کوئلے کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

میگھالیہ میں کوئلے کی پیداوار اور کھدائی کے بعد  علاقوں کا رکھ رکھاؤ

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 01 AUG 2022 4:58PM by PIB Delhi

 

کانکنی اورپالیمانی امور کے مرکزی وزیر جناب پرہلاد جوشی نے  آج راجیہ سبھا میں ایک تحریری جواب میں بتایا کہ بھارت کے  ارضیاتی جائزہ کی طرف سے شائع کئے گئے ہندوستان میں کوئلے کی پیداوارکے متعلق میگھالیہ میں کوئلے کے وسائل  576.48 میٹرک ٹن ہیں ۔ کوئلہ کنٹرولر آرگنائزیشن ( سی سی او) سے موصولہ اطلاع کے مطابق میگھالیہ کی ریاست سے گزشتہ 4 سال کے دوران کوئلے کی پیداوار کی کوئی اطلاع نہیں ہے ۔

نیشنل گرین ٹرائبونل نے 9 جون 2014 کو اپنے حکم میں کہا ہے کہ میگھالیہ کی ریاست کے مختلف حصوں میں کی جارہی غیر قانونی ، غیر منضبط اور اندھا دھند کان کنی کی وجہ سے ہوا ،پانی اور ماحولیات میں بری طرح سے آلودگی  پیدا ہوئی ہے ۔

 میگھالیہ کے  ماحولیات کو محفوظ بنانے کی خاطر سپریم کورٹ نے مورخہ 03 جولائی 2019 کو اپنے فیصلے میں حسب ذیل  فیصلے کئے تھے۔

  1. کان کنی کے قانون کی شقیں لازمی ہیں جنہیں ایک کوئلہ کان میں کام کرنے سے پہلے اپنا یا جانا چاہئے ۔ کوئلہ کان کنی ریگولیشنز 21017 میں بہت سی انضباطی شقیں شامل ہیں جنہیں   ایک کوئلہ کان کو پٹے پر لینے والے کی طرف سے ایک کوئلہ کان میں اپنائے جانے کی ضرورت ہے ۔
  2. کوئلہ کان کے قانون 1952 کے نفاذ اور ریگولیشن 2017 میں عوامی مفاد میں ریاست کے ذریعہ  یقین دلانا ہوگا۔
  3. ماحولیات کے تحفظ کے قانون 1986 کے تحت مورخہ 15.1.2016کو جاری کئے گئے  نوٹی فکیشن کے ذریعہ  لائے گئے قانونی  نظام کے مطابق علاقہ کے کسی بھی حد تک کان کانی کے لئے کوئلہ کے پروجیکٹ کے واسطے ماحولیاتی منظوری ضروری ہے ۔  میگھالیہ کی ریاست کے پہاڑی اضلاع میں کان کنی کی کارروائیاں ا نجام دینے کے لئے قانونی نظام لاگو کرتے ہوئے میگھالیہ کی ریاست کو  نہ صرف ایم ایم ڈی آر قانون 1957 کی تعمیل کو یقینی بناناہے  بلکہ ماحولیات کے تحفظ کو یقینی بناناہے ۔
  4. نجی طور پر یا کمیونٹی کی اپنی زمین میں کوئلہ کان کنی کی کارروائی انجام دینے کےلئے میگھالیہ کے پہاڑی ضلعوں میں  یہ ریاستی سرکار نہیں ہے جو ضابطوں کے چیپٹر 5 ضابطہ 1960 کے چیپٹر 4 کے تحت کوئلہ کان کو پٹے پر دے گی  ، بلکہ  یہ پرائیویٹ مالک / زمین کے کمیونٹی مالک ہے جو معدنیات کامالک بھی ہے جو ضابطہ 1960 کے چیپٹر 4 کی شقوں کے مطابق کوئلے کی کان کنی کے لئے پٹے کی اجازت دے گا جب ریاستی سرکار کے ذریعہ مرکزی حکومت کی سابقہ منظوری حاصل کرلی گئی ہو۔

ریاستی سرکار نیشنل گرین ٹرائیونل کی طرف سے تشکیل کردہ کمیٹی کی جانب سے تیار کئے گئے ایکشن پلان نافذ کررہی ہے اوراین جی ٹی کی طرف سے منظوری دی گئی ہے  تاکہ ان کوئلہ کانوں کے کھلنے کو بند کیا جا سکے جو این جی ٹی کی طرف سے 2014 میں  عائد کردہ پابندی سے پہلے بنائی گئی تھیں۔ اور کانوں کے ارد گرد حفاظتی اقدامات کر رہا ہے جہاں اب بھی کوئلے کان کنی کے  لئے کوئلے کے  کافی  ذخائر موجود ہیں جنہیں قانون کے مطابق مستقبل میں استعمال کیا جا سکتا ہے۔

 مرکزی حکومت نے  میگھالیہ کی ریاست میں کوئی سماجی آڈیٹنگ نہیں کی ہے ۔

 

 

************

 

ش ح ۔ ح ا۔ ف ر

U. No.8519

 


(ریلیز آئی ڈی: 1847292) وزیٹر کاؤنٹر : 118
یہ ریلیز پڑھیں: English