مواصلات اور اطلاعاتی ٹیکنالوجی کی وزارت

وزیر اعظم نے 5جی خدمات کا آغاز کیا


صحت، تعلیم وغیرہ میں5جی کے استعمال کے معاملات کی نقاب کشائی، سی-ڈاٹ کے ذریعے تیار کردہ 5جی این ایس اےکور کا آغاز

ہندوستانی اسٹارٹ اپس کے ذریعہ تیار کردہ 5جی ٹیکنالوجی کی مصنوعات کا معائنہ کیا

Posted On: 01 OCT 2022 8:54PM by PIB Delhi

ہندوستان کی ڈیجیٹل تبدیلی اور کنیکٹیوٹی کو نئی بلندیوں تک لaے جانے کے لیے، وزیر اعظم جناب نریندر مودی نے آج ہندوستان میں 5جی خدمات کا آغاز کیا۔ انہوں نے تعلیم، صحت، ورکرز کی حفاظت، اسمارٹ ایگریکلچر وغیرہ میں مختلف ٹیلی کام سروس پرووائیڈرز کے 5جی استعمال کے کیسز کی بھی نقاب کشائی کی۔ قبل ازیں، انہوں نے سنٹر فار ڈویلپمنٹ آف ٹیلی میٹکس (سی ڈاٹ) کے ذریعہ تیار کردہ مقامی 5جی این ایس اے کور کابھی آغاز کیا اور صنعت کے مختلف ٹیکنالوجی کے مظاہروں کا مشاہدہ کیا۔ 5جی سلوشنز، چپ سیٹ، نیٹ ورکنگ کا سامان جو ہندوستانی ٹیلی کام اسٹارٹ اپس، ایم ایس ایم ایزاور بڑے مینوفیکچررز نے تیار کیا ہے۔ یہ ’آتم نربھر بھارت‘، ’جئے انوسندھان‘ اور ’سب کا ساتھ، سب کا وشواس‘ کو فروغ دینے کے وزیر اعظم کے وژن کے ساتھ ہم آہنگی لاتا ہے۔

یہ سنگ میل ہائی ٹیک ٹکنالوجی کے ساتھ ہندوستان کے لیے بڑے امکانات کو کھولتا ہے اور زراعت، صحت، تعلیم، ٹرانسپورٹ، لاجسٹکس، اسمارٹ شہروں، صنعت 4.0 اور مالیاتی شمولیت وغیرہ سمیت اہم شعبوں میں تبدیلی لانے کی راہ ہموار کرتا ہے۔ 5جی ٹیکنالوجی ہندوستان کی ترقی کو تقویت بخشے گی۔یہ عالمی سطح پر ایک اقتصادی اور ٹیک پاور ہاؤس کے طور پر پوزیشن میں ہے اور اسٹارٹ اپس کو موجودہ چیلنجوں کو حل کرنے، روزگار کے مواقع پیدا کرنے اور ہندوستان کی اقتصادی لچک میں تعاون کرنے کے لیے اختراعی حل کے ساتھ آنے کے نئے مواقع فراہم کرے گا۔

ڈیجیٹل انڈیا کے 04 ستون

1۔آلات کی قیمت - آتم نربھر بھارت کے ساتھ آلات کی قیمت کو کافی حد تک کم کیا جا سکتا ہے۔ سال 2014 میں ملک میں 02 موبائل مینوفیکچرنگ یونٹس تھے جبکہ اس وقت 200 مینوفیکچرنگ یونٹس ہیں۔ ہندوستان اب موبائل کی تیاری میں دنیا میں دوسرے نمبر پر ہے اور موبائل کا ایک بڑا برآمد کنندہ بھی ہے۔

ڈیجیٹل کنیکٹیویٹی - ملک نے بہت ترقی کی ہے۔ 2014 میں 6 کروڑ براڈ بینڈ صارفین تھے جو اب بڑھ کر 80 کروڑ ہو گئے ہیں۔ ملک میں تقریباً 100 جی پیز او ایف سی کے ساتھ منسلک تھے اور اب ملک میں 170000 سے زیادہ جی پی،او ایف سی سے منسلک ہیں۔ ملک کے دیہی علاقوں میں انٹرنیٹ استعمال کرنے والوں کی تعداد شہری علاقوں کی نسبت تیزی سے بڑھ رہی ہے۔

3۔ ڈیٹا کی لاگت - ڈیٹا کی لاگت 2014 میں 300 روپے فی جی بی سے 2022 میں 10 روپے فی جی بی سے کم ہو گئی ہے۔ فی شخص استعمال ہونے والا اوسط ڈیٹا 14 جی بی فی مہینہ ہے، اور ڈیٹا کی لاگت میں کمی سے شہریوں کے لیے ماہانہ کافی بچت ہوئی ہے۔

4۔ ڈیجیٹل فرسٹ کا آئیڈیا - بہت سے لوگوں کی رائے تھی کہ اس ملک کے دیہی غریب لوگ ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کو اپنانے کے قابل نہیں ہوں گے، لیکن شہریوں، خاص طور پر دیہی لوگوں نے ان مفروضوں کو غلط قرار دیا ہے۔ دیہی ہندوستان اپنی روزمرہ کی زندگی میں ڈیجیٹل ٹیکنالوجی اور انٹرنیٹ کو تیزی سے اپنا رہا ہے۔

کووڈ کے دور کے دوران جب لوگوں نے سوچا کہ زندگی اور معیشت تقریباً رک جائے گی، ہندوستان نے ایک بٹن کے ایک کلک پر ضرورت مندوں کو بہت زیادہ ضروری مدد فراہم کی، ڈاکٹروں نے مریضوں کے علاج کے لیے ٹیلی میڈیسن کا استعمال کیا اور تعلیم کو فعال کرنےاور دفتر جانے والوں کے لیے گھر سے کام کرنے میں مدد کرنے کے لیے دور دراز کے علاقوں تک انٹرنیٹ پہنچا۔ ڈیجیٹل انڈیا نے ملک کے لوگوں کو ایک اسٹیج اور مارکیٹ فراہم کی ہے، جہاں وہ اپنی مصنوعات کی نمائش کر سکتے ہیں اور نئی منڈیوں تک پہنچ سکتے ہیں۔

حکومت کا ملک کے ہر گھر کو بجلی، پانی اور کھانا پکانے کی گیس فراہم کرنے کا وژن ہے، اسی طرح حکومت نے سبھی کو انٹرنیٹ فراہم کرنے کا عہد کیا ہے اور تمام دیہاتوں کو 4جیسیچوریشن کے لیے پالیسی معاونت فراہم کی ہے۔

حکومت نے ٹیلی کام سیکٹر میں شفافیت لانے اور غیر یقینی صورتحال کو کم کرنے کے لیے متعدد پالیسی اور ریگولیٹری تبدیلیاں کی ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ ہندوستان پچھلے 03 صنعتی انقلابات کا فائدہ نہیں اٹھا سکا، تاہم ہم نہ صرف صنعت 4.0 کی سرمایہ کاری کریں گے بلکہ دنیا کی قیادت کریں گے۔

ہندوستان میں 5 جی خدمات  کا آغاز آئی ایم سی 2022 کی افتتاحی تقریب میں کیا گیا تھا جس کا اہتمام ٹیلی مواصلات کے محکمے اور سیلولر آپریٹرس ایسوسی ایشن ا ٓف انڈیا (سی اے آئی) نے مشترکہ طور پر کیا تھا۔ وزیر اعظم کی قیادت میں  اور مشترکہ کوششوں کے ساتھ، ہندوستان نے سماج کو بااختیار بنانے اور خود کو ایک عالمی اقتصادی پاور ہاوس کے طور پر کھڑا کرنے کے لیے غیرمعمولی کامیابی حاصل کی ہے۔’ٹیکیڈ آف انڈیا‘ کے طور پر سراہے جانے کے بعد ، یہ ایک ٹیک انقلاب کے کنارے پر کھڑا ہے۔ 5 جی ٹیکنالوجی کی شمولیت کے ساتھ ہندوستان کا ڈیجیٹل بنیادی ڈھانچہ لچکدار ہوجائے گا اور بڑے سماجی واقتصادی فوائد کا پتہ لگائے گا۔

وزیر اعظم نے مرکزی وزارتوں، ریاستی حکومتوں اور نجی شعبے کے شہریوں کی خدمات میں اضافہ کرنے، روزگار کے مواقعوں کو تیز کرنے اور پیداواری صلاحیت اور کارکردگی کو بڑھانے کے لیے، 5 جی کے استعمال کے مختلف معاملات کو استعمال کرنے کی تاکید کی۔

وزیر اعظم نے ٹی ایس پیز، صنعتوں اور اسٹارٹ اپس کے مختلف پویلینس کا دورہ کیا اور ان کی طرف سے دکھائے گئے اختراعی استعمال کے کیسز کا گہری نظر سے  مطالعہ کیا۔ انھوں نے دیہی براڈ بینڈ کنیکٹی ویٹی کے لیے  کنیکٹڈ ایمبولینس (ایمرجنسی صحت دیکھ بھال)، کمیونٹی کلینک (عوام الناس کی صحت دیکھ بھال / علاج)، ریموٹ الٹرا ساؤنڈ روبوٹ ڈیمو  (ریموٹ صحت دیکھ بھال) اور  فکسڈ وائرلیس ایکسس (ایف ڈبلیو اے) کا معائنہ کیا۔

نمائش کنندگان میں سے ایک کمپنی نے عوامی نیٹ ورکس (بڑے نیٹ ورکس) کے لیے مقامی طور پر تیار کردہ 5 جی کور کا ڈیش بورڈ دیکھا۔ کچھ چند ممالک ہی ایسے ہیں جنھوں نے عوامی نیٹ ورکس کے لیے موزوں کور تیار کیا ہے۔ ایک اور ڈسپلے،  ہائی سکیورٹی راؤٹرز اور مصنوعی ذہانت پر مبنی سائبر تھریٹ ڈیٹکشن پلیٹ فارم کا تھا۔

سی – ڈاٹ نے مطلع کیا کہ اس نے بی ایس این ایل کے ساتھ تیجس کے دیسی 4 جی کور اور 4 جی ریڈیو آلات کا پائلٹ کامیابی سے مکمل کرلیا ہے۔ 5 جی این ایس اے (نان-اسٹینڈ الون) کور، چنڈی گڑھ میں بی ایس این ایل نیٹ ورک میں نصب ہے۔سی – ڈاٹ کے مقامی شراکت دار وی وی ڈی این،وائی سگ نے سی – ڈاٹ کے ساتھ آخر سے آخر حل فراہم کرنے کے لیے، 5 جی ریڈیو آلات تیار کئے ہیں۔ سی – ڈاٹ نے پویلین میں 5 جی این ایس اے کال کا بھی مظاہرہ کیا۔

وزیر اعظم نے مقامی سی – ڈاٹ 5 جی این ایس اے کور کا بھی آغاز کیا۔

اُنھیں، اسمارٹ مینوفیکچرنگ میں 5 جی ٹیکنالوجی سے چلنے والی خود کار گائیڈڈ وہیکل (اے جی وی) کا استعمال بھی دکھایا گیا۔ اے جی وی، فیکٹریوں کے لیے کارآمد ایک خود مختار روبوٹ ہے۔

وزیر اعظم نے اسپتال سے منسلک اسمارٹ ایمولینس کا معائنہ کیا۔ اس اسمارٹ ایمبولینس میں 52 سے زیادہ تشخیصی ٹسٹ کئے جاسکتے ہیں۔ ٹسٹ کے نتائج حقیقی وقت میں  5 جی نیٹ ورک پر اسپتال میں ڈاکٹر کو مسلسل مدد کے لیے دیکھے جاسکتے ہیں۔ اسے دیہی اور پہاڑی علاقوں میں صحت کی خدمات کے لیے منسلک کلینک کے طور پر بھی استعمال کیا جاسکتا ہے۔

اُنھیں سیوریج کی پانی کی سطح، بہاؤ، معیار، مرکزی مقام پر گہریلی گیسوں کی موجودگی کے بارے میں ، سینٹرلائزڈ ڈیش بورڈ کے ساتھ سیویج مانیٹرنگ نظام دکھایا گیا۔اُنھیں، آئی او ٹیز، ایچ ڈی کیمروں اور ڈرونس کا استعمال کرنے والے اسمارٹ – ایگری پروگرام بھی دکھایا گیا۔

انھوں نے نئی دلّی کےپرگتی میدان میں ،انڈیا موبائل کانگریس (آئی ایم سی 2022) کا افتتاح بھی کیا جو کہ ایشیاء کی معروف ٹیکنالوجی نمائش ہے۔ اس کا موضوع تھا ’’اینکیپسولیٹ، انگیج اور ایک نئی ڈیجیٹل کائنات کا تجربہ کریں‘‘۔آئی ایم سی کی کوششیں بالکل وژن کے مطابق ہیں۔اس کا مقصد ڈیجیٹل انڈیا اور تجارت، صحت کی دیکھ بھال، تعلیم، مواصلات اور مالی شمولیت کے شعبوں میں درپیش چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے ، میک ان انڈیا ٹیکنالوجی کو فروغ دینا ہے۔ یہ اس بات کو اجاگر کرنے کی کوشش کرتا ہے کہ کس طرح 5جی ٹیکنالوجی، طبی امداد کو یقینی بناکر معیار اور صحت کی سہولیات تک رسائی کو بہتر بناسکتی ہے۔ دور دراز کے علاقوں، ٹیلی ہیلتھ، بنیادی نگہداشت کے مراکز میں خصوصی صحت کی دیکھ بھال اور انھیں خصوصی اسپتالوں سے منسلک کرنا ہے۔مزید برآں، تعلیم میں 5 جی، دیہی علاقوں کے اسکولوں کو منسلک کرنے، دور دراز کی تعلیم فراہم کرنے اور نصاب کو ڈیجیٹل کرنے کے لیے اہم ہے۔ یہ زرعی شعبے کو بااختیار بناسکتا ہے اور ریئل ٹائم ڈیٹا کے استعمال کے ساتھ درست کاشتکاری، مویشی پروری،آبی زراعت، فصلوں کے کیڑوں پر قابو پانے اور زرعی آراضی کی نقشہ سازی والے کسان، منتقلی، نگرانی، آٹومیشن اور ڈرون پر مبنی سہولیات کے لیے استعمال کیا جاسکتا ہے۔

اس سال آئی ایم سی کے عظیم الشان ایڈیشن میں ٹیکنالوجی پر مبنی مصنوعات کی نمائش کی جارہی ہے جو ڈیجیٹل تبدیلی اور مواصلات، رابطے اور تجارت کو  ہموار بنانے میں اپنی حصہ رسدی کر رہی ہے۔ ا س کا مقصد جدید ترین تکنیکی ترقی کا پہلا تجربہ کرنا ہے۔ آئی ایم سی 2022 کے 60 پلس  اجلاسوں میں تقریباً 70000 شرکاء، 7000 سی ایکس او – سطح کے مندوبین، 300 مقررین اور 350 نمائش کنندگان کی شمولیت کی توقع ہے۔

اپنے قیام کے بعد سے، آئی ایم سی ٹیکنالوجی مصنوعات تیاری کے لیے، ایک عالمی مرکز کے طور پر ،ہندوستان کی طاقت اور پوزیشن کو فعال طور پر فروغ دے رہا ہے۔یہ نئی ڈیجیٹل کائنات میں اسٹارٹ اپس، چھوٹے پیمانے کی صنعتوں کے کردار کو مزید اجاگر کر رہا ہے تاکہ درجہ ذاتی خدمت، آلات اور ایپلی کیشنز کے ذریعے بہترین خدمات فراہم کی جاسکیں۔وزیر اعظم نے ڈیجیٹل ماحولیاتی نظام کو یکجا کرنے اور ڈیجیٹلائیزیشن، قوم کی تعمیر ، صنعتی انقلاب اور حکومتی خدمات کو ہر ایک دہلیز تک پہنچانے کے لیے مکالمے اور کوششوں کے ایک بہترین پلیٹ فارم فراہم کرنے کے لیے ، آئی ایم سی کی کوششوں کی تعریف کی۔

*****

U.No.10937

(ش ح - اع - ر ا)   

 



(Release ID: 1864441) Visitor Counter : 165


Read this release in: English , Hindi