کوئلے کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

کوئلے کی گھریلو مانگ

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 03 AUG 2022 4:11PM by PIB Delhi

 

کوئلہ، کانوں اور پارلیمانی امور کے مرکزی وزیر جناب پرہلاد جوشی نے آج لوک سبھا میں ایک تحریری جواب میں  بتایا کہ کوئلہ ہندوستانی توانائی کے نظام کا بنیادی سہارا ہے اور کوئلے کی پیداوار کا تقریباً 80 فیصد پاور سیکٹر کو فراہم کیا جاتا ہے اور باقی دیگر صنعتی استعمال کے لیے جاتا ہے۔ "میک ان انڈیا" کے اقدامات اور معیشت کی اعلی  نمو  پروجیکشن کے ساتھ، کوئلے کی مانگ پاور سیکٹر اور دیگر صنعتی استعمال دونوں  کے لئے بڑھ رہی ہے۔ کوئلے کی مانگ کو پورا کرنے کے لیے، حکومت نے کوئلے کی پیداوار کو 25- 2024  تک 1.3 بلین ٹن تک سالانہ  8-7  فیصد تک بڑھانے کا منصوبہ بنایا ہے۔

پچھلے پانچ سالوں کے دوران ریاست کے لحاظ سے کوئلے کی پیداوار کی تفصیلات ذیل میں دی گئی ہیں:-

(ملین ٹن میں)

ریاست

2017-18

2018-19

2019-20

2020-21

2021-22

آسام

0.781

0.784

0.517

0.036

0.028

چھتیس گڑھ

142.546

161.893

157.745

158.410

154.120

جموں وکشمیر

0.014

0.013

0.014

0.010

0.011

جھار کھنڈ

123.297

134.666

131.763

123.428

130.104

مدھیہ پردیش

112.127

118.661

125.726

132.531

137.953

مہارا شٹر

42.219

49.818

54.746

47.435

56.529

میگھالیہ

1.529

 

 

 

 

اڈیشہ

143.328

144.312

143.016

154.151

185.069

تلنگانہ

62.010

65.160

65.703

52.603

67.233

اتر پردیش

18.309

20.275

18.030

17.016

18.073

مغربی بنگال

29.240

33.136

33.614

30.463

29.070

کُل میزان

675.400

728.718

730.874

716.083

778.190

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

حکومت نے گھریلو کوئلے کی پیداوار کو بڑھانے کے لیے کئی اقدامات کیے ہیں۔ تجارتی کان کنی کے لیے 100 فیصد  براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری کی اجازت ہے۔ کوئلے کی درآمد کے متبادل کے مقصد کے لیے 2020 میں ایک بین وزارتی کمیٹی بھی تشکیل دی گئی ہے۔ کوکنگ کول اور دیگر اعلیٰ درجے کے کوئلے جیسی انتہائی ضروری درآمدات کی اجازت دینے کے علاوہ جو کہ اس وقت غیرمتبادل ہیں، ملکی پیداوار میں اضافہ کرکے نچلے درجے کے کوئلے کی درآمد کو متبادل بنانے کی کوشش کی جارہی ہے۔ کوئلے کی گھریلو پیداوار بڑھانے کے لیے کیے گئے چند اہم اقدامات درج ذیل ہیں:

  • کوئلے کی کانوں کے کام کو تیز کرنے کے لیے کوئلے کے شعبے کے لیے سنگل ونڈو کلیئرنس پورٹل شروع کیا گیا ہے۔ یہ ایک متحد پلیٹ فارم ہے ، جو ہندوستان میں کوئلے کی کانکنی  شروع کرنے کے لیے درکار کلیئرنس اور منظوریوں کی سہولت فراہم کرتا ہے۔
  • مائنز اینڈ منرلز (ڈویلپمنٹ اینڈ ریگولیشن) ایکٹ، 1957 میں ترمیم کی گئی، جس کے تحت آخری استعمال کے پلانٹ کی ضرورت کو پورا کرنے کے بعد ان کی سالانہ پیداوار کا 50 فیصد تک فروخت کی اجازت دی گئی۔
  • ریونیو شیئرنگ کی بنیاد پر کوئلے کے بلاکس کی کمرشل نیلامی اور آخری استعمال کے لیے مخصوص کول بلاکس کی الاٹمنٹ۔
  • سکریٹری (کوئلہ) کی صدارت میں ایک مانیٹرنگ کمیٹی قائم کی گئی ہے،  جس میں متعلقہ میزبان ریاستوں کے چیف سکریٹریز، سکریٹری (ایم او ای ایف اینڈ سی سی)، کول کنٹرولر آرگنائزیشن (سی سی او) اور سی ایم پی ڈی آئی ایل کمیٹی کے ارکان  ہیں  اور اس کا مقصد باقاعدگی سے جائزہ لینا اور بلاکس  کی ترقی کو تیز کرنا   ہے۔
  • ایم ڈی او،  ماڈل کے ذریعے پیداوار بڑھانے کے لیے، کول انڈیا لمیٹڈ نے 15 ایم ڈی او پروجیکٹس کی شناخت کی ہے جن کی مشترکہ صلاحیت 168.6 ملین ٹن سالانہ (ایم ٹی وائی) ہے،  جن میں سے چھ ایم ڈی او پروجیکٹس کو پہلے ہی 96.74 ایم ٹی وائی کی صلاحیت سے نوازا جاچکا ہے۔
  • نئے اور توسیعی پی آر  کی منظوری کے ذریعے صلاحیت میں اضافہ: سی آئی ایل   نے  مالی سال – 21 اور مالی سال  - 22 کے دوران  52 پروجیکٹوں کی منظوری دی ہے۔ یہ پروجیکٹ 250  ایم ٹی وائی   سے زیادہ کی اضافی صلاحیت کا اضافہ کریں گے اور مالی سال 25 تک تقریباً 102 ایم ٹی   کی اضافی پیداوار میں تعاون پیش  کرنے  کی  تجویز  ہے۔
  • اوپن کاسٹ مائننگ اور پاور سپورٹیڈ لانگ وال (پی ایس ایل ڈبلیو )، ہائی وال مائننگ، مسلسل کانکنی وغیرہ کے لیے جدید ٹیکنالوجیز جیسے سرفیس مائنرس وغیرہ کو زیر زمین کانوں کی اثر انگیزی   اور کوئلے کی زیادہ پیداوار کے لیے تعینات کیا جا رہا ہے۔
  • انخلاء کی کارکردگی کو بہتر بنانے کے لیے، 44  فرسٹ میل کنکٹی ویٹی (ایف ایم سی ) پروجیکٹس کو لاگو کیا جا رہا ہے، تاکہ کوئلے کے انخلاء کے بنیادی ڈھانچے کی اپ گریڈیشن اور توسیع کی سمت سی آئی ایل  کی کوششوں کو مستحکم کیا جا سکے اور پہلے میل میں سڑک کے ذریعے کوئلے کی نقل و حمل کو کم سے کم کیا جا سکے۔
  • سی آئی ایل  نے چھتیس گڑھ، اڈیشہ اور جھار کھنڈ میں اپنے توسیعی براؤن فیلڈ مائننگ پروجیکٹس اور گرین فیلڈ پروجیکٹس کے لیے 7 اہم نئے ریل لائن پروجیکٹس کی تعمیر میں بھی سرمایہ کاری کی ہے جس کی تخمینہ جاتی سرمایہ کاری 20  ہزار  کروڑ روپے ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۰۰۰۰۰۰۰۰

(ش ح- ا ک- ق ر)

U-9634


(ریلیز آئی ڈی: 1855218) وزیٹر کاؤنٹر : 90
یہ ریلیز پڑھیں: English