بھارت کا مسابقتی کمیشن
azadi ka amrit mahotsav

ہندوستان میں فلم تقسیم کاری چین پر بازار مطالعہ

प्रविष्टि तिथि: 14 OCT 2022 4:35PM by PIB Delhi

ہندوستانی مسابقتی کمیشن (’کمیشن‘)نے آج ’ہندوستان میں فلم تقسیم کاری چین پر بازار مطالعہ:اہم ماحصل اور تجزیہ‘، عنوان سے ایک رپورٹ جاری کی۔یہ مطالعہ فلم تقسیم کاری چین میں کچھ اہم مقابلہ جاتی ایشوز پر روشنی ڈالتا ہے، جن کی شناخت اسٹیک ہولڈرز کے ذریعے ہوئی ہے۔ ایسا کرنے میں مطالعہ چین میں متعدد تنظیموں کے رول پر بحث کی گئی ہے۔خواہ وہ فلم سازی، تقسیم کاری یا نمائش کی سطح پر ہو یا کچھ اداروں کی بہتر سودے بازی کی صلاحیت اور نتیجہ خیز غیر توازن ، مختلف سطحوں پر موجود رکاوٹیں، جوکھموں کی غیر مساوی تقسیم، ریوینو، شراکت داری نظم، سنیما میں نئی ٹیکنالوجی اور نمائش کی سطح پر انتظامی امور وغیرہ ہوں۔

اس مطالعے کے ماحصل اوراس کی روح کے زیر اثر کمیشن نے فلم صنعت کو مختلف اسٹیک ہولڈر زمروں کے لئے بعض خود کار ضابطہ اقدامات کو وضع کرنے کی سفارش کی ہے۔بعض از خود ضابطوں میں شامل ہیں:

ملٹی پلیکس اور فلم سازو کے لئے

  1. معاہدے کے لئے معیار ٹمپلیٹ کی جگہ پر  درزی کے انتظام کو اولیت دی جانی چاہئے۔ ریوینیو شراکت داری کے لئے موجودہ سلائیڈنگ اسکیل انتظامات پر کل معاہدوں کو اولیت دی جاسکتی ہے، جہاں ملٹی پلیکس اور فلم ساز پارٹیوں کے درمیان ماقبل بات چیت فیصد تقسیم کی بنیاد پر فلم کے ذریعے پید اشدہ کل ریوینیو کو ساجھا کرسکتے ہیں۔
  2. ملٹی پلیکس کے ذریعے پرموشن کو ساجھا کرکے پرموشن کے لئے فلم سازو کے تناظر میں مناسب شرائط پر غور کیا جاسکتا ہے۔
  3. ملٹی پلیکس کو نمائش میں کاروبار پر کسی بھی پابندی سے بچنا چاہئے، جو فلم سازو ں کی کاروباری آزادی میں رخنہ ڈال سکتا ہے۔

باکس آفس ریوینیو  کلیکشن کی رپورٹنگ

  1. ٹکٹنگ لاگ اور رپورٹ بنانے ، ریکارڈ کرنے اور بنائے رکھنے کے لئے باکس آفس نگرانی سسٹم کو اپنانا اور ایسے سسٹم کے ذریعے جمع کئے گئے ڈاٹا کو کسی بھی اسٹیک ہولڈر کے ذریعے تبدیل نہیں کیا جانا چاہئے۔
  2. فلم سازوں کو ایسے نگرانی سسٹم کی جانچ کرنے کے لئے آزاد آڈیٹروں کو فہرست بند کرنا چاہئےاور یہ یقینی بنایاجانا چاہئے کہ وہ ٹھیک سے کام کررہے ہیں اور ان کے ساتھ کسی طرح کی چھیڑ چھاڑ نہیں کی جارہی ہے۔

ورچوئل پرنٹ فیس(وی پی ایف)

  1. ملٹی پلیکس کو اداکئے گئے وی پی ایف کو پہلے مرحلہ وار طریقے سے ہٹا یا جاسکتا ہے۔ ڈیجیٹل سنیما آلات کے لئے وی پی ایف  سے چلنے والے لیز ماڈل پر ان کے انحصار کو دیکھتے ہوئے سنگل اسکرین کے لئے وی پی ایف کو رفتہ رفتہ ختم کیا جاسکتا ہے۔
  2. جب تک وی پی ایف کا فیصلہ اور نفاذ نہیں ہوجاتا ،تب تک ڈیجیٹل سنیما آلات (ڈی سی ای)فراہم کنندگان اور فلم سازوں کو باہمی طور سے قابل قبول وی پی ایف فیس پر بات چیت کرنی چاہئے اور یہ یقینی بنانا چاہئے کہ وی پی ایف کے سبب فلموں کی نمائش میں کوئی خلل نہ پڑے۔

اسٹیک ہولڈرز ایسو سی ایشن

  1. ایسو سی ایشن پر پابندی اور بائیکاٹ میں شامل ہونے اور غیر ممبروں کے ساتھ کام کرنے سے صنعت کو پابندی لگانے سے بچنا چاہئے۔اس کے علاوہ ایسو سی ایشن کو ایسے کسی دیگر عمل میں شامل نہیں ہونا چاہئے جو پہلے کمیشن کے ذریعے مسابقت –مخالف پایا گیا ہو۔
  2. ایسو سی ایشن کو اس بات پر غور کرنا چاہئے کہ اسٹیک ہولڈرز کے درمیان کسی بھی عدم اتفاق کو دور کرنے کے لئے ثالثی جیسے متبادل تنازعہ حل سسٹم کو کیسے ادارہ جاتی بنایاجاسکتا ہے۔
  3. ایسو سی ایشن کو صلاح دی جاتی ہے کہ وہ مسابقتی قانون کے بارے میں بیداری اور مسابقتی عمل آوری کی ضرورت کے بارے میں اپنے مطلقہ ممبروں کو باخبر کرنے والے پروگرام منعقد کریں۔

ڈیجیٹل سنیما

  1. معاہدے جو ڈیجیٹل خدمات فراہم کنندگان نمائش کاروں یا فلم سازوں کے ساتھ کرتے ہیں، جیسا بھی معاملہ ہو، سودے بازی ، صلاحیت ، عدم توازن کو کم کرنے کے لئے بات چیت کی گنجائش ہونی چاہئے۔ساتھ ہی یکطرفہ کسی فریق کے ساتھ طویل مدتی معاہدوں سے بچاجانا چاہئے۔

کمیشن نے فلم سازی ، تقسیم کاری اور نمائش کاری کے مختلف پہلوؤں میں اپنے قیمتی مشورے دے کر مختلف اسٹیک ہولڈرز کے ذریعے دیئے گئے تعاون کی ستائش کی۔کمیشن نے کلی طور پر اس امید کا اظہار کیا کہ سب کے بہترین مفا د میں اِکائیوں کے ذریعے مسابقت –مخالف روایتوں کو شامل کیا جائے گا۔ اس طرح ضابطہ جاتی مداخلت کو محدود کیا جاسکتا ہے۔

************

 

ش ح-ج ق–ن ع

U. No.11431


(रिलीज़ आईडी: 1867933) आगंतुक पटल : 143
इस विज्ञप्ति को इन भाषाओं में पढ़ें: English , हिन्दी , Telugu