کامرس اور صنعت کی وزارتہ
azadi ka amrit mahotsav

پی ایم گتی شکتی قومی  ماسٹر پلان پلیٹ فارم کو وسیع پیمانے پر اپنانے میں سہولت فراہم کرنے کے لیے سلسلے وار علاقائی ورکشاپس منعقد کی جارہی ہیں


دوسری علاقائی ورکشاپ کا انعقاد 10 اور 11 مارچ 2023 کو کوچی، کیرالہ میں کیا گیا

प्रविष्टि तिथि: 11 MAR 2023 9:14PM by PIB Delhi

تمام ریاستوں/ مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں پی ایم گتی شکتی قومی ماسٹر پلان (این ایم پی) پلیٹ فارم کو وسیع پیمانے پر اپنانے میں سہولت فراہم کرنے کی خاطرسلسلے وار علاقائی ورکشاپس منعقد کی جارہی ہیں تاکہ ریاستی حکام کو اس کے  تئیں حساس بنایا جا سکے۔یہ ورکشاپس مختلف متعلقہ فریقوں کے درمیان مزید طاقت اور ہم آہنگی پیدا کرنے کے لیےوضع کی گئی ہیں  جس کے نتیجے میں ریاستی اور مرکزی وزارتوں/محکموں کے درمیان باہمی طورپر سیکھنے کا موقع ملتا ہے۔وسطی اور مغربی زون کے لئے زون کے لیے پہلی علاقائی ورکشاپ کا انعقاد 20 فروری 2023 کو گوا میں کیا گیاتھا۔ جبکہ دوسری  علاقائی ورکشاپ کا انعقاد 10 اور11 مارچ 2023 کوکوچی، کیرالہ میں جنوبی خطے کی 9 ریاستوں/ مرکز کے زیر انتظام علاقوں، یعنی کیرالہ، آندھرا پردیش، کرناٹک، تمل ناڈو، تلنگانہ، انڈمان اور نکوبارجزائر، دادرا اور نگر حویلی، دمن اور دیو، لکشدیپ اور پڈوچیری کے ساتھ کیا گیا تھا۔

این ایم پی ایک یکسر تبدیلی کا طریقہ ہے جو پورے ملک میں ملٹی ماڈل اورہر شخص تک کنیکٹیویٹی حاصل کرنے کے لیے مربوط منصوبہ بندی اور مطابقت پذیر عمل درآمد کویقینی بناتا ہے۔اس کا آغاز وزیر اعظم نے 13 اکتوبر 2021 کو حکومت میں محکمہ جاتی بند گوداموں کو توڑنے اور بڑے بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں میں متعلقہ فریقوں کے ذریعہ جامع منصوبہ بندی کو ادارہ جاتی بنانے کے وژن کے ساتھ کیا تھا۔

مرکزی وزارتوں کی طرف سے  کوچی میں علاقائی ورکشاپ کے پہلے دن، این ایم پی کے استعمال  میں استعمال کے بہترین معاملات کا مظاہرہ کیا گیا۔ این ایم پی/ ایس ایم پی پلیٹ فارم کے استعمال کے یہ تجربے، بہترین طریقےاور وژن 9 شریک ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں نے مشترک کئے تھے۔

کوچی میں علاقائی ورکشاپ کے دوسرے دن، قومی لاجسٹکس پالیسی، ریاستی لاجسٹکس کی پالیسیوں،لاجسٹکس  ایز ایکروز ڈفرینٹ اسٹیٹس (ایل ای اے ڈی ایس) اور سٹی لاجسٹکس منصوبے پر بات چیت کی گئی ۔پی ایم جی ایس کے ذریعے پورٹ کنیکٹیویٹی اور ملٹی موڈیلیٹی کو بڑھانے کے لیے، کوچین پورٹ اتھارٹی کی طرف سے ایک پریزنٹیشن دی گئی جس کے بعد کوچین کی 4 بڑی بندرگاہوں، کماراجر وشاکھاپٹنم اور نیو منگلور بندرگاہ کے ساتھ پینل  مباحثہ بھی کیا گیا ۔ پورٹ کنیکٹیویٹی اور ساحلی پروجیکٹوں کا مطالعہ کرنے کے لیے کوچی کے ایک سائٹ دورے کا بھی اہتمام کیا گیا تھا۔

ریاست اورمرکز کے زیر انتظام لاجسٹک پالیسی کو 18 ریاستوں نے  نوٹیفائی   کیا تھایعنی اس کی نشاندہی کی تھی ۔ڈیولپمینٹ آف لاجسٹکس ایز ایکروس ڈفرینٹ اسٹیٹ(ایل ای اے ڈی ایس) 2023-24کی رپورٹ کا آغاز بھی ایک فریم ورک کے مطابق مختلف ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کےلاجسٹک ماحولیاتی نظام کا تجزیہ کرنے اور ریاستوں/مرکز کے زیر انتظام علاقوں کو لاجسٹکس کی آسانی پر درجہ بندی کرنے کے مقصد سے شروع ہوا ہے۔ ورکشاپ کے دوران، ریاست اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں نے اپنی لاجسٹک پالیسی کا جائزہ بھی پیش کیا جس میں دیگر چیزوں کے ساتھ درج ذیل باتوں کا ذکر کیا گیا:

تمل ناڈو نے ریاست میں برآمدات اور درآمدات کے ساتھ ساتھ گھریلو تجارت کے لیے رسد کی لاگت میں کمی پر توجہ مرکوز کی (5 سے 6 فیصد تک کمی کی توقع)

کرناٹک نے لاجسٹکس میں ریاست کی کارکردگی کو بہتر بنانے پر اپنی توجہ پیش کی۔

آندھرا پردیش نے لاجسٹکس اور سپلائی چین  کے درمیان بنیادی ڈھانچے کے خلا کو دور کرنے اور مشرقی ساحل سے تجارت کو فروغ دینے کے اپنے مقصد کو اجاگر کیا۔

تلنگانہ نے ایم ایم ایل پیز، ڈرائی پورٹس، کولڈ اسٹوریج وغیرہ کے ذریعے ایک مضبوط لاجسٹکس ماحولیاتی نظام تیار کرنے کے اپنے مقصد کو اجاکرگیا۔

انڈمان اور نکوبار جزائر نے ملٹی ماڈل کنیکٹیویٹی کو فعال بناتے ہوئےکارکردگی کو بڑھا کر لاجسٹکس لاگت کو کم کرنے پر اپنی توجہ پیش کی۔

ورکشاپ کے اختتام پر پورٹ کنیکٹیویٹی اور ملٹی موڈیلٹی پر ایک پینل مباحثہ کا انعقاد کیا گیا۔ بحث میں بندرگاہ کی قیادت میں صنعت کاری، آندھرا پردیش میں بڑی تعداد میں بندرگاہوں کی ترقی اور ایک بڑے اندرونی علاقے کے طور پر تلنگانہ پر  توجہ مرکوز کرنے کا احاطہ کیا گیا۔لہٰذااس کے لیے دونوں ریاستوں کو ہندوستانی بندرگاہوں کے لیے ایک اہم توجہ کے طور پر مربوط ترقی اور ساحلی جہاز رانی کے لیے مل کر کام کرنے کی ضرورت ہے۔

ورکشاپ کا اختتام بھارتی حکومت کے لاجسٹکس ڈی پی آئی آئی ٹی محکمہ میں خصوصی سکریٹری محترمہ سمیتا داؤرا کے بھارت کے ریاستوں/ مرکز کے زیر انتظام علاقوں سے درخواست  کے ساتھ ان کے ان تبصروں کے ساتھ کیا گیا کہ وہ تجارتی انجمنوں اور متعلقہ فریقوں کے ساتھ مستقل بنیادوں پر بات چیت کریں تاکہ رسد کی لاگت کو کم کرنے اور کارکردگی  کو بہتر بنانے سے متعلق مسائل کی نشاندہی کی جا سکے۔انہوں نے تجویز پیش کی کہ لاجسٹکس سے متعلق مسائل کو حل کرنے کے لیے ایک بین محکمہ جاتی خدمات میں بہتری کا گروپ تشکیل دیا جا سکتا ہے اور لاجسٹکس لاگت کو کم کرنے کے لیے ایک عملی منصوبہ مرتب کیا جا سکتا ہے تاکہ ملٹی ماڈل بنیادی ڈھانچے سے متعلق سرگرمیوں کے لئے ترجیحی شعبوں کی درست طورپر نشاندہی کی جا سکے۔ اس کے علاوہ ان کی بات چیت میں اگلے 5سے10 برسوں کے لیے لاجسٹکس کی کارکردگی کے لیے مانگ  پر مبنی نقطہ نظر، لاجسٹکس سے متعلق بنیادی ڈھانچے میں نجی سرمایہ کاری کو راغب کرنے اور لاجسٹکس کی کارکردگی کو فروغ دینے کے حل کے لیے اسٹارٹ اپس کو شامل کرنے کی خاطر مال برداری کے بہاؤ کی میپنگ کا بھی ذکر کیا گیا ۔ انہوں نے لاجسٹکس ماحولیاتی نظام کی منصوبہ بندی کے دوران ٹیکنالوجی کے استعمال اور سبز اقدامات پر بھی زور دیا جس میں نئے ہندوستان کے لیے بنیادی ڈھانچے کی ترقی اور ایک موثر لاجسٹکس  ماحولیاتی نظام تیار کرنا دونوں باتیں شامل ہیں۔

پی ایم گتی شکتی حکومت کے پورے  موقف کے تسلسل میں اور پی ایم گتی شکتی این ایم پی کی تکمیل کے لیے، قومی لاجسٹک پالیسی (این ایل پی) کو ہموار کرنے کے عمل، اعلی تعلیم میں لاجسٹکس کو مرکزی دھارے میں لانے اور مناسب ٹیکنالوجیز کو اپنانے،  ریگولیٹری فریم ورک، ہنر کی ترقی کے ذریعے خدمات اور انسانی وسائل میں کارکردگی کو بہتر بنانے کے  عوامل کو حل کرنے کے لیے شروع کیا گیا تھا۔

قومی لاجسٹکس پالیسی لاجسٹکس سیکٹر کے لیے ایک وسیع بین ضابطے، کراس سیکٹرل اور کثیر دائرہ اختیار پر مبنی فریم ورک کا تعین کرتی ہے اور لاجسٹکس ماحولیاتی نظام کے تمام ذیلی شعبوں کے لیے ایک ایساجامع پالیسی فریم ورک فراہم کرتی ہے جو موثر لاجسٹکس کے لیے اہم ہیں۔

قومی لاجسٹکس پالیسی کا وژن تیز رفتار اور جامع ترقی کے لیے ملک میں تکنیکی طور پر قابل، مربوط، لاگت کے قابل، لچکدار، پائیدار اور قابل اعتماد لاجسٹکس  ماحولیاتی نظام تیار کرنا ہے۔ اس کے مطابق،این ایل پی کے وژن کو حاصل کرنے کے وسیع اہداف میں (i) ہندوستان میں لاجسٹکس کی لاگت کو 2030 تک عالمی معیارات کے مقابلے میں کم کرنا۔ (ii) لاجسٹکس پرفارمنس  اشاریہ کی درجہ بندی کو بہتر بنانا - 2030 تک سرفہرست 25 ممالک میں شامل ہونے کی کوشش کرنا ہے، اور (iii) ایک موثر لاجسٹکس ماحولیاتی نظام کے لیے اعداد و شمار پر مبنی فیصلے کی حمایت کا طریقہ کار بناناشامل  ہے۔

 

*************

ش ح۔   ش م  ۔ م ش

U. No.2601


(रिलीज़ आईडी: 1906300) आगंतुक पटल : 127
इस विज्ञप्ति को इन भाषाओं में पढ़ें: English