پوسٹ کرنے کی تاریخ:
27 FEB 2023 7:02PM by PIB Delhi
‘‘سیکل سیل یعنی قلت دم کی بیماری ایک کثیر شعبہ جاتی مشن ہے جو برادری کو متحرک کررہاہے اورمتعلقہ فریقوں کے تعاون س ےفائدہ اٹھارہاہے۔سکل سیل کی بیماری کا کاتمہ ہندوستان میں سب کے لئے صحت کے مجموعی وژن کو حاصل کرنے کاایک لازمی حصہ ہے ۔ یہ بات نیتی آیوگ کے صحت کے شعبے کے رکن نے کہی ۔ انھوں نے آج وزارت صحت کے سکریٹری جناب راجیس بھوشن کی موجودگی میں پوسٹ بجٹ ویبننار‘‘کسی بھی شہری کو پیچھے نہیں چھوڑنا ’’ سے خطاب کرتے ہوئے یہ رائے زنی کی ۔

اس موقع پرخطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر پال نے کہاکہ ‘‘ہمیں زمینی سطح پرایک اتحاد قائم کرنا ہے جس کے تحت ہرمتعلقہ فریق کوجوڑاجاتاہے ۔ہمیں اسے جن آندولن کے طورپربنانے کی ضرورت ہے ۔ اس کی تائیدمیں ، ڈاکٹرپال نے سطح سیل کی بیماری کے بارے میں آگاہی پیداکرنے کی ضرورت پرزوردیاجس میں ‘موقع پرٹیسٹنگ ’کی حوصلہ افزائی کی جاتی ہے ، کیونکہ اس سے پہلے سے ہی اس بیماری میں مبتلا افراد کے علاج میں تیزی آئے گی ۔ انھوں نے کمیونٹی موبلائزیشن میں قبائلی امورکی وزارت کے کرداراور متاثرہ علاقوں تک پہنچنے کے ذرائع اوورطورطریقوں کی وضاحت میں متعلقہ فریقوں کے تعاون پرزوردیا۔

انھوں نے مزید کہاکہ ‘‘یہ بات بڑے پیمانے پرجاننے کی ضرورت ہے کہ پردھان منتری جن آروگیہ یوجنا کے تحت سکل سیل کی بیماری یعنی قلت دم کا مکمل علاج مفت فراہم کیاجاتاہے ۔ ’’ڈاکٹر پال نے ہیلتھ کیئر پروفیشنل پارٹنر شپس یعنی حفظان صحت متعلق پیشہ ورافراد کے درمیان ساجھیداری کی تشکیل کی وکالت کی جو ملک گیرپیمانے پرعلم کے وسیع الحاق اور اشتراک کو آسان بنائے گی ۔ انھوں نے حمل کی جانچ کو شامل کرنے کے ساتھ ساتھ ہائیڈروکسی یوریا اورنیوموکو ویکسین تک آسان رسائی کی اہمیت پرزوردیا۔ اجتماعی کارروائی کی ضرورت کا اعادہ کرتے ہوئے ، مرکزی صحت کے سکریٹری جناب راجیش بھوشن نے کہاکہ ‘‘ایک مقررہ مدت کے اندرملک سے اس بیماری کو ختم کرنے کے لئے پوری حکومت ، پورے معاشرے کے نقطہ نظرکربروئے کار لانا ضروری ہے ۔ ‘‘انھوں نے وضاحت کی کہ سکل سیل ڈیزیز منیجمنٹ یعنی قلت دم بیماری سے نمٹنے کی غرض سے اس کے بندوبست سے متعلق ایک پورٹل پہلے ہی قائم ہوچکاہے اورایک موبائل ایپلی کیشن بھی چل رہی ہے ۔جس کے لئے ریاستی حکومتوں کے لئے ٹریننگ اورواقفیت سے متعلق کارروائی شروع ہوچکی ہے ۔
جناب بھوشن نے اس بات پرزورددیاکہ ‘‘ریاست ، بلاک اورضلع کی سطح پرمعینی وقت کے اندر اس ک ےنفاذ کے لئے ایک فریم ورک وضع
جو کہ ان کی افادیت کی توثیق کرتے ہیں ۔ اس کے بعد ریاستی حکومتوں کو ان پوائنٹ آف کیئر ٹیسٹوں ، ان کی شرحوں اورممکنہ علامات جو 7کروڑ لوگوں کرناناگزیر جناب ہے تاکہ بنیادی سطح پر سبھی کے لئے خدمات کی فراہمی کو یقینی بنایاجاسکے ۔ ’’
انھوں نے مزید کہاکہ ‘‘آئی سی ایم آرنے موجودہ پوائنٹ آف کیئرٹیسٹوں کے لئے صحت سے متعلق ٹیکنالوجی کاجائزہ لیاہے جو کہ ہندوستان میں تیار کی گئی ہیں کے ہدف والے گروپ کے ساتھ مروجہ ہوسکتی ہیں ، کی جانچ کی جائے گی ۔
اپنی وزارت کے کردار کو دوہراتے ہوئے ، صحت کے سکریٹری نے کہاکہ وزارت صحت مالی مدد فراہم کرنے کے لئے قومی صحت مشن کے ذریعہ ریاستی حکومتوں کی مدد کرے گی ۔ ریاستی حکومتیں اسکریننگ کی سطح کا انتخاب کرسکتی ہیں ، یعنی ایک یادو سطح کی اسکریننگ جسے وہ مناسب سمجھیں ۔ مزید برآں ، وزارت صحت نے تکنیکی رہنمائی کے حوالے سے تمام ریاستوں کے لئے اے آئی آئی ایم ایس ، آئی سی ایم آر اورمیڈیکل کالجوں کو نوڈل ایجنسیوں کے طورپر مقررکیاہے ۔
قبائلی امور کی وزارت کی ایڈیشنل سکریٹری محترمہ آرجیانے بتایاکہ قبائلی امورکی وزارت اس مشن کے اثرونفوذ اورروابط سے متعلق پہلوپرغورکرے گی جس میں متعلقہ فریقوں کے ساتھ بات چیت ، ٹریزز کی تربیت کے لئے رہنما خطوط تیارکرنا اوربیداری پیداکرنا ، مریض کو غیرطبی دیکھ بھال اور جینیاتی مشاورت شامل ہیں ۔ انھوں نے کہاکہ ‘‘قبائلی آبادی کی صحت کی ضروریات اورصحت کی دیکھ بھال کو سماجی –ثقافتی طورپرسمجھاجاناہے ‘‘اس لئے ابتدائی انتظامی طریقوں کی وکالت ، گرام سبھا کے ساتھ تعاون ، کمیونٹی کو متحرک کرنا، قبائلی زبانوں میں مواد کا ترجمہ مشن کی رسائی کو بڑھانے میں بھی مدد گارثابت ہوگا۔
ایک تفصیلی پریزنٹیشن کے ذریعہ ، بیماریوں کے بوجھ ، مقاصد ، حکمت عملیوں ، قبائلی امور کی وزارت کے تعاون سے یونیورسل اسکریننگ اور بیداری پیداکرنے جیسے طریقوں ، تشخیص اورعلاج ، سکل سیل کی بیماری نوزائیدہ بچوں کی جامع دیکھ بھال ،یونیورسل اسکریننگ کاایک باریک تفصیلی تجزیہ ۔ جلد تشخصی ، سکل سیل پورٹل ، آیوش کے انضمام کے ساتھ اٹھائے گئے اقدامات وزارت صحت اور خاندانی بہبود اورقبائلی امور کی وزارت کاکردار، آئی سی ایم آر کاکردار ، بایو ٹیک ڈپارٹمنٹ اوردیگرتحقیقی ادارو ں کا کردار عمدگی کے مراکز کے طورپر ایمس اور دیگرمیڈیکل کالجوں کا کردار قلت دم سے متعلق سیل اورخون کی کمی سے متعلق مشن کی دیگروزارتوں /محکموں کے کردار کو نمایاں کیاگیا۔
**********
(ش ح ۔ع م۔ ع آ)
U-2142