جل شکتی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

سیلاب کی سالانہ صورتحال

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 08 AUG 2022 5:40PM by PIB Delhi

جل شکتی کے وزیر مملکت جناب بشویشور ٹوڈو نے آج راجیہ سبھا میں ایک تحریری جواب میں بتایا کہ بھاری بارش اور سیلاب سے ہونے والے نقصانات کے اعداد و شمار متعلقہ ریاستوں سے تصدیق کئے جانے کے بعد مرکزی آبی کمیشن سی ڈبلیو سی کے ذریعہ مرتب کیے جاتے ہیں۔ ملک میں گزشتہ پانچ سالوں (2016 سے 2020) کے دوران سیلاب/اور شدید بارش سے ہونے والے انسانی جانوں کے نقصان کو ظاہر کرنے والی تفصیلات حسب ذیل ہے۔

 

سال

ہلاک ہوئے انسانوں کی تعداد

2020

1815

2019

2754

2018

1839

2017

2063

2016

1420

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

آفات کے بندوبست کےمحکمے کی بنیادی ذمہ داری متعلقہ ریاستی حکومت پر عائد ہوتی ہے۔ ریاستی حکومتیں  پہلے سے موجود ریاستی ڈیزاسٹر رسپانس فنڈ (ایس ڈی آر ایف) سے حاصل شدہ آفات (بشمول سیلاب)معلومات  کے تناظر میں متاثرہ لوگوں کو مالی امداد فراہم کرتی ہیں۔آفت کی ’شدید نوعیت‘ کی صورت  حال میں نیشنل ڈیزاسٹر ریسپانس فنڈ (این ڈی آر ایف) سے اضافی مالی امداد فراہم کی جاتی ہے جس میں بر سرموقع نقصانات  جائزہ لینے کے لئے بین وزارتی مرکزی ٹیم (آئی ایم سی ٹی) کا متاثرہ علاقوں کا دورہ بھی شامل ہے۔

ایس ڈی آر ایف اوراین ڈی آر ایف کے تحت ریاستوں کو پچھلے پانچ سالوں کے دوران جاری کیے گئے فنڈز کی تفصیلات ضمیمہ میں درج ہیں۔

سیلاب کے بندوبست میں بشمول کٹاؤ کاکنٹرول ریاستوں کے دائرہ کار میں آتا ہے۔ متعلقہ ریاستی حکومتیں اپنی ترجیحات کے مطابق فلڈبندو بست اور کٹاؤ سے بچاؤ کی اسکیمیں تیارکرتی ہیں اور ان پر عمل درآمد کرتی ہیں۔ مرکزی حکومت حساس علاقوں میں سیلاب کے انتظام کے لیے تکنیکی رہنمائی اور پروموشنل مالی امداد فراہم کر کے ریاستوں کی کوششوں کو پورا کرنے میں مدد کرتی ہے۔

انٹیگریٹڈ فلڈ مینجمنٹ اپروچ کا مقصد اقتصادی قیمت پر سیلاب سے ہونے والے نقصانات کے خلاف معقول حد تک تحفظ فراہم کرنے کے لیے ڈھانچہ جاتی اور غیر ڈھانچہ جاتی اقدامات کے معقول امتزاج کو اپنایا ہے۔

وزارت نے سیلاب کے انتظام کے ڈھانچہ جاتی اقدامات کو مضبوط بنانے کے لیےگیارہوں اوربارہویں  سیلاب سے بندوبست سے متعلق پروگرام (ایف ایم پی) کے دوران ریاستوں کو دریا کے انتظام، سیلاب پر قابو پانے، کٹاؤ سے روک تھام، نکاسی میں آسانی ترقی، انسداد سمندری کٹاؤ سے بچاؤ وغیرہ سے  متعلق کاموں کے لیے مرکزی مدد فراہم کرنے کے لیے لاگو کیا تھا۔ جس میں  بعد میں 2017-18 سے 2020-21 تک کی مدت کے لیےفلڈ مینجمنٹ اینڈ بارڈر ایریاز پروگرام (ایف ایم بی اے پی) کے جزو کے طور پر جاری رہنے والے اور محدود اخراجات کے ساتھ ستمبر 2022 تک مزید توسیع دی گئی۔ اس پروگرام کے  آغاز سے اب تک  اس اسکیم کے تحت ریاستی حکومتوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کو مرکزی امداد کے طور پر 6686.79 کروڑ روپے جاری کئے جاچکے ہیں۔

غیرڈھانچہ جاتی اقدامات کے لیے  مرکزی آبی کمیشن (سی ڈبلیو سی) ایک نوڈل تنظیم ہے جسے ملک میں سیلاب کی پیشن گوئی اور سیلاب کی ابتدائی وارننگ جاری کرنے کا کام سونپا گیا ہے۔ فی الحال، سی ڈبلیو سی  332 پیشین گوئی کرنے والے مراکز (199 دریا کی سطح کی پیش گوئی کرنے والے  مراکز اور 133 ڈیم/بیراج کی آمد کی پیش گوئی کرنے والے مراکز) کے لیے سیلاب کی پیشن گوئی جاری کرتا ہے۔ یہ مراکز 23 ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام 2علاقوں میں دریا کے  20 بڑے طاس علاقوں  کا احاطہ کرتے ہیں۔ مرکزی آبی کمیشن (سی ڈبلیو سی)نےمقامی حکام کو لوگوں کے انخلا کی منصوبہ بندی کرنے اور دیگر تدبیری اقدامات کرنے کے لیے زیادہ وقت فراہم کرنے کے خاطر بیسن کے حساب سے سیلاب کی پیش گوئی کرنے والا ماڈل تیار کیا ہے جو کہ بارش کے بہاؤ کے حساب کی بنیاد پر 5 دن کی سیلاب کی پیشگی پیشن گوئی کی ایڈوائزری کے لیے ہے۔اس نے سیلاب کی پیشن گوئی اور آمد کی پیش گوئی کرنے والے مراکز کی نشاندہی کی ہے۔

1. پورے ملک میں سیلاب کے انتظام کے کاموں اور سرحدی علاقوں میں دریا کے انتظام کی سرگرمیوں اور کاموں کے لیے حکمت عملی مرتب کرنے کے لئے نیتی آیوگ کے نائب چیئر مین نیتی آیوگ اور حکومت کے مختلف محکموں/ وزارتوں کے افسران کی صدارت میں ایک کمیٹی تشکیل دی گئی تھی۔اور اس میں  بھارت کے اس شعبے سے متعلق ماہرین اور جموں و کشمیر، اتر پردیش، بہار، مغربی بنگال، پنجاب، آسام، اروناچل پردیش، تریپورہ، مدھیہ پردیش اور کیرالہ کی ریاستوں کے پرنسپل سکریٹریوں کو اس کمیٹی کے اراکین کے طور پر شامل کیا گیا تھا۔کمیٹی کی حتمی رپورٹ نیتی آیوگ نے جنوری 2021 کے دوران جاری کی تھی۔ مذکورہ کمیٹی کی اہم سفارشات درج ذیل ہیں:

· ایف ایم بی اے پی اسکیم کو 15ویں مالیاتی کمیشن کی مدت کے ساتھ اس اسکیم کے تحت فنڈنگ ​​کے لیے نئے پروجیکٹوں کو شامل کرنے کی فراہمی کے ساتھ 2021 تا2026 کی مدت کے لیے جاری رکھا جائے گا۔ اسکیموں کا انتخاب نیتی آیوگ اور ریاستی حکومت کے ساتھ صلاح و مشورے  سے کیا جائے گا۔

· ہائیڈرو میٹرولوجیکل ڈیٹا اکٹھا کرنے، سیلاب کی پیشن گوئی کی تشکیل اور پیشن گوئی کی تقسیم میں جدید کاری کی طرف مسلسل کوششیں کی جائیں۔اوریہ ریاستوں کی طرف سے ڈیٹا کے استعمال کے لیے مزید آسان ڈیٹا کی تقسیم کی پالیسی، خاص طور پر سرحد پار دریاؤں کے حوالے سے تیار کئے جائیں۔

· کافی وقت کے ساتھ تازہ سیلاب کی پیشن گوئی کرنے کے لیے ماڈل پر مبنی نظام کی ترقی میں سائنسی تحقیق پر توجہ مرکوز کرنے سے سیلاب کے خطرے سے انتہائی حدتک راحت ملے گی ۔

· تمام آبی ذخائرکی سطح وضع کرنے کے لیے  ایک ضابطہ تیار کیا جانا چاہئے اور آبادی میں تیزی سے اضافے، شہری کاری اور صنعت کاری کی وجہ سے بارش کے رجحان اور سالوں میں بدلتی ہوئی مانگ میں حساب کتاب کی تبدیلی کو اپ ڈیٹ کیا جانا چاہیے۔ بڑے آبی ذخائر کے اصول کے خطوط ، جس میں  سیلاب سے متعلق کشن نہیں ہے، سیلاب کے سیزن کے بڑے حصے کے لیے کچھ متحرک فلڈ کشن رکھنے کی خاطر جائزہ لئے جانے  کی ضرورت ہے۔

· سیلاب کا طویل مدتی  ڈھانچہ  جاتی حل بڑے ذخیرہ کرنے والے ذخائر کی تعمیر میں مضمر ہے جو مناسب آبی ذخائر کے آپریشن پروگرام کو اپناکر سیلاب کی حد کو معتدل کرتے ہیں۔

· سیلاب پر قابو پانے کا فائدہ حاصل کرنے کے لیے یہ ضروری ہے کہ قدرتی ڈٹینشن بیسن پر تجاوزات جیسے رجحانات کو روکا جائے اورسیلاب پر قابو پانے کے اقدام کے طور پر ان بیسن کو ان کی قدرتی حالت میں بحال کیا جائے۔

· سیلاب کےپانی کا رخ پانی کی کمی والے علاقوں میں موڑنے کے لیے دریاؤں کو آپس میں جوڑنے کے منصوبے مقررہ وقت میں شروع کیے جا سکتے ہیں۔

· ریاستی حکومتوں کی طرف سے موجودہ دلدل والے علاقوں کو /قدرتی  طورپرہوا کاحلقہ  دوبارہ بننے سے روکا جانا چاہئے اور انہیں سیلاب کے اعتدال کے لیے ان کے استعمال کے لیے ایک  عملی منصوبہ مرتب کرنا چاہیے۔

· نیتی آیوگ کی مندرجہ بالا سفارشات کو اسی کے مطابق 2021-26 کی مدت کے لیے ایف ایم بی اے پی کی تجویز تیار کرتے وقت دھیان میں  رکھا گیا ہے۔

ضمیمہ

 

STATEMENT SHOWING STATE-WISE DETAILS OF ALLOCATION AND RELEASE OF FUNDS UNDER SDRFAND NDRF DURING THE YEAR 2018-19 TO 2022-23 (AS ON 27.07.2022)

(Rs. in Crores)

S.No.

State

Allocation under SDRF including Centre and State share

Centre's Share of SDRF Released

Release from NDRF (For all calamities)

2018-19

2019-20

2020-21

2021-22

2022-23

2018-19

2019-20

2020-21

2021-22

2022-23

2018-19

2019-20

2020-21

2021-22

2022-23

1.

Andhra Pradesh

509.00

534.00

1192.80

1192.80

1252.80

458.10

324.15

895.20

895.20

470.00

1004.88

570.91

657.029

351.43

--

2.

Arunachal Pradesh

60.00

63.00

222.40

222.40

233.60

54.00

56.70

200.00

200.00

--

132.49

--

59.34

--

--

3.

Assam

532.00

559.00

686.40

686.40

720.80

478. 80

503.10

617.60

617.60

648.80

--

--

44.37

--

--

4.

Bihar

543.00

570.00

1510.40

1510.40

1586.40

101.815

631.12

1132.80

1132.80

594.80

--

953.17

1255.27

1038.96

--

5.

Chhattisgarh

278.00

292.00

460.80

460.80

484. 00

349.575

177.30

345.60

345.60

--

-

--

--

--

--

6.

Goa

4.00

4.00

12.00

12.00

12.80

1.80

4.20

9.60

9.60

--

--

--

--

--

--

7.

Gujarat

816.00

856.00

1412.00

1412.00

1482.40

449.95

886.80

1059.20

1059.20

--

--

--

--

1000.00

--

8.

Haryana

356.00

374.00

524.00

524.00

550.40

320.40

227.10

392.80

392.80

206.40

--

--

--

--

--

9.

 

Himachal Pradesh

273.00

287.00

363.20

363.20

380.80

245.70

197.23

327.20

327.20

171.20

227.29

518.06

2.90

--

--

10.

Jammu & Kashmir*

295.00

310.00

--

--

--

252.90

405.00

--

--

--

--

--

--

--

--

11.

Jharkhand

421.00

442.00

605.60

605.60

635.20

315.75

331.50

454.40

454.40

--

--

--

--

200.00

--

12.

Karnataka

320.00

336.00

843.20

843.20

885.60

288.00

204.00

632.80

632.80

332.00

959.84

3208.28

689.27

1623.30

--

13.

Kerala

214.00

225.00

335.20

335.20

352.00

192.60

136.65

251.20

251.20

--

2904.85

--

--

--

--

l4.

Madhya Pradesh

1016.00

1066.00

1941.60

1941.60

2038.40

914.40

647.10

1456.00

1456.00

--

334.00

1712.14

1891.79

600.50

--

15.

Maharashtra

1717.00

1803.00

3436.80

3436.80

3608.80

1287.75

1352.25

2577.60

2577.60

--

2088.59

5189.40

420.12

1056.39

--

16.

Manipur

22.00

23.00

37.60

37.60

39.20

9.90

30.60

33.60

33.60

17.60

--

--

26.53

--

--

17.

Meghalaya

28.00

29 00

58.40

58.40

60.80

12.60

38.70

52.80

52.80

27.20

--

--

16.52

--

-

18.

Mizoram

20.00

20.00

41.60

41.60

43.20

18.00

18.00

37.60

37.60

--

--

--

--

--

--

19.

Nagaland

11.00

12.00

36.80

36.80

38.40

9.90

10.80

32.80

32.80

17.20

195. 99

176.52

1.335

--

39.28

20.

Ödisha

865.00

909.00

1711.20

1711.20

1796.80

778.50

552.00

1283.20

1283.20

674.00

341.72

3294.10

500.00

500.00

--

21.

Punjab

451.00

474.00

528.00

528.00

554.40

321.99

412.37

474.43

396.00

208.00

--

--

--

--

--

22.

Rajasthan

1277.00

1340.00

1580.00

1580.00

1659.20

957.75

1005.00

1184.80

1184.80

622.40

526.14

1949.59

68.65

--

13.46

23.

Sikkim

36.00

38.00

44.80

44.80

47.20

32.40

34.20

40.00

40.00

21.20

54.93

--

73.86

55.23

--

24.

TamilNadu

786.00

825.00

1088.00

1088.00

1142.40

707.40

500.85

816.00

816.00

--

900.31

--

286. 91

566.36

--

25.

Telangana

317.00

333.00

479.20

479.20

503.20

226.50

487.50

359.20

359.20

188.80

--

--

--

--

--

26.

Tripura

36.00

38.00

60. 80

60.80

63.20

32.40

34.20

54.40

54.40

--

171.74

--

12.93

-

--

  1.  

Uttar Pradesh

781.00

820.00

2062.40

2062.40

2165.60

351.45

849.30

1546.40

1546.40

--

157.23

-

-

-

-

28.

Uttarakhand

243.00

255.00

832.80

832.80

874.40

218.70

229.50

749.60

749.60

-

--

-

-

-

-

29.

West Bengal

598.00

628.00

1078.40

1078.40

1132.80

269.10

650.40

808.80

808.80

--

--

958.33

2250.28

350.13

-

TOTAL

12825.00

13465.00

23186.40

23186.40

24344.80

9658.13

10937.62

17825.63

17747.20

4199.60

10000.00

18530.50

8257.11

7342.30

52.74

 

*Now UT of Jammu and Kashmir and UT of Ladakh

 

 

***********

 

 

ش ح ۔  ش ر ۔ م ش

U. No.9018


(ریلیز آئی ڈی: 1850841) وزیٹر کاؤنٹر : 101
یہ ریلیز پڑھیں: English