جدید اور قابل تجدید توانائی کی وزارت
ملک کے انرجی مکس میں قابل تجدید توانائی کے حصہ کو بڑھانے کے لیے حکومت کے اقدامات
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
28 JUL 2022 4:16PM by PIB Delhi
بجلی اور نئی و قابل تجدید توانائی کے مرکزی وزیر جناب آر کے سنگھ نے آج لوک سبھا میں ایک تحریری جواب میں بتایا کہ حکومت نے ملک کے انرجی مکس میں قابل تجدید توانائی کا حصہ بڑھانے کے لیے کئی اقدامات کیے ہیں۔ جن میں یہ شامل ہیں:-
- خودکار راستے کے تحت 100 فیصد تک براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری (ایف ڈی آئی) کی اجازت دینا،
- 30 جون 2025 تک شروع کیے جانے والے منصوبوں کے لیے سولر اور ونڈ پاور کی بین ریاستی فروخت کے لیے انٹر اسٹیٹ ٹرانسمیشن سسٹم(آئی ایس ٹی ایس) چارجز کی چھوٹ،
- نئی ٹرانسمیشن لائنوں کا بچھانا اور قابل تجدید توانائی کے اخراج کے لیے نئے سب اسٹیشن کی گنجائش پیدا کرنا،
- سال 2030-2029 تک قابل تجدید خریداری کی ذمہ داری (آر پی او) کے لیے پیش رفت کا اعلان،
- پلگ اینڈ پلے کی بنیاد پر آر ای ڈویلپرز کو اراضی اور ٹرانسمیشن فراہم کرنے کے لیے آر ای پارکس کا قیام،
- اسکیمیں جیسے پردھان منتری کسان ارجا سرکشا ایوام اُتھان مہابھیان(پی ایم۔ کے یو ایس یو ایم) ، سولر روف ٹاپ فیز II، 12000 میگاواٹ سی پی ایس یو اسکیم فیز II، وغیرہ،
- سولر فوٹوولٹک سسٹم/آلات کی تعیناتی کے لیے معیارات کے لئے نوٹیفکیشن،
- سرمایہ کاری کو راغب کرنے اور سہولت فراہم کرنے کے لیے پروجیکٹ ڈویلپمنٹ سیل کا قیام،
- گرڈ سے منسلک سولر پی وی اور ونڈ پروجیکٹس سے بجلی کی خریداری کے لیے ٹیرف پر مبنی مسابقتی بولی کے لیے معیاری بولی کے رہنما خطوط۔
- حکومت نے احکامات جاری کیے ہیں کہ لیٹر آف کریڈٹ(ایل سی) یا پیشگی ادائیگی کے خلاف بجلی بھیجی جائے گی تاکہ آر ای جنریٹروں کو تقسیم کرنے والے لائسنس دہندگان کے ذریعہ بروقت ادائیگی کو یقینی بنایا جاسکے۔
*************
ش ح۔ ج ق ۔ رض
U. No.11101
(ریلیز آئی ڈی: 1865547)
وزیٹر کاؤنٹر : 85