کوئلے کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

کول انڈیا لمیٹڈ کوئلے پر مبنی پاور پلانٹوں کو کوئلے کی سپلائی بڑھانے  کی خاطر پیداوار  بڑھانے پر توجہ مرکوز کر رہی ہے

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 27 JUL 2022 3:41PM by PIB Delhi

سال 2022-23 میں سی آئی ایل  نے 700 ملین ٹن (ایم ٹی) تک کوئلہ بھیجنے کا منصوبہ بنایا ہے، جس میں سے 565ایم ٹی پاور سیکٹر /توانائی کے شعبہ کے لیے مختص ہے۔ مذکورہ ہدف میں سے سی آئی ایل نے رواں سال کی پہلی سہ ماہی میں پاور سیکٹر کو 152.49ایم ٹی کوئلہ روانہ کیا ہے جو  گزشتہ سال کے مقابلے میں 19 فیصد زیادہ ہے۔

سی آئی ایل نے مقامی طور پر کوئلے کی مانگ کو پورا کرنے اور ملک میں کوئلے کی غیر ضروری درآمدات کو ختم کرنے کے لیے اپنی پیداوار کو 2024-25 تک 1 بلین ٹن (بی ٹی) کوئلے کی موجودہ پیداوار کی سطح سے 600 ایم ٹی تک پہنچانے کا تصور کیا ہے۔

سی آئی ایل نے پہلے ہی تمام مطلوبہ وسائل کی نشاندہی کر لی ہے جو اس کے 1 بلین ٹن  کے پیداواری منصوبے اور اس سے متعلقہ  اُمور/ اینیبلرس  جیسےای سی/ ایف سی کی ضرورت، زمین، انخلاء کی رکاوٹوں وغیرہ میں تعاون دیں  گے۔

ملک میں کوئلے کی زیادہ تر ضرورت مقامی پیداوار/سپلائی کے ذریعے پوری کی جاتی ہے اورسی آئی ایل ملک میں بجلی کے شعبہ سمیت 80فیصد سے زیادہ مقامی پیداوار/سپلائی کرتی ہے۔

ملک میں اور سی آئی ایل کی کوئلے کی کانوں میں کوئلے کے خاطرخواہ  ذخائر موجود ہیں۔

جیولوجیکل سروے آف انڈیا کے مطابق،یکم اپریل2021 تک بھارت میں 1200 میٹر کی گہرائی تک کوئلے کے اندرونی ارضیاتی وسائل 352.16 بلین ٹن ہیں جس میں ثابت شدہ ، اشارہ شدہ اور تخمینہ شدہ وسائل شامل ہیں۔ اس میں سے ثابت شدہ وسائل 177.18 بلین ٹن ہیں۔

یکم اپریل 2021 تک  سی آئی ایل بلاکوں کی یو این ایف سی درجہ بندی کے مطابق سی آئی ایل بلاکوں میں مجموعی طور پر 62.66 بلین ٹن ارضیاتی وسائل کا تخمینہ لگایا گیا ہے جس میں کل قابل کانکنی وسائل 40.63 بلین ٹن اور مجموعی باقیماندہ قابل کانکنی وسائل  29.96بلین ٹن ہیں۔ کول انڈیا کمانڈ ایریا کے بلاکوں میں تخمینہ شدہ کوئلے کے وسائل تقریباً 173 بلین ٹن ہیں۔

پاور سیکٹر کو کوئلے کی فراہمی کے مسائل کو حل کرنے کے لیے ایک بین وزارتی ذیلی گروپ جس میں وزارت توانائی، وزارت کوئلہ، وزارت ریلوے، سی ای اے، سی آئی ایل اور ایس سی سی ایل کے نمائندے شامل ہیں، تھرمل پاور پلانٹس کو کوئلے کی سپلائی کو بڑھانے اور  پاور سیکٹر سے متعلق کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے مختلف آپریشنل فیصلے لینے کے لیے باقاعدگی سے میٹنگ کرتا ہے تاکہ پاور پلانٹوں میں کوئلے کے ذخیرے کی نازک صورتحال کا خاتمہ کیاجاسکے ۔ اس کے علاوہ ایک بین وزارتی کمیٹی (آئی ایم سی) تشکیل دی گئی ہے جس میں چیئرمین، ریلوے بورڈ، سیکریٹری، وزارت کوئلہ، سیکریٹری، وزارت ماحولیات، جنگلات اور موسمیاتی تبدیلی اور سیکریٹری، وزارت توانائی  شامل ہیں، تاکہ کوئلے کی فراہمی اور بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت  میں اضافے کی نگرانی کی جاسکے۔ سکریٹری، وزارت جدید و قابل تجدید توانائی کی اور چیئرپرسن،سی ای اے کوضرورت پڑنے پر آئی ایم سی کے ذریعے  خصوصی مدعو کے طور پر بلایا جاتا ہے ۔کیپٹیو کول بلاکوں سے کوئلے کی ترسیل کی بھی باقاعدگی سے نگرانی کی جا رہی ہے۔

یہ معلومات کوئلہ، کانوں اور پارلیمانی امور کے مرکزی وزیر جناب پرہلاد جوشی نے آج لوک سبھا میں ایک تحریری جواب میں دی۔

 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ش ح۔ م م۔ ع ن۔

U-8286


(ریلیز آئی ڈی: 1845722) وزیٹر کاؤنٹر : 126
یہ ریلیز پڑھیں: English