زراعت اور کاشتکاروں کی فلاح و بہبود کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

زراعت سے متعلقہ وزارتوں سے متعلق بجٹ کے اعلانات پر ویبینار کا انعقاد


حکومت کسانوں کو ملکی اور بین الاقوامی منڈیوں تک آسان رسائی فراہم کرنے کے لیے کام کر رہی ہے - وزیر اعظم

ملک کو پوسٹ بجٹ ویبینار کے وزیر اعظم کے وژن سے فائدہ ہوا  ہے– جناب تومر

’’9 سال پہلے کے مقابلے، ہندوستان میں آج 3000 سے زیادہ ایگری اسٹارٹ اپس ہیں‘‘

’’ہندوستان کے کوآپریٹو سیکٹر میں ایک نیا انقلاب آ رہا ہے‘‘

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 24 FEB 2023 9:56PM by PIB Delhi

وزیر اعظم جناب نریندر مودی نے آج ’زراعت اور کوآپریٹیو‘ پر پوسٹ بجٹ ویبینار سے خطاب کیا۔ یہ 12 پوسٹ بجٹ ویبینار کی سیریز میں دوسرا ویبینار ہے جس کا مقصد حکومت کے ذریعہ مرکزی بجٹ 2023 میں اعلان کردہ اقدامات کے مؤثر نفاذ کے لئے  ذہن سازی کرنا ہے۔ اپنے خطاب میں وزیراعظم نے کہا کہ گزشتہ 8-9 سالوں کی طرح اس بجٹ میں بھی زراعت کو بہت زیادہ اہمیت دی گئی ہے۔ زرعی بجٹ جو 2014 میں 25,000 کروڑ روپے سے کم تھا، اب اسے بڑھا کر 1.25 لاکھ کروڑ روپے سے زیادہ کر دیا گیا ہے۔ جناب مودی نے کہا ’’حالیہ برسوں میں ہر بجٹ کو گاؤں، غریبوں اور کسانوں کا بجٹ کہا گیا ہے۔‘‘ اختتامی سیشن میں، زراعت اور کسانوں کی بہبود کے وزیر جناب نریندر سنگھ تومر نے کہا کہ بجٹ کے بعد ایک ویبینار منعقد کرنے کے وزیر اعظم جناب مودی کے ویژن سے ملک کو فائدہ ہو رہا ہے۔

ویبینار کے آغاز میں کلیدی خطاب میں وزیر اعظم جناب مودی نے کہا کہ آزادی کے بعد ہمارا زرعی شعبہ طویل عرصے تک کمی کے دباؤ میں رہا۔ ہم اپنے غذائی تحفظ کے لیے دنیا پر انحصار کرتے تھے، لیکن ہمارے کسانوں نے نہ صرف ہمیں خود انحصار بنایا ہے، بلکہ ان کی وجہ سے آج ہم برآمدات کے قابل بھی ہیں۔ آج ہندوستان کئی قسم کی زرعی مصنوعات برآمد کر رہا ہے۔ ہم نے کسانوں کے لیے ملکی اور بین الاقوامی منڈیوں تک رسائی کو آسان بنا دیا ہے، یہ بات بھی ذہن میں رکھنی ہے کہ چاہے خود انحصاری ہو یا برآمدات، ہدف صرف چاول اور گندم تک محدود نہیں ہونا چاہیے۔ مثال کے طور پر، 22 ۔2021میں  دالوں کی درآمد پر 17,000 کروڑ روپے خرچ ہوئے اور  اضافی خوراک کی مصنوعات کی درآمد پر 25,000 کروڑ روپے خرچ ہوئے۔ اس کے علاوہ خوردنی تیل کی درآمد پر 22 ۔2021میں ہمیں تقریباً  1.5 لاکھ کروڑ روپے کی لاگت آئی۔ اتنی ساری اشیاء کی درآمد پر 2 لاکھ کروڑ روپے خرچ ہوئے، اس کا مطلب ہے کہ اتنی رقم کا صرفہ ہوا ہے، یہ وہ رقم ہے  جو ہمارے کسانوں تک پہنچ سکتی ہے، اگر ہم ان مصنوعات میں بھی آتم نربھر (خود کفیل) بن جائیں۔ گزشتہ چند سالوں سے بجٹ میں ان شعبوں کو آگے لے جانے کے لیے اقدامات کیے گئے ہیں۔ ہم نے ایم ایس پی میں اضافہ کیا، دالوں کی پیداوار کو فروغ دیا گیا، فوڈ پروسیسنگ فوڈ پارکس کی تعداد میں اضافہ کیا گیا۔ اس کے ساتھ ہی خوردنی تیل کے معاملے میں مکمل طور پر خود کفیل بننے کے لیے مشن موڈ میں کام جاری ہے۔

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/image001KTKM.jpg

وزیراعظم نے کہا کہ جب تک ہم زرعی شعبے سے متعلق چیلنجوں سے نہیں نمٹیں گے ہمہ جہت ترقی کا ہدف حاصل نہیں کیا جا سکتا۔ آج ہندوستان کے کئی شعبے تیزی سے ترقی کر رہے ہیں، ہمارے پرجوش نوجوان اس میں بڑھ چڑھ کر حصہ لے رہے ہیں، لیکن زراعت میں ان کی شراکت کم ہے، جب کہ وہ اس کی اہمیت اور اس میں آگے بڑھنے کے امکانات کے بارے میں بھی  اچھی طرح واقف ہیں۔ اس سال کے بجٹ میں نجی اختراعات اور سرمایہ کاری کے خلا ءکو پر کرنے کے لیے مختلف اعلانات کیے گئے ہیں، مثال کے طور پر زرعی شعبے میں اوپن سورس پر مبنی پلیٹ فارمز کا فروغ، جس کے ذریعہ ہم نے ڈیجیٹل پبلک انفراسٹرکچر کو اوپن سورس پلیٹ فارم کے طور پر پیش کیا ہے۔ یہ بالکل یو پی آئی کے کھلے پلیٹ فارم کی طرح ہے، جس کے ذریعے آج ڈیجیٹل لین دین ہو رہا ہے۔ آج جس طرح ڈیجیٹل لین دین میں انقلاب برپا ہو رہا ہے، اسی طرح ایگری ٹیک ڈومین میں سرمایہ کاری اور اختراع کے بے پناہ امکانات پیدا ہو رہے ہیں۔ اس میں لاجسٹکس کو بہتر بنانے کی صلاحیت ہے، اس کے پاس بڑے پیمانے پر مارکیٹ تک رسائی کو آسان بنانے کا موقع ہے، اس کے پاس ٹیکنالوجی کے ذریعے ڈرپ اریگیشن کو فروغ دینے کا موقع ہے، اسی طرح ہمارے نوجوان صحیح مشورے کو صحیح شخص تک پہنچانے کے لیے کام کر سکتے ہیں۔ مٹی کی جانچ کرنے والی پرائیویٹ لیباریٹریاں اسی طرح قائم کی جا سکتی ہیں جس طرح میڈیکل سیکٹر میں یہ  کام کرتی ہیں۔ ہمارے نوجوان اپنی اختراع سے حکومت اور کسان کے درمیان معلومات کا پل بن سکتے ہیں۔ وہ بتا سکتے ہیں کہ کون سی فصل زیادہ منافع بخش ہو سکتی ہے۔ وہ فصل کی کاشت کا اندازہ لگانے کے لیے ڈرون کا استعمال کر سکتے ہیں۔ وہ پالیسی سازی میں مدد کر سکتے ہیں۔ آپ کسی بھی جگہ پر موسم میں ہونے والی تبدیلیوں کے بارے میں حقیقی وقت کی معلومات بھی فراہم کر سکتے ہیں۔ اس شعبے میں نوجوانوں کے لیے بہت کچھ کرنے کو ہے، جس میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینے سے وہ کسانوں کی مدد کریں گے، ساتھ ہی انھیں آگے بڑھنے کا موقع بھی ملے گا۔

جناب مودی نے کہا کہ اس سال کے بجٹ میں ایگری ٹیک اسٹارٹ اپس کے لیے ایکسلریٹر فنڈز کی فراہمی کے بارے میں بھی ایک اہم اعلان کیا گیا ہے، ہم نہ صرف ڈیجیٹل انفراسٹرکچر بنا رہے ہیں، بلکہ ہم فنڈنگ کے راستے بھی تیار کر رہے ہیں۔ اب ہمارے نوجوان صنعت کاروں کی باری ہے، وہ جوش و جذبے کے ساتھ آگے بڑھیں اور اپنے مقاصد حاصل کریں۔ یہ بات بھی ذہن میں رہے کہ 9 سال پہلے ملک میں ایگری اسٹارٹ اپس بہت کم تھے لیکن آج ان کی تعداد 3000 سے زیادہ ہے۔ پھر بھی ہمیں تیز رفتاری سے آگے بڑھنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان کی پہل پر اس سال کو موٹے اناج کا بین الاقوامی سال قرار دیا گیا ہے۔ موٹے اناج کو بین الاقوامی سطح پر پہچان ملنے کا مطلب ہے کہ ہمارے چھوٹے کسانوں کے لیے عالمی منڈی تیار ہو رہی ہے۔ ملک نے اب اس بجٹ میں ہی موٹے اناج کو ’شری انا‘ کا نام دیا ہے۔ جس طرح ’شری انا‘ کو فروغ دیا جا رہا ہے، اس سے چھوٹے کسانوں کو بہت فائدہ پہنچے گا۔ اس شعبے میں اس طرح کے سٹارٹ اپس کے بڑھنے کی گنجائش ہے، جس سے کسانوں کے لیے عالمی منڈی تک رسائی آسان ہو جاتی ہے۔

وزیراعظم نے کہا کہ کوآپریٹو سیکٹر میں ایک نیا انقلاب برپا ہو رہا ہے۔ اب تک یہ کچھ ریاستوں اور کچھ خطوں تک محدود تھا، اب اسے پورے ملک میں پھیلایا جا رہا ہے۔ بجٹ میں کوآپریٹو سیکٹر کو ٹیکس سے متعلق اہم رعایتیں دی گئی ہیں۔ نئی کوآپریٹو سوسائیٹیاں بنانے والے ٹیکس کی کم شرح کا فائدہ حاصل کریں گے۔ کوآپریٹوسوسائٹیوں کو تین کروڑ تک نقد نکالنے پر ٹی ڈی ایس سے مستثنیٰ قرار دیا گیا ہے۔ کوآپریٹو سیکٹر میں ہمیشہ سے یہ احساس رہا ہے کہ دیگر کمپنیوں کے مقابلے میں ان کے ساتھ امتیازی سلوک کیا جاتا ہے، بجٹ میں اس ناانصافی کو دور کیا گیا ہے۔ اہم فیصلے میں شوگر کوآپریٹیو کی طرف سے 17۔2016 سے پہلے کی گئی ادائیگیوں پر ٹیکس میں چھوٹ دی گئی ہے، جس سے انہیں 10,000 کروڑ روپے کا فائدہ ہوگا۔ ان علاقوں میں جہاں کوآپریٹیو موجود نہیں ہیں، ڈیری اور ماہی پروری سے متعلق کوآپریٹیو چھوٹے کسانوں کو بہت فائدہ پہنچائیں گے۔ خاص طور پر ماہی پروری میں ہمارے کسانوں کے لیے بڑے مواقع ہیں۔ گزشتہ 8-9 سالوں میں ملک میں مچھلی کی پیداوار میں تقریباً 70 لاکھ میٹرک ٹن کا اضافہ ہوا ہے۔ سال  2014 سے پہلے، پیداوار میں اتنا اضافہ کرنے میں تقریباً تیس سال لگے۔ اس بجٹ میں پی ایم متسیہ سمپدا یوجنا کے لیے نئے ذیلی جزو کے طور پر 6,000 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں، جس سے ماہی گیری کی قدر کی زنجیر کے ساتھ  ساتھ  بازار کو فروغ حاصل ہو گا اور ماہی گیروں اور چھوٹے کاروباریوں کے لیے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔ ہم قدرتی کھیتی کو فروغ دینے اور کیمیکل پر مبنی کھیتی کو کم کرنے کے لیے بھی تیزی سے کام کر رہے ہیں۔ پی ایم پرنام یوجنا اور گوبردھن یوجنا اس سمت میں بہت مددگار ثابت ہوں گی۔

اختتامی اجلاس میں مرکزی وزیر جناب تومر نے کہا کہ پوسٹ بجٹ ویبینار کے ذریعے زمینی حقیقت کو سمجھنا آسان ہوتاہے۔ اچھی حکومت وہ ہوتی ہے جو شکوک و شبہات کو صفر کر دے، وزیر اعظم مودی کی قیادت میں حکومت یہ کام بہت اچھے طریقے سے کر رہی ہے۔ مختلف محاذ  پر جتنی زیادہ مشاورت کی جائے گی اتنی ہی زیادہ لوگوں کی شراکت ہوگی۔ اس  عمل سے   اسکیموں کے نفاذ  کے معیار کو  بہتر بنانے میں مدد ملے گی۔ اس بجٹ میں کئی نئے اقدامات کیے گئے ہیں۔ بجٹ بہت اچھا اور دور رس ہے، اس میں اہم دفعات شامل ہیں۔

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/image002LTXD.jpg

مختلف اجلاسوں میں ماہی پروری، حیوانات اور ڈیری کے مرکزی وزیر جناب پرشوتم روپالا، وزرائے مملکت  جناب سنجیو کمار بالیان اور ڈاکٹر ایل مروگن، زراعت اور کسانوں کی بہبود کے وزیر مملکت جناب کیلاش چودھری اور محترمہ شوبھا کرندلاجے اور کو آپریٹیو کے وزیر مملکت جناب بی ایل ورما نے بھی خطاب کیا۔  زراعت کے لیے ڈیجیٹل پبلک انفراسٹرکچر، زرعی ٹیکنالوجی کے آغاز کے لیے ایکسلریٹر فنڈ، خود کو برقرار رکھنے والے باغبانی صاف پلانٹ پروگرام ’شری انا‘ کے لیے انڈیا کو گلوبل ہب بنانا، کو آپریٹیو کے ذریعے خوشحالی اور ماہی گیری کے شعبے میں ویلیو چین کی اہلیت  کو مضبوط بنانے پر ویبنار منعقد کیے گئے۔  اس موقع پر سکریٹریز، ایڈیشنل سکریٹریز، جوائنٹ سیکرٹریز، دیگر افسران اور مختلف اداروں کے نمائندے بھی  موجود تھے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ش ح۔ ج ق ۔ ن ا۔

U-2102


(ریلیز آئی ڈی: 1902712) وزیٹر کاؤنٹر : 142
یہ ریلیز پڑھیں: English , हिन्दी