پوسٹ کرنے کی تاریخ:
06 FEB 2023 4:51PM by PIB Delhi
شہری ہوا بازی کی وزارت میں وزیر مملکت جنرل (ڈاکٹر) وی کے سنگھ (ریٹائرڈ) نے آج راجیہ سبھا میں ایک سوال کے تحریری جواب میں بتایا کہ شہری ہوابازی کی ضروریات (سی اے آر)، سیکشن 3- ایئر ٹرانسپورٹ، سیریز ایم اور پارٹ VI بعنوان ’’بے قابو / خلل ڈالنے والے مسافروں کو سنبھالنا‘‘ کے مطابق تشکیل دی گئی ایئر لائن کی داخلی کمیٹی کی سفارش پر عمل کرتے ہوئے پچھلے ایک سال میں، کل 63 مسافروں کو کمیٹی کی تجویز کردہ مدت کے لئے ’’نو فلائی لسٹ‘‘ میں شامل کیا گیا ہے۔ ان میں پیشاب کرنے کے 2 (دو) واقعات شامل ہیں جو گزشتہ ایک سال میں ڈائریکٹوریٹ جنرل آف سول ایوی ایشن (ڈی جی سی اے) کے نوٹس میں آئے ہیں۔
سی اے آر میں دیئے گئے ضابطے کے مطابق، ڈی جی سی اے کی طرف سے ایک ’نو فلائی لسٹ‘ کا اہتمام کیا جاتا ہے جس میں مسافروں سے متعلق مخصوص معلومات، شناختی دستاویزات کے رابطے کی تفصیلات، واقعہ کی تاریخ، سیکٹر، فلائٹ نمبر، پابندی کے نفاذ کی مدت وغیرہ درج کی جاتی ہیں۔ ’’نو فلائی لسٹ‘‘ میں شامل کئے گئے مسافروں کی اکثریت ماسک نہ پہننے یا عملے کے ارکان کی ہدایات پر عمل نہ کرنے سے متعلق خلاف ورزیوں کی مرتکب ہوئی ۔
پیشاب کرنے سے متعلق مخصوص واقعات کے معاملے میں ، ڈی جی سی اے کی طرف سے قابل اطلاق ضوابط کی عدم تعمیل کے لیے درج ذیل کارروائی کی گئی:
1) اے آئی-102 فلائٹ، نیویارک سے نئی دہلی مورخہ 26 نومبر 2022۔
(i) میسرز ایئر انڈیا پر 30,00,000 روپے (تیس لاکھ روپے) کا جرمانہ عائد کیا گیا ہے۔
(ii) میسرز ایئر انڈیا کے ڈائریکٹر فلائٹ سروسز پر 3,00,000 روپے (تین لاکھ روپے) کا جرمانہ عائد کیا گیا ہے۔
(iii) پائلٹ ان کمانڈ کا لائسنس تین ماہ کے لیے معطل کیا گیا۔
2) اے آئی-142، پیرس سے نئی دہلی مورخہ 6 دسمبر 2022۔
(i) ڈی جی سی اے کی طرف سے میسرز ایئر انڈیا پر 10,00,000 روپے (صرف دس لاکھ روپے) کا جرمانہ عائد کیا گیا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ش ح۔ا گ۔ن ا۔
U-1279