وزارت دفاع
azadi ka amrit mahotsav g20-india-2023

دفاع کو بجٹ 24-2023  میں 5.94 لاکھ کروڑ روپے ملے، جو پچھلے سال کے مقابلے میں 13 فیصد زیادہ ہے


مسلح افواج کی آپریشنل مختص کردہ  فنڈ میں بے مثال اضافہ ہوا ہے

دفاعی پنشن کے لیے 1.38 لاکھ کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں

جدید کاری اور بنیادی ڈھانچے کی ترقی سے متعلق سرمایہ اخراجات  بڑھ کر 1.62 لاکھ کروڑ روپے ہو گئے جو کہ   2020-2019  کے بعد سے 57 فیصد کا  اضافہ ہے

بی آر او کا کیپٹل بجٹ 43 فیصد بڑھا کر 5,000 کروڑ روپے کر دیا گیا ہے۔ 23,264 کروڑ روپے پر، ڈی آر ڈی او کو مختص کردہ فنڈ میں  9 فیصد کا اضافہ ہوا

اختراع کو مزید فروغ دینے کے لیے آئی ڈی ای ایکس  کو 116 کروڑ روپے ملے  جو کہ 23- 2022 کے مقابلے میں 93 فیصد کا اضافہ ہے

ای ای ای کا درجہ اگنی ویر فنڈ کو فراہم کیا گیا

رکھشا منتری جناب راج ناتھ سنگھ نے مرکزی بجٹ 24- 2023کو ترقی پر مبنی قرار دیا۔ ان کا کہنا ہے کہ اس سے چند سالوں میں ہندوستان کو 5 ٹریلین ڈالر کی معیشت بنانے کے حکومت کے ہدف کو حاصل کرنے میں مدد ملے گی

Posted On: 01 FEB 2023 6:26PM by PIB Delhi

مسلح افواج کو کسی بھی صورت حال سے نمٹنے کے لیے جنگی طور پر  تیار رہنا چاہیے۔ اس مقصد کے لیے، غیر تنخواہ  آمدنی  اخراجات  کو بجٹ تخمینہ (بی ای) 2022-23 میں 62,431 کروڑ روپے سے بڑھا کر 24- 2023 کے بی ای میں 90,000 کروڑ روپے کر دیا گیا ہے، جو کہ 44 فیصد اضافے کی نمائندگی کرتا ہے۔ توقع ہے کہ اس اخراجات سے جنگی صلاحیتوں میں اہم خلا کو ختم کیا جائے گا اور افواج کو گولہ بارود، ہتھیاروں اور اثاثوں کی فراہمی، فوجی ذخائر وغیرہ کے حوالے سے لیس کیا جائے گا۔۔ سرمایہ اخراجات میں  اوپر بڑھتے رجحان کے  تسلسل  کے ذریعہ اس بجٹ نے دفاعی خدمات کی جدید کاری اور انفراسٹرکچر کی ترقی پر زور بھی برقرار رکھا ہے۔

مالی سال 24- 2023 کے مرکزی بجٹ میں کل تخمینہ جاتی  45,03,097 کروڑ روپے کا تصور پیش کیا  گیا ہے۔ اس میں سے وزارت دفاع کو 5,93,537.64 کروڑ روپے کا کل بجٹ مختص کیا گیا ہے جو کہ کل بجٹ کا 13.18 فیصد ہے۔ اس میں دفاعی پنشن کے لیے 1,38,205 کروڑ روپے کی رقم شامل ہے۔ کل دفاعی بجٹ 23-2022 کے بجٹ کے مقابلے میں 68,371.49 کروڑ روپے (13فیصد) کے اضافے کی نمائندگی کرتا ہے۔

جھلکیاں:

 

  1. غیر تنخواہ / آپریشنل سے متعلق  مختص کردہ  فنڈ  میں اضافہ
  • موجودہ اور مستقبل کے چیلنجوں کا سامنا کرنے کے لیے دفاعی خدمات کی اعلیٰ سطح کی آپریشنل تیاری کو برقرار رکھنے کے لیے حکومت کے عزم اور توجہ کو مدنظر رکھتے ہوئے، نان سیلری ریونیو/آپریشنل ایلوکیشن میں 27,570 کروڑ روپے کا اضافہ ہوا ہے، اس سیکشن کے تحت بجٹ کے اخراجات کے ساتھ بی ای  2022-23 میں 62,431 کروڑ روپے سے بڑھا کر 24- 2023 میں 90,000 کروڑ روپے کر دیا گیا۔ یہ ہتھیاروں کے نظام، جہازوں/ہوائی جہازوں اور ان کی لاجسٹکس سمیت پلیٹ فارمز کی فراہمی کی ضروریات  کو پورا کرے گا،  بیڑے کی خدمت کی صلاحیت کو فروغ دیگا؛ اہم گولہ بارود اور اسپیئرز کی ہنگامی خریداری؛ جہاں بھی ضرورت ہو صلاحیت کے فرق کو کم کرنے کے لیے مخصوص صلاحیتوں کی خریداری/ خدمات حاصل کرنا؛ فوجی ذخائر کو ذخیرہ کرنے میں پیش رفت، آگے کے دفاع  وغیرہ کو مضبوط بنائے گا۔
  • نان سیلری ریونیو سیگمنٹ میں اس اضافے کے پیش خیمہ کے طور پر، حکومت نے وسط مدتی جائزے کے دوران رواں مالی سال کے آپریشنل الاٹمنٹس میں بھی 26,000 کروڑ روپے کا اضافہ کیا تھا، جو کہ موجودہ مختص  کردہ فنڈ کے  42فیصد کے طور پر کام کرتا ہے۔ نظرثانی شدہ تخمینے 23- 2022  میں اس بے مثال اضافے نے رواں سال کے دوران پورے باقی ماندہ   واجبات کو ختم کرنے کو یقینی بنایا ہے اس طرح اس بات کو یقینی بنایا گیا ہے کہ اگلے سال خدمات کے آپریشنل اخراجات میں کوئی کمی نہ آئے۔
  • بجٹ میں بڑھی ہوئی مختصات آگنی ویر کے لیے ٹریننگ ایڈز اور سمولیٹرز کو بھی پورا کرے گی اور اس بات کو یقینی بنائے گی کہ وہ دفاعی افواج میں شامل ہونے کے لیے تربیت کے طے شدہ معیارات کو حاصل کریں۔
  1. مرکزی بجٹ 2023 میں جدید کاری  اور بنیادی ڈھانچے کی ترقی پر زور:

 

مرکزی بجٹ 24- 2023میں، کیپٹل انویسٹمنٹ آؤٹ لے کو لگاتار تیسرے سال 33 فیصد بڑھا کر 10 لاکھ کروڑ روپے کردیا گیا ہے، جو کہ مجموعی گھریلو پیدا وار  کا 3.3 فیصد ہوگا۔ یہ 20- 2019 کے اخراجات سے تقریباً تین گنا زیادہ ہوگا۔

اس کے مطابق، دفاعی خدمات کی جدید کاری اور بنیادی ڈھانچے کی ترقی سے متعلق  مختص کردہ سرمایہ کو بڑھا کر 1,62,600 کروڑ روپے کر دیا گیا ہے جو مالی سال 23- 2022 کے مقابلے میں 10,230 کروڑ روپے (6.7فیصد) کے اضافے کی نمائندگی کرتا ہے۔ نیز، 20- 2019 سے کیپٹل بجٹ میں اضافہ 59,200 کروڑ روپے (57فیصد) ہو گیا ہے۔ یہ اضافہ دفاعی خدمات کی جدید کاری اور بنیادی ڈھانچے کی ترقی کے شعبے میں پائیدار اضافے کے لیے حکومت کے عزم کا عکاس ہے۔

  • وزارت  دفاع سرحدی علاقوں بالخصوص شمالی سرحدوں میں بنیادی ڈھانچے کی مضبوطی کے لیے پرعزم ہے۔

 اس کے مطابق، بارڈر روڈز آرگنائزیشن (بی آر او) کا کیپٹل بجٹ مالی سال 23- 2022 میں 3,500 کروڑ روپے کے مقابلے میں مالی سال 24- 2023 میں 43 فیصد بڑھا کر 5,000 کروڑ روپے کر دیا گیا ہے۔ نیز، مالی سال 22-  2021 کے بعد سے دو سالوں میں اس سیگمنٹ کے تحت مختص کردہ   رقم دوگنی ہوگئی ہے۔ اس سے سرحدی انفراسٹرکچر کو فروغ ملے گا جس سے سیلا ٹنل، نیچیپو ٹنل اور سیلا-چھبریلا ٹنل جیسے اسٹریٹجک طور پر اہم اثاثے وجود میں آئیں گے اور سرحدی رابطے میں بھی اضافہ ہوگا۔

  1. مسلح افواج کی  صلاحیت سازی کی جانب اور  ہندوستان کے آتم نیربھرتا مشن کو ایندھن دینے کے لیے تحقیق، اختراع اور تکنیکی ترقی کے اہم کردار کو تسلیم کرنا۔
  • دفاع میں تحقیق اور ترقی کو مضبوط بنانے کے لیے، 24- 2023 کے بی ای میں کل 23,264 کروڑ روپے مختص کرنے کے ساتھ، ڈی آر ڈی او کے لیے مختص رقم میں 9فیصد  اضافہ کیا گیا ہے۔
  • اختراع کو مزید فروغ دینے، ٹیکنالوجی کی ترقی کی حوصلہ افزائی اور ملک میں دفاعی صنعتی ماحولیاتی نظام کو مضبوط کرنے کے لیے، آئی ڈی ای ایکس اور ڈی ٹی آئی ایس کو بالترتیب 116 کروڑ روپے اور 45 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں جو 23- 2022 کے  مقابلے  میں آئی ڈی ای ایکس کے لیے 93فیصد اور ڈی ٹی آئی ایس کے لیے 95فیصد کے اضافے کی نمائندگی کرتے ہیں۔ یہ وزارت دفاع کے ملک بھر کے روشن نوجوان ذہنوں کے خیالات سے فائدہ اٹھانے کے وژن کو پورا کرے گا۔
  • مرکزی بجٹ 24- 2023 نے ایک قومی ڈیٹا گورننس پالیسی کا اعلان کیا ہے تاکہ اسٹارٹ اپس اور اکیڈمی کے ذریعہ اختراع اور تحقیق کو فروغ دیا جاسکے۔ یہ گمنام ڈیٹا تک رسائی کے قابل بنائے گا جس سے ڈیفنس اسٹارٹ اپس اور آئی ڈی ای ایکس اسکیم کو مزید فروغ ملے گا۔
  • مرکزی بجٹ 24-2023 میں یہ بھی اعلان کیا گیا ہے کہااصل سرمایہ میں9,000 کروڑ روپے داخل کر کے  ایم ایس ایم ایز کے لیے نئے سرے سے کریڈٹ گارنٹی اسکیم جو 1 اپریل 2023 سے لاگو ہوگی، انجام پائے گی ۔ اس سے 2 لاکھ کروڑ روپے کے اضافی ضمانت کے بغیر گارنٹی شدہ کریڈٹ قابل ہو جائے گا۔ مزید برآں، کریڈٹ کی لاگت میں بھی تقریباً 1 فیصد کی کمی کی گئی ہے۔ یہ اسکیم دفاعی شعبے سے وابستہ ایم ایس ایم ایز کو مزید تقویت دے گی۔
  1. ہمارے معزز سابق فوجیوں کے لیے زندگی کی مجموعی آسانی کو جامع طور پر بڑھانے کے لیے بجٹ کی فراہمی
  • دفاعی پنشن بجٹ نے مالی سال 24- 2023میں 15.5 فیصد کا قابل ذکر اضافہ درج کیا ہے۔ قطعی طور پر، یہ رقم 23- 2022 میں 1,19,696 کروڑ روپے کے مقابلے میں 24- 2023 میں 1,38,205 کروڑ روپے ہے۔ مزید برآں،   1,53,415 کروڑ روپے پر آر ای 23- 2022 مختصات 28 فیصد کا نمایاں اضافہ ریکارڈ کرتی ہیں جو 33,718 کروڑ  روپے کی رقم ہے ۔ اس میں ون رینک ون پنشن (او آر او پی) کے تحت مسلح افواج کے پنشنرز/ فیملی پنشنرز کی نظرثانی کی ضرورت کو پورا کرنے کے لیے 28,138 کروڑ روپے کی رقم شامل ہے۔
  • ہمارے سابق فوجیوں تک صحت کی دیکھ بھال کی رسائی کو تبدیل کرنے کے حکومت کے عزم کی طرف، دفاعی بجٹ 24- 2023 نے سابق فوجیوں کی معاون صحت اسکیم (ای سی ایچ) کے لیے مختص بی ای میں 52 فیصد کا قابل ذکر اضافہ درج کیا ہے جس میں مالی سال 23- 2022 میں 3582.51 کروڑ  روپے کے مقابلے میں  مالی سال 24-2023 میں 5431.56 کروڑ روپے کا بی ای مختص کردہ فنڈ ہے ۔ یہ اضافہ پورے ہندوستان میں ہمارے سابق فوجیوں اور ان کے زیر کفالت افراد کو ‘کیش لیس ہیلتھ سروسز’ اور بہتر ‘سروس ڈیلیوری’ کو یقینی بنائے گا۔
  1. اگنی ویروں کی بہبود
  • مرکزی بجٹ 24- 2023 نے اگنی ویر فنڈ کو مثتثنی ٰ- مثتثنٰی- مثتثنٰی (ای ای ای) کا درجہ دیا ہے۔

کئی ٹویٹس کے ذریعے، رکھشا منتری جناب راج ناتھ سنگھ نے مالی سال 24- 2023 کے لیے ترقی پر مبنی مرکزی بجٹ پیش کرنے کے لیے وزیر خزانہ محترمہ  نرملا سیتا رمن کو مبارکباد دی، یہ کہتے ہوئے کہ وزیر اعظم جناب نریندر مودی کی قیادت میں کسانوں، خواتین، کمزور  طبقات اور متوسط طبقوں کو مدد فراہم کرنے کو ترجیح دی گئی ہے۔

جناب راج ناتھ سنگھ نے زور دے کر کہا کہ بجٹ ترقی اور فلاح و بہبود پر مبنی پالیسیوں کی حمایت کے تئیں حکومت کے عزم کو ظاہر کرتا ہے جس سے سماج کے تمام طبقات بشمول چھوٹے کاروباروں کے مالکان، کسانوں اور پیشہ ور افراد کو فائدہ پہنچے گا۔

رکشا منتری نے اعتماد ظاہر کیا کہ مرکزی بجٹ 24- 2023 چند سالوں میں ہندوستان کو 5 ٹریلین ڈالر کی معیشت بنانے اور دنیا کی ‘سر فہرست تین’  معیشتوں میں شامل کرنے کے حکومت کے ہدف کو حاصل کرنے میں مدد کرے گا۔

*************

( ش ح ۔ ا ک۔ ر ب(

U. No. 1108



(Release ID: 1895695) Visitor Counter : 480


Read this release in: English , Hindi