوں پر  سود  میں کمی  کا فائدہ  حاصل کرنے کی خاطر کسانوں / ایف پی اوز  /  انٹر پرینیور کو  مدعو کرنے کی خاطر زرعی بنیادی ڈھانچہ فنڈ اسکیم  کو بھی  مشتہر کر رہی ہے۔ کسانوں کو  موٹے اناج کی کھیتی کرنے  کی ہمت افزائی کے لئے  جوار ، باجرہ  اور راگی  کی کم از کم امدادی قیمت  میں بھی اضافے کا اعلان کیا گیا ہے۔

 یہ معلومات  زراعت اور کسا نوں کی بہبود کے مرکزی وزیر جناب  نریندر سنگھ تومر نے آج لوک سبھا میں ایک سوال کا تحریری جواب دیتے ہوئے فراہم کیں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 

ش ح۔ وا۔ ق ر۔

U- 2719



(Release ID: 1907053) Visitor Counter : 216


Read this release in: English