جل شکتی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

قدیم باندھ

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 08 DEC 2022 4:51PM by PIB Delhi

مرکزی حکومت ملک میں پرانے باندھ  کی حفاظت کے سلسلے میں فکر مند ہے۔ تاہم، باندھ کے استحکام یا ساختی ناکامی کے امکان کا فیصلہ کرنے کے لیے باندھ  کی تعمیری مدت  واحد وجہ  نہیں ہے۔ جب تک یہ تکنیکی طور پر محفوظ اور قابل عمل  ہوں تب تک ان سپر اسٹرکچرز یعنی باندھ  کی ایک درست عمر ہوتی ہے۔

مزید یہ کہ  باندھ کی حفاظت کو یقینی بنانے کی ذمہ داری، بنیادی طور پر باندھ  مالکان پر عائد ہوتی ہے،جس میں اس کا قابل عمل ہونا اور اس کی دیکھ بھال شامل ہے۔ جو  زیادہ تر ریاستی حکومتیں اور مرکزی/ریاستی عوامی شعبہ کے  یونٹ ہیں۔ باندھ  کی حفاظت کی تشخیص، دیکھ بھال، مرمت اور تزئین و آرائش سے متعلق تفصیلات متعلقہ باندھ کے  مالکان کے پاس دستیاب ہیں۔ اس کے علاوہ ، عام طور پر باندھ  مالکان خود  وقتاً فوقتاً پری مانسون اور مانسون کے بعد کے معائنہ کے لحاظ سے اپنے باندھ  کا حفاظتی آڈٹ کرتے ہیں ۔

مرکزی حکومت نے ڈیم سیفٹی ایکٹ(ڈی ایس اے )2021 کو نافذ کیا ہے جس کا  مقصد ملک کے تمام مخصوص باندھ  کی نگرانی، معائنہ، ان کے قابل عمل ہونا  اور دیکھ بھال ،باندھ  کے قابل عمل نہ ہونے سے متعلق آفات کی روک تھام اور ان کے محفوظ کام کو یقینی بنانے کے لیے ادارہ جاتی طریقہ کار فراہم کرنا ہے۔  ڈی ایس اے -2021 کی دفعات کے مطابق، باندھ کی حفاظت کے لئے بنائی گئی نو تشکیل شدہ 29 ریاستی تنظیموں  نے اپنے ڈیم سیفٹی یونٹس کے ذریعے اپنے اپنے دائرہ اختیار میں آنے والے باندھ  کے مانسون سے پہلے اور کے بعد کے معائنے کیے ہیں۔

حکومت ہند نے باندھ کی  بحالی اور بہتری کے منصوبے (ڈی آر آئی پی ) کو ان کی حفاظت اور قابل عمل ہونے کی  کارکردگی کو بہتر بنانے کے لیے بیرونی فنڈنگ سے لاگو کیا ہے۔ اپریل 2012 سے مارچ 2021 کے دوران نافذ کئے گئے عالمی بینک کی مالی اعانت سے چلنے والے ڈی آر آئی پی فیز-I پروگرام کے تحت،7 ریاستوں میں 223 باندھ  ہیں اور ان باندھ  کو اس پروگرام کے تحت لانے  کے لیے ان کی طرف انہیں ترجیح دی گئی اور  جامع آڈٹ اور بحالی کا کام کیا گیا ہے۔ ان 223 ڈیموں میں سے 2 ڈیم 100 سال سےزیادہ  پرانے ہیں۔ اس پروجیکٹ کا فیز II اس وقت زیر عمل ہے۔

پراجیکٹ/باندھ  حکام کی فراہم کردہ معلومات کی بنیاد پر مرکزی  واٹر کمیشن کے مرتب کردہ نیشنل رجسٹر آف لارج ڈیم (2019 ایڈیشن) کے مطابق،زیر عمل  227  بڑے باندھ  ہیں جو 100 سال سے زیادہ پرانے ہیں (1921 میں یا اس سے پہلے تعمیر کیے گئے)۔ان باندھ  کی ریاست وار تعداد ضمیمہ میں منسلک کی گئی ہے۔

کیونکہ 'پانی' ریاستی موضوع ہے ،اس لئےچیک ڈیم یعنی باندھ کی تشخیص(جو بنیادی طورپر  مٹی کا تحفظ اور پانی کو ری چارج  کرنے والا چھوٹا ڈھانچہ  ہے) سمیت   آبی وسائل کے منصوبوں کی تعمیر، باندھ کا زیر عمل ہونا  اور باندھ کی دیکھ بھال بنیادی طور پر ریاستوں کی ذمہ داریاں ہیں۔ چیک ڈیموں، ان کی فعالیت اور ان کی دیکھ بھال وغیرہ سے متعلق معلومات متعلقہ ریاستی حکومتوں کے پاس ہیں۔

یہ معلومات جل شکتی کے وزیر مملکت جناب بشویشور ٹوڈو نے آج لوک سبھا میں ایک تحریری جواب میں دی۔

نمبر شار

ریاست/مرکز کے زیر انتظام علاقے

100سال سے زیادہ پرانے بڑے باندھ کی تعداد (1921 میں یا اس سے پہلے تعمیر کئے گئے)

1.

انڈمان اور نیکوبار جزائر

-

2.

آندھرا پردیش

5

3.

اروناچل پردیش

-

4.

آسام

-

5.

بہار

1

6.

چھتس گڑھ

7

7.

گوا

-

8.

گجرات

30

9.

ہریانہ

-

10.

ہماچل پردیش

0

11.

جموں و کشمیر

0

12.

جھارکھنڈ

0

13.

کرناٹک

15

14.

کیرالہ

1

15.

مدھیہ پردیش

62

16.

مہاراشٹر

42

17.

منی پور

-

18.

میگھالیہ

0

19.

میزورم

-

20.

ناگالینڈ

-

21.

اوڈیشہ

3

22.

پنجاب

0

23.

راجستھان

25

24.

سکم

-

25.

تمل ناڈو

1

26.

تریپورہ

-

27.

اترپردیش

17

28.

اتراکھنڈ

0

29.

مغربی بنگال

0

30.

تلنگانہ

18

 

کُل

227

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

****

ش ح۔ ام۔

U-13554


(ریلیز آئی ڈی: 1882071) وزیٹر کاؤنٹر : 111
یہ ریلیز پڑھیں: English