امور صارفین، خوراک اور عوامی تقسیم کی وزارت
پیاز کی قیمتوں میں ٹھہراؤ لانے کے لئے مرکز نے 22-2021 میں 2.0 ایل ایم ٹی اور 23-2022 میں 2.5 ایل ایم ٹی کا اضافی ذخیرہ قائم رکھا ہے
صارفین کے امور کے محکمے نے ایک ہیکاتھون ؍ بڑا چیلنج شروع کیا ہے، جس کا مقصد پیاز کے ، فصل کے بعد کے ذخیرے کے لئے، لگے بندھے طریقہ کار میں بہتری کیلئے تازہ خیالات حاصل کرنا ہے
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
27 JUL 2022 5:14PM by PIB Delhi
صارفین کے امور ، خوراک اور تقسیم عامہ کے مرکزی وزیر مملکت اشونی کمار چوبے نے لوک سبھا میں آج ایک سوال کے تحریری جواب میں بتایا کہ زراعت اور کسانوں کی بہبود کے محکمے کے مطابق 21-2020 میں پیاز کی پیداوار 266.41 لاکھ میٹرک ٹن تھی اور مارکٹ کی خفیہ اطلاعات کے مطابق 21-2020 میں پیاز کی کھپت 160.50 لاکھ میٹرک ٹن تھی۔
جلد خراب ہوجانے اور ربیع و خریف کی فصلوں کے درمیان وقفے کی وجہ سے پیاز کی قیمتوں میں ستمبر سے دسمبر کی مدت کے دوران اضافہ ہوا۔ پیاز کی قیمتوں میں ٹھہراؤ لانے کے لئے حکومت نے 22-2021 میں 2.0 ایل ایم ٹی اضافی ذخیرہ اور 23-2022 میں 2.5 ایل ایم ٹی اضافی ذخیرہ قائم کیا اور حکومت نے 22-2021 نیز 23-2022 کے دوران پیاز درآمد نہیں کی۔ فصل کے بعدہونے والے ، پیاز کے مجموعی نقصان کی کئی وجوہات رہیں، جیسے نمی کی کمی، پھپھوند لگ جانا، سڑ جانا، پیاز پھٹاؤ آ جانا وغیرہ۔ ان وجوہات کو ذخیرہ کرنے کی بہتر سہولیات سے کم کیا جا سکتا ہے۔
پیاز کی فصل کے بعد کے نقصانات کے مسئلے سے نمٹنے کے لئے صارفین کے امور کے محکمے نے ایک ہیکاتھون ؍ گرانڈ چیلنج شروع کیا ہے، جس کا مقصد سائنسی برادری، محققین اور اسٹارٹ اپس سے پیاز کی فصل کے بعد کے ذخیرے کے لئے لگے بندھے طور طریقوں میں بہتری لانے کے لئے نئے خیالات حاصل کرنا ہے۔ یہ چیلنج چار قسم کے ہیں۔ ذخیرے کے ڈھانچے کے ڈیزائن میں بہترین، فصل کی کٹائی سے پہلے کا مرحلہ، ابتدائی پیکیجنگ، قیمت کا تعین، قیمت میں اضافہ اورخراب ہو جانے والی پیاز کا استعمال ۔ اس چیلنج کو تین مرحلوں میں شروع کیا گیا ہے۔
***
ش ح۔ اس۔ ک ا
(ریلیز آئی ڈی: 1845758)
وزیٹر کاؤنٹر : 126