کیمیکلز اور فرٹیلائزر کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

دواؤں  کی دریافت اور ان کی تیاری میں تحقیق و ترقی کے لیے رقوم

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 26 JUL 2022 5:11PM by PIB Delhi

مختلف سائنسی وزارتوں اور محکموں کے تحت بہت سے ادارے اور تنظیمیں دواؤں کے شعبے میں تحقیق و ترقی اور اختراع کے کام انجام دیتی ہیں۔ جس کے لیے ان کے پاس رقوم کی سہولت موجود ہوتی ہے۔ دوا سازی کے محکمے نے بھارت میں دوا سازی سے متعلق تعلیم و تحقیق کے شعبے میں کوالٹی اور مہارت کو پروان چڑھانے اور فروغ دینے کے مقصد سے قومی اہمیت کے اداروں کے طور پر دوا سازی  کی   تعلیم و تحقیق  کے سات قومی ادارے قائم کیے ہیں۔ اِن این آئی پی ای آر کو مستحکم بنانے اور جدید ترین شکل دینے کے مقصد سے سال 22-2021 سے سال 26-2025 تک کی مدت کے لیے 1500 کروڑ روپے کے اخراجات کی منظوری دی ہے۔

دوا سازی کے محکمے نےمختلف وزارتوں اور محکموں کے تحت مختلف تنظیموں کی طرف سے کیے جانے والے کا وقتاً فوقتاً جائزہ لینے ، تحقیقی کام میں تعاون کرنے کے لیے بین محکمہ جاتی کمیٹی آئی ڈی سی بھی قائم کی ہے تاکہ رقوم کا صحیح استعمال ہو سکے اور ایک ہی مقصد سے کئی بار کی جانے والی کوششوں کو روکا جا سکے۔

این پی ای آر  نے تفصیلی بین محکمہ جاتی مشاورت کے بعد، مشن کی طرز پر کم خرچ، حفظان صحت کے لیے دواؤں کی دریافت سے متعلق ایک پروگرام تشکیل دیا ہے۔ انہوں نے  تحقیق سے متعلق قومی فاؤنڈیشن  سے رقوم مانگی ہیں۔ سائنسی و صنعتی تحقیق کی کونسل سی ایس آئی آر اپنی آئین ساز لیباریٹریز کے ذریعے دواؤں کی دریافت اور انہیں فروغ دینے کےلیے تحقیق و ترقی کی سرگرمیاں انجام دیتی رہی ہے۔ اس کے لیے  تقریباً 53.56 کروڑ روپے مالیت کے فنڈز مختص کیے گئے ہیں۔ بایو ٹکنالوجی کے محکمے نے اپنی سرکاری شعبے کی انڈر ٹیکنگ ، بایو ٹکنالوجی سے متعلق صنعتی تحقیق کی امدادی کونسل نے تبیدق (ٹی بی)، اینٹی مائکروبائیل اے ایم آر، ذیابیطس، کینسر، بہت کم پائی جانے ولای بیماریوں کے میدانوں میں دوائیں دریافت کرنے کے لیے آر اینڈ ڈی پروجیکٹوں پر عمل درآمد میں سہولت فراہم کی ہے۔ یہ سہولت ڈی بی ٹی اور بی آئی آر اے سی کی مستقل اسکیموں کے ذریعے فراہم کی گئی ہیں۔ سائنسی و ٹکنالوجی کے محکمے ڈی ایس ٹی  نے حال ہی میں بہت کم سامنے آنے والی بیماریوں کی تحقیقات کے لیے تجاویز طلب کی ہیں تاکہ جینیرک دوائیں لائی جا سکے  جو پیٹینٹ نہیں ہیں اور جن دواؤں کا پیٹینٹ ختم ہو گیا ہے انہیں کم خرچ بنانے کے لیے پیٹینٹ کے تحت یہ دوائیں تیار کی جا سکیں۔

صحت اور خاندانی بہبود کی وزارت کے تحت دواؤں کے  معیار کو کنٹرول کرنے والی مرکزی تنظیم سی ڈی ایس سی او نے دواؤں اور کاسمیٹک قانون 1940  کی شقوں اور اس کے تحت بنائے گئے ضابطوں  کے مطابق ملک میں نئی دواؤں کو منظوری دی ہے۔ سبھی منظور شدہ دواؤں کی جامع فہرست https://cdsco.gov.in/opencms/en/Approval_new/Approved-New-Drugs/ پردستیاب ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 

ش ح۔ ا س۔ ت ح۔

U -11901


(ریلیز آئی ڈی: 1871203) وزیٹر کاؤنٹر : 80
یہ ریلیز پڑھیں: English