جل شکتی وزارت
آبی وسائل کا موثر انتظام
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
01 AUG 2022 6:49PM by PIB Delhi
آبی وسائل کی مربوط ترقی کے قومی کمیشن (این سی آئی ڈبلیو آر ڈی) کی رپورٹ-1999 کے مطابق، سال 2025 اور 2050 کے لیے مختلف استعمال کے لیے ملک میں پانی کی ضرورت بالترتیب بی سی ایم 843 (بلین کیوبک میٹر) اور بی سی ایم 1,180 ہوگی ۔
پانی کے ایک ریاستی موضوع ہونے کے ناطے، آبی وسائل کو تقویت بہم پہنچانے ، اس کے تحفظ اور موثر انتظام کے اقدامات، بنیادی طور پر متعلقہ ریاستی حکومتوں کے ذریعے کیے جاتے ہیں۔ ریاستی حکومتوں کی کوششوں کی تکمیل کے لیے مرکزی حکومت مختلف اسکیموں اور پروگراموں کے ذریعے انہیں تکنیکی اور مالی مدد فراہم کرتی ہے۔
پانی کے زیادہ سے زیادہ استعمال کو یقینی بنانے کے لیے، حکومت ہند16-2015 کے بعد سے پردھان منتری کرشی سنچائی یوجنا (پی ایم کے ایس وائی ) کو نافذ کر رہی ہے۔پی ایم کے ایس وائی کے کے تیز تر آبپاشی کے فوائد کے پروگرام ( اے آئی بی پی ) کے تحت، 99 جاری بڑے/درمیانے آبپاشی پروجیکٹوں کو جن میں 76.03 لاکھ ہیکٹر کی حتمی آبپاشی کی صلاحیت ہے،17-2016کے دوران ترجیح دی گئی۔
کمانڈعلاقے کی ترقی ا و ر آبی بندوبست (سی اے ڈی ڈبلیو ایم) پروگرام کو 16-2015 کے بعد سے پردھان منتری کرشی سنچائی یوجنا (پی ایم کے ایس وائی) ہر کھیت کو پانی کے تحت لایا گیا ہے۔ سی اے ڈی کے کاموں کو شروع کرنے کا بنیادی مقصد تعمیرشدہ آبپاشی کی صلاحیت کے استعمال کو بڑھانا، اور شراکتی آبپاشی کے انتظام (پی آئی ایم ) کے ذریعے پائیدار بنیادوں پر زرعی پیداوار کو بہتر بنانا ہے۔ آبپاشی میں پانی کے استعمال کی کارکردگی کو فروغ دینے کے لیے، سی اے ڈی ڈبلیو ایم پروگرام کے تحت آبپاشی کے بہت چھوٹے بنیادی ڈھانچہ کی ترقی کے لئے شامل پروجیکٹوں کے قابل کاشتکاری کمانڈ علاقے ( سی سی اے) کے کم از کم 10 فیصد کی نشاندہی کی گئی ہے ۔
پردھان منتری کرشی سنچائی یوجنا - ہر کھیت کو پانی – زیرزمین پانی کی آبپاشی (پی ایم کے ایس وائی ۔ ایچ کے کے پی ۔ جی ڈبلیو) اسکیم کا مقصد چھوٹے اور پسماندہ کسانوں کو زیرزمین پانی کی یقینی آبپاشی کے لیے ریاستوں کو مالی امداد فراہم کرنا ہے۔ مئی 2019 کے کام کاج سے متعلق رہنما خطوط کے مطابق، ریاستی/ مرکز کے زیر انتظام حکومت اس بات کو یقینی بنائے گی کہ مجوزہ آبپاشی علاقے میں کم از کم 30 فیصد علاقے میں بہت چھوٹی آبپاشی کے طریقوں کو مرکزی/ریاست/ مرکز کے زیر انتظام حکومتوں کی متعلقہ اسکیموں کے ساتھ ہم آہنگ کیا جائے۔
زراعت اور کسانوں کی بہبود کا محکمہ 'فی ڈراپ مور کراپ یعنی فی بوند زیادہ فصل اسکیم' نافذ کر رہا ہے جو ملک میں 16-2015 سے کام کر رہی ہے۔ فی بوند زیادہ فصل اسکیم بنیادی طور پربہت چھوٹی آبپاشی کے ذریعے کھیت کی سطح پر پانی کے استعمال کی کارکردگی پر مرکوز ہے۔
زراعت کے شعبے میں پانی کے استعمال کی کارکردگی کو بڑھانے کے لیے قومی آبی مشن نے 2019 میں "صحیح فصل" مہم کا آغاز کیا تھا تاکہ پانی کی کمی والے علاقوں میں کسانوں کو ایسی فصلیں اگانے کی طرف راغب کیا جا سکے جن کے لئے پانی کی زیادہ ضرورت نہیں ہوتی، لیکن پانی کا استعمال بہت مؤثر طریقے سے ہوتا ہے ۔ اور اقتصادی طور پر نفع بخش ہیں اور صحت مند اور غذائیت سے بھرپور ہیں؛ علاقے کی زرعی آب و ہوا کی ہائیڈرو خصوصیات کے مطابق؛ اور ماحول دوست ہیں۔ صحیح فیصل کے تحت امرتسر (پنجاب)، اورنگ آباد (مہاراشٹرا) اور کروکشیتر (ہریانہ) میں اور نئی دہلی میں تکنیکی ماہرین کے ساتھ سلسلے وار ورکشاپس کا انعقاد کیا گیا، جس میں شعبوں کے ماہرین، ماہرین اقتصادیات، سائنس دان، مٹی کی زرخیزی کے ماہرین اور ماہرین زراعت شامل تھے۔
پانی کے قومی مشن (این ڈبلیو ایم ) نے پانی اور زمین کے انتظام کے اداروں اور آبپاشی کے بندوبست اور تربیت سے متعلق اداروں کو 26 بیس لائن اسٹڈیز سے نوازا ہے جس کے دوران چھ ریاستوں کا احاطہ کیا گیا ہے جس کا مقصد مکمل شدہ بڑے/درمیانے آبپاشی پروجیکٹوں کے پانی کے استعمال کی کارکردگی کا جائزہ لینا ہے۔
پانی کے مرکزی کمیشن (سی ڈبلیو سی) نے دسویں اور گیارہویں پانچ سالہ منصوبوں کے دوران آبپاشی کے 35 منصوبوں کے لیے پانی کے استعمال کی کارکردگی کا مطالعہ کیا۔ مطالعہ کی رپورٹیں نتائج/اصلاحی ڈھانچہ اور غیر ڈھانچہ جاتی اقدامات کے ساتھ متعلقہ ریاستی حکومتوں کو دستیاب کرائی گئی ہیں تاکہ مطالعہ کیے گئے پروجیکٹوں کی فعال افادیت کو مجموعی طور پر بہتر بنانے کے لیے اقدامات کیے جائیں۔ سی ڈبلیو سی نے آبپاشی، گھریلو اور صنعتی شعبوں میں پانی کے استعمال کی کارکردگی کو بہتر بنانے کے لیے رہنما خطوط بھی شائع کیے ہیں۔ یہ رہنما خطوط تمام ریاستی حکومتوں اور متعلقہ مرکزی وزارتوں اور دیگرمستفیدین کو بھیج دیے گئے ہیں تاکہ ان شعبوں میں پانی کے استعمال کی کارکردگی کو بہتر بنایا جا سکے۔
سی ڈبلیو سی نے ملک میں آبپاشی کے بڑے/درمیانے (ایم ایم آئی) منصوبوں کو جدید طرز پر ڈھالنے کے لیے ایشیائی ترقیاتی بینک (اے ڈی بی) کی تکنیکی مدد سے ایک نیا اقدام " آبپاشی کے نظام کو جدید طرز پرڈھالنے کی غرض سے امدادی پروگرام (ایس آئی ایم پی) " شروع کیا ہے۔ پروگرام کا مقصد پانی کے استعمال کی کارکردگی کو بہتر بنانا، فصلوں کے پانی کی پیداواری صلاحیت کو بڑھانا اور بالآخر قومی/بین الاقوامی بہترین طور طریقوں کے اطلاق کے ذریعے منصوبوں کے کمانڈعلاقے میں کسانوں کی آمدنی میں اضافہ کرنا ہے۔
حرارتی بجلی گھروں میں پانی کے استعمال کے حوالے سے مورخہ 07.12.2015 کے نوٹیفکیشن کے بموجب، ماحولیات جنگلات اور موسمیاتی تبدیلی کی وزارت (ایم او ای ایف اینڈ سی س) کے ذریعہ شائع کردہ پانی کے استعمال کے نئے ضابطے یہ طے کرتے ہیں کہ ونس تھرو کولنگ(او ٹی سی) والے تمام بجلی گھر (سی ٹی) اور نصب کریں گے۔ نوٹیفکیشن کی اشاعت کی تاریخ سے دو سال کی مدت کے اندر زیادہ سے زیادہ ایم/3 ایم ڈبلیو ایچ 3.5 تک پانی کی مخصوص کھپت کا ہدد حاصل کریں۔ تمام موجودہ سی ٹی پر مبنی پلانٹس کو نوٹیفکیشن کی اشاعت کی تاریخ سے دو سال کی مدت کے اندر مخصوص پانی کی کھپت کو زیادہ سے زیادہ 3.5 ایم 3/ ایم ڈبلیو ایچ تک کم کرنا ہوگا۔ نئے پلانٹس، جو یکم جنوری، 2017 کے بعد شروع کیے جائیں گے، کو زیادہ سے زیادہ 2.5 ایم 3/ ایم ڈبلیو ایچ تک مخصوص پانی کی کھپت کو پورا کرنا ہوگا ایم او ای ایف اینڈ سی سی(28.06.2022) کے نوٹیفکیشن کے ذریعے نظرثانی ایم 3/ ایم ڈبلیو ایچ 3.0 کیا گیا ہے اور استعمال شدہ گندے پانی کی بالکل بھی نکاسی نہیں ہوگی۔
حکومت ہند نے 28.01.2016 کو نئی محصول پالیسی کو نوٹیفائی کیا ہے جس میں یہ حکم دیا گیا ہے کہ حرارتی بجلی گھر، بشمول موجودہ پلانٹس، جو کہ میونسپلٹی/بلدیاتی اداروں/اسی طرح کی تنظیم کے ایس ٹی پی کے 50 کلومیٹر کے دائرے میں واقع ہیں، ایس ٹی پی کے قریب ہونے کے لیے، ان اداروں کے ذریعہ قابل استعمال بنانے کے لئےسیوریج پانی کا استعمال کریں اور اس سلسلے میں متعلقہ لاگت کو محصول سے ہذف کرنے کی اجازت دیں۔
وزیر مملکت جناب بشویشور ٹوڈو نے آج راجیہ سبھا میں ایک تحریری جواب میں یہ جانکاری دی۔
*************
ش ح ۔ ع م ۔ ف ر
U. No.9986
(ریلیز آئی ڈی: 1857366)
وزیٹر کاؤنٹر : 237