سماجی انصاف اور تفویض اختیارات کی وزارت
درج فہرست ذاتوں اور درج فہرست قبیلوں پر مظالم
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
03 AUG 2022 3:26PM by PIB Delhi
نئی دہلی،03اگست، 2022 / داخلی امور کے ماتحت جرائم کی ریکارڈ کے قومی بیورو (این سی آر بی ) کے رپورٹ کے مطابق ، 2018 ، 2019 اور 2020 میں درج فہرست ذاتوں اور درج فہرست قبیلوں پر مظالم کی روک تھام کے قانون 1989 کے تحت درج کیے گئے مظالم کے کیسز مندرجہ ذیل ہیں:
|
سال
|
درج کیے گئے کیسز
|
|
2018
|
49064
|
|
2019
|
53515
|
|
2020
|
58538
|
(* شائع کیے گئے تازہ ترین اعداد و شمار 2020 کے ہیں)
بھارت کےآئین کی ساتویں فہرست (فہرست دوئم) کے تحت چونکہ پولیس اور سرکاری حکم ریاست کے معاملات ہیں لہذا نظم و ضبط برقرار رکھنے اور درج فہرست ذاتوں و درج فہرست قبیلوں سمیت شہریوں کی زندگی اور املاک کی حفاظت ریاستی سرکاروں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کی ذمہ داری ہے ۔
لہذا، متعلقہ ریاستی سرکاریں اور مرکز کے زیر انتظام علاقے اور ریاستیں قانون کی توسیع شدہ شق کے تحت اس طرح کے جرائم سے نمٹنے کے لیے بااختیار ہیں۔ البتہ ، حکومت ہند ریاستی سرکاروں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کو پی او اے قانون اور اس کے تحت بنائے گئے ضابطوں کے موثر عمل درآمد کے لیے وقتاً فوقتاً ہدایات جاری کرتی ہے۔
اس کے علاوہ درج فہرست ذاتوں اور درج فہرست قبیلوں کے ارکان پر مظالم کی روک تھام کے لیے قومی ہیلپ لائن این ایچ اے اے کا بھی سماجی انصاف و تفویض اختیارات کے محکمے نے آغاز کیا ہوا ہے۔ ہیلپ لائن کا مقصدقانون کی شقوں کے بارے میں بیداری لانا ہے جن کا مقصد تفریق کو ختم کرنا اور تحفظ فراہم کرنا ہے۔ این ایچ اے اے پورے ملک میں 14566 ٹال فری نمبر پر دستیاب ہے۔
یہ جانکاری راجیہ سبھا میں آج سماجی انصاف اور تفویض اختیارات کے وزیر مملکت جناب رام داس اٹھاولے نے فراہم کی۔
*********
ش ح ۔ اس۔ ت ح ۔
U – 8607
(ریلیز آئی ڈی: 1848071)
وزیٹر کاؤنٹر : 103