قانون اور انصاف کی وزارت

ہائی کورٹس میں علاقائی زبانوں کا استعمال

Posted On: 03 FEB 2023 5:00PM by PIB Delhi

ہندوستان کے آئین کی دفعہ 348(1)(a) میں کہا گیا ہے کہ سپریم کورٹ اور ہر ہائی کورٹ میں تمام کارروائی انگریزی زبان میں ہوگی۔ آئین کی دفعہ 348 کی شق (2) کہتی ہے کہ شق (1) کی ذیلی شق (اے) میں کچھ بھی ہونے کے باوجود، کسی ریاست کا گورنر، صدر کی سابقہ رضامندی سے، ہندی زبان کے استعمال یا ریاست کے کسی سرکاری مقاصد کے لیے استعمال ہونے والی کوئی دوسری زبان، ہائی کورٹ کی کارروائی میں جس کی اس ریاست میں پرنسپل سیٹ ہو، کی اجازت دے سکتا ہے۔

کابینہ کمیٹی کے فیصلہ مورخہ 21مئی1965 میں کہا گیا ہے کہ ہائی کورٹ میں انگریزی کے علاوہ کسی دوسری زبان کے استعمال سے متعلق کسی بھی تجویز پر معزز چیف جسٹس آف انڈیا کی رضامندی حاصل کی جائے گی۔

راجستھان کی ہائی کورٹ کی کارروائی میں ہندی کے استعمال کی اجازت 1950 میں آئین کے دفعہ 348 کی شق (2) کے تحت دی گئی تھی۔ کابینہ کمیٹی کے مورخہ 21مئی1965 کے فیصلے کے بعد، جیسا کہ اوپر بتایا گیا ہے، ہائی کورٹ میں ہندی کے استعمال کی اجازت دی گئی۔ چیف جسٹس آف انڈیا کی مشاورت سے اتر پردیش (1969)، مدھیہ پردیش (1971) اور بہار (1972) میں عدالتوں میں ہندی کے استعمال کی اجازت دی گئی ۔

حکومت ہند کو بالترتیب تمل ناڈو، گجرات، چھتیس گڑھ، مغربی بنگال اور کرناٹک کی حکومت سے مدراس ہائی کورٹ، گجرات ہائی کورٹ، چھتیس گڑھ ہائی کورٹ، کلکتہ ہائی کورٹ اور کرناٹک ہائی کورٹ کی کارروائیوں میں تمل، گجراتی، ہندی، بنگالی اور کنڑ زبان کے استعمال کی اجازت دینے کے لیے تجاویز موصول ہوئی تھیں۔ ان تجاویز پر چیف جسٹس آف انڈیا سے مشورہ طلب کیا گیا تھا اور بتایا گیا تھا کہ سپریم کورٹ کی فل کورٹ نے مناسب غور و خوض کے بعد ان تجاویز کو قبول نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

حکومت تمل ناڈو کی ایک اور درخواست کی بنیاد پر، حکومت نے، چیف جسٹس آف انڈیا سے درخواست کی کہ وہ اس سلسلے میں پہلے کے فیصلوں پر نظرثانی کریں اور سپریم کورٹ آف انڈیا کی رضامندی سے آگاہ کریں۔ چیف جسٹس آف انڈیا نے بتایا کہ فل کورٹ نے وسیع غور و خوض کے بعد اس تجویز کو منظور نہ کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہےاوریہ کہ معزز عدالت کے سابقہ فیصلوں کو برقرار رکھا ہے۔

وزارت قانون و انصاف کے زیراہتمام بار کونسل آف انڈیا نے 'بھارتیہ بھاشا سمیتی' تشکیل دی ہے جس کی صدارت سابق چیف جسٹس آف انڈیا، عزت مآب مسٹر جسٹس ایس اے بوبڈے کر رہے ہیں۔ یہ کمیٹی قانونی مواد کو علاقائی زبانوں میں ترجمہ کرنے کے مقصد سے تمام ہندوستانی زبانوں کے قریب ایک کامن کور وکابولری تیار کر رہی ہے۔

یہ معلومات قانون اور انصاف کے مرکزی وزیر جناب کرن رجیجو نے آج لوک سبھا میں ایک تحریری جواب میں فراہم کیں۔

*****

U.No.1183

(ش ح - اع - ر ا)   



(Release ID: 1896224) Visitor Counter : 157


Read this release in: English