وزارتِ تعلیم

جناب دھرمیندر پردھان نے بجٹ 2023 کو شمولیت والے ، عوام  مرکوز اور ترقی کو رفتار بخشنے والے بجٹ کے طور پر سراہا


بجٹ میں ’ انڈیا ایٹ 100 ‘ کا خاکہ تیار کیا گیا ہے، ہندوستان کو ٹیکنالوجی  سے چلنے والی ، علم پر مبنی معیشت میں تبدیل کرنے کی بنیاد رکھی گئی ہے – جناب دھرمیندر پردھان

وزارت تعلیم کے لئے 112899.47 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں، جو کہ وزارت تعلیم کے لیے اب تک مختص کی جانے والی  سب سے بڑی  رقم ہے – جناب دھرمیندر پردھان

نوجوانوں کو بااختیار بنانے اور ’امرت پیڑھی‘ کو ان کے خوابوں کو پورا کرنے میں مدد  فراہم کرنے کے لیے قومی تعلیمی پالیسی وضع کی گئی ہے

اساتذہ کی تربیت کو ڈسٹرکٹ انسٹی ٹیوٹ آف ایجوکیشن اینڈ ٹریننگ کے ذریعے تبدیل کیا جائے گا

بچوں اور نوعمروں کے لیے نیشنل ڈیجیٹل لائبریری قائم کی جائے گی

ریاستوں کو پنچایت اور وارڈ کی سطح پر فزیکل لائبریریاں قائم کرنے کی ترغیب دی جائے گی

فزیکل لائبریریوں کے ذریعے پڑھنے اور مالیاتی خواندگی کے کلچر کی حوصلہ افزائی کی جائے

Posted On: 01 FEB 2023 4:30PM by PIB Delhi

تعلیم اور ہنرمندی کی ترقی اور انترپرینیورشپ  کے مرکزی وزیر جناب دھرمیندر پردھان نے مرکزی بجٹ 24-2023 کو شمولیتی، عوام پر مبنی اور ترقی کو متحرک کرنے والا بجٹ قرار دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ امرت کال بجٹ سب کو شامل کرتا ہے، غریب اور متوسط طبقے کو بااختیار بناتا ہے، آخری سرے تک پہنچتا ہے اور سب کے لیے خوشی لاتا ہے۔

وزیر اعظم جناب نریندر مودی اور وزیر خزانہ محترمہ نرملا سیتا رمن کا شکریہ ادا کرتے ہوئے، انہوں نے کہا کہ تعلیم، ہنر مندی کی ترقی، صنعت کاری، تحقیق و ترقی، ڈیجیٹل انفراسٹرکچر، زرعی ترقی اور روزگار کی فراہمی کو فروغ دیتے ہوئے، بجٹ ۔ انڈیا ایٹ100  کے لئے ایک نپاتُلا خاکہ پیش کرتا ہے اور ہندوستان کو ٹیکنالوجی سے وابستہ  علم پر مبنی معیشت میں تبدیل کرنے کے لیے ایک مضبوط بنیاد رکھتا ہے۔

جناب دھرمیندر پردھان نے اس بات پر روشنی ڈالی کہ وزارت تعلیم کو 112899.47 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں۔ وزارت تعلیم کے لیے یہ اب تک کی سب سے بڑی رقم ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ مختص بجٹ میں 13فیصد (نظرثانی شدہ تخمینوں سے زیادہ) کا اضافہ دیکھا گیا جو کہ مالی سال 23-2022 سے 13,018.34 کروڑ ہے۔ محکمہ اسکولی تعلیم کو 68,804.85 کروڑ روپے اور اعلیٰ تعلیم کے محکمے کو 44,094.62 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں۔

وزارت تعلیم سے متعلق بجٹ تقریر کی جھلکیاں درج ذیل ہیں:

اپنے نوجوانوں کو بااختیار بنانے اور ’امرت پیڑھی‘ کو ان کے خوابوں کو پورا کرنے میں مدد فراہم کرنے کے لیے، ہم نے قومی تعلیمی پالیسی بنائی ہے، جو ہنر مندی پر مرکوز ہے، معاشی پالیسیاں اپنائی ہیں جو بڑے پیمانے پر ملازمتیں پیدا کرنے میں سہولت فراہم کرتی ہیں، اور کاروباری مواقع کی  راہ ہموار کرتی ہے۔

اساتذہ کی تربیت کا پروگرام جدید تدریس، نصاب کے لین دین، مسلسل پیشہ ورانہ ترقی، ڈپ اسٹک سروے اور آئی سی ٹی کے نفاذ کے ذریعے  مرتب کیا جائے گا۔ اس مقصد کے لیے ڈسٹرکٹ انسٹی ٹیوٹ آف ایجوکیشن اینڈ ٹریننگ کو متحرک انسٹی ٹیوٹ آف ایکسی لینس کے طور پر تیار کیا جائے گا۔

بہت سے خطوں ، زبانوں، انواع اور سطحوں پر معیاری کتابوں کی دستیابی اور آلات کی مدد سے علمی رسائی کی سہولت کے لیے بچوں اور نوعمروں کے لیے ایک قومی ڈیجیٹل لائبریری کا قیام۔ ریاستوں کو پنچایت اور وارڈ کی سطح پر فزیکل لائبریریاں قائم کرنے کی ترغیب دی جائے گی۔

خواندگی کا ماحول تیار کرنے اور وباامراض کے دور میں تعلیمی پروگرام کو ہونے والے نقصان کو پورا کرنے کے لیے، نیشنل بک ٹرسٹ، چلڈرن بک ٹرسٹ اور دیگر ذرائع کی حوصلہ افزائی کی جائے گی کہ وہ ان فزیکل لائبریریوں کو علاقائی زبانوں اور انگریزی میں غیر نصابی عنوانات فراہم کریں اور  زیادہ سے زیادہ تعداد میں کتابیں جمع کریں ۔ خواندگی میں کام کرنے والی این جی اوز کے ساتھ تعاون بھی اس اقدام کا ایک حصہ ہوگا۔ مالی خواندگی کو فروغ دینے کے لیے، مالیاتی شعبے کے ریگولیٹرز اور تنظیموں کی حوصلہ افزائی کی جائے گی کہ وہ ان لائبریریوں کو عمر کے مطابق پڑھنے کا مواد فراہم کریں۔

بجٹ 23-2022 کی جھلکیاں – محکمہ اسکولی تعلیم اور خواندگی

  • مالی سال 23-2022 (آر ای) سے مالی سال 24-2023 میں محکمہ سکول ایجوکیشن اینڈ لٹریسی کے بجٹ میں 9752.07 کروڑ (16.51فیصد) روپے کا مجموعی اضافہ ہوا ہے۔
  • مالی سال 24-2023 میں مجموعی  مختص بجٹ 68804.85 کروڑ روپے ہے۔  جس میں سے اسکیم کے لئے مختص رقم  54374.48 کروڑ روپئے اور غیر اسکیم مختص رقم  14430.37 کروڑ روپے ہے۔
  • پی ایم پوشن کی فلیگ شپ اسکیم میں مالی سال 2023-24 کے لیے مختص  بجٹ میں  1366.25 کروڑ (13.35فیصد)  روپے کا اضافہ ہوا ہے۔ جو 2022-23   کے بجٹ تخمینہ میں   10233.75 کروڑ  روپے تھا اور     2023-24 کے بجٹ تخمینہ میں بڑھ کر  11600.00 کروڑ روپئے  ہوگیا۔
  • پی ایم شری  کی اسکیم میں مالی سال 24-2023 کے لیے بجٹ مختص میں  2200.00 کروڑ (122.22 فیصد) روپے کا اضافہ ہوا ہے۔  جو کہ 2022-23  کے بجٹ تخمینہ میں 1800.00 کروڑ روپئے تھا، 2023-24 کے بجٹ تخمینہ میں بڑھ کر  4000.00 کروڑ روپئے ہوگیا۔ اس اسکیم کے تحت مرکزی حکومت/ریاست/مرکز کے زیر انتظام علاقہ  حکومت/مقامی اداروں کے زیر انتظام اسکولوں میں سے موجودہ اسکولوں کو مزیدترقی دے کر 14500 سے زیادہ پی ایم ایس آر آئی اسکول (پی ایم اسکول فار رائزنگ انڈیا) قائم کرنے کا انتظام ہے۔ اسکیم کی مدت 23-2022 سے 27-2026 تک تجویز کی گئی ہے۔ اس اسکیم کے ذریعہ  20 لاکھ سے زیادہ طلباء کے براہ راست مستفید ہونے کی امید ہے۔ پی ایم ایس آر آئی کے تحت آنے والے اسکول قومی تعلیمی پالیسی 2020 کے نفاذ کو ظاہر کریں گے اور وقت کے ساتھ ساتھ ایک مثالی اسکول بن کر ابھریں گے، اور  آس پاس کے دوسرے اسکولوں کے لئے بھی  نمونہ عمل بنیں گے۔ ایک مساوی، جامع اور خوشگوار اسکول کے ماحول میں اعلیٰ معیار کی تعلیم فراہم کی جائے گی، ایک ایسا ماحول  جو کہ متنوع پس منظر، کثیر لسانی ضروریات اور بچوں کی مختلف تعلیمی صلاحیتوں کا خیال رکھتا ہے اور انہیں این ای پی 2020 کے وژن کے مطابق اپنے سیکھنے کے عمل میں فعال حصہ دار بناتا ہے۔
  • اسٹارس کی ورلڈ بینک کی امدادی اسکیم کے لیے مالی سال 2023-24 کے لیے مختص بجٹ میں   250.00 کروڑ (45.45فیصد)  روپے کا اضافہ ہوا  ہے جو کہ  2022-23 کے بجٹ تخمینہ میں  550.00 کروڑ روپے تھا،  اور    2023-24  کے بجٹ تخمینہ میں بڑھ کر  800.00 کروڑ روپئے ہوگیا۔
  • این آئی ایل پی کی اسکیم میں مالی سال 24-2023 کے لیے مختص بجٹ میں 30.00 کروڑ (23.62فیصد)  روپے کا اضافہ ہوا ہے جو    2022-23 کے بجٹ تخمینہ میں 127.00 کروڑ  تھا ،  اور    2023-24 کے بجٹ تخمینہ میں 157.00 کروڑ روپئے ہوگیا۔
  • سماگرا شکشا کی فلیگ شپ اسکیم میں مالی سال 2023-24 کے لیے مختص  بجٹ میں  70.11 کروڑ (0.18فیصد) روپے کا اضافہ ہوا ہے جو    2022-23 کے بجٹ تخمینہ میں 37383.36 کروڑ روپے تھا اور  2023-24 کے بجٹ تخمینہ میں بڑھ کر 37453.47 کروڑہوگیا۔
  • کے وی ایس میں مختص  کی جانے والی رقم  میں 713.98 کروڑ (9.33فیصد) روپے کا اضافہ ہوا ہے۔ (جو23 -2022 کے بجٹ تخمینہ میں 7650.00 کروڑ روپے تھا اور 24-2023 کے  بجٹ تخمینہ  میں بڑھ کر 8363.98 کروڑ روپے ہوگیا) اور این وی ایس میں 1371.50 کروڑ (33.32فیصد) (جو 23-2022 کے بجٹ تخمینہ میں 4115 کروڑ روپئے تھا اور 24-2023 کے بجٹ تخمینہ میں بڑھ کر 5486.50 کروڑ روپے ہوگیا)۔

بجٹ 24-2023 کی جھلکیاں - محکمہ اعلیٰ تعلیم

  • بجٹ تخمینہ 2023-24 میں اعلیٰ تعلیم کے لیے 44,094.62 کروڑ روپے  مختص کئے گئے ہیں۔ نظر ثانی شدہ تخمینہ 2022-23 میں 40,828.35 کروڑ روپے کے مقابلے میں یہ 8 فیصد کا اضافہ ہے۔
  • این ای پی 2020 کو حقیقی روح کے ساتھ لاگو کرنے کے لیے، ہمارے ملک کے بہترین اداروں اور یونیورسٹیوں کو مرکزی حکومت کے تحت اضافی 4235.74 کروڑ روپے دیے گئے ہیں، جو کہ پچھلے سال کی مختص رقم سے 12.8 فیصد زیادہ ہے۔
  • بجٹ تخمینہ 2023-24 میں، گرانٹس یا یو جی سی میں 9.37 فیصد یعنی 459 کروڑ کا اضافہ کیا گیا ہے۔
  • بجٹ تخمینہ    23-2022 کے مقابلے میں  سی یوز کو گرانٹس میں 17.66فیصد ڈیمڈ یونیورسٹی میں 27فیصد   ،آئی آئی ٹیز    میں 14فیصد اور این آئی ٹیز میں  10.5فیصد اضافہ کیا گیا ہے۔ نیز، آئی آئی ایس سی ، بنگلور کو دی جانے والی گرانٹ میں 15فیصد کا اضافہ کیا گیا ہے۔
  • بجٹ تخمینہ    24-2023 میں وزیر اعظم کی ریسرچ فیلوشپ (پیم ایم آر ایف) کے لیے 400 کروڑ روپے کی رقم کا انتظام کیا گیا ہے، جو کہ 2022-23 کے بجٹ تخمینہ  میں 200 کروڑ روپے تھا، اس طرح  100فیصد کا اضافہ درج کیا گیا ہے۔
  • ’’ہندوستان میں  مصنوعی ذہانت تیار کرنے اورمصنوعی ذہانت  کو ہندوستان کے لیے کام کرنے‘‘ کے لیے تعلیمی اداروں میں 3 سنٹرس آف ایکسی لینس قائم کیے جائیں گے۔ این ای پی معیشت کے تمام شعبوں میں مصنوعی ذہانت کے کردار کو تسلیم کرتا ہے، جس کے لیے ہماری افرادی قوت میں  نئے ہنر سے آراستہ افراد کی ضرورت ہوگی۔ زراعت، صحت، آٹوموبائل، سائبر سیکیورٹی، اسمارٹ ہوم/سٹی انفراسٹرکچر، ڈیٹا اینالیسس، اسپیچ ریکگنیشن، کسٹمر سروس، خودکار اسٹاک ٹریڈنگ، آن لائن شاپنگ، مشین ٹرانسلیشن، ڈیجیٹل پرسنل اسسٹنس میں مصنوعی ذہانت کا بہت اہم کردار ہے۔
  • سنٹرز آف ایکسی لینس زراعت، صحت اور پائیدار شہروں میں کثیر الضابطہ تحقیق کے این ای پی 2020 وژن کو نافذ کریں گے۔ اس سے اعلیٰ تعلیمی اداروں کو تحقیق کاموں کو جدید ٹیکنالوجی میں منتقل کرنے اور ہمارے بڑے سائز اور تنوع والے ملک کے لیے ایک کامیاب مسئلہ حل کرنے والے کے طور پر نقل کرنے میں مدد ملے گی۔
  • نیشنل ڈیٹا گورننس پالیسی - ایک قومی ڈیٹا گورننس پالیسی لائی جائے گی تاکہ اسٹارٹ اپس اور اکیڈمی کے ذریعہ اختراعات اور تحقیق کو فروغ دیا جاسکے۔ یہ ہمیں گمنام ڈیٹا تک رسائی کے قابل بنائے گا اور تمام اعلیٰ تعلیمی اداروں (ایچ ای آئیز) تک ’انوسندھان‘ لانے میں مدد کرے گا۔
  • جی5 خدمات کا استعمال کرتے ہوئے ایپس تیار کرنے کے لیے ان ایچ ای آئیز میں 100 لیبز قائم کی جائیں گی۔ تاکہ بہت سے نئے مواقع، کاروباری ماڈلز اور روزگار کے امکانات تلاش کیے جا سکیں۔ یہ لیبز دیگر چیزوں کے ساتھ ساتھ سمارٹ کلاس رومز، درست کاشت کاری، معقول ٹرانسپورٹ سسٹم اور صحت کی دیکھ بھال جیسی ایپس کا احاطہ کریں گی۔ حکومت انجینئرنگ کی تعلیم کو نہ صرف آئی آئی ٹیز، این آئی ٹیز اور آئی آئی ایس ای آر وغیرہ میں بلکہ ملک بھر کے انجینئرنگ اداروں میں بھی ابھرتے ہوئے شعبوں میں کورسز متعارف کروا کر ایک کثیر الشعبہ نقطہ نظر پیدا کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ جی 5  ٹیکنالوجی سے متعلق ایپلی کیشنز پر انجینئرنگ انسٹی ٹیوٹ میں 100 لیبز ہمارے نوجوان انجینئرز کے درمیان روزگار، سٹارٹ اپس، کاروبار کو فروغ دیں گی اور جدت طرازی اور کاروباریت کی حوصلہ افزائی کریں گی۔
  • ملک میں ریسرچ ایکسیلنس میں آئی آئی ٹی کے اولین کردار کو تسلیم کرتے ہوئے وزیر خزانہ نے اعلان کیا کہ لیبارٹری  میں تراشے گئے ہیروں  (ایل جی ڈی) سیڈز اور مشینوں کی مقامی پیداوار کے لیے ایک آئی آئی ٹی کو پانچ سال کے لیے ریسرچ اینڈ ڈیولپمنٹ گرانٹ دی جائے گی۔ یہ صنعت کی قیادت میں تحقیق اور اختراعی کوششوں کو یقینی بنائے گا جس کا براہ راست اثر برآمدات، روزگار کی فراہمی اور اس شعبے میں عالمی تجارت میں ہندوستان  کی حصہ داری  پر پڑے گا۔

************

ش ح۔س ب  ۔ م  ص

 (U: 1118)



(Release ID: 1895697) Visitor Counter : 154


Read this release in: English , Hindi