کوئلے کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav g20-india-2023

کوئلے کی وزارت نے کوئلے کی بلا رکاوٹ نکاسی کے لیے 68 فرسٹ مائل کنکٹیویٹی (ایف ایم سی) پروجیکٹس شروع کیے


18000 کروڑ روپئے کی لاگت والے 51 ایف ایم سی پروجیکٹس مالی برس 2025 تک شروع کیے جائیں گے

مشینی نقل و حمل پر توجہ مرکوز کرنے کے لیے قومی کوئلہ لاجسٹک پلان

Posted On: 20 OCT 2022 3:45PM by PIB Delhi

A picture containing sky, outdoor, track, factoryDescription automatically generated

بھارت کی توانائی سلامتی کو مضبوط بنانے اور درآمدشدہ کوئلے کی جگہ گھریلو طور  پر کانکنی کے ذریعہ حاصل کیے گئے کوئلے کا استعمال کرکے آتم نربھر بھارت کا احساس کرانے کے لیے، کوئلہ کی وزارت نے مالی برس 2025 میں 1.3 بلین ٹن اور مالی برس 2030 تک 1.5 بلین ٹن کوئلہ پیداوار کا ہدف طے کیا ہے۔ لاگت کے لحاظ سے اثر انگیز، تیز اور ماحولیات دوست کوئلہ نقل و حمل کی ترقی ملک کا اہم ہدف ہے۔

مستقبل میں کوئلے کی نکاسی میں اضافہ کو مدنظر رکھتے ہوئے، کوئلے کی وزارت نیشنل کول لاجسٹک پلان کی ترقی پر کام کر رہی ہے  جس کے تحت کوئلے کی کانوں کے نزدیک ریلوے نیٹ ورک کے ذریعہ فرسٹ مائل کنکٹیویٹی اور کوئلہ کانوں میں ریل نیٹ ورک کو مضبوط کرنا شامل ہے۔

کوئلے کی وزارت نے کانوں میں کوئلے کے سڑک نقل و حمل کو ختم کرنے کے لیے ایک مربوط نقطہ نظر تیار کرنے کے لیے حکمت عملی وضع کی ہے اور ’’فرسٹ مائل کنکٹیویٹی‘‘ پروجیکٹ کے تحت مشینی کوئلہ نقل و حمل اور لوڈنگ سسٹم کو اپ ڈیٹ کرنے کے لیے اقدامات کیے ہیں۔ ریپڈ لینڈنگ سسٹم والے کوئلہ ہینڈلنگ پلانٹس (سی ایچ پی ) اور سائیلوس کو کوئلے کے ٹکڑے کرنے، انہیں خصوصی سائز میں لانے اور کمپیوٹر کی مدد سے لوڈنگ جیسے فوائد حاصل ہوں گے۔

کوئلے کی وزارت نے 522 ملین ٹن سالانہ (ایم ٹی پی اے) صلاحیت کے حامل 51 فرسٹ مائل کنکٹیویٹی (ایف ایم سی) پروجیکٹس (44- سی آئی ایل، 4- ایس سی سی ایل اور 3- این ایل سی آئی ایل) شروع کیے ہیں، جن میں سے 95.5 ایم ٹی پی اے صلاحیت کے حامل 8 پروجیکٹوں (6- سی آئی ایل اور 2- ایس سی سی ایل) کو شروع کیا جا چکا ہے۔ ان پروجیکٹوں کی لاگت 18000 کروڑ روپئے کے بقدر ہوگی اور یہ تمام پروجیکٹس مالی برس 2025 تک شروع ہو جائیں گے۔چونکہ سی آئی ایل نے کوئلے کی پیداوار میں نئے پروجیکٹس شروع کیے ہیں، اس لیے مالی برس 2020-27 کے دوران 317 ایم ٹی صلاحیت کے حامل 17 اضافی ایف ایم سی پروجیکٹوں کو نافذ کرنے کی تجویز پیش کی گئی ہے۔

ایف ایم سی کے ماحولیاتی اور لاگت کے فوائد پر 2020-21 میں قومی ماحولیاتی تحقیقی ادارے (این ای ای آر آئی)، ناگپور کے توسط سے مطالعہ کا اہتمام کیا گیا تھا۔ رپورٹ نے کاربن اخراج میں سالانہ تخفیف، ٹرکوں کے نقل و حمل میں تخفیف اور سالانہ ڈیزل کھپت اور لاگت میں اہم بچت ہونے کی بات کہی ہے۔

ایف ایم سی پروجیکٹوں سے انسانی مداخلت کم ہوگی، لوڈنگ میں کم وقت لگے گا اور بہتر کوالٹی والے کوئلے کا استعمال کیا جا سکے گا۔ لوڈنگ کا وقت کم ہونے سے ریک/ویگن کی دستیابی میں اضافہ ہوگا۔ سڑک نقل و حمل پر دباؤ کو کم کرنے سے صاف ستھرے ماحول اور ڈیزل پر بچت کو بھی بڑھاوا ملتا ہے۔ یہ کمپنی، ریلوے اور صارفین کے لیے ہر لحاظ سے کامیابی کی صورت ہوگی۔

 

***************

ش ح۔ا ب ن۔ م ف

U-NO.11660



(Release ID: 1869787) Visitor Counter : 82


Read this release in: English , Hindi