نائب صدر جمہوریہ ہند کا سکریٹریٹ
azadi ka amrit mahotsav

نائب صدرجمہوریہ جگدیپ دھنکھڑ نے اختراع اورصنعت کاری کے فروغ کے لئے حکومت کی کوششوں کی تعریف کی ہے


نائب صدرجمہوریہ نے  دولت پیدا کرنے والوں کومناسب احترام دینے کی اپیل کی

بھارت کے مفادات کو ہر چیز سے اوپر رکھا جائے ، دھنکھڑ کا بیان

نائب صدرجمہوریہ نے 16ویں بی ایم ایل منجل ایوارڈز پیش کئے

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 13 SEP 2022 9:30PM by PIB Delhi

نائب صدرجمہوریہ جناب جگدیپ دھنکھڑ نے حالیہ برسوں میں ترقیاتی فریم ورک میں  زبردست تبدیلیوں کی  زبردست تعریف کی ہے  ، جس سے  سرمایہ کاری بڑھانے کے لئے ایک سازگار ایکو نظام  اورکامرس صنعت میں مالیاتی آمدکی  راہ ہموار ہوئی ہے ۔

آج نئی دہلی میں 16 ویں بی ایم ایل منجل ایوارڈ پیش کرنے کے بعد ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے نائب صدرجمہوریہ نے کہا کہ بھارت ترقی کی طرف گامزن ہے اور  بھارت اور شہریوں کے لئے احترام میں عالمی سطح پر ایک مثبت اور اہم رخ حاصل کیا ہے ۔

اس بات کا ذکر کرتے ہوئے کہ ہندوستان نوآبادیاتی نظام کے  شروع ہونے سے قبل دنیا کی ایک سرکردہ معیشت تھی، نائب صدرجمہوریہ نے اس اعتماد کااظہار کیا کہ اگرہم یقینی طور پر اپنا شاندار ماضی پھر سے حاصل کرنے کی طرف بڑھ رہے ہیں ۔

نائب صدرجمہوریہ نے کہا کہ ہندوستانی ٹیلینٹ دنیا میں دوسرے نمبر پر ہے ۔ انہوں نے نئے صنعت کاروں کو ترقی کے لئے ایک سازگار ایکو نظام فراہم کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔

دولت  پیدا کرنے والوں کو مناسب احترام دینے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے ڈاکٹر شنکر چاہتے تھے کہ میڈیا ہندوستانی صنعت کاروں کی حصولیابیوں کواجاگرکرےاوران کی مثبت داستانوں کومنظر عام پر لائے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس سے ملک  میں روشن ذہن افرادکو تحریک ملے گی ۔

یہ ایوارڈز آنجہانی ڈاکٹر برج موہن لال منڈل کی یاد میں قائم کیا گیا ہے جو پدم بھوشن ایوارڈ یافتہ ہیں اور ہیرو گروپ کے بانی ہیں ، جن کا  ایسی تنظیموں کے طور پر احترام کیا جاتاہے جو زبردست انسانی وسائل کے لئے ثابت قدم رہی ہیں ۔

ہیروموٹر کارپوریشن کے چیئر مین جناب پون کانت منجل ، ہیرو انٹرپرائز کے چیئرمین جناب سنل کانت منجل، جیوری کے ارکان ، ایوارڈیافتگان اور دیگر معزز شخصیتوں نے بھی اس تقریب میں شرکت کی ۔

 

 

 

تقریر کا متن درج ذیل ہے:

بی ایم ایل منجل ایوارڈز - مائنڈ مائن  چوٹی کانفرنس ، 2022 سے منسلک ہونے پر بے حد خوشی ہوئی ہے۔

یہ  تقریب مناسب طور پر وبائی امراض کے بعد ہندوستان کے دوبارہ مقصد کی نشاندہی کرتی ہے۔ کس طرح بھارت کووڈوبا سے نمٹا ہے اس کی قومی اور عالمی سطح پر تمام حلقوں  کی طرف سے  ستائش کی گئی ہے ۔

بی ایم ایل منجل ایوارڈ ز۔سیکھنے سکھانے اور ترقی کے ذریعہ کاروباری مہارت ایک لحاظ سے ابھرتے ہوئے ایکو نظام کی عکاسی کرتا ہے جو ان تمام لوگوں کی مثبت  حمایت کرتا ہے جو ان کی صلاحیتوں اورمہارت سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔

ڈاکٹر اے پی جے عبدالکلام کا مشاہدہ اہمیت کا حامل ہے۔

’’جب سیکھنا بامقصد ہوتا ہے تو تخلیقی صلاحیتوں میں نکھار آتا ہے ۔ جب تخلیقی صلاحیتیں نکھرتی ہیں تو  نئی سوچ ابھر کر سامنے آتی ہے۔ جب سوچ ابھرتی ہے تو علم پوری طرح روشن ہوتا ہے۔ جب علم روشن ہوتا ہے تو معیشت ترقی کرتی ہے‘‘۔

حکومت کی طرف سے حالیہ برسوں میں مثالی اقدامات اور اسکیموں کے نتیجے میں، مؤثر کاروباری صلاحیتیں اقتصادی  شعبے میں قدم جماتی ہیں۔

ہندوستان ترقی کی طرف گامزن ہے ۔ حالیہ برسوں میں بھارت اور اس کے شہریوں کے تئیں عالمی سطح پر احترام نے حیرت انگیز مثبت اورترقی کی جانب رخ کیا ہے ۔

 یہ اطمینان بخش اور خوش  آئند بات ہے کہ پچھلی چند دہائیوں میں، ہندوستانیوں نے گوگل، مائیکروسافٹ، ٹویٹر، آئی بی ایم، ماسٹر کارڈ، چینل، پیپسیکو اور اسٹار بکس  جیسی عالمی سطح پرشہرت یافتہ ہاؤسز  کی کامیابی میں تیزی سے مرکزی کردار ادا کیا ہے۔

حکومت کے صحیح  طریقہ کار اور پرعزم قیادت کے ساتھ، ہندوستان  پہلے ہی دنیا کی پانچویں سب سے بڑی معیشت بن چکا ہے اور اس دہائی کے آخر تک تیسری سب سے بڑی معیشت بننے  کی جانب گامزن ہے۔ تقریباً دو ہزار سال تک، نوآبادیاتی حکمرانی کی آمد تک ہندوستان دنیا کی ایک سرکردہ معیشت تھی،اب  ہم یقینی طور پر اپنے شاندار ماضی کو دوبارہ حاصل کرنے کے راستے پرنکل پڑے ہیں۔

گزشتہ چند برسوں کے دوران ترقی کے فریم ورک میں جو تبدیلیاں لائی گئی ہیں ان سے تجارت اور صنعت میں سرمایہ کاری اور مالیاتی آمد میں اضافہ کے لیے سازگار اور مناسب ایکو نظام کے ظہور میں مدد ملی ہے۔ اس سے صحت مند اور حوصلہ افزا نتائج برآمد ہوئے ہیں۔

دنیا کی سب سے بڑی نوجوانوں کی آبادی کے ساتھ، نوجوانوں کو ہنر مند بنانا ہندوستان کے  مستقبل کو تشکیل دینے میں نمایاں رول  ا دا کرے گی ۔ دنیا کے نوجوانوں کی آبادی کے پانچویں حصے کو تربیت دینا واقعی مشکل کام ہے، مگریہ حکومت اور صنعت کے درمیان بڑھتی ہوئی ہم آہنگی کے ساتھ کامیابی سے یہ مشکل کام انجام دیا جارہا ۔

جدت طرازی اقتصادی ترقی کا کلیدی معاون ہے۔ مجھے یقین ہے کہ ہنر مندی کی تربیت اور انسانی وسائل کی ترقی میں اختراعات کے لیے آج کی یہ حوصلہ افزائی ہندوستان کے سرکاری اور نجی شعبے میں اچھے طور طریقوں کو فروغ دینے میں بہت اہم کردار ادا کرے گی، جس کے نتیجے میں تنظیموں میں کارکردگی اور مسابقت پیدا ہوگی۔

بڑھتی ہوئی ترقی کی رفتار کو محفوظ بنانے کے لیے حکومت اور صنعت کو شفافیت اور جوابدہی کو مزید فروغ دینے کی ضرورت ہے۔

مجھے یقین ہے کہ مائنڈ مائن  چوٹی کانفرنس 2022 ایک نتیجہ خیز مذاکرہ  ثابت ہو گا جس میں ممتاز پینلسٹ اور مقررین کی شاندار موجودگی ہے جو سبھی اپنے اپنے شعبوں میں پلاٹینم کیٹیگری کی نمائندگی کرتے ہیں۔

جناب ٹی وی موہن داس پائی کی قیادت میں جیوری کے نامور ممبران کو اس ایوارڈ کے لیے مبارکباد،جنہوں نے  بہترین تنظیموں کے انتخاب کے لیے ٹیلنٹ کی پرورش اور نشوونما کے لیے اختراعی حکمت عملی تیار کی ہے اور ان پر عمل درآمد کیا ہے۔

یہ میرا پختہ یقین ہے کہ یہ ایوارڈز کارپوریٹ دنیا کو اس قابل بنائیں گے کہ وہ ہنر مندی اور انسانی وسائل کی ترقی میں اپنے بہترین  طورطریقوں کو نوجوان کاروباریوں کے ساتھ  مشترک کر سکیں اور انہیں اپنی پوری صلاحیتوں کو حاصل کرنے کی ترغیب دیں۔

جئے ہند!‘‘

**********

 

 

 

ش ح ۔ ح ا۔ ف ر

U. No.10221


(ریلیز آئی ڈی: 1859114) وزیٹر کاؤنٹر : 174
یہ ریلیز پڑھیں: English , हिन्दी