بھاری صنعتوں کی وزارت

بھاری صنعتوں کے مرکزی وزیر ڈاکٹر مہندر ناتھ پانڈے نے آئی سی اے ٹی مانیسر میں  ہندوستان کو صاف نقل و حمل کی راہ پر گامزن کرنے کے لیے " پنچ امرت کی  جانب "  کے موضوع پر  کانفرنس اور نمائش کا افتتاح کیا


وزیر اعظم جناب نریندر مودی کی دور اندیش قیادت میں حکومت موٹر گاڑیوں کی صنعت میں خود انحصار ہندوستان کے وژن کو حاصل کرنے کے لیے کوششیں کر رہی ہے: مرکزی وزیر ڈاکٹر مہندر ناتھ پانڈے

ڈاکٹر پانڈے  نے کہا کہ حکومت نے درآمد کی جانے والی گاڑیوں کی  جانچ پر ڈیوٹی ختم کر دی ہے۔ ہندوستان میں جانچ کی سہولیات حاصل کرنے کے لیے مزید ممالک کے کار سازوں کو راغب کرنے کا اقدام

اس ایونٹ کا مقصد "پنچ امرت" یعنی 5 صاف ایندھن - ہائیڈروجن، ایتھنول، بایو ڈیزل، گیس اور الیکٹرک گاڑیوں کو اپنانے کو فروغ دینا ہے

کانفرنس میں وزارت کےماحول دوست اقدامات پر روشنی ڈالی گئی اور پی ایل آئی آٹو، پی ایل آئی اے سی سی، کیپٹل گڈ ز مرحلہ 2 اور ایف اے ایم ای مرحلہ 2 جیسی بھاری صنعتوں کی وزارت کی اسکیموں  کے نفاذ پر غور و خوض کیا گیا 

موٹر گاڑیوں کی صنعت  میں اسٹارٹ اپس کے فروغ کے لیے اپنی نوعیت کے پہلے آئی سی اے ٹی انکیوبیشن سینٹر کا افتتاح

Posted On: 04 FEB 2023 6:24PM by PIB Delhi

بھاری صنعتوں کے مرکزی وزیر ڈاکٹر مہندر ناتھ پانڈے نے آج ہریانہ کے مانیسر میں  واقع  بین الاقوامی مرکز برائے آٹوموٹیو ٹیکنالوجی (آئی سی اے ٹی) ملک میں موٹر گاڑیوں کی صنعت کے فروغ اور ترقی کے لیے بھاری صنعتوں کی وزارت کی  اسکیموں پر ک"پنچ امرت کی  جانب " کے موضوع پر کانفرنس اور نمائش   کا افتتاح کیا۔

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/ABH_5191BDOL.JPG

ہندوستان کو صاف ستھری نقل و حرکت کی طرف لے جانے کے لیے، حکومت صاف ایندھن پر بہت زور دے رہی ہے۔ "پنچ امرت کی جانب " ایونٹ اس سمت میں ایک کوشش ہے، جس میں "پنچ امرت" یعنی 5 صاف ایندھن - ہائیڈروجن، ایتھنول، بائیو ڈیزل، گیس اور الیکٹرک گاڑیوں کو اپنانے کو فروغ دینا ہے۔

بھاری صنعتوں کے مرکزی وزیر ڈاکٹر مہندر ناتھ پانڈے اور بھاری صنعتوں کے وزیر مملکت جناب کرشن پال گرجر نے نمائش اور آئی سی اے ٹی انکیوبیشن سینٹر کا بھی افتتاح کیا۔

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/ABH_52395ZZF.JPG

مرکزی وزیر ڈاکٹر مہندر ناتھ پانڈے نے اس بات پر زور دیا کہ کوپ 26  -" پنچ امرت کی سوغات" میں وزیر اعظم جناب نریندر مودی کے اعلانات کے عین مطابق، 2070 تک کاربن نیوٹرل ملک بننے کے وژن کو حاصل کرنے کے 5 وعدوں کی سمت  میں بڑھنے کے لیے  وزارتیں جامع کوششیں کر رہی ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم جناب نریندر مودی کی دور اندیش قیادت میں حکومت  موٹر گاڑیوں کی صنعت میں خود انحصار ہندوستان کے وژن کو حاصل کرنے کے لیے کوششیں کر رہی ہے۔

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/ABH_517848AU.JPG

ڈاکٹر مہندر ناتھ پانڈے نے کہا کہ حکومت نے بین الاقوامی موٹر گاڑیاں بنانے والوں کی جانب سے ملک میں جانچ کے لیے لائی جانے والی گاڑیوں پر ڈیوٹی ختم کر دی ہے، اس میں پہلے 252 فیصد ڈیوٹی لگتی تھی۔ انہوں نے کہا کہ اس سے ملک میں دستیاب جانچ کی سہولیات سے فائدہ اٹھانے کے لئے مزید ممالک کے کار سازوں کو راغب کیا جائے گا اور اس کے لئے انہوں نے وزیر اعظم جناب نریندر مودی اور وزیر خزانہ محترمہ نرملا سیتا رمن کا شکریہ ادا کیا۔

انہوں نے ہندوستان کو صاف ستھرا اور سر سبز و شادات ملک بنانے کی حکومت کی کوششوں میں موٹر گاڑیوں کی صنعت  سے تعاون طلب کیا۔

وزیر مملکت جناب کرشن پال گرجر نے صاف اور ماحول دوست نقل و حمل کو فروغ دینے کے لیے وزارت کی طرف سے اٹھائے گئے اقدامات پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ ان اقدامات سے گھریلو مینوفیکچرنگ کو فروغ ملے گا، روزگار پیدا کرنے میں مدد ملے گی، برآمدات پر انحصار کم ہو گا، صنعت کی ترقی کو فروغ ملے گا اور اس طرح موٹر گاڑیوں کی صنعت میں خود انحصار ہندوستان کے وژن کو حاصل کرنے میں مدد ملے گی۔

سکریٹری جناب کامران رضوی نے کہا کہ بھاری صنعتوں کی وزارت اپنی اسکیمو ں پی ایل آئی  اے سی سی ، پی ایل آئی آٹو، فیم –IIکے ذریعہ ہندوستان کو صاف ستھری نقل و حرکت کی طرف لے جانے کے لیے رہنما خطوط پر  عمل کر رہی ہے۔ جناب رضوی نے کہا کہ پچھلے 5 سالوں میں ملک نے بہت تیز رفتاری سے ای وی ٹیکنالوجی کو اپنایا ہے۔ انہوں نے صنعت سے کہا کہ وہ بھاری صنعتوں کی وزارت کی  اسکیموں سے فائدہ اٹھائیں اور اس اعتماد کا اظہار کیا کہ ہندوستان کی موٹر گاڑیوں کی صنعتیں عالمی منڈی میں اپنا مقام بنائے گی۔

اس تقریب میں موٹر گاڑیوں کی صنعت  کے رہنماؤں ، ایم ایچ آئی، نیتی آیوگ ، روڈ ٹرانسپورٹ اور شاہراہوں کی وزارت، وزارت بجلی، وزارت پٹرولیم و قدرتی گیس کے  اعلی سرکاری افسران، اعلی  ماہرین تعلیم، اسٹارٹ اپس اور طلباء نے شرکت کی۔ نمائش میں 84 سے زائد کمپنیوں کی نمائشیں تھیں ، جن میں 33 انمائشوں کے مینوفیکچرر، 11 ٹیسٹنگ آلات بنانے والی کمپنیاں اور 36 گاڑیاں بنانے والے شامل تھے۔

ہائیڈروجن، ای وی، حیاتیاتی ایندھن اور گیس ایندھن سے چلنے والی گاڑیوں کے لیے ٹیکنالوجی تیار کرنے پر تکنیکی سیشن کا انعقاد کیا گیا۔ موٹر گاڑیوں کی صنعتوں کے نامور مقررین نے نئی جدید ٹیکنالوجی اور صنعت میں خود انحصار ی کے وژن کو حاصل کرنے کے لیے آگے بڑھنے کے راستے پر اپنی بصیرت انگیزپریزنٹیشن دیں ۔ کانفرنس کے مباحثوں میں ان نئی ٹیکنالوجیوں کو تیزی سے اپنانے کے لیے پالیسی اور ریگولیٹری ایکو سسٹم بھی سامنے آیا۔

وزارت نے موٹر گاڑی کی صنعت  میں ماحول دوست مصنوعات کی تیاری کو فروغ دینے کے لیے پی ایل آئی – آٹو، پی ایل آئی – ایڈوانسڈ کیمسٹری سیلز (اے سی سی) اور فیم –II جیسے کئی اقدامات کیے ہیں۔ یہ اسکیمیں جدت کا ایک مضبوط ماحولیاتی نظام بنانے پر توجہ مرکوز کرتی ہیں جو صاف نقل و حرکت کے حل کی ترقی کو قابل بنائے گی اور ملک کے کاربن فوٹ پرنٹ کو کم کرے گی۔

ایک مخصوص سیشن کا بھی اہتمام کیا گیا جہاں موٹر گاڑی کی صنعت  کے نمائندوں نے ان اسکیموں کے کامیاب نفاذ کے لیے عہدیداروں کے ساتھ تبادلہ خیال کیا اور تجاویز پیش کیے ۔

موٹر گاڑی کی مصنوعات کے لیے اپنی نوعیت کے پہلے انکیوبیشن سینٹر کا بھی آج افتتاح کیا گیا ہے جو مارکیٹ کے لیے مصنوعات تیار کرنے کے لیے اسٹارٹ اپس  کی  حوصلہ افزائی کرے گا۔

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/ABH_52750KH1.JPG

معززین نے آئی سی اے ٹی  میں دستیاب ٹیسٹ سہولیات اور سرٹیفیکیشن انفراسٹرکچر کا بھی دورہ کیا۔ یہ جدید ترین سہولیات ٹیکنالوجی کی ترقی اور موٹر گاڑیوں کی  مصنوعات کی سرٹیفیکیشن میں مدد کریں گی۔ 10 سے زیادہ اسٹارٹ اپس نے اپنے پروڈکٹ دکھائے جو آئی سی اے ٹی   سہولیات کے تعاون سے مارکیٹ کے لیے تیار ہو جائیں گے۔ تقریباً 1500 موٹر گاڑیوں کے پیشہ وروں نے اس تقریب میں شرکت کی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(ش ح ۔ رض  ۔ ج ا  (

1215



(Release ID: 1896426) Visitor Counter : 82


Read this release in: English , Hindi