سماجی انصاف اور تفویض اختیارات کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav g20-india-2023

درج فہرست ذات اور درج فہرست قبائل (کے خلاف مظالم کی روک تھام) کا قانون، 1989

Posted On: 26 JUL 2022 4:38PM by PIB Delhi

سماجی انصاف اور تفویض اختیار کے وزیر مملکت، جناب رام داس اٹھاولے نے آج لوک سبھا میں ایک سوال کے تحریری جواب میں درج ذیل معلومات فراہم کیں۔

درج فہرست ذات اور درج فہرست قبائل سے تعلق رکھنے والے ممبران کے خلاف ہونے والے جرائم کو چیک کرنے اور انہیں روکنے کے لیے، پارلیمنٹ کے ذریعے بنایا گیا ایک قانون موجود ہے، جس کا نام ہے ’’درج فہرست ذات اور درج فہرست قبائل (کے خلاف مظالم کی روک تھام) کا قانون، 1989‘‘۔ اس قانون کے التزامات کو مؤثر طریقے سے نافذ کرنے کے لیے ایس سی/ایس ٹی (پی او اے) ضوابط، 1995 بھی بنائے گئے ہیں۔

درج فہرست ذات اور درج فہرست قبائل (کے خلاف مظالم کی روک تھام، یعنی پی او اے) کا قانون، 1989 کے سیکشن (2) 21 اور پی او اے ضوابط، 1995 کے ضابطہ (1)3 میں اُن ’’شناخت شدہ علاقوں‘‘ (جنہیں عام طور پر ’’مظالم کے امکانات والے علاقے‘‘ کہا جاتا ہے) کی نشاندہی کے مقصد سے وضاحت پیش کی گئی ہے، جہاں ایس سی/ایس ٹی کے ممبران کو ظلم کا شکار بنانے کا خطرہ لاحق رہتا ہے اور جہاں ان کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے ضروری قدم اٹھانے کی ضرورت ہے۔ ریاست کے لحاظ سے مظالم کے امکانات والے علاقوں کی شناخت کی تفصیلات ضمیمہ میں دی گئی ہیں۔

درج فہرست ذات اور درج فہرست قبائل (کے خلاف مظالم کی روک تھام) کا قانون، 1989 کے ضابطہ 8 کے تحت ریاستی حکومت کو  ڈی جی پی، اے ڈی جی پی/آئی جی پی کی نگرانی میں، ریاستی ہیڈکوارٹرز میں، ایس سی/ایس ٹی پروٹیکشن سیل بنانے کی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔ آندھرا پردیش، آسام، بہار، چھتیس گڑھ، گجرات، ہریانہ، ہماچل پردیش، جھارکھنڈ، کرناٹک، کیرالہ، مدھیہ پردیش، مہاراشٹر، میگھالیہ، میزورم، اوڈیشہ، پنجاب، راجستھان، سکم، تمل ناڈو، تلنگانہ، تریپورہ، اتر پردیش، اتراکھنڈ، مغربی بنگال، انڈمان و نکوبار جزائر، چنڈی گڑھ، قومی راجدھانی خطہ دہلی، جموں و کشمیر اور پڈوچیری جیسی ریاستوں/مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں ایس سی/ایس ٹی پروٹیکشن سیل قائم کیے گئے ہیں۔

مزید برآں،  محکمہ سماجی انصاف اور تفویض اختیار کے ذریعے درج فہرست ذات اور درج فہرست قبائل کے ممبران پر ہونے والے مظالم  کے خلاف قومی ہیلپ لائن (این ایچ اے اے) بھی قائم کیا گیا ہے۔ اس ہیلپ لائن کا مقصد امتیاز کو ختم کرنے کے لیے بنائے گئے قانون کے التزامات کے بارے میں بیداری پیدا کرنا اور تحفظ فراہم کرنا ہے۔ این ایچ اے اے ملک بھر میں ٹول فری نمبر ’14566‘ پر دستیاب ہے۔

پی سی آر ایکٹ، 1955 اور درج فہرست ذات اور درج فہرست قبائل (کے خلاف مظالم کی روک تھام) کا قانون، 1989 کو نافذ کرنے کے لیے مرکز کی طرف سے امداد یافتہ اسکیم جاری ہے، جس کے تحت ریاستوں/مرکز کے زیر انتظام علاقوں  کو  بنیادی طور پر نفاذی اور عدالتی مشینری کو مضبوط کرنے،  ایس سی/ایس ٹی پروٹیکشن سیل اور اسپیشل پولیس اسٹیشن بنانے،  بین ذات شادیوں کے معاملے میں جہاں میاں بیوی میں سے کوئی ایک ایس سی ہو تو انسینٹو دینے، بیداری پیدا کرنے، مظالم کے شکار متاثرین کی راحت رسانی او رباز آبادکاری، سفر اور قانون مدد فراہم کرنے کے لیے مرکز کی طرف سے امداد فراہم کی جاتی ہیں۔

آئین ہند کے ساتویں شیڈول (فہرست-II) کے تحت ’پولیس‘ اور ’عوامی نظم و نسق‘ ریاستی موضوعات ہیں۔ درج فہرست ذات اور درج فہرست قبائل (کے خلاف مظالم کی روک تھام) کا قانون، 1989 کے نفاذ کی بنیادی ذمہ داری ریاستوں حکومتوں/مرکز کے زیر انتظام علاقوں کی انتظامیہ کی ہے۔

تاہم، حکومت ہند پی او اے قانون و ضوابط کو ان کی اصل روح کے ساتھ مؤثر طریقے سے نافذ کرنے کے لیے وقتاً فوقتاً ریاستی حکومتوں/مرکز کے زیر انتظام علاقوں کی انتظامیہ کو ایڈوائزری جاری کرتی رہتی ہے۔

خواتین اور بہبود اطفال کی وزارت بھی ذیلی اسکیم ’سمبل‘ کے اجزاء کے طور پر امبریلا اسکیم ’مشن شکتی‘ کے تحت ذیلی اسکیم ’سامرتھیہ‘ کے جزو شکتی سدن کے طور پر ملک بھر میں ون اسٹاپ سنٹر اور خواتین کے ہیلپ لائنس کی ہمہ گیری کو نافذ کر رہی ہے۔

ون اسٹاپ سنٹر، جو شکتی سنٹرز کے نام سے مشہور ہے، وَن اسٹاپ سنٹر (او ایس سی) کو ملک بھر میں یکم اپریل 2015 سے نافذ کیا جا رہا ہے۔ ون اسٹاپ سنٹر کا مقصد پبلک اور پرائیویٹ دونوں مقامات پر تشدد کی شکار عورتوں کو ایک ہی چھت کے نیچے مربوط سپورٹ اور امداد فراہم کرنا ہے، اور انہیں  مختلف خدمات تک فوری، ایمرجنسی اور غیر ایمرجنسی کی حالت میں رسائی مہیا کرانا ہے، جس میں خواتین کے خلاف کسی بھی قسم کے تشدد کے خلاف لڑنے کے لیے انہیں پولیس، طبی، قانونی مدد اور کاؤنسلنگ او نفسیاتی مدد مہیا کرانا شامل ہیں۔ ابھی تک 758 او ایس سی کو منظوری دی جا چکی ہے اور ان میں سے 708 او ایس سی 35 ریاستوں/مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں فعال ہیں اور ابھی تک 5.40 لاکھ سے زیادہ خواتین کی مدد کی جا چکی ہے۔

خواتین ہیلپ لائن کی ہمہ گیری (ڈبلیو ایچ ایل) کو یکم اپریل، 2015 سے نافذ کیا جا رہا ہے، جس کا مقصد ایمرجنسی اور غیر ایمرجنسی کی حالت میں ملک بھر کے اندر خواتین کو 24 گھنٹے ریفرل سروس کے ذریعے فوری مدد مہیا کرنا ہے۔ اس اسکیم کے تحت،  مدد اور معلومات حاصل کرنے کی خواہش مند خواتین کو مختصر کوڈ 181 کے ذریعے 24 گھنٹے ٹول فری ٹیلی کام سروس مہیا کرائی جا رہی ہے۔ خواتین کا ہیلپ لائن 34 ریاستوں/مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں کام کر رہا ہے اور اس کے ذریعے ابھی تک 70.00 لاکھ سے زیادہ متاثرہ خواتین کی کال موصول ہونے پر انہیں مدد فراہم کی گئی ہے۔

شکتی سدن کا مقصد  برے حالات میں پھنسی عورتوں، اور ٹریفکنگ کی شکار عورتوں  کی مدد کرنا ہے، جنہیں باز آبادکاری کے لیے ادارہ جاتی مدد کی ضرورت ہے، تاکہ وہ پورے عز و وقار کے ساتھ زندگی گزار سکیں۔ اس اسکیم کے تحت مشکل حالات اور ٹریفکنگ کی شکار عورتوں کو قیام، طعام، کپڑے اور صحت کے ساتھ اقتصادی اور سماجی تحفظ جیسی سہولیات فراہم کی جاتی ہیں، ان میں بیوہ عورتیں، پریشان حال اور بزرگ خواتین شامل ہیں۔

ضمیمہ

مظالم کے امکانات والے علاقوں کی تفصیلات

  1. آندھرا پردیش

شناخت شدہ مظالم کے امکانات والے علاقوں کی تفصیلات درج ذیل ہیں:-

نمبر شمار

شناخت شدہ ضلعے

ضلع کے اندر کے مخصوص علاقے، جن کی شناخت مظالم کے امکانات والے علاقوں (گاؤوں) کے طور پر کی گئی ہے

1.

کاپڑا ضلع

5

2.

سریکا کولم ضلع

1

3.

مشرقی گوداوری (بشمول راج مندری شہر) ضلع

47

 

میزان

53

 

 

  1. بہار

ریاست میں درج فہرست ذات اور درج فہرست قبائل کے ممبران کے خلاف ہونے والے مظالم کے مدنظر حساس سمجھے جانے والے 34 ضلعوں کی شناخت کی گئی ہے۔ یہ ضلعے ہیں پٹنہ، نالندہ، روہتاس، بھابھوا، بھوجپور، بکسر، گیا، جہان آباد، نوادہ، اورنگ آباد، سارن، سیوان، گوپال گنج، مظفرپور، سیتامڑھی، مغربی چمپارن (بیتیا)، مغربی چمپارن (بگہا)، مشرقی چمپارن (موتیہاری)، ویشالی، دربھنگہ، مدھوبنی، سمستی پور، سہرسہ، مدھے پورہ، پورنیہ، بھاگلپور، بانکا، مونگیر، شیخ پورہ، بیگوسرائے، کھگڑیا، کٹیہار، جموئی اور ارریہ۔

 

  1. چھتیس گڑھ

شناخت شدہ مظالم کے امکانات والے علاقوں کی تفصیلات درج ذیل ہیں:-

نمبر شمار

شناخت شدہ ضلعے

ضلع کے اندر کے مخصوص علاقے، جن کی شناخت مظالم کے امکانات والے علاقوں کے طور پر کی گئی ہے

1.

دُرگ ضلع

10

2.

بلرامپور ضلع

91

 

میزان

101

 

 

 

  1. گجرات

مظالم کے واقعات رونما ہونے کی بنیاد پر حساس سمجھے جانے والے 11 ضلعوں کی شناخت کی گئی ہے۔

  1. مہسانہ
  2. احمد آباد (دیہات)
  3. جوناگڑھ
  4. کچھ
  5. بانس کانٹھا
  6. کھیڑا
  7. امریلی
  8. راجکوٹ (دیہات)
  9. سریندر نگر
  10. وڈودرا (دیہات)
  11. بھروچ

 

  1. جھارکھنڈ

حکومت جھارکھنڈ نے ریاست کے اندر مظالم کے امکانات والے درج ذیل علاقوں کی شناخت کی ہے:-

نمبر شمار

شناخت شدہ ضلعے

ضلع کے اندر کے مخصوص علاقے، جن کی شناخت مظالم کے امکانات والے علاقوں کے طور پر کی گئی ہے

1.

گریڈیہ

بینگا باد

2.

سرائے کیلا

آدتیہ پور، چانڈل، نیم ڈیہ اور سرائے کیلا

3.

چترا

ٹوکبول،ڈھیبو، کوبنا اور یوگیارا

4.

کھونٹی

کھوٹی

5.

گڑھوا

گڑھوا سب ڈویژن

6.

ڈُمکا

مخصوص نہیں

7.

چائی باسا

مغربی سنگھ بھوم، اور چائی باسا میں مظالم کے امکانات والا کوئی علاقہ نہیں

8.

پلامو

حسین آباد سب ڈویژن

9.

لوہر دگا

مظالم کے امکانات والے کسی علاقے کی شناخت نہیں کی گئی ہے

10.

رانچی

چنہو، منڈر، راتو، ببڈو، جگرناتھ پور، نامکوم، بریاتو اور چھوٹیا

 

  1. کرناٹک

حکومت کرناٹک نے ریاست کے اندر مظالم کے امکانات والے درج ذیل علاقوں کی شناخت کی ہے:-

نمبر شمار

شناخت شدہ ضلعے

ضلع کے اندر جن علاقوں کی شناخت ’مظالم کے امکانات‘ والے علاقوں کے طور پر کی گئی ہے

1.

بنگلور (شہر)

سمپی گیہلی سب ڈویژن بنگلور شہر

1. بساوالنگپا نگر سمپی گیہلی

2. بگلور

3. بانڈی کوڈی گیٹی یلی گاؤں

4. کوتھا نورو

ملیشورم سب ڈویژن بنگلور شہر

1. اے کے کالونی

2. بھیم شکتی نگر

2.

کلبرگی

نگرل (ملی) ٹی جی جاورگی

3.

یادگیر

کیمباوی تعلقہ

ہوگاگر، یادگیری تعلقہ

 

  1. مدھیہ پردیش

ریاست میں ایسے 11 ضلعوں کی شناخت کی گئی ہے، جہاں ایس سی اور ایس ٹی کے خلاف مظالم ہونے کے امکانات ہیں۔

نمبر شمار

ضلعے

نمبر شمار

پولیس اسٹیشن

گاؤں/محلہ کی تعداد

1.

اندور

1

آزاد نگر

مکھلیا

2

ہیرا نگر

سکھلیا

3

سمرول

دٹودا

4

کھڑیل

دوبھیا

5

بڈگونڈا

بڈگونڈا

6

کشن گنج

کشن گنج

2.

ودیشہ

1

کوتوالی

موہن گیری

لوہنگی محلہ

3.

مرینا

1

امبا

گرودوارہ جگا محلہ

2

اسٹیشن روڈ

تسی پور

سبھاش نگر

4.

بھنڈ

1

دیہات

مہاویر نگر، سندر پورہ، وکرم پورہ، نزد ودھناتی اسکول، بی ٹی آئی روڈ

رام نگر، بمبا کا پورہ، سنتوش نگر، اشوک نگر، بی ٹی آئی روڈ

2

اندروی

لوہری پورہ

5.

گوالیار

1

گوالیار

لوہری پورہ

چندرا نگر

غوث پورہ نمبر 2

2

سیرول

ہورا ولی

3

بہودا پور

راما جی کا پورہ

4

گولا کا مندر

پنٹو پارک

5

جنک گنج

لکشمی گنج

گول پہاڑی

تارہ گنج پل

سنجے نگر

6.

شیو پوری

1

کوتوالی

لال ماٹی فاہاپور

2

ناروار

مگرونی

7.

اشوک نگر

1

کوتوالی

مندسور میل

2

دیہات

شنکر کالونی

8.

نرسنگھ پور

1

گوٹے گاؤں

باگس پور

9.

ہوشنگ آباد

1

کوتوالی

جمعراتی ایریا

بالا گنج ایریا

کوٹھی باگر

گوال ٹولی

2

ایٹارسی

پرانی ایٹارسی

نالا محلہ

نیو یارڈ

مرکزی بازار کا علاقہ

3

پپریا

اتوارہ بازار

پچھمڑی روڈ

4

دیہات ہوشنگ آباد

رسولیا

10.

ہردا

1

ہردا

ہاؤسنگ بورڈ ایریا

منپورہ

کھیڑی پورہ

2

تیمارنی

لائن پار محلہ

3

چیپا باد

کھڑکیا

11.

بیتول

1

بیتول

پٹیل وارڈ

گاندھی وارڈ

امبیڈکر وارڈ

2

گنج بیتول

ہملاپور مانزی نگر

جواہر وارڈ گنج

3

سرنی

سرنی

پاٹھکیڈا

شوبھا پور

1 سے 11 تک کا کل میزان

 

31

53

 

 

  1. مہاراشٹر

ریاست کے محکمہ داخلہ نے  ریاست میں مظالم کے امکانات والے درج ذیل علاقوں کی شناخت کی ہے:-

نمبر شمار

شناخت شدہ ضلعے

ضلع کے اندر کے مخصوص علاقے، جن کی شناخت مظالم کے امکانات والے علاقوں کے طور پر کی گئی ہے

1.

جلگاؤں

2

 

میزان

2

 

  1. اوڈیشہ

ریاست کے محکمہ داخلہ نے  ریاست میں مظالم کے امکانات والے درج ذیل علاقوں کی شناخت کی ہے:-

نمبر شمار

شناخت شدہ ضلعے

ضلع کے اندر کے مخصوص علاقے، جن کی شناخت مظالم کے امکانات والے علاقوں کے طور پر کی گئی ہے

1.

انگل

پلا ہارا، چینڈی پاڑہ، جارا پاڑہ پولیس اسٹیشنوں کے علاقے

2.

بولانگیر

پٹنہ گڑھ سب ڈویژن علاقہ

3.

بالاسور

بی بلیاپالا، بستا، بھوگ رائے، جالیشور، ریمونا، سورا، کھانٹا پاڑہ، صدر پولیس اسٹیشنوں کے علاقے

4.

بھدرک

بھدرک دیہات (صدر، نئی کنی ڈیہی، دھوسوری، بان ساڈہ پولیس چوکیوں کے علاقے

5.

بودھ

بودھ، بون سونی، من منڈا، کانٹا مل، پرونا کٹک، ہربھنگا پولیس چوکیوں کے علاقے

6.

کٹک

نیالی، اتھا گڑھ، گریڈیو جھٹیا پولیس چوکیوں کے علاقے

7.

دیوگڑھ

دیو گڑھ، بارکوٹ، ریامل، کندھیئی گولا

8.

ڈھینکنال

صدر، پرجنگ پولیس چوکیوں کے علاقے

9.

جگت سنگھ پور

جگت سنگھ پور، بیریڈی، نوگاؤں، رگھوناتھ پور، ترٹول، کوجنگ، ایراسما، پارادیپ

10.

کالاہانڈی

دھرم گڑھ، جونا گڑھ، جے پٹنہ، کوکسارا، بھوانی پٹنہ صدر، کیگاؤں اور بھوانی پٹنہ کے شہری علاقے

11.

کندھمال

ایس پی کندھمال کے اندازے کے مطابق پورا کندھمال ضلع مظالم کے امکانات والا علاقہ ہے

12.

کیندر پاڑہ

پٹّ منڈئی، مرشا گھئی علاقے

13.

کیونجھار

کیونجھار ٹاؤن، صدر، پٹنہ، گھاسی پورہ، گھٹا گاؤں، آنند پور، چمپوا، جوڑا، بربیل

14.

نواپاڑہ

سینا پالی بلاک

15.

پوری

صدر، ٹاؤن، سمندری ساحل، چندرا پور، ستیہ باڑی، برہم گیری، ڈیلانگ، کانس، پپلی، گوپ، بلنگا، نیما پاڑہ، کرشنا پرساد

16.

راؤرکیلا

راؤرکیلا پولیس ضلع

17.

رائے گڑھ

کاشی پور کا علاقہ

18.

سبرن پور

سونپور، بیر مہارج پور

19.

یو پی ڈی، بی بی ایس آر

بلیانتا، بالی پٹنہ، کھنڈ گیری کے علاقے

 

 

  1. راجستھان

ریاست کے اندر مظالم کے امکانات والے 11 ضلعوں کی شناخت کی گئی ہے، جن کے نام ہیں بھرت پور، شری گنگا نگر، ٹونک، الور، اجمیر، پالی، باڑمیر، ہنومان گڑھ، سیکر، بارن اور ناگور۔

 

  1. تمل ناڈو

تمل ناڈو کے  محکمہ سماجی انصاف اور حقوق انسانی نے  37 ضلعوں کے 345 گاؤوں کی شناخت ’مظالم کے امکانات‘ والے علاقوں کے طور پر کی ہے۔  7 کمشنریوں میں، 27 گاؤوں کی شناخت سال 2020 میں ’مظالم کے امکانات‘ والے کے طور پر کی گئی تھی۔

سماجی انصاف اور حقوق انسانی کے اکائیوں کے عملہ کے ذریعے ضلعوں کے گاؤوں کا سروے کیا گیا تھا اور سپرنٹنڈٹ آف پولیس اور ڈسٹرکٹ کلکٹروں کے نوٹس میں یہ بات لائی گئی تھی کہ وہ درج فہرست ذاتوں اور غیر درج فہرست ذاتوں کے درمیان کسی تنازع/تصادم کو روکنے کے لیے احتیاطی قدم اٹھائیں۔

 

  1. تلنگانہ

شناخت شدہ مظالم کے امکانات والے علاقوں کی تفصیلات درج ذیل ہیں:-

نمبر شمار

شناخت شدہ ضلعے

ضلع کے اندر کے مخصوص علاقے، جن کی شناخت مظالم کے امکانات والے علاقوں کے طور پر کی گئی ہے

1.

نظام آباد کمشنری

18

2.

رچکونڈا کمشنری

5

3.

رام گنڈم کمشنری

9

4.

عادل آباد

4

5.

بھدرادری (کوٹھا گوڈیم)

17

6.

جگتیال

1

7.

محبوب نگر

5

8.

نلگونڈہ

6

9.

نرائن پیٹ

1

 

میزان

66

     

 

  1. انڈمان و نکوبار جزائر

شناخت شدہ مظالم کے امکانات والے علاقوں کی تفصیلات درج ذیل ہیں:-

شناخت شدہ ضلع

ضلع کے اندر کے مخصوص علاقے، جن کی شناخت مظالم کے امکانات والے علاقوں کے طور پر کی گئی ہے

شمالی اور وسطی انڈمان ضلع

کدم تلا، رنگٹ، برتانگ

*****

ش ح – ق ت – ت ع

U: 8161

 

 



(Release ID: 1845194) Visitor Counter : 61


Read this release in: English , Urdu