شمال مشرقی ریاستوں کی ترقی کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

شمال مشرقی خطے  میں سیلاب کی تباہ کاریاں

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 01 AUG 2022 1:10PM by PIB Delhi

شمال مشرقی خطہ کی ترقی کے وزیر جناب جی کشن ریڈی نے آج لوک سبھا میں ایک تحریری جواب میں بتایا کہ اس وزارت کے ذریعہ سیلاب سمیت قدرتی آفات سے ہونے والے نقصان کا ریاستی تخمینہ نہیں لگایا جاتا ہے۔ تاہم، میگھالیہ سمیت شمال مشرقی خطے کی ریاستوں میں 23-2022  (12جولائی 2022 تک) کے دوران سیلاب جیسی ہائیڈرو میٹرولوجیکل آفات سے ہونے والے نقصان کی ریاستی وار تفصیلات، جیسا کہ ڈیزاسٹر منیجمنٹ ڈویژن (وزارت داخلہ) کے ذریعہ اندازہ/رپورٹ کی گئی ہیں ، ضمیمہ-I میں ہیں۔

سیلاب کا انتظام ریاستی حکومتوں کے دائرہ کار میں آتا ہے، اور سیلاب پر قابو پانے کے لیے اسکیمیں وغیرہ متعلقہ ریاستیں تیار اور نافذ کرتی ہیں۔ مرکزی حکومت اہم علاقوں میں سیلاب کے انتظام کے لیے تکنیکی رہنمائی، مالی وسائل اور مدد فراہم کر کے شمال مشرقی خطے کی ریاستوں سمیت ریاستوں کی کوششوں کو پورا کرتی ہے۔ 2017 میں، حکومت ہند نے شمال مشرقی خطہ کی ترقی کی وزارت (ڈی او این ای آر) کے ذریعے 2017 میں سیلاب کے دوران مکمل طور پر بہہ گئے/تباہ شدہ بنیادی ڈھانچے کی دوبارہ تعمیر کے لیے شمال مشرقی خطے کی پانچ ریاستوں (یعنی اروناچل پردیش، آسام، منی پور، میزورم اور ناگالینڈ) کو ایک وقت  200 کروڑ روپے کی امداد کی توسیع کی تھی۔ شمال مشرقی کونسل کی اسکیموں کے تحت پچھلے 5 سالوں (مالی سال 18-2017 سے مالی سال 22- 2021) کے دوران انسداد کٹاؤ/سیلاب پر قابو پانے کی سرگرمیوں اور لینڈ سلائیڈنگ کی روک تھام کے لیے شمال مشرقی خطے  کی ریاستوں کو 139.91 کروڑ روپے جاری کیے گئے ہیں، جس میں ریاست میگھالیہ کے لیے 22.73 کروڑ روپے بھی شامل ہیں۔ حکومت نے فلڈ مینجمنٹ پروگرام (ایف ایم پی) کے نام سے ایک منصوبہ نافذ کیا تھا جس میں ریاستوں بشمول شمال مشرقی خطے کی ریاستوں کو ندیوں کے انتظام، سیلاب پر قابو پانے، کٹاؤ پر قابو پانے، نکاسی آب کی ترقی وغیرہ سے متعلق کاموں کے لیے مرکزی امداد فراہم کی گئی تھی جو بعد میں ’’سیلاب کے انتظام اور بارڈر ایریاز پروگرام‘‘ ایف ایم بی اے پی کے جزو کے طور پر2017-18 سے 21-2020  کی مدت کے لیے جاری رہی  اور  جسےمزید ستمبر 2022 تک بڑھایا گیا۔

سنٹرل واٹر کمیشن (سی ڈبلیو سی) ایک نوڈل تنظیم ہے جسے ملک میں سیلاب کی پیشین گوئی اور سیلاب کی ابتدائی وارننگ دینے کا کام سونپا گیا ہے۔ مقامی حکام کو لوگوں کے انخلا کی منصوبہ بندی کرنے اور دیگر احتیاطی اقدامات کرنے کے لیے زیادہ وقت فراہم کرنے کے لیے، سی ڈبلیو سی نے بارش کے بہاؤ کی بنیاد پر بیسن کے لحاظ سے سیلاب کی پیشین گوئی کا ماڈل تیار کیا ہے۔ اس کے علاوہ، نارتھ ایسٹرن اسپیس ایپلیکیشن سینٹر (این ای ایس اے سی)، جو محکمہ خلائی اور شمال مشرقی کونسل (این ای سی) کی مشترکہ پہل کے تحت قائم کیا گیا ہے، سیلاب جیسی قدرتی آفات پر قبل از وقت وارننگ سسٹم تیار کرنے کے لیے سیٹلائٹ ڈیٹا کا استعمال کرتا ہے۔ اس کے علاوہ، ڈیزاسٹر مینجمنٹ ڈویژن، وزارت داخلہ نے جنوری، 2008 میں سیلاب کے انتظام، ستمبر، 2010 میں شہری سیلاب کے انتظام اور جون، 2009 میں لینڈ اسلائیڈز اور برفانی تودے کے انتظام کے بارے میں رہنما خطوط جاری کیے ہیں اور قومی آفات سے نمٹنے کا منصوبہ جاری کیا ہےاور سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ سمیت مختلف آفات پر کیا اقدامات کیے جائیں، اس کا خاکہ پیش کیا گیا ہے۔

فی الحال، وزارت جل شکتی سے موصول ہوئی معلومات کے مطابق شمال مشرقی خطے میں سیلاب اور کٹاؤ کے حل سے متعلق کوئی بل پیش کرنے کی کوئی تجویز نہیں ہے۔

ضمیمہ-I

( 12 جولائی 2022 تک ) سال 23-2022 کے دوران وزارت داخلہ کے  ڈیزاسٹر مینجمنٹ ڈویژن  کی طرف سے رپورٹ کردہ  ہائیڈرو میٹرولوجیکل آفات کی وجہ سے ہونے والے  نقصانات کی تفصیلات :

نمبر شمار

شمال مشرقی خطے کی ریاستیں


2022-23 (12 جولائی 2022 تک)

انسانی جانوں کا نقصان

(نمبرمیں)

مویشی کی جانوں کا نقصان

(نمبر میں)

تباہ شدہ گھر /جھوپڑیاں

(نمبر میں )

متاثرہ فصلوں کا ایریا

(لاکھ ہیکٹئر میں )


1

اروناچل پردیش


17


13


699


**


2

آسام


182


53781


223663


2.401


3


منی پور


53


-


-


-


4

میگھالیہ


36


338


4863


0.011


5


میزورم


-


-


-


-


6


ناگالینڈ


3


-


345


0.003


7


سکم


8


11


3355


0.002


8


تری پورہ


3


-


1816


-


کل


302


54143


234741


2.417

* اعداد و شمار عارضی ہیں۔

** 100 ہیکٹر سے کم۔

*************

 

 

ش ح ۔ ا ک ۔ ر ب

U. No.8461


(ریلیز آئی ڈی: 1846941) وزیٹر کاؤنٹر : 169
یہ ریلیز پڑھیں: English