زراعت اور کاشتکاروں کی فلاح و بہبود کی وزارت
زرعی ترقی کے لیے تحقیقی ادارے
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
02 AUG 2022 6:05PM by PIB Delhi
زراعت اور کسانوں کی بہبود کے مرکزی وزیر جناب نریندر سنگھ تومر نے آج لوک سبھا میں ایک تحریری جواب میں بتایا کہ ہندوستان کے پاس دنیا کے سب سے بڑے ادارے میں سے ایک نیشنل ایگریکلچرل ریسرچ سسٹم (این اے آر ایس) ہے، جس میں تمل ناڈو اور مہاراشٹرکے علاوہ دیگر خطوں میں 102 انڈین کونسل آف ایگریکلچرل ریسرچ (آئی سی اے آر) انسٹی ٹیوٹ، 11 زرعی ٹیکنالوجی ایپلی کیشن ریسرچ انسٹی ٹیوٹ، 82 آل انڈیا کوآرڈینیٹڈ پروجیکٹس/ نیٹ ورکس، 4 یونیورسٹیوں جیسے ادارے، 3 مرکزی زرعی یونیورسٹیاں اور 63 ریاستی زرعی/ ویٹرنری/ باغبانی/ فشری یونیورسٹیاں ہیں۔
آئی سی اے آر اداروں، ایس اے یوز اور 731 کے وی کیز کے نیٹ ورک کے ساتھ دستیاب مطلوبہ بنیادی ڈھانچہ اور مہارت زرعی شعبے کی مانگ کو پورا کرنے کیلئے زراعت کے مختلف شعبوں اور اس سے منسلک شعبوں میں مختلف تکنیکی دخل اندازیوں کو پورا کرنے کے لیے کافی ہے
پچھلے تین سالوں کے دوران آئی سی اے آر نے 946 کھیت کی فصلوں کی اقسام جاری کی ہیں جن میں اناج کی 379، تیل کے بیجوں کی 146، دالوں کی 168، چارہ کی فصلوں کی 55، فائبر فصلوں کی 158، گنے کی 26 اور دیگر فصلوں کی 14 (ممکنہ/معمولی فصلیں) شامل ہیں اورباغبانی فصلوں کی 171 اقسام؛ جانوروں کی اہم بیماریوں کی تشخیص اور ان پر قابو پانے کے لیے 25 ویکسین اور 40 تشخیصات تیار کیں۔ 161 قسم کی خوراک اور مچھلیوں، 48 مقامی مچھلیوں کی خوراک اور 70 آبی زراعت کے بہتر نظام کے لیے افزائش اور بیج کی پیداوار کی ٹیکنالوجیز تیار کی گئیں اور موثر ماہی گیری کے لیے 90 وسائل کے مخصوص گیئرز اور ایندھن سے چلنے والے ماہی گیری کے جہاز تیار کیے گئے۔ حالیہ برسوں کے دوران تقریباً 168 ٹیکنالوجیز/مشینیں بھی تیار کی گئیں۔ ان بہتر اقسام/ ٹیکنالوجیز/ مشینیں/ ویکسین وغیرہ کا مقصد ملک میں زراعت میں پیداوار اور پیداواری صلاحیت کو بڑھانا ہے۔ زراعت سے متعلق مختلف اسکیموں/اقدامات کے کامیاب نفاذ کے ساتھ ساتھ مذکورہ ٹیکنالوجیز اور کے وی کیز اور دیگر توسیعی مشینری کے ذریعے ان کی توسیع کے نتیجے میں کھیت اور باغبانی فصلوں کی پیداوار میں اضافہ ہوا ہے۔ دالوں کی پیداوار 22-2021 میں 19.26 ملین ٹن (2013-14) سے بڑھ کر 27.75 ملین ٹن ، باغبانی کی پیداوار 280.70 ملین ٹن (14-2013) سے بڑھ کر 341.63 ملین ٹن (22-2021) اور اناج کی پیداور 265.05 ملین ٹن (14-2013)سے 314.51 ملین ٹن (22-2021) ہوگئی ہے۔
سائنسی عہدوں پر بھرتی ایک جاری عمل ہے اور اسامیوں کو ایگریکلچرل سائنٹسٹ ریکروٹمنٹ بورڈ (اے ایس آر بی) کے ذریعہ قائم کردہ طریقہ کار کے ذریعے پُر کیا جاتا ہے جو اہل امیدواروں کی دستیابی سے مشروط ہے۔ اس وقت مہاراشٹر میں سائنسدانوں کی 144 آسامیاں خالی ہیں جبکہ تمل ناڈو میں یہ 22 ہیں۔ انسانی وسائل کے بروقت انتخاب اور تعیناتی کے لیے آئی سی اے آر کے اندر اور اے ایس آربی کے ساتھ خالی آسامی کی باقاعدگی سے نگرانی کی جاتی ہے۔
***********
ش ح ۔ ع ح ۔
U. No.9807
(ریلیز آئی ڈی: 1856279)
وزیٹر کاؤنٹر : 86