ماحولیات، جنگلات اور موسمیاتی تبدیلی کی وزارت

ماحولیات ، جنگلات اور آب و ہوا کی تبدیلی کے مرکزی وزیر نے ہم خیال ترقی پذیر ممالک (ایل ایم ڈی سی) کی وزارتی میٹنگ میں شرکت کی


کوپ 27 کو بجا طور پر "عمل درآمد کا کوپ" کہا جاتا ہے: جناب یادو

تمام ممالک سے پی ایم مودی کے ذریعہ شروع کی گئی مشن لائف کی تحریک میں شامل ہونے کی درخواست کی

مشن لائف ای، لائف اسٹائل برائے ماحولیات، لوگوں اور کرہ ارض کے لیے سازگار کوشش: جناب یادو

Posted On: 21 OCT 2022 9:27PM by PIB Delhi

 

نئی دہلی، 21اکتوبر، 2022/ ماحولیات، جنگلات اورآب و ہوا کی تبدیلی کے مرکزی وزیر، جناب بھوپیندر یادو نے جمعہ 21 اکتوبر 2022 کو 'آب و ہوا کی تبدیلی سے متعلق کوپ 27 کی تیاری - توقعات اور چیلنجز' کے عنوان سے ہم خیال ترقی پذیر ممالک (ایل ایم ڈی سی ) کی ورچوئل وزارتی میٹنگ میں شرکت کی۔

مرکزی وزیر نے آب و ہوا کی تبدیلی سے پیدا ہونے والے چیلنجوں پر روشنی ڈالی جو گذشتہ سال  درپیش ہوئے۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ تمام براعظموں کے متعدد خطوں میں بے شمار شدید موسمی واقعات اور قدرتی آفات میں عالمی تابکاری کا غیر واضح تاثر دیکھا جا سکتا ہے۔ انہوں نے شرکت کرنے والے ممالک پر موسمیاتی کارروائی کی فوری ضرورت پر زور دیا۔

جناب یادیو نے ایل ایم ڈی سی دوست اور شراکت دار ملک کے طور پر کوپ 27 کے لیے مصری صدارت کی حمایت کی۔ انہوں نے اس بات کو سراہا کہ کوپ 27 کو بجا طور پر ’’کوپ آف امپلی منٹیشن‘‘کا نام دیا گیا ہے۔ انہوں نے خاص طور پر اس بات کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ ترقی یافتہ ممالک کی طرف سے کوپ 26 میں کئے گئے وعدوں اور اس کے جواب میں کئے گئے اقدامات کے درمیان بڑا فرق پوری دنیا کے سامنے واضح ہے۔

جناب یادو نے مایوسی کا اظہار کیا کہ ترقی یافتہ ممالک  نے ایک بار پھر روایتی ایندھن کے استعمال شروع کر دیا ہے ۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ ہر ملک  کا مضر صحت گیسوں کا مجموعی اخراج یا کاربن کا حصہ اُن کی منصفانہ اور مساویانہ حد کے اندر ہونا چاہیے۔

 

مرکزی وزیر نے ایل ایم ڈی سی کے ساتھیوں کی حوصلہ افزائی کی کہ وہ کوپ 27 میں آگے بڑھیں، مصری ایوان صدر کی حمایت کریں، موافقت اور نقصان اور نقصان کے سلسلے میں ایک لائحہ عمل تیار کریں، یہ دو مسائل تمام ترقی پذیر ممالک کی توجہ کا مرکز ہیں۔

انہوں نے ہر سال 100 ارب امریکی ڈالر کے متحرک ہونے کے ، کبھی نہ پورا ہونے والے مقصد پر  افسوس کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ ترقی یافتہ ممالک کو اس کے حصول کے لیے نقش راہ تیار کرنے کے لیے کہا جائے ۔ آب و ہوا سے متعلق رقوم کے  معاملے پر، انہوں نے  واضح طور پر کہا کہ آب و ہوا سے متعلق رقوم کی تعریف معین کرنا ضروری ہے۔

مرکزی وزیر نے زور دے کر کہا کہ تقاضوں کو پورا کرنے اور عمل درآمد میں زیادہ امنگوں سے متعلق ورک پروگرام کے تحت پیرس معاہدے کے مقاصد کو تبدیل کرنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی ۔ اس کے بجائے ورک پروگرام کے بہترین طور طریقوں کے تحت نئی ٹکنالوجیز اور ٹکنالوجی کی منتقلی اور صلاحیت سازی کے لیے نئے طرز کے اشتراک پر مذاکرات کیے جاسکتے ہیں۔

جناب یادو نے تمام ممالک سے لائف  کی تحریک میں شامل ہونے کی درخواست کی جو ماحولیات کے لیے ساز گار طرز زندگی ہے۔  عوام کے لیے سازگار ہے اور کرہ ارض کے لیے سازگار کوشش ہے جس کے ذریعے لاپرواہی اور ضائع کرنے والی کھپت کو اقل و فہم اور سوچ سمجھ کر کیے جانے والے استعمال میں بدلنے کی بات کہی گئی ہے۔ انہوں نے ایل ایم ڈی سی کو بتایا کہ لائف مشن کا آغاز وزیراعظم نریندر مودی نے 20 اکتوبر 2022 کو کیا تھا۔ آغاز کی اس تقریب میں اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل جناب انتونیو گوتریس کے ساتھ وزیراعظم نریندر مودی بھی تھے۔

وزارتی اجلاس 6 نومبر سے 18 نومبر 2022 تک شرم الشیخ، مصر میں منعقد ہونے والی فریقین کی آئندہ 27ویں آب و ہوا کی تبدیلی سے متعلق نفرنس سے قبل کثیر قومی ملک بولیویا نے میزبانی کی تھی۔ اجلاس کے دوران ایل ایم ڈی سی وزراء، ایل ایم ڈی سی ایشیا اور دیگر خطوں کے تقریباً 18 ترقی پذیر ممالک نے ایک مشترکہ وزارتی بیان کی توثیق کی ۔

  ۔۔۔

                    

ش ح ۔ اس۔ ت ح ۔                                                 

U – 11766



(Release ID: 1870517) Visitor Counter : 150


Read this release in: English , Hindi